پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں پانچ ہزار سے زائد نئے متاثرین، 100 اموات

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 100 اموات ہوئی ہیں جبکہ 5139 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 50 افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

لائیو کوریج

  1. ایسٹرا زینیکا ویکسین کے معاملے پر یورپ منقسم

    covid

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    یورپ کے کئی ممالک ویکسینیشن معطل کیے جانے کے بعد آکسفورڈ ایسٹرا زینکا ا نامی میں ویکسین سے متعلق مزید وضاحت کے انتظار میں ہیں۔

    فرانس، جرمنی سپین اور اٹلی کا کہنا ہے کہ ویکسین لگوانے والے کچھ افراد میں خون جمنے کی شکایات سے متعلق یورپی نگرانوں کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں تاہم کچھ یورپی ممالک جن میں پولینڈ اور بیلجئم شامل ہیں وہ ویکسین کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    یورپی یونین کی دواساز ایجنسی ای ایم اے اپنی رپورٹ جمعرات کو کو پیش کرے گیآ ایسجنی نے منگل کو کہا تھا کہ وہ وہ اس دوا کے فوائد پر یقین رکھتی ہے اور بعض افراد میں خون جمنے کی شکایات آبادی کے تناسب کے حساب سے معمولی ہے۔

    ادارے کی سربراہ ایمر کوکی کا کہنا تھا ’اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ خون جمنے کی وجہ یہ ویکسین تھی‘۔

    منگل کو ایک مشترکہ بیان میں فرانس کے صدر اور اٹلی کے وزیر اعظم نے کہا کہ ای ایم اے کا بیان حوصلہ افزا نہیں ہے۔

  2. پاکستان کے تمام صوبوں میں ویکسین کے بڑے مراکز بنانے کا فیصلہ

    کورونا ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہNCOC

    پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم این سی او سی نے تمام صوبوں میں ویکسین کے مزید مراکز بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں لاہور میں قائم ایکسپو سینٹر کی طرح بڑے پیمانے پر لوگوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق بڑے پیمانے پر نئے ویکسین سینٹرز اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد، کوئٹہ، پیشاور، راولپنڈی، ملتان، ایبٹ آباد، مظفر آباد، کراچی اور دیگر شہروں میں قائم کیے جائیں گے۔

  3. ’اپنے والدین کو ویکسین لگوائیں، یقین کریں آپ کو سانس لینے میں آسانی ہوگی‘, پاکستان میں لوگوں کا ویکسین لگوانے کا تجربہ کیسا رہا؟

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    پاکستان میں ویکسینیشن مہم جاری ہے جس میں سب سے پہلے چین سے درآمد شدہ سائنو فارم ویکسین معمر افراد اور طبی عملے کو لگائی جا رہی ہے۔ اس دوران عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کئی معروف شخصیات نے بھی ویکسین لگوائی ہے یا اپنے والدین کے ساتھ اس مہم میں حصہ لیا ہے۔

    صدر مملکت عارف علوی بھی گذشتہ روز اسلام آباد کے ایک مرکز میں ویکسین لگوانے کے لیے پہنچے۔ ان کے مطابق انھوں نے اپنی باری کا انتظار کیا اور اسی طریقۂ کار کے ذریعے ویکسین لگوائی جو پورے ملک میں اپنایا جا رہا ہے۔

    لیکن لمز یونیورسٹی کی پروفیسر سلمی زمان نے ٹوئٹر پر بتایا کہ ’صدر مملکت سے پہلے میرے والدین کو ویکسین لگائی گئی۔‘

    وہ اپنے اچھے تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ویکسین کی منصفانہ تقسیم کے نظام پر حکومت کو سراہا جانا چاہیے۔‘ ان کی پوسٹ پر ایک صارف نے دریافت کیا کہ ’وزیر اعظم عمران خان بھی تو معمر ہیں اور ویکسین لگوا سکتے ہیں، پھر انھوں نے اب تک ایسا کیوں نہیں کیا؟‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    دریں اثنا بہت سے صارفین حکومتِ پنجاب کی جانب سے ویکسین کے لیے قائم مراکز سے مطمئن نظر آئے۔

    زیب النسا برکی کہتی ہیں کہ ان کے والدین نے ایکسپو سینٹر لاہور میں ویکسین لگوائی اور اس میں صرف 35 منٹ لگے۔

    ’مہربانی فرما کر اپنے والدین کو ویکسین لگوائیں۔ میرا یقین کریں آپ کو سانس لینے میں آسانی ہوگی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

    پاکستان میں صحت کے مشیر ڈاکٹر فیصل سلطان بھی اسی طرح اپنے والدین کو ویکسین لگوانے کے لیے ایکسپو سینٹر پہنچے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بہت آسان مرحلہ ہے اور معمر لوگ صرف اپنا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر بھیج کر کورونا سے حفاظت سے ٹیکے لگوا سکتے ہیں۔

    اداکارہ ثمینہ پیرزادہ نے بھی گذشتہ روز اپنی ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ انھوں نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی ہے۔

    انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ’شاباش پاکستان۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 4

    مصنف زاہد حسین نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ویکسینیشن کے لیے کیے گئے انتظامات کی تعریف کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گذشتہ دنوں یہاں ہنگامی صورتحال تھی جس پر اب قابو پا لیا گیا ہے۔

    نیوز اینکر مہر بخاری نے لکھا ہے کہ ’میں نے اپنے والدین کو ویکسین لگوائی ہے۔ لاہور میں انتظامات اچھے کیے گئے ہیں تاہم یہاں آنے والے لوگوں میں کافی بےچینی پائی جاتی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 5

    کرکٹر ثنا میر کہتی ہیں کہ لاہور میں ان کے والدین کو پیشہ ورانہ طریقہ کے ساتھ ویکسین دی گئی جس سے وہ کافی متاثر ہوئی ہیں۔

    حسین نامی ایک صارف کا تجربہ بھی اچھا رہا۔ انھوں نے ویکسین کے لیے آئے اپنے والدین کی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں ان کے والد نے چہرے پر برطانوی فٹبال کلب آرسنل کا ماسک پہنا ہوا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 6
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 6

    ’والدہ کے لیے ویکسین چاہیے لیکن نااہلی سے خوفزدہ ہوں‘

    مگر اس دوران کئی لوگوں کا تجربہ اتنا اچھا نہیں رہا۔

    ایک صارف نوفل نقوی نے ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ وہ اپنے 82 سالہ والد کو لے کر کراچی کے جناح پوسٹ گریجیویٹ ہسپتال گئے تھے جہاں اسی روز سینکڑوں دیگر معمر افراد کو بلایا گیا تھا۔

    ’ہم سب عمارت کے اندر تھے جہاں وائرس آسانی سے پھیل سکتا ہے۔ لوگ ایک میز کے گرد جمع تھے اور کوئی قطار نہیں بنائی گئی تھی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ انھیں اپنے والد کے ہمراہ پہلی منزل پر جانا پڑا جو کینسر سے متاثرہ ہیں اور ان کا ایک گردہ ہے۔ ’ان سے بھی زیادہ معمر افراد تھے جو صحت کے اعتبار سے زیادہ مشکلات سے دوچار تھے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 7
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 7

    انھوں نے بتایا کہ والد کو ویکسین دیے جانے تک کا مرحلہ کافی مشکل رہا اور کئی صارفین نے ان کی ٹویٹ سے اتفاق کیا جنھیں ایسے ہی تجربے سے گزرنا پڑا تھا۔

    اسی طرح احسن نامی صارف نے بتایا کہ کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں سندھ حکومت کی جانب سے قائم کردہ ویکسینیشن سینٹر میں معمر افراد کو دھوپ میں بٹھایا گیا، یہاں کوئی سماجی فاصلہ نہیں تھا اور افراتفری کا عالم تھا۔

    ان کے ٹویٹ کے جواب میں صباحت نامی صارف نے لکھا کہ وہ اپنی والدہ کے لیے جلد از جلد ویکسین کا انتظام کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ اس ’نااہلی سے بہت خوفزدہ‘ ہیں۔

    ویکسین، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@sabahatnaseem

  4. ٹھیک ایک برس بعد اٹلی کے متعدد شہر ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن میں

    rome

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنلاک ڈاؤن سے پہلے

    اٹلی کے شہر وینس سمیت ملک کے دیگر بڑے شہر ایک سال بعد ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن میں داخل ہو گئے ہیں۔ ایسا کورونا وائرس کی نئی لہر کے خدشے کے باعث کیا گیا ہے۔

    ملک بھر کے متعدد شہروں میں دکانیں، ریستوران اور سکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ ایسٹر کے موقع پر تین دنوں کے دوران تین سے پانچ اپریل کو ملک بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔

    rome

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنلاک ڈاؤن کے بعد

    نیچے دی گئی تصاویر میں روم کے مقبول ٹریوی فاؤنٹین کے لاک ڈاؤن سے پہلے اور بعد کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ گذشتہ برس کے آغاز میں جب کورونا وائرس کی عالمی وبا نے چین کے بعد یورپ کو متاثر کیا تھا تو اس دوران اٹلی آغاز میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک تھا۔

    اب تک ملک میں 32 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

  5. صدر عارف علوی: میں نے اپنا نمبر آنے پر ویکسین لگوائی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین مہم جاری ہے اور اب صدر ڈاکٹر عارف علوی نے بھی چین سے درآمد کردہ سائنو فارم ویکسین لگوا لی ہے۔

    اس موقع پر انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا کہ: ’پاکستان میں عمر کے حساب سے اپنی باری پر ویکسین لگائی جارہی ہے۔

    ’میں نے 1166 پر رجسٹر کیا اور نمبر آنے پر ویکسین لگوائی۔۔۔ حکومت نے ویکسینیشن کا آسان اور بہترین نظام بنایا ہے۔ (مگر) ویکسین ملنے کے باوجود احتیاط جاری رکھیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے سمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی اپنانے سے ملک میں ’معاشی نقصان کم ہوا ہے۔‘

  6. تمام ممالک آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال جاری رکھیں: ڈبلیو ایچ او

    covid

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    عالمی ادارہ صحت نے تمام ممالک سے کہا ہے کہ وہ کووڈ کی ویکسینیشن کا عمل جاری رکھیں۔ یہ بات یورپی یونین کے کئی ممالک کی جانب سے آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا ویکسین کا استعمال بند کیے جانے کے بعد کہی گئی ہے۔

    ادارے کا کہناہے کہ ویکسین اور خون جمنے کے درمیان کسی قسم کے تعلق کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

    جرمنی، فرانس، اٹلی اور سپین نے بھی ویکسینیشن کا عمل روک دیا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او میں ویکسین کے تحفظ سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ منگل کو ہونے والی میٹنگ میں اس بارے میں بات چیت کریں گے۔

    یورپین دوا ساز ایجنسی کسی کا بھی ایک اجلاس منگل کو ہو رہا ہے جس کے نتائج جمعرات کو پیش کیے جائیں گے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کا عمل جاری رکھا جانا چاہیے۔

    اس کا کہنا ہے کہ یورپ کے کئی ممالک میں ویکسین کے استعمال کے بعد خون جمنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے عمومی آبادی میں ایسے کیسز کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے، یورپی یونین اور برطانیہ میں تقریبا ایک کروڑ 70 لاکھ افراد کو ویکسین دی گئی ہے جبکہ خون جمنے کی شکایات کے چالیس فیصد موصول ہوئے ہیں۔

  7. امریکی کانگریس کے کئی اراکین کا ویکسین لگوانے سے اجتناب, کانگریس کے جو اراکین ویکسین لگوانے سے اجتناب کر رہے ہیں ان میں سفید فام ریپبلیکن زیادہ ہیں۔

    نینسی پلوسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جہاں ایک طرف امریکہ کے صدر جؤ بائیڈن تمام امریکیوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ویکسین لگوائیں، وہیں دوسری جانب خود کانگریس کے اب تک 25 فیصد اراکین نے ویکسین لگوانے سے اجتناب کیا ہے۔ حالانکہ کانگریس کے اراکین کے لیے خاص طور پر ویکسین کا انتظام کیا گیا ہے۔

    نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق امریکی کانگریس میں ویکسین لگوانے سے اجتناب کرنے والوں میں سفید فام ریپبلیکن اراکین کی تعداد زیادہ ہے۔

    اس رجحان کی وجہ سے کانگریس کے مکمل اور بھرپور اجلاس میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ایسے سیشن میں تمام 435 اراکین شریک ہوتے ہیں۔

  8. ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ آکسفورڈ آسٹرا زینیکا غیر محفوظ ویکسین ہے۔, اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ آسٹرا زینیکا محفوظ نہیں ہے اور عالمی ادارۂ صحت بھی اسے محفوظ قرار دے چکا ہے۔

    آسٹرا زینیکا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آسفورڈ آسٹرا زینیکا کی ویکسین کو ایسے کچھ ممالک میں روک دیا گیا ہے جہاں اس ویکسین کے استعمال کے بعد چند لوگوں کے خون میں لوتھڑے بننے کی اطلاعات آئیں تھیں۔ ویکسین کے استعمال کی نگرانی کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حفاظتی طور پر کیا گیا ہے تا کہ ویکسین اور خون میں کلوٹس یا لوتھڑے بننے کے درمیان کسی تعلق پر تحقیق کی جا سکے۔

    تاہم برطانیہ میں آسٹرا زینیکا نامی اس ویکسین کا استعمال جاری ہے جو کووڈ 19 کے خلاف ایک زبردست دفاع ہے اور کورونا وائرس کا شکار ہونے کی صورت میں بری طرح بیمار ہونے سے بچاتی ہے۔

    اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ آسٹرا زینیکا محفوظ نہیں ہے اور عالمی ادارۂ صحت بھی اسے محفوظ قرار دے چکا ہے۔ پچاس لاکھ افراد میں سے صرف 30 افراد میں اس ویکسین کے استعمال کے کچھ عرصے بعد خون جمنے کی شکایت سامنے آئی ہے لیکن اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں ایسا ویکسین کی وجہ سے ہوا ہے۔

  9. ’اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حامیوں کو ویکسین لگوانے کا کہیں تو یہ گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے‘

    US

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ اگر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حامیوں کو ویکسین لگوانے کی تاکید کریں تو یہ کورونا وائرس سے مقابلے میں ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتا ہے۔

    اتوار کی شب فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ رپبلکنز میں بہت مقبول ہیں اور ان کا ایسے کہنا بہت فرق لا سکتا ہے۔‘

    امریکہ میں کیے گئے ایک حالیہ سروے میں بتایا گیا کہ رپبلکن پارٹی کی حمایت کرنے والے 49 فیصد مرد ویکسین لگوانے کے خلاف ہیں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ماہ ٹرمپ نے ایک تقریب میں سامعین کو کہا کہ ’سب لوگ جائیں اور ویکسین لگوائیں۔‘

    یہ پہلا موقع تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر اپنے ہم وطنوں کو ویکسین لگوانے کے لیے کہا اور اس کے بعد سے وہ اس معاملے پر خاموش ہیں۔

    واضح رہے کہ ٹرمپ کو اپنی صدارت کے آخری دنوں میں ویکسین لگا دی گئی تھی لیکن وہ چار سابق امریکی صدور کے ساتھ اس عوامی مہم کا حصہ نہیں بنے تھے جس میں جمی کارٹر، بل کلنٹن، جارج بش اور براک اوباما نے ویکسین لگوانے کے لیے عوام سے درخواست کی تھی۔

    امریکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا سبملک ہے جہاں اب تک پانچ لاکھ 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں جبکہ تقریباً تین کروڑ افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

  10. ’اسلام آباد میں رات 10 بجے تک کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت‘

    اسلام آباد میں رات 10 بجے تک کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے ٹریڈرز کو جاری کردہ ایک آڈیو پیغام میں اس افواہ کی تردید کی ہے کہ اسلام آباد میں پنجاب کی طرح تمام کاروبار شام چھ بجے تک بند کر دیے جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں رات 10 بجے تک کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت ہے۔‘

    اسلام آباد میں نئی ہدایات کے تحت ہوم ڈیلیوری سمیت دیگر ضروری اشیا اور سروسز تمام اوقات میں جاری رکھی جاسکتی ہیں۔ ’بیکری اور ڈرائے فروٹ والے بھی اپنا کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں۔‘

    حمزہ شفقات نے بتایا کہ ہر دکان کے باہر ماسک لگانے اور زیادہ لوگوں کے جمع نہ ہونے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے والدین کووڈ 19 سے متاثر ہوگئے ہیں۔ وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر اسلام آباد میں ایک ماہ تک تمام افراد کو ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی تلقین کی گئی ہے۔

  11. سندھ کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ

    سندھ، سمارٹ لاک ڈاؤن

    ،تصویر کا ذریعہSindh Govt

    پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بعد اب سندھ کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں بھی سمارٹ لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق صوبے بھر کے نجی مقامات پر ماسک پہننا لازم ہوگا۔ اس کے تحت شادی ہالز میں کھانا کھلانے پر پابندی ہوگی اور شادی کی تقریب میں 300 افراد تک بلائے جاسکیں گے۔

    ہوٹل اور ہالزمیں انڈور ڈائننگ پرپابندی ہوگی جبکہ آؤٹ ڈور ڈائننگ اور ہوم ڈلیوری کی اجازت دی جائے گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام کاروباری مراکز رات 10 بجے بند کرنا ہوں گے اور دفاتر میں پچاس فیصد عملے کو بلایا جاسکے گا۔

    ان نئی ہدایات کا اطلاق سندھ میں پیر کی شب سے 15 اپریل تک ہوگا۔

  12. کووڈ 19: انڈیا میں یومیہ متاثرین 26 ہزار سے زیادہ، سال کا نیا ریکارڈ

    india

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں پیر کے روز 26 ہزار سے زیادہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد سامنے آئے ہیں جو کہ اس سال اب تک کا نیا ریکارڈ ہے۔

    اس تعداد میں نصف سے زیادہ لوگ ملک کی مغربی ریاست مہاراشٹر سے سامنے آئے ہیں جسے پہلے ہی انڈیا میں کورونا وائرس کا ہاٹ سپاٹ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

    اس سال کے آغاز پر انڈیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی تھی لیکن کووڈ سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے قوانین اور پروٹوکولز کی خلاف ورزی میں اضافے کے بعد متاثرین کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    گذشتہ سال سے شروع ہونے والی اس وبا کے باعث انڈیا میں اب تک ایک لاکھ 58 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں مجموعی طور پر ایک کروڑ سے زیادہ افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ انڈیا میں متاثرین کی تعداد میں حالیہ اضافہ ملک میں ویکسینیشن کے آغاز کے بعد ہوا ہے۔

    انڈیا نے جنوری سے ملک بھر میں ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور اب تک تقریباً تین کروڑ افراد کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دی جا چکی ہے۔

  13. پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن

    پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پنجاب میں کورونا کے بڑھتے خطرات کے تحت لاہور، گجرات، سیالکوٹ اور راولپنڈی سمیت کچھ شہروں میں بعض علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے۔

    نئی ہدایات کے تحت پنجاب میں پھل، سبزی، دودھ، گوشت کی دکانیں اور بیکریاں شام سات بجے تک کھلیں گی، انتہائی ضرورت پر ایک فرد ہی گھر سے نکل سکے گا، پنجاب کے تمام کاروباری مراکز پیر سے شام چھ بجے بند ہوں گے۔

    ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹس نہیں کھولی جائیں گی۔ جبکہ نجی اور سرکاری دفاتر میں پچاس فیصد عملہ کام کرے گا۔

    سب سے زیادہ متاثرہ سات شہروں لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالا اور گجرات کے تمام اِن ڈور شادی ہال، مزار، درگاہیں، سنیما اور کمیونٹی سینٹر بند رہیں گے۔

    ان متاثرہ شہروں میں آئندہ دو ہفتوں تک تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

  14. انڈیا پاکستان کو ویکسین فراہم کرے گا

    انڈیا پاکستان کو ویکسین فراہم کرے گا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کو ایسٹرا زینیکا کی تیار کردہ ایک کروڑ 46 لاکھ 40 ہزار آکسفورڈ ویکسین کی خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔

    یہ ترسیل بذریعہ عالمی ادارہ صحت اور گاوی کوویکس ویکسین الائنس پروگرام کے تحت کی جائے گی۔

    پاکستان کو ملنے والا لائسنسڈ بیچ دنیا کے سب سے بڑے ویکسین ساز ادارے سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کا تیار کردہ ہو گا اور عالمی طور پر پاکستان کو ملنے والی ویکسین کی تعداد کسی بھی ایک ملک کو دی گئی سب سے بڑی تعداد ہو گی۔

    اس ویکسین کی دوسری سب سے بڑی کھیپ یعنی ایک کروڑ 36 لاکھ 56 ہزار خوراکیں نائجیریا کو دی جائیں گی۔ گاوی کے مطابق ان خوراکوں کی ترسیل فروری سے مئی کے درمیان متوقع ہے۔ اس کی تصدیق پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے بھی کی۔ اسد عمر نے بتایا کہ ’ویکسین کے لیے گاوی ہی ہمارا مرکزی سپلائر ہے۔‘

  15. نیدر لینڈز نے بھی ایسٹرا زینیکا ویکسین کا استعمال معطل کردیا

    نیدر لینڈز نے بھی ایسٹرا زینیکا ویکسین کا استعمال معطل کردیا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈنمارک، ناروے، آئس لینڈ اور تھائی لینڈ کے بعد اب نیدر لینڈز نے بھی کورونا وائرس کی ویکسین آکسفورڈ-ایسٹرا زینیکا کے استعمال کو معطل کردیا ہے۔

    یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب ایسے دعوے سامنے آئے ہیں کہ اس ویکسین کے استعمال کے بعد خون جمنا شروع ہو جاتا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی سائنسی شواہد موصول نہیں ہوئے۔

    نیدرلینڈز کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حفاظتی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق 29 مارچ تک ہوگا۔ یاد رہے کہ ان خدشات کے باعث کینیڈا، برطانیہ، شمالی نیدر لینڈ سمیت کئی ملکوں میں ایسٹرا زینیکا ویکسین کا استعمال جاری ہے۔

    یورپ میں ادویات کے نگراں ادارے نے کہا ہے کہ اس ویکسین سے بلڈ کلاٹس یا خون جمنے کا خطرہ نہیں ہے جبکہ ویکسین حاصل کرنے والوں میں بلڈ کلاٹنگ کی شرح عام عوام سے زیادہ نہیں ہے۔

    ایسٹرا زینیکا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ویکسین کی مکمل طور پر طبی آزمائش کی ہے اور اسے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل تھائی لینڈ میں کووڈ 19 کی ویکسینیشن مہم کے مشیر کا کہنا تھا کہ 'اس ویکسین کا معیار اچھا ہے لیکن کچھ ممالک نے اس کے استعمال میں تاخیر کا مطالبہ کیا ہے اور ہم بھی وہی کر رہے ہیں۔‘

  16. اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کا کورونا ٹیسٹ مثبت

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    انھوں نے اپنے کورونا ٹیسٹ کے مثبت آنے کی اطلاع اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے دی ہے۔

  17. خیبرپختونخوا کے سات اضلاع کے لیے نئے ایس اوپیز

    خیبرپختونخوا

    ،تصویر کا ذریعہGovt of KP

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے سات اضلاع کے لیے نئے ایس اوپیز وضع کیے گئے ہیں۔

    اس کے مطابق ‏پشاور، مردان، نوشہرہ، سوات، چارسدہ، صوابی اور ملاکنڈ میں مارکیٹیں 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    تاہم اس دوران صرف ادویات، بیکری، کریانہ اور دیگر ضروری اشیا کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ ‏شادی ہالز اور ریستوران میں اندر تقریبات پر مکمل پابندی ہوگی۔

  18. اسلام آباد کے تین سب سیکٹرز سیل

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad Administration

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث انتظامیہ نے تین سب سیکٹرز کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان میں یہ سیکٹرز شامل ہیں:

    I-8/4

    F-11/1

    I-10/2

    ان سیکٹرز میں اب آئندہ دو ہفتوں کے لیے کاروباری علاقے، تفریحی علاقے اور پارک جمعے، ہفتے اور اتوار کو مکمل طور پر بند رہیں گے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق ’کسی بھی طرح کی انڈور سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔‘

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کھلے مقامات پر تین سو افراد کے اجتماع پر صرف دو گھنٹے کے لیے اجازت ہو گی۔ دفاتر کو اپنے 50 فیصد عملہ سے زیادہ عملہ بلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے گی۔‘

  19. پاکستان میں کورونا وائرس کی ’تیسری لہر‘ کا خدشہ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان میں مسلسل پانچویں روز کورونا وائرس کے نئے یومیہ متاثرین کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔

    ملک میں ویکسینیشن مہم جاری ہے جس میں پہلے عمر رسیدہ افراد اور طبی عملے کو ویکسین دی جا رہی ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز کووڈ 19 سے 29 اموات ہوئی ہے جبکہ 2253 نئے متاثرین ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں مصدقہ متاثرین کی تعداد چھ لاکھ سات ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    اب تک کورونا سے کل 13,537 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ملک میں اس عالمی وبا سے 571,878 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ اموات کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب ہے جبکہ اس وقت سب سے زیادہ متاثرین سندھ میں ہیں۔

  20. دنیا میں متاثرین کی تعداد 12 کروڑ کے قریب

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جونز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر اس وقت کورونا وائرس کے کل مصدقہ متاثرین کی تعداد 119,847,912 ہے جبکہ اس عالمی وبا سے 2,653,483 اموات ہوئی ہیں۔

    سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں کووڈ 19 سے کل 29,438,007 متاثرین اور 534,880 اموات ہوئی ہیں۔

    پاکستان میں کورونا وائرس کی ’تیسری لہر‘ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہاں کل مصدقہ متاثرین کی تعداد 607,453 ہے جبکہ اب تک کووڈ 19 سے 13,537 ہلاک ہوئے ہیں۔