امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘
غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘
لائیو کوریج
بریکنگ, جنگ بندی کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے: اسرائیلی ذرائع

،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیلی فوج کے ذرائع نے فوری جنگ بندی کی تمام امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کا آپریشن جاری رہے گا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عسکری ذرائع نے کہا کہ ’اسرائیلی فوج کا آپریشن پوری قوت سے جاری ہے اور جنگ بندی کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘
بی بی سی کی مشرق وسطی کی نامہ نگار یولانڈا نیل نے تازہ ترین حالات پر تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ جنگ بندی کی بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں اور کہا جا رہا تھا کہ مصری قیادت میں ثالثی کا عمل جلد شروع ہو سکتا ہے لیکن فوراً ہی اس کی تردید سامنے آ گئی۔
اسرائیل کے اعلی اہلکار نے ان خبروں کی تردید کی جبکہ حماس کی جانب سے کہا گیا کہ ثالثی کرنے والوں کی کوششیں سنجیدہ ہیں لیکن فلسطینی مطالبات کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔
حماس کے عسکری ونگ کا سربراہ ہمارا مرکزی ہدف ہے: اسرائیلی فوج

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل نے فلسطین کے عسکریت پسند گروپ حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد دائیف کو اپنا مرکزی ہدف قرار دے دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل ہدائی زلبرمین نے اس بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے اس آپریشن کے دوران پوری کوشش کی ہے کہ وہ انھیں ہلاک کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔
’ہم نے متعدد بار انھیں قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘
انھوں نے اس حوالے سے مزید کوئی اور تفصیلات تو نہیں دیں تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد دائیف ان حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔
محمد دائیف حماس کے عسکری ونگ عزیدین ال قصام بریگیڈ کے سربراہ ہیں اور اسرائیل کی ’موسٹ وانٹڈ‘ یعنی سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں کئی سالوں سے سرفہرست ہیں۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے انھیں ہلاک کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں تاہم ہر بار وہ بچ نکلے۔
دونوں فریقین کے مابین 2014 میں ہونے والی آخری بڑی لڑائی کے دوران بھی انھیں ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس دوران ان کی بیوی اور ایک اولاد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
فضائی حملوں میں حماس کمانڈروں کے مکانات کو نشانہ بنایا گیا: اسرائیلی حکام

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل نے کہا ہے کہ گذشتہ شب ان کے جنگی طیاروں نے غزہ میں عسکریت پسند گروپ حماس کے کمانڈروں کے مکانات پر حملے کیے جبکہ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو جنگجو ہلاک ہو گئے۔
اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے مابین جاری لڑائی کا سلسلہ اب دسویں روز داخل ہو چکا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انھوں نے حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد دائیف کو ہلاک کرنے کی ’متعدد کوششیں‘ کیں۔
حماس کی جانب سے بھی اسرائیل کی طرف راکٹس داغے گئے جس میں ان کا ہدف اسرائیل کے جنوب میں واقع ائیر بیس تھا۔
دوسری جانب جنگ بندی کے لیے عالمی کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی تک ان میں کوئی قابل ذکر پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں کے دفتر سے جاری پیغام کے مطابق فرانس نے تجویز دی ہے کہ وہ مصر اور اردون کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے حوالے سے جنگ بندی کی قرار داد پیش کی جائے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے نو روزہ حملوں نے ’حماس کی صلاحیتوں کو کئی سالوں تک کمزور کر دیا ہے۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک تقریر میں کہا کہ غزہ میں حماس کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تمام اسرائیلی شہریوں کو حفاظت کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔
فلسطینی صحت کے حکام کے مطابق اب تک اس لڑائی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 219 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جس میں سے تقریباً 100 بچے اور خواتین شامل ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اب تک حماس کی راکٹس فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جس میں سے دو بچے بھی شامل ہیں۔
ادھر اسرائیل کا دعوی ہے کہ ان کے حملوں میں 150 جنگجوؤں کی ہلاکت ہو چکی ہے تاہم حماس کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی کوئی تعداد نہیں دی گئی اور وہ عمومی طور پر یہ معلومات دیتے بھی نہیں ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس نے اب تک 3700 سے زیادہ راکٹس داغے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
’ یہ تباہی اور بربادی ناقابل قبول ہے، اور بچے روزانہ اس کرب سے گزر رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے ایک دوسرے پر حملے کرنے کا سلسلہ اب دسویں دن پہنچ چکا ہے جب گذشتہ شب دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر فضائی حملے کیے اور راکٹس داغے۔
اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں درجنوں حملے کیے جن میں زیادہ تر کا محور خان یونس کا شہر تھا جبکہ عسکریت پسند گروپ حماس نے بھی جنوبی اور وسطی اسرائیل پر راکٹس کی فائرنگ جاری رکھی۔
اقواممتحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ترجمان سٹیفانی ڈوجارک نے کہا ہے کہ اب تک غزہ میں 50 ہزار سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبران کی ایک اور میٹنگ جنگ بندی کے حوالے سے اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والوں میں سے ایک انسانی حقوق کی تنظیم سیو دا چلڈرن کے مقبوضہ فلسطین چیپٹر کے سربراہ جیسن لی ہیں جنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بچوں کو جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ انتہائی پریشان کن ہے۔
’لاتعداد بچے سخت ڈرے سہمے ہوئے ہیں۔ مطلب آپ کے ارد گرد عمارتیں گر رہی ہو، تو آپ کیا کر سکتے ہیں۔ آپ مسلسل خوف میں ہوتے ہیں کہ آپ کا گھر تباہ ہو جائے گا، یا آپ خود مر جائیں گے، یا آپ اپنے خاندان والوں اور دوست احباب سے دوبارہ ملاقات نہیں کر سکیں گے۔ یہ تباہی اور بربادی ناقابل قبول ہے، اور بچے اس کرب سے گزر رہے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر وہ اس سے گزر رہے ہیں۔‘
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان پرتشدد واقعات کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
’فوراً جنگ بندی ہونی چاہیے۔اس کا مطلب ہے کہ دونوں فریقین پختہ قدم اٹھائیں۔ اسرائیل کو غزہ پر فضائی حملے بند کرنے ہوں گے۔ حماس کو راکٹ فائر کرنا ختم کرنا ہوگا۔ اور دونوں فریقین کو عالمی قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی۔ جب تک کہ دونوں فریقین اس بات پر اتفاق نہیں کرتے، ہم یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس کی سب سے زیادہ بھاری قیمت بچے ادا کر رہے ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
بریکنگ, اسرائیل فلسطین تنازع: فرانس کی مصر اور اردن کے ساتھ اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی مشترکہ قرارداد پیش کرنے کی تجویز

،تصویر کا ذریعہEPA
فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں کے دفتر سے جاری پیغام کے مطابق فرانس نے تجویز دی ہے کہ وہ مصر اور اردون کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے حوالے سے جنگ بندی کی قرار داد پیش کی جائے۔
فرانسیسی صدر کے دفتر سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے اپنے مصری ہم منصب عبدالفتح السیسی اور اردون کے شاہ عبداللہ دوئم کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں قرار داد پیش کرنے پر اتفاق کیا۔
’تینوں ملک تین باتوں پر مکمل اتفاق کرتے ہیں: شوٹنگ بند کی جائے، جنگ بندی کا وقت آگیا ہے، اور سلامی کونسل لازمی طور پر اس مسئلہ کو زیر بحث لائے۔‘
گذشتہ کئی دنوں سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری اس تنازع کے حوالے سے فرانس نے متعدد بار جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ مصر کی رہنمائی میں ثالثی کے عمل کی حمایت کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اب تک تین کوششوں کے باوجود چین، ناروے، تیونس کی جانب سے پیش کی گئی ایک سادہ سی قرارداد بھی منظور کرنے میں ناکام رہی ہے جس میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا کیونکہ ہر بار امریکہ نے اس کی مخالفت کی تھی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سلامی کونسل میں شامل کئی ممالک نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ انھیں ابھی تک فرانسیسی اعلامیہ موصول نہیں ہوا ہے۔
غرب اردن میں اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے مزید دو فلسطینی افراد کی ہلاکت: فلسطینی حکام

،تصویر کا ذریعہReuters
فلسطینی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ غرب اردن میں اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے مزید دو فلسطینی افراد کی ہلاکت ہو گئی ہے۔
وزارت صحت نے کہا ہے کہ 18 مئی کو ہونے والے واقعات کے بعد مجموعی طور پر تین فلسطینی افراد ہلاک اور 72 زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے پانچ شدید زخمی ہیں۔
یہ پرتشدد واقعات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں اور اسرائیلی عربوں نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں کے خلاف ہڑتال کی۔
اسرائیلی افواج کا ابھی تک ان اموات کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان مظاہرین پر ’جوابی فائرنگ‘ کی جنھوں نے غرب اردن میں رملہ کے علاقے میں ’بڑے پیمانے پر فائرنگ کی تھی‘۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ’دو فوجی زخمی ہوئے ہیں اور انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔‘
’میں دعا کرتا ہوں کہ آپ کا خاندان محفوظ رہے اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ غرب اردن میں محفوظ ہوں‘, امریکی صدر جو بائیڈن کا ڈیموکریٹک رکن کانگریس راشدہ طالب سے مکالمہ

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے دورہ مشی گن میں خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطی میں اسرائیل فلسطین تنازع کا مختصر حوالہ دیا اور کانگریس کی ڈیموکریٹک رکن راشدہ طالب سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے خاندان کے افراد محفوظ رہیں گے۔
امریکی کانگریس کی رکن راشدہ طالب کا تعلق ایک فلسطینی خاندان سے ہے اور ان کے گھر کے باقی لوگ غرب اردن میں رہائش پذیر ہیں۔
’میں تہہ دل سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کا خاندان محفوظ رہے اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ غرب اردن میں محفوظ ہوں۔‘
جو بائیڈن نے راشدہ طالب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے جذبے کی قدر کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ راشدہ طالب سمیت دیگر ڈیموکریٹک رہنماؤں نے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے حالیہ بحران میں ان کے کردار پر تنقید کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل کو دی جانے والی امداد ان کی انسانی حقوق کے معاہدوں سے مشروط کی جائے۔
اس سے قبل راشدہ طالب نے 18 مئی کو اپنی ایک ٹویٹ میں جو بائیڈن اور سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن سے کہا کہ اگر وہ واقعی میں مشرق وسطی میں جنگ بندی کرنا چاہتے ہیں تو وہ سلامتی کونسل کے راستے سے ہٹ جائیں اور جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
نیتن یاہو: اسرائیلی حملوں نے حماس کو کمزور کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے نو روزہ حملوں نے ’حماس کی صلاحیتوں کو کئی سالوں تک کمزور کر دیا ہے۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک تقریر میں کہا کہ غزہ میں حماس کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تمام اسرائیلی شہریوں کو حفاظت کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔
دریں اثنا ، اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں اور توپخانے سے حملے جاری ہیں جبکہ حماس کی طرف سے بھی اسرائیل میں راکٹ اور مارٹر گولوں سے جوابی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق منگل کی رات اسرائیلی شہر اشدود اور اسقلان پر راکٹ حملے کیے گئےہیں۔
اس سے قبل جنوبی اسرائیل میں فلسطینی حملوں میں دو تھائی باشندے ہلاک جبکہ مغربی کنارے میں اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں چار فلسطینی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔
دوسری طرف تنازعے کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں ہیں۔
فرانس نے مصر اور اردن کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
امریکہ نے ابھی تک سلامتی کونسل کی قرارداد کے مشترکہ اعلامیہ کو روک رکھا ہے لیکن اس نے اور یوروپی یونین نے خطے میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ میں حماس اور اسلامی جہاد کے کم از کم 150 ارکان کو ہلاک کردیا ہے۔
غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے والے حماس نے ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد کا اعلان نہیں کیا ہے۔
غزہ کے صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 215 افراد ہلاک ہوئے ہیں ، جن میں 100 خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے راکٹ حملوں میں دو بچوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں 52،000 افراد بے گھر ہوگئے ہیں ، ان میں سے بیشتر سکولوں میں رہائش رکھنے پر مجبور ہیں۔
اسرائیلی فوج غزہ میں ’مزید فضائی حملوں کے لیے تیار‘

اخبار یروشلم پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ میں فلسطینی گروہ حماس کی جانب سے قائم کردہ زیر زمین سرنگوں کے نیٹ ورک پر مزید حملوں کی تیاری کر رہی ہے۔
خبر کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ہدائی زلبرمین نے کہا ہے کہ آپریشن میں نئے مقامات پر فضائی حملے کیے جائیں گے۔
آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ انھوں نے درجنوں ایسے اہداف کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے دہشتگردی کی کارروائیاں کی جاتی تھیں اور حماس کی ایک 15 کلو میٹر طویل زیر زمین سرنگ تباہ کر دی ہے۔
زیر زمین سرنگوں کو نشانہ بنانا اسرائیلی فضائی حملوں کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
آئی ڈی ایف کے ترجمان نے اس سے قبل کہا تھا کہ ’ہم سیز فائر کی بات نہیں کر رہے۔ ہمارا دھیان صرف فائرنگ پر ہے۔‘
اسرائیلی فضائی حملے کے بعد غزہ کے گودام میں آگ بھڑک اٹھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ کے علاقے رفح میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد پینٹ کے ایک گودام میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روئٹرز کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ منگل کی شب کے دوران ایک شیل اس عمارت پر لگا تھا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس گودام کو نشانہ کیوں بنایا گیا۔
تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فائر فائٹرز اس آگ پر قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور گودام میں موجود سامان کو بچانے کے لیے عملہ متحرک ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں ہلاک ہونے والے بچے ’امدادی منصوبے کا حصہ تھے‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ناروے کی ایک امدادی تنظیم نے بتایا ہے کہ غزہ میں جاری حملوں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے جو اس کے زیر اثر ایک امدادی منصوبے کا حصہ تھے۔
ناروے ریفیوجی کونسل کے سربراہ جین ایگلینڈ نے کہا ہے کہ ’ہمیں یہ جان کر افسوس ہوا ہے۔۔۔ ہم صدمے سے گزرنے والے ان بچوں کی مدد کر رہے تھے۔ وہ گھروں میں تھے اور انھیں لگا تھا کہ وہ وہاں محفوظ ہوں گے۔‘
غزہ میں اس حالیہ کشیدگی کی ابتدا سے اب تک کم از کم دو اسرائیلی بچے حماس کے راکٹ حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔
’فلسطینی لوگ سیز فائر کے لیے تیار ہیں‘

مغربی کنارے میں قائم فلسطینی سیاسی جماعت کے رہنما مصطفیٰ البرغوثی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’فلسطینی عوام سیز فائر کے لیے تیار ہے۔ مگر اسرائیل سیز فائر ہونے نہیں دے رہا‘۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن ہاہو نے کہا تھا کہ وہ حماس اور دیگر فلسطینی جنگجو گروہوں کی جانب سے راکٹ حملے روکنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کے شہریوں کے لیے قیام امن تک فضائی حملے جاری رہیں گے۔
اس کے برعکس مصطفیٰ البرغوثی نے کہا ہے کہ ’اگر اسرائیل اپنے ایف 16 طیاروں کے ذریعے فضائی حملے اور راکٹ داغنا جاری رکھنا چاہتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ فلسطینی اپنا دفاع نہیں کرسکتے تو ایسا نہیں ہوسکتا۔‘
انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’سیز فائر کا مطلب ہے کوئی راکٹ نہیں داغے گا، یعنی دونوں فریقین میں سے کوئی بھی حملے نہیں کرے گا۔‘
جرمنی اور اردن کا ’فوری‘ سیز فائر کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہReuters
جرمن چانسلر اینگلا میرکل اور اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم نے غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی جنگجوؤں کے مابین جاری کشیدگی کے دوران فوری طور پر سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے۔
میرکل کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ’اتفاق کیا ہے کہ فوری طور پر سیز فائر کی حمایت کی جانی چاہیے تاکہ سیاسی مذاکرات کی بحالی کے لیے ماحول پیدا کیا جاسکے۔‘
فرانسیسی وزیر اعظم نے بھی پُر تشدد واقعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اسرائیل پر زور دیا ہے غزہ میں امدادی کارروائیوں کے لیے بغیر کسی رکاوٹ رسائی دی جائے۔
اسرائیل میں فلسطینی جنگجوؤں کے حملے میں تھائی لینڈ کے دو شہری ہلاک

،تصویر کا ذریعہEPA
جنوبی اسرائیل کے علاقے ایشکول میں فلسطینی جنگجوؤں کے راکٹ حملوں میں تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے دو ملازمین ہلاک ہوگئے ہیں۔
تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ حملے میں اس کے دو شہریوں کے ہلاک ہونے کے علاوہ آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ غزہ کے ساتھ اسرائیلی سرحد سے قریب 14 کلومیٹر دور پیش آیا۔
وزارت کے مطابق تھائی لینڈ کے یہ دو شہری ایشکول کے علاقے میں ایک زرعی زمین پر کام کر رہے ہیں۔
بی بی سی تھائی سروس سے بات کرتے ہوئے حملے کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ اس وقت پیش آیا جب یہ لوگ کھانے کے وقفے پر تھے۔ ’میں نے آسمان میں دو دھماکے سنے اور تنبیہ کے لیے کوئی گھنٹی نہیں بجائی گئی۔ 10 سے زیادہ ملازمین بنکروں میں چھپ گئے تھے۔‘
تھائی لینڈ کے ایک سینیئر سفارتکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک کے قریب 4000 شہری غزہ کے اردگرد 100 کلو میٹر کے دائرے میں ملازمت کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
’غزہ میں شہری خوفزدہ ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ سے منسلک فلسطینی پناہ گزین کی مدد کے لیے قائم تنظیم یو این آر ڈبلیو اے کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غزہ کے شہری ’خوفزدہ‘ ہیں۔
خطے میں تنظیم کی امدادی کارروائیوں کے سربراہ متھیاس شمال کا کہنا ہے کہ ’میرے مطابق گذشتہ چند دنوں کے دوران بھرپور جنگ جیسا محسوس ہوا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ایجنسی کے 58 سکولوں میں قریب 48 ہزار لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔
’میں نے سنا ہے کہ کم از کم آٹھ ہزار لوگوں کے پاس اب کوئی گھر نہیں جہاں وہ پنا لے سکیں کیونکہ وہ یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا انھیں بُری طرح نقصان پہنچا ہے۔ کئی لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ غزہ کے خوفزدہ عوام ’پریشان ہیں کہ اگلا حملہ کہاں ہوگا، بم دھماکہ کہاں ہونے والا ہے۔‘
امریکہ آخر اسرائیل کو کتنی امداد دیتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟, ریئلٹی چیک

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر جو بائیڈن کو اپنی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کی جانب سے اس نوعیت کے سوالات کا سامنا ہے کہ امریکہ آخر اسرائیل کو کتنی امداد سالانہ دیتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔
سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ’ہمیں سالانہ قریب چار ارب ڈالر کی طرف غور سے دیکھنا چاہیے جو ہم اسرائیل کو بطور فوجی امداد دیتے ہیں۔‘
سنہ 2020 میں امریکہ نے اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی امداد دی تھی۔ یہ امداد اوباما انتظامیہ کے اس طویل مدتی وعدے کی تکمیل کا حصہ ہے جو سنہ 2028 تک جاری رہے گی۔
کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق اس امداد کا اکثریتی حصہ فوجی معاونت کے لیے ہے۔ اس سے اسرائیل کا دفاعی نظام مضبوط کیا گیا ہے۔ اس پیسے کی مدد سے اسرائیل اب دنیا کی جدید ترین فوجوں میں سے ایک ہے۔
اسرائیل نے اس پیسے کے ذریعے ایف 35 طیارے خریدے اور سنہ 2020 میں امریکہ نے اسرائیل کو میزائل کا دفاع کرنے والے نظام کے لیے 50 کروڑ ڈالر دیے۔ اس میں اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم کے لیے سرمایہ کاری بھی شامل ہے جو داغے گئے راکٹ حملوں کو روکتا ہے۔
سنہ 2011 سے امریکہ نے اسرائیل کو آئرن ڈوم کے لیے 1.6 ارب ڈالر جاری کیے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اسرائیل نے امریکہ سے سب سے زیادہ غیر ملکی امداد وصول کی ہے۔
دریں اثنا صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کے لیے 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد بحال کر دی ہے جس سے فلسطینی پناہ گزین کی مدد کی جاتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ امداد 2018 میں روک دی تھی۔
اسرائیل نے غزہ کے ساتھ سرحدی راستے بند کردیے, جوابی حملوں کے بعد امدادی کارروائیاں متاثر

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل نے غزہ کے ساتھ سرحد پر واقع معبر كرم ابو سالم اور معبر بيت حانون کراسنگ کو بند کر دیا ہے۔
ان سرحدی راستوں کو امدادی کارروائیوں کے لیے کھولا گیا تھا تاہم ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے جنوبی اسرائیل میں حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ساتھ منسلک امدادی کارروائیوں کی ایک تنظیم او سی ایچ اے کے ترجمان جینس لائیرک کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کے لیے رضاکاروں کا غزہ داخل ہونا ’انتہائی ضروری‘ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’آئندہ دنوں میں امدادی سامان کی غزہ رسائی کو برقرار رکھا جائے اور غزہ میں نقل و حرکت کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔‘
اسرائیل فلسطین تنازع: 'خان یونس کے قصائی' یحییٰ السنوار کے گھر پر حملہ
اسرائیلی وزیر دفاع: غزہ میں ہزاروں مزید اہداف نشانے پر ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ریڈار پر غزہ میں ’ہزاروں مزید اہداف ایسے ہیں جنھیں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔‘
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’آئی ڈی یف کا منصوبہ یہ ہے کہ حماس پر حملے جاری رکھے جائیں اور یہ لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہم مکمل طور پر اور طویل دورانیے کے لیے امن قائم نہ کردیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آئی ڈی ایف نے سرحدوں پر تعیناتیاں کر دی ہیں اور وہ تیار ہیں۔ اور اسرائیلی کے شہریوں یا اس کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے غیر ملکی عناصر کو تباہ کر دیا جائے گا۔‘
