بریکنگ, ’وہ سڑکیں جو ہسپتالوں تک جاتی ہیں، وہ سب تباہ ہو گئی ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
پیر کی صبح اسرائیل نے بڑی تعداد میں غزہ کی پٹی پر فضائی حملے کیے جو کہ گذشتہ ہفتے سے جاری لڑائی میں سب سے بھاری حملوں میں سے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا تھا عسکریت پسند گروہ حماس کی جانب سے جنوبی اسرائیل کی طرف متعدد راکٹس فائر کیے گئے جس کے جوابمیں انھوں نے جنگی طیاروں کی مدد سے حملہ کر کے حماس کے رہنماؤں کے مکانات کو نشانہ بنایا۔
تاہم ان حملوں کے نتیجے میں متعدد سڑکیں تباہ ہو گئیں اور بڑے علاقے بجلی سے محروم ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ 20 منٹ کے دورانیے کے اس حملے میں 50 جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور مقامی وقت کے مطابق پیر کو علی الصبح یہ حملے کیے گئے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق انھوں نے 35 ’اہداف‘ کو نشانہ بنایا اور حماس کی 15 کلومیٹر سے زیادہ طویل سرنگوں کے نیٹ ورک کو بھی تباہ کر دیا اور اس کے علاوہ حماس کے کم از کم نو ’اہم رہنماؤں‘ کے گھروں کو نشانہ بنایا۔
غزہ میں ہلال احمر کی ترجمان سہیر زکوۃ نے بی بی سی کو رات بھر ہونے والی بمباری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
’یہاں بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اور انفراسٹرکچر کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔ سڑکیں، وہ سڑکیں جو ہسپتالوں تک جاتی ہیں وہ سب تباہ ہو گئی ہیں۔ پانی، بجلی، سب کی فراہمی متاثر ہوئی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters











