امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘

غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ’وہ سڑکیں جو ہسپتالوں تک جاتی ہیں، وہ سب تباہ ہو گئی ہیں‘

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پیر کی صبح اسرائیل نے بڑی تعداد میں غزہ کی پٹی پر فضائی حملے کیے جو کہ گذشتہ ہفتے سے جاری لڑائی میں سب سے بھاری حملوں میں سے تھے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا تھا عسکریت پسند گروہ حماس کی جانب سے جنوبی اسرائیل کی طرف متعدد راکٹس فائر کیے گئے جس کے جوابمیں انھوں نے جنگی طیاروں کی مدد سے حملہ کر کے حماس کے رہنماؤں کے مکانات کو نشانہ بنایا۔

    تاہم ان حملوں کے نتیجے میں متعدد سڑکیں تباہ ہو گئیں اور بڑے علاقے بجلی سے محروم ہو گئے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ 20 منٹ کے دورانیے کے اس حملے میں 50 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور مقامی وقت کے مطابق پیر کو علی الصبح یہ حملے کیے گئے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق انھوں نے 35 ’اہداف‘ کو نشانہ بنایا اور حماس کی 15 کلومیٹر سے زیادہ طویل سرنگوں کے نیٹ ورک کو بھی تباہ کر دیا اور اس کے علاوہ حماس کے کم از کم نو ’اہم رہنماؤں‘ کے گھروں کو نشانہ بنایا۔

    غزہ میں ہلال احمر کی ترجمان سہیر زکوۃ نے بی بی سی کو رات بھر ہونے والی بمباری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

    ’یہاں بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اور انفراسٹرکچر کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔ سڑکیں، وہ سڑکیں جو ہسپتالوں تک جاتی ہیں وہ سب تباہ ہو گئی ہیں۔ پانی، بجلی، سب کی فراہمی متاثر ہوئی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔‘

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  2. اسرائیل اور فلسطین تنازعے پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس، بین الاقوامی اداروں سے اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ

    OIC

    ،تصویر کا ذریعہTwitter.@OIC_OCI

    اسلامی ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) نے اتوار کے روز ایک ہنگامی اجلاس میں فلسطینیوں پر حملے کرنے پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    اس اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں او آئی سی نے خبردار کیا ہے کہ جان بوجھ کر مذہبی احساسات کو بھڑکانے کی کوششیں فلسطینی عوام اور عالم اسلام کے جذبات کو بھڑکانے کی اسرائیل کی کوششوں کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔

    او آئی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’القدس (یروشلم) اور مسجد الاقصیٰ قبلہ اول اور مسلمانوں کی تیسری مقدس مساجد ہیں۔ اسلامی دنیا کے لیے یہ ایک سرخ لکیر ہے اور اس میں کوئی استحکام یا سلامتی نہیں سوائے اس کے کہ اسے آزاد کردیا جائے۔‘

    بیان میں مشرقی یروشلم سمیت فلسطینیوں کے علاقوں پر اسرائیل کے قبضے اور ان کے مذہبی مقامات پر اسرائیلی حملوں اور غزہ پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ ہے۔

    ’یہ حالات پورے علاقے اور اس سے باہر کے لیے عدم استحکام پیدا کرسکتے ہیں اور اس سے پورے خطے کی سلامتی پر اثر پڑ سکتا ہے۔‘

    اتوار کو ہونے والے اس اجلاس کے بعد او آئی سی نے مزید کہا ہے کہ وہ فلسطین کے علاقوں پر اسرائیل کے قبضے اور وہاں امتیازی نظام کے نفاذ کی مخالفت کرتا ہے۔

    او آئی سی کے اجلاس میں اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو ایک خصوصی بین الاقوامی عدالت اور اقوام متحدہ کی متعدد ایجنسیوں کے ذریعے فلسطینی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے لئے درکار نقصانات اور مواد فراہم کرنے پر مجبور ہونا چاہئے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. امریکی وزیر خارجہ کی قطری، سعودی اور مصری وزرائے خارجہ سے فون پر گفتگو

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اسرائیل، غزہ اور غرب اردن میں حملے کے متعلق قطری، مصری اور سعودی وزرائے خارجہ سے فون پر بات کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ بات امریکی وزارت خارجہ نے اتوار کو کہی ہے۔

    وزارت خارجہ نے بتایا کہ انتھونی بلنکن نے قطر کے شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی سے ’شہری جانی نقصان کے پیش نظر اسرائیل، غرب اردن اور غزہ میں امن کی بحالی کی کوششوں‘ کے متعلق بات چیت کی۔

    قطری وزرات خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ دو حکام نے مسجد الاقصی کے احاطے میں بیٹھے نمازیوں اور غزہ پٹی کے محصور لوگوںپر حالیہ اسرائیلی حملے کے متعلق بات چیت کی۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہالثانی نے ’بین الاقوامی برادری کی جانب سے غزہ اور مقدس الاقصی میں شہریوں پر اسرائیلی حملے کے خلاف فوری عمل‘ کی ضرورت پر زور دیا۔

    دریں اثنا امریکی سینیٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اتوار کو جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ خارجہ تعلقات پینل کے سینیئر اراکین ڈیموکریٹ جماعت کے کرس مرفی اور ریپبلکن جماعت کے ٹوڈ ینگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حماس کے راکٹ حملوں اور اسرائیل کے جواب کے نتیجے میں طرفین کو اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ بہت سی جانیں تلف ہوئی ہیں اور یہ تصادم میں بڑھنا نہیں چاہیے۔‘

    اسی طرح دوسرے 25 ڈیموکریٹ سینٹرز اور دو آزاد اراکین نے بھی فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے بیان جاری کیا ہے۔

  4. اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں دو سو سے زیادہ فلسطینی ہلاک، 1200 سے زیادہ زخمی, حماس کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں دس اسرائیلی ہلاک، 282 زخمی

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    غزہ پر اتوار کی شب ہونے والے فضائی حملے ابھی تک کے سب سے زیادہ شدید حملے تھے جس میں عکسریت پسند جماعت حماس کی سہولیات اور مکانات کے ساتھ اہم سڑکوں اور بجلی کی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    خیال رہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔

    ان حملوں کے نتیجے میں کئی علاقوں کے بجلی منقطع ہو گئی ہے اور بڑی تعداد میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    اب تک ہونے والے حملوں کے نتیجے میں غزہ میں دو سو سے زائد فلسطینی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 58 بچے شامل ہیں۔

    دس مئی سے شروع ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد 1200 سے زیادہ ہے۔

    حماس کی جانب سے داغے گئے راکٹ حملوں کے باعث اب تک اسرائیل میں ایک بچے سمیت دس اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 282 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    مغربی غزہ کے رہائشی ماد عابد ربو نے اسرائیلی حملوں پر اپنے ’ڈر و خوف‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اس سے زیادہ بڑی تعداد میں حملے نہیں دیکھے۔‘

    اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق دو بجے اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ ان کے جنگی طیارے غزہ کی پٹی میں اہداف کو نشانہ بنانے جا رہے ہیں۔

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    بین الاقوامی برادری کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کے درمیان اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا کہ غزہ پر حملہ 'پوری طاقت' کے ساتھ جاری رہے گا اور اس میں تھوڑا زیادہ وقت لگے گا۔

    غزہ میں بی بی سی کے نمائندے رشدی ابوالعوف نے کہا کہ شہریوں کے لیے یہ راب بہت بھاری تھی۔

    ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بحران کے خاتمے کے لیے اسرائیل، مصر، قطر اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے رات گئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ تشدد فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔

    لیکن بائیڈن انتظامیہ نے جنگ بندی کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا اور گذشتہ روز امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کسی بھی طرح کے بیان جاری کرنے کی کوششوں کو روک دیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. فلسطین اسرائیل تنازع کو سوشل میڈیا پر پھیلانے میں ٹک ٹاک نے کیسے کردار ادا کیا؟

    tik tok

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جہاں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع شدت اختیار کر رہا ہے وہاں ٹک ٹاک صارفین اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو اپنے تاثرات کا اظہار کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

    وائرل ڈانس کلپس کے باعث مقبول ہونے والی یہ ویڈیو ایپ اب خبروں کے پھیلاؤ کا ایک بڑا پلیٹ فارم بن گئی ہے۔

    غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی تباہی، اسرائیل پر حماس کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹوں اور فلسطین کے حق میں مظاہروں کی تصاویر اس ایپ پر بڑے پیمانے پر شائع کی گئیں۔

    اس تنازعے نے فلسطین اور اسرائیل کے لوگوں کو پوری دنیا میں صارفین کی سکرینوں تک پہنچا دیا ہے۔

    اس بارے میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  6. اسرائیل، فلسطین تنازع اور انٹرنیشنل قوانین: کیا حماس اور اسرائیل بین الاقوامی قانون پر عمل کر رہے ہیں؟

    law

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بین الاقوامی قانون ریاستوں کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال کی نگرانی کرتا ہے اور اسی وجہ سے اسرائیل اور حماس کی لڑائی میں فریقین کے اقدامات کی قانونی حیثیت پر شدید بحث جاری ہے۔

    غزہ میں اپنی سابقہ کارروائیوں کی طرح امکان ہے کہ اسرائیل دلیل دے گا کہ اس کی حالیہ کارروائی بھی اپنے دفاع کے تحت جائز ہے۔

    اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق نمبر 51 کے مطابق اپنے دفاع کا حق بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے۔ اگرچہ اس اصول کے کچھ پہلو متنازع ہیں لیکن عالمی سطح پر اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ایک ریاست مسلح حملے کے خلاف اپنا دفاع کر سکتی ہے۔

    تاہم حقِ دفاع کے بنیادی حقائق اکثر متنازع رہے ہیں۔ کسی بھی تنازعے میں فریقین اس بات پر کم ہی رضا مندی ظاہر کرتے ہیں کہ حملہ آور کون ہے اور اپنا دفاع کون کر رہا ہے اور اسرائیل اور فلسطین کا تنازع بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

    اس پیچیدہ مگر اہم معاملے کے بارے میں جاننے کے لیے کنگزکالج کے محقق گوگیلی ایلمو وردی رامے کا تازہ مضمون پڑھیے۔

  7. یروشلم اور غزہ میں جاری تشدد کے متعلق انڈیا کو ’تشویش لاحق‘

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں انڈیا کے ایلچی ٹی ایس ترومورتی نے کہا ہے کہ یروشلم اور غزہ میں جاری تشدد کے متعلق انڈیا کو تشویش لاحق ہے۔

    انڈین سفیر نے کہا کہ ’انڈیا ہر طرح کے تشدد کی مذمت کرتا ہے اور فوری طور پر تناؤ ختم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔‘

    ترومورتی نے کہا: 'انڈیا فلسطینیوں کے جائز مطالبے کی حمایت کرتا ہے اور دو قومی نظریے کے تحت (اس تنازعے کے) حل کے لیے پرعزم ہے۔'

    انہوں نے کہا: ’انڈیا غزہ پٹی سے راکٹ حملوں کی مذمت کرتا ہے، اسی طرح اسرائیلی انتقامی کارروائیوں میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں عام شہری کا ہلاکا ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان حملوں میں ایک انڈین شہری کی موت ہوگئی ہےجو اشکلون میں نرس تھیں، ہمیں ان کی موت کا شدید رنج ہے۔‘

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں یہ پہلا موقع ہے جب انڈیا نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان جاری تنازعے میں کھل کر اپنی بات رکھی ہے۔

    اس سے قبل انڈیا باضابطہ طور پر بیان جاری نہیں کرتا تھا۔

  8. وہ لمحہ جب غزہ میں میڈیا کے دفاتر اسرائیلی حملے میں تباہ ہوئے

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  9. اسرائیل فلسطین تنازع: عرب ممالک اور اسرائیل کے تعلقات کا مستقبل کیا ہو گا؟, فرینک گارڈنر کا تجزیہ

    DC

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنان معاہدوں پر متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل نے ٹرمپ انتظامیہ کے آخری سال میں دستخط کیے تھے

    بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی امور فرینک گارڈنر نے اپنے تازہ ترین مضمون میں تجزیہ کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطیینیوں کے درمیان بگڑتی ہوئی صورت حال ان عرب حکومتوں کے لیے خاصی شرمندگی کا باعت بن رہی ہے جو حال ہی میں اسرائیل سے اپنے تعلقات کو معمول پر لائی ہیں۔

    وہ لکھتے ہیں: ’ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ اسرائیل کے ساتھ کیے جانے والے وہ ایبراہم اکارڈز یا ’ابراہیمی معاہدے‘ جنھیں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے بڑے ڈھول ڈھمکے کے ساتھ طے کیا تھا، انہیں ایک نہ ایک دن زمینی حالات و واقعات کا اسیر ہونا ہی تھا۔ اب جبکہ یہ زمینی صورت حال بگڑتے بگڑتے ایک مہلک لڑائی کی شکل اختیار کر چکی ہے، عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی گرمجوشی کے کھلے عام اظہار کو بھی لگام ڈال دی گئی ہے۔‘

    پورا مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  10. اتوار کو بیروت اور ایمسٹرڈیم میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے

    palestine

    ،تصویر کا ذریعہepa

    اتوار کو دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کیے گئے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اس سلسلے میں ایک مظاہرہ الاہباش نے منعقد کیا جس میں متعدد خواتین بھی شریک ہوئیں۔

    اسی طرح نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹر ڈیم کے ڈیم سکوائر میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور اس دوران مظاہرین نے فلسطین کا پرچم لہرائے اور اکثر نے اس دوران کفایہ پہن کر رکھا تھا۔

    israel

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    گذشتہ روز سپین کے شہر میڈرڈ میں بھی ہزاروں لوگ فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔ تقریباً ڈھائی ہزار کے قریب نوجوانوں نے فلسطینی پرچم لپیٹ کر شہر کے مرکز کی جانب مارچ کیا۔

    اے ایف پی کے مطابق مظاہرین اس موقع پر نعرے لگا رہے تھے کہ 'یہ جنگ نہیں بلکہ نسل کُشی ہے۔'

    اس سے قبل سنیچر کو پیرس میں بھی فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا گیا جس پر پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

    اے ایف پی کے مطابق پیرس کے حکام کی جانب سے لاؤڈ سپیکروں پر اعلانات کیے جاتے رہے کہ مارچ غیر قانونی ہے مگر اُس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ شہر کے شمالی حصے میں جمع ہوئے۔

    france

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  11. اسرائیل فلسطین تنازع: بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید, تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح اسرائیل کی جانب سے 80 فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک

    palestine

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    بظاہر کچھ سالوں کی خاموشی کے بعد مشرق وسطی میں ایک بار پھر بحرانی کیفیت کا ماحول واپس پیدا ہو گیا ہے اور اس بار بھی اس کا محور اسرائیل اور فلسطین کے مابین تنازعات ہی ہیں۔

    رمضان کے مہینے میں بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے گھر خالی کرانے کے معاملے پر مقامی فلسطینیوں کا احتجاج مسجد الاقصی کے کمپاؤنڈ میں شروع ہوا تھا لیکن اسرائیلی حکام کی جوابی کارروائی اور حماس کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں حالات اب غرب اردن اور غزہ کی پٹی، دونوں ہی جگہ خراب ہو چکے ہیں۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح اسرائیل کی جانب سے 80 فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے حماس نے بھی اسرائیل کی جانب راکٹ داغے۔

    اس سے قبل اسرائیل کے وزیراعظم بینامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف اسرائیل کا فوجی آپریشن ’پوری طاقت کے ساتھ‘ جاری رہے گا۔

    نیتن یاہو نے متنبہ کیا کہ ’ہم امن کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔۔۔ اس میں وقت لگے گا۔‘

    غزہ میں صحت کے حکام کے مطابق اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے تازہ ترین حملوں میں 16 خواتین اور 10 بچوں سمیت مزید 42 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس کے بعد غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی اموات کی تعداد 192 جبکہ 1230 افراد زخمی ہیں۔

  12. یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ