امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘

غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. ایدھی فاؤنڈیشن ’فلسطینیوں کی مدد کے لیے غزہ میں امدادی ٹیم بھیجے گی‘

    ایدھی فاؤنڈیشن

    ،تصویر کا ذریعہEdhi Foundation

    پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ ان کا فلاحی ادارہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کی مدد کے لیے امدادی ٹیمیں بھیج رہا ہے۔

    انھوں نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے فلسطینی سفارتخانے سے بات کی ہے اور انھوں نے ہماری مدد کا خیر مقدم کیا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کو منگل تک فلسطینی سفارتخانے سے ویزا جاری کر دیا جائے گا۔

    فیصل ایدھی کے مطابق کچھ امدادی ٹیمیں مصر میں قیام کریں گی جبکہ باقی غزہ میں داخل ہوں گی۔

    بعد ازاں فیصل ایدھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود بھی مصر اور فلسطین دونوں کا ویزہ لیں گے جس کے بعد وہ پہلے مصر اور وہاں سے فلسطین روانہ ہوں گے۔ وہ اپنا کیمپ مصر میں لگائیں گے جہاں سے ضرورت کے مطابق طبی سامان خرید کر فلسطین روانہ کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ انڈیا میں کورونا کی صورتحال سنگین ہونے کے بعد فیصل ایدھی نے ایک خط میں وزیراعظم نریندر مودی کو سٹاف اور ایمبولینس بھیجنے کی پیشکش کی تھی تاہم انڈین حکومت نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

    فیصل ایدھی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایک ہفتے کے اندر ان کے ویزے لگ جائیں گے جس کے بعد وہ اور ان کا بیٹا سعد ایدھی فلسطین روانہ ہوجائیں گے۔

  2. اسرائیل کب تک فائر بندی کی اپیلیں نظر انداز کر سکتا ہے؟, پال ایڈمز، بی بی سی سفارتی نامہ نگار، یروشلم

    firefighters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ تمام اشارے اس بات کی جانب نشاندہی کر رہے ہیں کہ اسرائیلی حملے کچھ عرصے تک ایسے ہی جاری رہیں گے۔

    حکام کے مطابق سلسلہ وار حملوں کا مقصد دستیاب وقت میں حماس کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے۔

    لیکن انھیں کتنا وقت دستیاب گیا ہے؟

    امریکی وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن نے گذشتہ رات ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’تشدد کا فوری خاتمہ ضروری ہے‘

    تاہم صدر جو بائیڈن نے اب تک وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حمایت کرتے دکھائی دیے ہیں اور کہتے رہے ہیں اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا پورا حق ہے۔

    اور امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسرائیل کو حملے بند کرنے کے حوالے سے بیان جاری کرنے روک دیا ہے۔

    نیتن یاہو یہ بات جانتے ہیں کہ ان کے پاس اب بھی غزہ میں مزید کامیابی سمیٹنے کا وقت موجود ہے اگر اسرائیل اس دوران بہت زیادہ عام شہریوں کو ہلاک نہ کرے۔

    گذشتہ رات کو کیے جانے والے بھاری حملوں میں ایک عسکریت پسند تنظیم کے سینیئر کمانڈر کے علاوہ کسی کی ہلاکت کی اطلاعات نہیں ملیں۔

    تاہم اب تک 40 ہزار عام شہریوں کو اس تنازع کے باعث اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں اور اقوامِ متحدہ بگڑتی ہوئی صورتحال کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔

    وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

  3. فرانس اور مصر کا فوری طور پر سیز فائز قائم کرنے کا مطالبہ

    مصر، فرانس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانس اور مصر نے مشترکہ طور پر غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایک باقاعدہ بیان کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں اور ان کے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی دونوں کو ’پُرتشدد واقعات میں اضافے اور شہری آبادی کے متاثرین کے حوالے سے تشویش ہے۔‘

    انھوں نے فوری طور پر سیز فائر کے لیے تعاون کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    مصری صدر سوڈان پر ایک اجلاس کے سلسلے میں پیرس میں موجود ہیں۔

  4. غزہ میں کل اموات 200 سے بڑھ گئیں, ہلاک ہونے والوں میں 59 بچے، 35 خواتین شامل

    غزہ میں اموات 200 سے بڑھ گئیں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران گذشتہ ہفتے سے شروع ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 59 بچے اور 35 خواتین شامل ہیں جبکہ اب تک 1305 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری طرف اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں 130 مسلح جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔

    اسی دوران مسلح گروہوں کے راکٹ حملوں سے اسرائیل میں دو بچوں اور ایک فوجی اہلکار سمیت 10 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

  5. بائیڈن نے اسرائیل کو 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دی: امریکی اخبار

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو درست نشانے پر مار کرنے والے 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کیے ہیں۔

    اخبار کے مطابق کانگریس کو ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق پانچ مئی کو بتایا گیا تھا، اور یہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تشدد کے آغاز کے عین ایک ہفتے پہلے کی بات ہے۔

    اخبار کے مطابق جو بائیڈن کے چند ساتھی ڈیموکریٹس اب اسلحے کی فروخت پر تنقید کر رہے ہیں۔

    کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی میں شامل ایک ڈیموکریٹ نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل پر فائر بندی کا دباؤ ڈالے بغیر ان سمارٹ بموں کی فروخت کی اجازت مزید تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

  6. اسلام آباد میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ

    اسلام آباد میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ

    آج پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے اسرائیل-فلسطین تنازع میں حالیہ کشیدگی کے دوران فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا گیا جس میں نوجوانوں، خواتین اور صحافیوں سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔

    ہماری ساتھی سارہ عتیق اس مظاہرے کی کوریج کے لیے پریس کلب میں موجود تھیں۔ مظاہرے میں شریک نوجوانوں نے بتایا کہ انھیں ’سوشل میڈیا کے ذریعے اس مسئلے کے حوالے سے خاص آگاہی ہوئی جس کی وجہ سے وہ یہاں موجود ہیں۔

    فلسطین اسرائیل

    مظاہرین نے فلسطین کے جھنڈے اور اس کے حق میں نعرے بلند کیے جبکہ مقررین نے اسرائیل اور امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    مظاہرین نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صرف مذمتی بیانات جاری نہ کریں بلکہ فلسطینیوں کی جدوجہد میں ان کی مدد کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔

    فلسطین اسرائیل

    شرکا نے اظہار یکجہتی کے لیے عربوں کا روایتی رومال کیفیہ پہن رکھا تھا جبکہ فلسطین کا قومی ترانہ بجانے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے دعا بھی کی گئی۔

    خیال رہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 16 خواتین اور 10 بچوں سمیت 200 فلسطینی ہلاک اور 1200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ حماس کے جوابی راکٹ حملوں کے نتیجے میں 10 اسرائیلیوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

  7. اسرائیلی سفارتکار: ’اس تنازع کا اختتام یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ ہم ایک مہینے بعد پھر وہیں کھڑے ہوں جہاں پہلے تھے‘

    اسرائیلی سفارت کار مارک ریگیو نے بی بی سی کے پروگرام نیوز آور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ’اس تنازع کا اختتام یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ ہم ایک مہینے بعد پھر وہیں کھڑے ہوں جہاں پہلے تھے۔‘

    ریگیو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے سینیئر مشیر ہیں اور برطانیہ میں اسرائیل کے سابق سفیر رہ چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس سے مسائل کا حل کیسے نکلے گا، اگر حماس اگلے ماہ اسرائیل پر راکٹ حملے کرتا ہے اور پھر ہمیں جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔‘

    ہمیں اس حوالے سے ایک حقیقی حل کی تلاش ہے، ہم اس تنازع سے نکل کر ایک عرصے تک امن کے خواہاں ہیں۔ اگر حماس کو فائر بندی کے ذریعے دوبارہ سے منظم ہو جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ تبدیل نہیں ہوا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہم قبل از وقت فائر بندی کرتے ہیں تو اس سے حماس کو فتح حاصل ہو گی، اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر حماس اس تنازع سے مزید مضبوط ہو کر نکلتا ہے تو یہ اسرائیل کے لیے برا ہے، یہ فلسطینیوں کے لیے بھی برا ہے، یہ امن کے لیے بھی برا ہے۔‘

  8. امریکہ کا اسرائیل سے غزہ میں الجلا ٹاور پر فضائی حملے کی ’وجوہات‘ بتانے کا مطالبہ

    امریکہ نے اسرائیل سے سنیچر کو غزہ میں ایک کثیر المنزلہ عمارت الجلا ٹاور پر فضائی حملے سے متعلق ’تفصیلات‘ اور اس حملے کی ’وجوہات‘ بتانے کا مطالبہ کیا ہے جس میں دیگر بین الاقوامی میڈیا اداروں سمیت اسوسی ایٹڈ پریس اور الجزیرہ کے دفاتر بھی تھے۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹونی بلنکن نے کوپنہیگن میں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ انھوں نے اب تک اسرائیلی حکام کی جابب سے اس حوالے سے شیئر کی جانے والی کوئی معلومات نہیں دیکھیں، تاہم انھوں اس حملے کی قانونی حیثیت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  9. غزہ پر اسرائیلی بمباری ’انتہائی تباہ کن‘ ثابت ہوئی: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے غزہ میں تعینات سربراہ ہیلن اوٹنز پیٹرسن نے کہا ہے کہ غزہ پر گذشتہ ایک ہفتے سے ہونے والی بھاری بمباری ایک ’سانحہ‘ بن چکی ہے۔

    ان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سڑکیں، پانی، اور بنیادی ضروریات سے منسلک دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے جس سے اس علاقے میں پہلے سے ہی کمزور صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی عربی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہسپتالوں تک رسائی اب انتہائی مشکل ہو چکی ہے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے چاہنے والوں کو سٹریچرز پر اٹھا کر ہسپتالوں تک لا رہے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا اندازہ ہے کہ غزہ کے پاور پلانٹ میں تیل کی جلد کمی ہونے والی ہے۔ اس کا صحت کے نظام پر بہت برا اثر پڑے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم یہاں موجود عام شہریوں کی حفاظت کے لیے فکرمند ہیں اور ہمیں بڑھتی ہلاکتوں اور صحت کے نظام پر موجود دباؤ کے حوالے سے تشویش لاحق ہے۔‘

    اوٹینز پیٹرسن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اس وقت غزہ میں لوگ ذہنی طور پر شدید دباؤ میں ہیں۔ میری یہاں موجود سٹاف اور طبی عملے سے فون پر بات ہوئی ہے اور وہ اس وقت اس دباؤ کو سہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

  10. بریکنگ, امریکہ کو ’پرتشدد حملوں پر شدید تشویش ہے‘

    US secretary of state

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹونی بلنکن نے ڈینمارک کے دورے کے دوران اسرائیل اور فلسطینیوں سے عام شہریوں کو اس تنازع کے دوران نشانہ نہ بنانے کی اپیل کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کو اس بڑھتی کشیدگی اور سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے علاوہ بچوں کو ملبے سے باہر نکالنے جیسی خبروں پر شدید تشویش ہے۔‘

    ’ہمیں اس حوالے سے بھی خدشہ ہے کہ کیسے صحافیوں اور طبی عملے کو اس دوران خطرات کا سامنا ہے۔ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو کسی بھی دوسرے ملک کی طرح حفاظت سے جینے کا حق ہے۔‘

    انھوں نے دونوں اطراف کو عام شہریوں، خاص کر بچوں کو محفوظ رکھنے کا کہا ہے اور انھوں نے زور دیا کہ ’اس کی اضافی ذمہ داری اسرائیل پر اس لیے ہے کیونکہ وہ ایک جمہوریت ہے۔‘

    انھوں نے کوپنہیگن میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا کہ ’ہم سفارتی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اس کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

    ’اگر دونوں اطراف سے فائر بندی کی خواہش کا اظہار ہو تو ہم مدد کے لیے تیار ہیں۔‘

  11. اسرائیل فلسطین تنازع دوسرے ہفتے میں داخل

    palestine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنغزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک فیکٹری میں لگنے والی آگ کو بھجانے کی کوششیں جاری

    اسرائیل کی جانب سے غزہ پر آج پھر بھاری بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 16 خواتین اور 10 بچوں سمیت 200 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں اور 1200 سے زیادہ زخمی ہیں جبکہ حماس کے جوابی راکٹ حملوں کے نتیجے میں 10 اسرائیلیوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

    غزہ اور اسرائیل میں بنائی جانے والی کچھ تازہ ترین تصاویر یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔

    palestine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنآگ بھجانے والا عملہ غزہ کی ایک فیکٹری میں لگی آگ بھجانے میں مصروف
    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنخبررساں ادارے ای پی اے گذشتہ رات غزہ سے اسرائیل کی جانب فائر کیا گیا راکٹ
    palestine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں منہدم ہونے والی عمارت جس کے ملبے سے ایک شخص کچھ تلاش کر رہا ہے
    israel

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی توپ خانہ سرحد کے قریب سے غزہ میں مختلف اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے
  12. بریکنگ, حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ فائر، متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات

    جنوبی اسرائیل کے مختلف مقامات پر خطرے کے سائرن سنائی دیے گئے جب عکسریت پسند گروپ حماس نے کہا کہ وہ اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق راکٹوں کے حملوں سے کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں ج ب حماس کے راکٹ اشدود شہر میں جا گرے۔

    حماس کے مسلح ونگ نے کہا کہ اسرائیل پر راکٹ سے حملہ پیر کی صبح اسرائیلی فضائی حملے کے جواب میں ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق بیرشیبا، اشدود اور اشکیلون میں سائرن کی آواز سنائی دی گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. اسرائیل غزہ تنازع: حماس کے ہتھیاروں کی طاقت اور کمزوریاں کیا ہیں؟, جوناتھن مارکس، خارجہ امور تجزیہ کار

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگرچہ اسرائیل اور غزہ پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں دونوں جانب تباہی اور ہلاکتیں ہوئی ہیں مگر اس لڑائی میں دونوں فریق برابری کے نہیں ہیں۔

    اسرائیل کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ اس کے پاس فضائیہ ہے، مسلح ڈرون ہیں، انٹیلیجنس جمع کرنے کے نظام ہیں اور وہ جب چاہے غزہ پٹی کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ صرف ان مقامات کو نشانہ بناتا ہے جو عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں تاہم فلسطینی علاقوں کی گنجان آبادی کی وجہ سے عام شہریوں کی اموات نہ ہونا تقریباً ناممکن ہے۔

    حماس اور اسلامک جہاد اگرچہ اس تنازع میں کمزور فریق ہیں تاہم ان کے پاس اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ہتھیار ہیں۔

    حماس کے اسلحے اور اس کی قابلیت اور صلاحیت کے بارے میں جاننے کے لیے جوناتھن مارکس کا یہ مضمون پڑھیے۔

    hamas

    ،تصویر کا ذریعہbbc

  14. بریکنگ, چھ سالہ فلسطینی بچی سوزی اشکنتانہ، جو اسرائیلی حملے میں زندہ بچ گئی

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس فلسطینی خاندان کا گھر اتوار کی صبح اسرائیلی حملے میں تباہ ہو گیا۔ غزہ کے حکام کے کہنا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں میں 10 بچوں سمیت کم از کم 42 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 200 تک پہنچ چکی ہے۔

    ان کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے اس مضمون پر کلک کریں۔

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  15. آئرن ڈوم کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    iron

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حماس نے 1500 راکٹ اسرائیل کی جانب داغے ہیں تاہم ان میں سے زیادہ تر اسرائیلی دفاعی نظام آئرن ڈوم نے فضا میں ہی تباہ کر دیے ہیں۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام آئرن ڈوم کی کامیابی کی شرح تقریباً 90 فیصد ہے۔

    آئرن ڈوم ان متعدد میزائل شکن نظاموں میں سے ایک ہے جو اسرائیل میں اربوں ڈالر لگا کر نصب کیے گیے ہیں۔

    اس نظام کے بارے میں مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

    BBC
    ،تصویر کا کیپشنیہ نظام ریڈار کی مدد سے اس کی جانب داغے گئے راکٹس کو ٹریک کرتا ہے اور انھیں روکنے کے لیے انٹرسیپٹ کرنے والے میزائل داغتا ہے
  16. اسرائیل فلسطین تنازع: چین کی امریکہ پر تنقید

    china

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنچین کے وزیر خارجہ وانگ یی

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اتوار کے روز کہا کہ انھیں بہت افسوس ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کو اس تشدد کے خلاف کھل کر بات کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

    وانگ یی نے اقوام متحدہ کے ورچوئل سیشن میں کہا ’یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ ایک ملک (امریکہ) کی وجہ سے سلامتی کونسل ایک آواز میں بولنے کے قابل نہیں ہے۔ ہم امریکہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔‘

    چین نے کہا کہ غزہ میں خونریزی روکنے کے لیے عالمی برادری کو مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

    امریکہ نے کیا کیا؟

    درحقیقت اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی ملک امریکہ نے گذشتہ ہفتے اسرائیل فلسطین تنازعہ کے معاملے پر ہونے والی میٹنگ ملتوی کردی تھی اور اس بارے میں کوئی بیان دینے میں کوئی جوش و خروش ظاہر نہیں کیا تھا۔

    اسی دوران بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں جاری تشدد کو روکنے کے لیے ’پردے کے پیچھے‘ رہ کر کام کر رہی ہے اور اس مسئلے کا سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم سے بیان دینے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

    امریکی صدر بائیڈن نے یہاں تک بھی کہا ہے کہ عکسریت پسند جماعت حماس حملوں کے جواب میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے۔

    دوسری طرف فلسطین کے حامی ممالک کا کہنا ہے کہ اپنے دفاع کا مطلب معصوم فلسطینی شہریوں پر حملہ نہیں ہے۔

    سلامتی کونسل نے کیا کہا؟

    دریں اثنا اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے متنبہ کیا ہے کہ اگر یہ تنازع بند نہ ہوا تو پورا خطہ ایک ’بے قابو بحران‘ میں الجھ جائے گا۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے اس اجلاس کے آغاز میں کہا ’غزہ میں تشدد بہت ہی خوفناک ہے اور یہ تنازع فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. بریکنگ, ترک صدر اردوغان کی پوپ فرانسس سے اسرائیل فلسطین تنازع پر گفتگو، اسرائیل پر ’پابندیاں‘ لگانے کی اپیل

    rurkey

    ،تصویر کا ذریعہgett

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے پیر کو مسیحیوں کے مذہبی رہنما پوپ فرانسس سے اپیل کی کہ وہ دنیا کو ساتھ ملائیں تاکہ اسرائیل پر فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں۔

    صدر اردوغان اور پوپ فرانسس کے درمیان فون کال ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ترکی نے سفارتی طور پر اپنی کوششیش تیز کر دی ہیں تاکہ غزہ کی پٹی میں دس مئی سے جاری قتل و غارت کو بند کیا جائے جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً دو سو فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 58 بچے بھی شامل ہیں، اور دس اسرائیلیوں کی بھی موت ہو چکی ہے۔

    صدر اردوغان نے پوپ فرانسس کو کہا کہ ’فلسطینوں کے ساتھ قتل عام اس وقت تک جاری رہے گا تاوقتیکہ بین الاقوامی برادری اسرائیل پر پابندیاں لگا کر سزا نہ عائد کرے۔‘

    پوپ فرانسس نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ معصومانہ جانوں کا ضیاع ’قابل مذمت ہے اور ناقابل قبول‘ ہے اور اگر یہ نہ رکا تو معاملہ مزید تباہی کی جانب بڑھ جائے گا۔

  18. غزہ میں میڈیا اداروں کے دفاتر تباہ ہونے کے بعد ترکی کی جانب سے امداد کی پیشکش

    AP

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کی ریاستی خبر رساں ادارے انادلو نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور قطری میڈیا ادارے الجزیرہ کو پیشکش کی ہے کہ وہ غزہ میں ان کے دفاتر سے کام کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل غزہ میں واقع ایک عمارت جہاں ان دونوں میڈیا اداروں کے دفاتر تھے، اسرائیل نے یہ کہہ کر اسے تباہ کر دیا کہ اس عمارت میں عسکریت پسند تنظیم حماس کے ٹھکانے موجود تھے۔

    انادلو کے جنرل مینیجر سردار کاراگوز نے ایک بیان میں کہا: ’جب سے اس حالیہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران، ہم یہ ایک واضح چیز دیکھ رہے ہیں کہ صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکیں اور زمینی صورتحال کے بارے میں خبر نہ دے سکیں۔‘

    اسرائیل نے عمارت پر حملہ کرنے سے قبل ایک گھنٹے کا نوٹس دیا تھا کہ عمارت کو خالی کر دیا جائے اور وہ اپنے دعوی پر قائم رہے کہ عمارت میں حماس کا دفتر موجود ہے اور اس لیے عمارت کو ’نشانہ بنانا بالکل جائز تھا۔‘

  19. بریکنگ, ’میں مرنے کے لیے تیار ہو گئی تھی‘

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نجلی شاوا ایک فلسطینی امدادی کارکن ہیں اور اپنے دو بچوں کے ساتھ وہ غزہ میں رہتی ہیں۔ بی بی سی ورلڈ سروس کے نیوز ڈے پروگرام سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اسرائیلی فضائی حملوں کے بارے میں کہا کہ پیر کی صبح ہونے والے حملے اتوار کو ہونے والے حملوں سے زیادہ شدید تھے۔

    واضح رہے کہ اتوار کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم از کم 42 افراد کی ہلاکت ہو گئی۔

    نجلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے لیے ’سب سے مشکل‘ کام اپنی چار اور چھ سالہ بچیوں کو سمجھانا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔

    ’جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو میری بڑی بیٹی چیخ رہی تھی۔ وہ راہداری بھاگ کر جاتی۔ میں بس صرف انھیں بہت زور سے اپنے سینے سے لگا لیتی، انھیں کہتی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘

    لیکن انھیں اپنی کہی ہوئی بات پر خود یقین نہیں ہے۔

    ’بحیثیت بالغ، اور وہ جس نے ان تمام جنگوں کو خود سے دیکھا ہو، میں تو مرنے کے لیے تیار تھی۔ مجھے اس حقیقت کے ساتھ زندہ رہنا تھا، مجھے اس حقیقت کے ساتھ ہی زندہ رہنا تھا چاہے میں اس ملبے کے نیچے ہی کیوں نہ ہوں۔ گذشتہ صبح ان لوگوں کی موت ہو گئی جنھیں ہم جانتے تھے، جن کے ساتھ کام کیا کرتے تھے، عام لوگ، نوکری پیشہ لوگ، بوڑھے، جوان۔‘

    اسرائیلی اخبار ہارٹز کے کالم نویس گڈیئون لیوی نے بی بی سی کے پروگرام نیوز ڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے اسرائیلی اپنی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں پر کی جانے والی بمباری کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہی نہیں کہ ’غزہ میں موت اور تباہی کا کیا عالم ہے۔‘

    ’کسی بھی اسرائیلی نے غزہ کی اصل تصویر نہیں دیکھی کیونکہ یہاں کا میڈیا انھیں وہ دکھاتا ہی نہیں ہے۔ اور اسی لیے اس جنگ کے بارے میں یہاں لوگ اتنا متفق ہیں اور سب اس کی حمایت کرتے ہیں۔‘

  20. اسرائیلی آپریشن ’پوری قوت‘ سے جاری, پال ایڈمز، بی بی سی نامہ نگار برائے خارجہ امور، یروشلم

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    گذشتہ روز جنگ بندی کی بین الاقوامی اپیلوں کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر ’پوری قوت سے‘ حملے کچھ عرصے تک جاری رہیں گے۔

    اتوار کی شب اور پیر کی صبح کو اسرائیلی جنگی طیاروں کی جانب سے کیے گئے حملے کشیدگی کے اس دور میں سب سے بھاری حملے تھے جس میں عسکریت پسند جماعت حماس کو نشانہ بنایا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ مرکزی شاہراہیں تباہ ہو گئیں اور بجلی کی فراہمی بھی منقطع ہو گئی۔

    اگر ان حملوں کا مقصد حماس کو راکٹ داغنے سے روکنا ہے، تو یہ قطعی کارآمد نہیں ہے۔ حماس کی جانب سے جنوبی اسرائیلی شہر بیرشیبا اور ایشکیلون میں کئی راکٹس داغے گئے۔

    امریکی حکام کہتے ہیں کہ پس پردہ وہ مصری ، قطری اور اسرائیلی حکام اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر گفتگو کر رہے ہیں تاکہ اس بحران کو ختم کیا جا سکے۔ رات گئے ایک ٹویٹ میں امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن نے بھی کہا کہ پر تشدد واقعات کو فوراً ختم کیا جانا چاہیے۔

    لیکن جو بائیڈن انتظامیہ نے مکمل جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا ہے اور گذشتہ روز امریکہ نے اقوام متحدہ کی اس بارے میں بیان جاری کرنے کی کاوشوں کو روک دیا تھا۔