امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘
غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘
لائیو کوریج
غزہ میں تعمیر نو کے لیے مصر 50 کروڑ ڈالر کی امداد دے گا
،تصویر کا ذریعہReuters
غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے انفراسٹرکچر کو ہونے والے نقصان کے بعد مصر کا کہنا ہے کہ وہ یہاں تعمیر نو کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی امداد دے گا۔
مصر کے صدر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ تعمیر نو کے لیے کمپنیوں کو وہاں رسائی فراہم کریں گے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے کہ جب مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پیرس میں اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانویل میکخواں سے ملاقات کی ہے۔
اسرائیل میں غزہ کی سرحد کے قریب دو مزید ہلاکتوں کی اطلاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی طبی عملے کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل میں غزہ کی سرحد کے قریب دو غیر ملکی افراد راکٹ حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
میگن ڈیوڈ ایڈم ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ دونوں مرد، جو 30 سال سے زیادہ عمر کے ہیں، زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگئے۔ وہ دھماکے میں زخمی ہوگئے تھے۔
بئر السبع کے شہر میں ایک دوسرے حملہ میں سات افراد زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک فرد تشویشناک حالت میں ہے۔
’فلسطین کی آزادی‘ کا نعرہ لگانے پر برطانوی پولیس اہلکار زیرِ تفتیش
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
لندن میں ایک پولیس اہلکار نے احتجاجی مظاہرے کے دوران ’فری پیلسٹائن (فلسطین کی آزادی)‘ کا نعرہ لگایا جس کے بعد ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
اہلکار کی شناخت نہیں ہوسکی تاہم ان کی کئی ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی گئی تھیں۔
لندن پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پولیس اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ مثبت طریقے سے تعاون کریں تاہم انھیں اس (مظاہرے) میں حصہ لینے یا سیاسی موقف اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔‘
اس میں مزید کہا گیا کہ ’پیشہ ورانہ معیار کے ڈائریکٹوریٹ کو مطلع کیا جاچکا ہے اور ہم واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا مزید کارروائی مناسب ہوگی۔‘
بریکنگ, ’جنوبی اسرائیل میں راکٹ حملے سے 10 زخمی‘
میگن ڈیوڈ ایڈم ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل کے علاقے ایشکول میں ایک راکٹ حملے میں 10 افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔
اخبار ہاریٹز کے مطابق غزہ میں فلسطینی جنگجوؤں نے اس علاقے پر 50 راکٹ داغے جن میں سے ایک نے گودام کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسرا ایک رہائشی علاقے کے قریب جا گِرا۔
اس سے قبل طبی عملے نے بتایا تھا کہ غزہ کے قریب معبر بيت حانون کراسنگ پر مارٹر شیل سے ایک اسرائیلی فوجی زخمی ہوا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ مسلح جنگجوؤں نے اس وقت حملہ کیا جب امدادی سامان کی ترسیل کے لیے کراسنگ کو کھولا گیا تھا۔
بریکنگ, غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خلاف فلسطینیوں اور اسرائیلی عربوں کی جانب سے مکمل ہڑتال
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل کئی دن سے فضائی حملوں کے
خلاف احتجاج کرتے ہوئے فلسطین اتھارٹی اور اسرائیلی عرب رہنماؤں نے مقبوضہ غرب
اردن اور اسرائیل کے عرب علاقوں میں مکمل ہڑتال کی کال دی جس کے نتیجے میں
کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بند رہیں۔
ہڑتال کی کال دینے والے منتظمین میں سے ایک عصام بکر نے
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ’ہم ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم
ساتھ کھڑے ہیں یہ کہنے کے لیے کہ اب غزہ میں جارحیت کو بند کیا جائے۔ اور ہم ساتھ
میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مسجد الاقصی پر حملے بند کیے جائیں اور آبادکاری اور
قبضوں کو بند کیا جائے اور فلسطینیوں کے ساتھ ناانصافی ختم کی جائے۔‘
غزہ میں لڑائی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب چند روز قبل اسرائیل
اور فلسطینیوں کے درمیان اس پرتشدد تنازع
کا آغاز ہوا۔
مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کے علاقے میں فلسطینیوں کو ان کے
علاقوں سے بے دخل کرنے کی دھمکیاں اور خدشات حالیہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
اس کے بعد آٹھ مئی کو مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی
مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ ان جھڑپوں میں 53 فلسطینی زخمی ہوئے تھے۔
اسرائیلی پولیس کی جانب سے جارحیت کے بعد عسکریت پسند گروہ
حماس نے غزہ سے اسرائیلی شہروں کی جانب راکٹ داغنے شروع کر دیے جس کے جواب میں
اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں کا آغاز ہو گیا۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہEPA
اندرونی اختلافات کے باوجود یورپی یونین کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبہ کی توقع
،تصویر کا ذریعہReuters
توقع ہے کہ یورپی یونین منگل کو ہونے والے ایک ایمرجنسی
ورچوئل اجلاس میں اسرائیل اور فلسطین میں جاری پرتشدد واقعات کو روکنے کا مطالبہ
کرے گی۔
ای یو کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بوریل نے اس سے قبل شہریوں
کی بڑی تعداد میں ہلاکت کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی تھی۔
لیکن اس تنازع کے حوالے سے ای یو میں خود اختلافات ہیں اور
کئی ممبر ممالک اسرائیلی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اور اس پر کئی سفارت کاروں کا
کہنا ہے کہ ان اختلافات کی وجہ سے ای یو کا اس تنازع کو حل کرنے میں کردار کم
ہوگا۔
،تصویر کا ذریعہEPA
دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے دفتر کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر مصر کے صدر اور اردن کے بادشاہ کے ساتھ اس حوالے سے گفتگو کریں گے۔
توقع ہے کہ ان مذاکرات میں اسرائیل اور فلسطین میں عسکریت پسندوں کے مابین جاری جھڑپوں کو ختم کیے جانے کے بارے میں بات چیت ہوگی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتنیاہو سے فون پر بات کی تھی اور انھوں نے جنگ بندی کے مطالبے کی تائید بھی کی تھی۔
صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ اس حوالے سے مصر اور دیگر ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں۔
تاہم دوسری جانب امریکہ نے ایک ہفتے کے دوران تیسری بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے حوالے سے پیش کی گئی قرار داد کو ویٹو کر کے بلاک کر دیا۔
اس کے علاوہ امریکی اخبار واشنٹگن پوسٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کے لیے 735 ملین ڈالر مالیت کے جدید اسلحے کی فروخت کی منظوری دی ہے اور امریکی کانگریس کو اس حوالے سے باضابطہ تصدیق پانچ مئی کو کی گئی تھی۔
’اسرائیلی حملوں میں شہری عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے‘
،تصویر کا ذریعہReuters
فلسطین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گذشتہ شب ہونے والے اسرائیلی
فضائی حملوں نے غزہ کی پٹی میں شہری عمارتوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان
پہنچایا ہے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے
غزہ کے مغربی حصے میں واقعے علاقے میں اپنے حملوں سے سڑکوں کو نقصان پہنچایا اور
مختلف اضلاع میں بھی حملے کیے۔
خبر کے مطابق شہریوں کے گھروں پر 50 سے زیادہ حملے کیے گئے تاہم حکام نے کہا کہ ان میں کسی کی موت نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ پیر کو رات گئے اسرائیلی حملوں میں غزہ میں کووڈ 19 کا ٹیسٹ کرنے
والی واحد لیب کو تباہ کر دیا گیا اور ہلال احمر کے دفتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیلی حملوں نے حماس کی سرنگیں تباہ کر دی ہیں: اسرائیلی فوج
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی افواج نے مقامی میڈیا کو گذشتہ شب کیے جانے والے
حملوں سے آگاہ کیا ہے جس میں ان کا دعوی تھا کہ حملوں کی مدد سے عسکریت پسند گروہ
حماس کے ’میٹرو‘ نامی سرنگوں کے نیٹ ورک میں 10 سے 15 کلومیٹر کی سرنگوں کو تباہ
کر دیا گیا۔
فوجی ترجمان بریگیڈئیر ہدائی زلبرمین نے کہا کہ اسرائیلی
فوج کے 60 جنگی جہازوں نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔
اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق انھوں نے کہا: ’ہمیں زیر زمین
اس نیٹ ورک کے بارے میں علم ہے اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس میں داخلی راستے کہاں
کہاں ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں کی مدد سے انھوں نے حماس کے جنگجوؤں
کو مجبور کیا ہے کہ وہ زیر زمین سرنگوں کے بجائے اوپر آ کر جنگ کریں۔
انھوں نے مزید دعوی کیا کہ آٹھ روز قبل شروع ہونے والی اس
لڑائی میں اب تک حماس کے 150 جنگجو ہلاک ہو
چکے ہیں۔
دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک 212 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے
جس میں سے 61 بچے اور 36 خواتین شامل ہیں۔
ایک اور اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ترجمان زلبرمین نے کہا کہ
ان کی فوج حماس کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور جب اس آپریشن کا ماحول
سازگار ہو جائے گا تو انھیں اپنی کامیابی کی امید ہے۔‘
بریکنگ, روسی صدر پوتن کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہReuters
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ان بڑھتی ہوئی آوازوں میں اپنی
آواز شامل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین تنازع میں جاری کشیدگی
اور پر تشدد واقعات کو فوراً روکا جائے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انھی
واقعات کی وجہ سے ’ بڑی تعداد میں پر امن افراد کی جانیں گئی ہیں جن میں کئی بچے
بھی شامل ہیں۔‘
’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دونوں فریقین کی جانب سے
پرتشدد اقدامات کو بند ہونا چاہیے اور اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں
کی روشنی میں حل ڈھونڈنا چاہیے۔‘
’ان حملوں سے غزہ کی عمارتیں ایسے ہل گئیں جیسے کوئی زلزلہ آیا ہو‘
بی بی سی کے غزہ میں نامہ نگار رشدی ابوالاعوف گذشتہ شب
ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بارے میں سلسلہ وار ٹویٹس کر رہے تھے جس میں اسرائیل
نے غزہ پر 60 سے زیادہ حملے کیے۔
عسکریت پسند گروپ حماس کی جانب سے اسرائیل ہر 90 راکٹس داغے گئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
غزہ میں گذشتہ شب کیے گئے اسرائیلی حملوں میں ایک بھی موت نہیں ہوئی: محکمہ صحت
،تصویر کا ذریعہEPA
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق غزہ کے محکمہ صحت کے حکام
نے کہا ہے کہ دس مئی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں گذشتہ شب پہلا موقع تھا
جب کسی فلسطینی کی موت نہیں ہوئی۔
غزہ کے رہائشیوں کے مطابق گذشتہ شب اسرائیل کی جانب سے 60 حملوں کیے گئے۔
روئٹرز کو ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اسی اثنا میں اسرائیل
پر کیے گئے راکٹ حملوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
واضح رہے کہ عالمی طاقتیں غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششیش
کر رہی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مرکزی ترجمان بریگیڈئیر جنرل ہدائی زلبرمین
نے کہا کہ ان کی فوج غزہ آپریشن کم از کم اگلے 24 گھنٹوں تک جاری رکھیں گی اور ان
کے پاس مخصوص اہداف کی فہرست موجود ہے۔
آرمی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی
فوج جنگ بندی کے بارے میں کوئی بات نہیں کر رہی اور ان کی تمام تر توجہ حملوں پر
ہے۔‘
بریکنگ, غزہ گوگل پر دھندلا کیوں دکھائی دیتا ہے؟
بریکنگ, اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں کووڈ 19 ٹیسٹنگ کرنے والی واحد لیب تباہ، ہلال احمر کا دفتر بھی متاثر
،تصویر کا ذریعہReuters
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل
کی جانب سے غزہ میں حملوں کے نتیجے میں وہاں کووڈ کی ٹیسٹنگ کے لیے قائم کی گئی
واحد لیبارٹری تباہ ہو گئی ہے۔
غزہ کی پٹی میں دنیا بھر میں کووڈ کی
مثبت شرع دنیا میں سب سے زیادہ پائی جانے والی شرح میں سے ہے اور اس وقت وہاں کیے
گئے ٹیسٹس میں سے 28 فیصد مثبت آ رہے ہیں۔
اس تازہ ترین حملے کے نتیجے میں ہلال
احمر کا دفتر بھی متاثر ہوا ہے۔
غزہ کی پٹی میں موجود ہسپتال مریضوں سے
بھر گئے ہیں اور اس علاقے میں گذشتہ 15 سالوں سے اسرائیلی پابندیاں عائد ہیں اور
سہولیات کی شدید کمی ہے۔
غزہ کی رہائشی روبا ابو ال عوف نے کہا
کہ وہ ایک سخت رات کے لیے تیار ہیں۔
’ہمارے پاس اور کچھ کرنے کو ہے ہی نہیں
بس گھر پر بیٹھنے کے علاوہ۔ موت کبھی بھی آ سکتی ہے۔ یہاں ہونے والے بمباری بہت
زیادہ ہے اور یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کس پر کی جا رہی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی بمباری
کے بعد اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گذشتہ چند دنوں میں 40 ہزار سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 2500 کے اپنے
مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔
غزہ میں معیشت پر تحقیق والے
ادارے پال تھنک سے منسلک عمر شعبان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’بدقسمتی سے
گذشتہ نو دنوں سے ہر رات کو حالات میں خرابی بڑھ جاتی ہے۔ اتنے سارے مقامات کو
نشانہ بنایا گیا ہے۔ صرف دو منٹ میں ڈیڑھ سو سے زیادہ فضائی حملے کیے گئے۔ اتنی
ساری عمارتیں تباہ ہو گئیں اور ہزاروں لوگوں کو اپنے مکانات سے دربدر ہونا پڑا ہے۔
اب تک کم از کم 50 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور سرحد بند ہونے کے
باعث یہاں پر بجلی بھی نہیں ہے۔‘
اسرائیل اور فلسطین کی حالیہ کشیدگی کے دوران کون سا ملک کس کے ساتھ کھڑا ہے؟
،تصویر کا ذریعہEPA
غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف بہت سے
ممالک نے اپنی آواز بلند کی ہے اور فی الفور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاہم ایسے بھی
کئی ممالک ہیں جو اسرائیل فلسطین تنازع میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کا
ساتھ دے رہے ہیں۔
ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور
تجارتی تعلقات ہیں اور وہ حماس کو عسکریت پسند تنظیم قرار دیتے ہوئے اسرائیلی حملوں
کو اپنے دفاع کا حق قرار دیتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک
کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو
جائز قرار دیتی ہیں۔
غزہ میں اموات کی تعداد میں اضافے کے باوجود اسرائیلی فوج کا اپنی حکمت عملی کا دفاع, پال ایڈمز، نامہ نگار برائی سفارتی امور، یروشلم
،تصویر کا ذریعہEPA
بین الاقوامی سطح پر
غزہ میں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے لیکن ساتھ
ساتھ اسرائیل بھی اپنے فیصلوں کی توجیہات پیش کر رہا ہے۔
ڈھیروں بریفنگ میں
سینئر فوجی اہلکار اپنے حملوں کے اہداف اور اُن کو حاصل کرنے کے لیے ایک ٹائم لائن
پیش کر رہے ہیں۔
لیکن یہ آپریشن کب
تک چکے گا؟ ایک فوجی افسر کے مطابق صورتحال کافی عرصے تک ایسی ہی رہ سکتی ہے۔
اعدادوشمار کا جائزہ
لیں تو اسرائیل کے مطابق پہلے ہفتے میں اس کی فوج نے 820 مختلف اہداف کو نشانہ
بنایا ہیں میں سے کچھ پر بار بار بمباری کی گئی۔
اس کے برعکس گذشتہ
ایک برس میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں
180 اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
جواب میں حماس اور
دیگر عسکریت پسند تنظیموں نے اسرائیل کی جانب 3150 سے زیادہ راکٹ چلائے۔ اس کے
برعکس 2019 میں غزہ سے اسرائیل کی جانب کُل 2045 داغے گئے تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کا آپریشن گارڈیئن آف دی والز یعنی دیواروں کے محافظ حماس کی بنائی گئی سرنگوں سے شروع ہوا تھا، جو اسرائیلی سرحد کے قریب کھلتی ہیں۔
سرنگوں سے چند سو میٹر کے فاصلے پر اسرائیلیوں کے گھر ہیں اور ان آبادیوں کے دفاع کو جواز بناتے ہوئے یہ آپریشن شروع کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہون ےوالے قریباً دو سو فلسطینیوں میں سے 130 افراد عکسریت پسند تھے، اور یہ ان کے مطابق ایک بہت ’احتیاط سے دیا گیا اندازہ ہے۔‘
یہ تعداد یقینی طور پر فلسطینی صحت حکام کی جانب سے دی گئی تعداد سے کہیں کم ہے جس کا کنٹرول غزہ میں حماس کے پاس ہے۔ ان کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والوں میں سے سو سے زیادہ بچے اور خواتین کی ہلاکت ہوئی ہے لیکن وہ کبھی بھی جنگجوؤں کے بارے میں نہیں بات کرتے۔
اسرائیل یہ تسلیم کرتا ہے کہ غزہ کے شہری متاثر ضرور ہو رہے ہوں گے لیکن اس کا ذمہ دار وہ حماس کو ٹھیراتے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ شہری علاقوں سے اپنے آپریشن کر رہے ہیں۔
اسرائیل فلسطین تنازع: عالمی برادری کی شہریوں کی جانیں بچانے کی اپیل
،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام
متحدہ ، امریکہ اور برطانیہ سمیت بین الاقوامی برادری نے فلسطین اور اسرائیل تنازع میں پھنسے شہریوں کی زندگیاں بچانے
کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ
میں ملبے کے نیچے سے بچوں کی نکالنے کی تصاویر کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں شہریوں کی
محفوظ پناہ گاہ کے لیے بھاگتے ہوئے تصاویر پر عالمی برادری نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیل
فلسطین تنازعے کی حالیہ لہر اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس میں جنگ بندی
کے آثار بہت کم ہیں۔
غزہ
کے صحت حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اب تک جاری حملوں میں کم از کم 212 فلسطینی
شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 61 بچے اور 36 خواتین شامل ہیں۔ جبکہ اسرائیل میں بھی
دو بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیل
کا کہنا ہے کہ غزہ پر ان کے حملوں میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد عسکریت پسند
ہیں اور ان حملوں میں بچوں کی ہلاکتیں غیر ارادی ہیں۔
تاہم
غزہ میں عکسریت پسند تنظیم حماس اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔
پیر
کی رات کو بھی اسرائیل کی لبنان کے قریب شمالی اور جنوبی سرحدوں پر سائرن کی
آوازیں گونجتی رہیں اور وہاں راکٹ حملے جاری رہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جبکہ اسرائیلی رہنماؤں نے بھی حملے جاری رکھنے کے عزم کو دوبارہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب عالمی رہنماؤں کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی اور اس میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے اس تنازعے میں معصوم شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل عام شہریوں کے ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کریں لیکن انھوں نے حماس کی جانب سے شہری آبادی کو ڈھال بنانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں خصوصاً بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر ایک جموری ملک کی حیثیت سے اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے بھی پہلے سے مخدوش حالات کا شکار غزہ میں شہری انفراسٹریکچر کی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں 40 سکول اور چار ہسپتال ’مکمل طور پر یا جزوی طور‘ پر تباہ ہو چکے ہیں۔
جبکہ صحت کی عالمی تنظیم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ہنگامی سروسز کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان نے بھی کہا ہے کہ ہسپتالوں ہر حملوں کو فوری بند کرنا چاہیے۔
’امریکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے‘: وائٹ ہاؤس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی
وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان پیر کے روز ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے اور
امریکی صدر نے اسرائیل اور فلسطین تنازع میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی صدارتی دفتر وائٹ
ہاوس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی
وزیر اعظم کے درمیان پیر کو ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں امریکی صدر نے اسرائیل اور
فلسطین تنازع میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاوس کے بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن
کے جنگ بندی کے متعلق اظہار خیال پر اسرائیلی وزیر اعظم کے جواب کے متعلق کوئی بات
نہیں کہی گئی ہے۔
وائٹ ہاوس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’امریکی صدر نے
ٹیلیفونک رابطے میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور اس تنازع کے حل کے لیے مصر
اور دیگر فریقین کے ساتھ امریکی رابطے پر بات کی ہے۔‘
دوسری جانب پیر کے روز اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملے
جاری رہے جبکہ حماس کی جانب سے بھی جوابی کارروائی میں اسرائیلی شہروں کو راکٹوں
کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کے صحت حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اب تک جاری
حملوں میں کم از کم 212 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 61 بچے اور 36 خواتین شامل
ہیں۔ جبکہ اسرائیل میں بھی دو بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ
امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اس تنازع میں معصوم شہریوں
کی زندگیاں محفوظ بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر کی جانب سے حماس
کے حملوں کے جواب میں اسرائیل کے دفاع کے حق کی بھی بھرپور حمایت کی گئی۔‘
وائٹ ہاؤس کے بیان میں یہ
بھی کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں حماس اور دیگر عکسریت پسند گروہوں کے
خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘
اسرائیل کا حماس کے فوجی اڈے پر بمباری کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے شمال میں غزہ کی پٹی پر واقع حماس کے اندرونی سکیورٹی ہیڈ کوارٹر پر بمباری کی ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی دفاعی فورسز کا کہنا ہے کہ یہ عمارت حماس کے ’مرکزی انفراسٹرکچر کا حصہ ہے جہاں تنظیم کی فوجی انٹیلیجنس کام کرتی ہے۔‘
ان فضائی حملوں کے بعد اب تک وہاں ہلاکتوں یا زخمیوں کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔
امریکہ نے سلامتی کونسل کو ایک بار پھر اسرائیل فلسطین تنازع پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے سے روک دیا
،تصویر کا ذریعہEPA
مختلف ممالک کے سفارتکاروں کے مطابق امریکہ نے ایک ہفتے میں تیسری مرتبہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے سے روک دیا ہے۔
چین، تیونس، اور ناروے کی جانب سے مشترکہ اعلامیے کی تحریر میں ’تشدد کے خاتمے اور عالمی قوانین کا احترام اور عام شہریوں اور بچوں کی حفاظت‘ کو یقینی بنانا شامل کیا گیا تھا۔
اسے سلامتی کونسل کے 15 ممبران نے پیر کے روز منظور کرنا تھا لیکن ایک سفارتکار نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ نے کہا کہ ’وہ اس اعلامیے کی اس وقت حمایت نہیں کر سکتا۔‘
سلامتی کونسل کا اجلاس اتوار کے روز آن لائن منعقد ہوا اور اس کا انعقاد جمعے کو ہونا تھا، تاہم امریکہ جو اسرائیل کے اتحادی ہے، اس نے یہ اجلاس ملتوی کروایا تھا۔