پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں پانچ ہزار سے زائد نئے متاثرین، 100 اموات
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 100 اموات ہوئی ہیں جبکہ 5139 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 50 افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, برطانیہ: پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت چار ممالک پر سفری پابندیاں عائد, پاکستان سمیت چار ممالک برطانیہ کی ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی شہریوں کو کورونا وائرس کی نئی اقسام سے بچانے کے لیے حکومت نے فلپائن، پاکستان، کینیا اور بنگلہ دیش پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان چار ممالک کو انگلینڈ کی ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کو کورونا وائرس کی نئی اقسام سے بچایا جاسکے۔
اس کا مطلب ہے کہ اگلے جمعہ (9 اپریل) سے ان ممالک سے آنے والے مسافروں پر سفری پابندی نافذ ہوگی۔
یاد رہے برطانیہ کی اس ریڈ لسٹ میں 35 ممالک شامل ہیں اور 9 اپریل کے بعد ان کی تعداد 39 ہو جائے گی۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان چاروں ممالک سے آنے والے ایسے افراد جن کے پاس برطانیہ یا آئرلینڈ کی شہریت موجود ہو یا کسی تیسرے ملک کے ایسے شہری جن کے پاس برطانیہ کا ریزیڈنسی ویزا موجود ہو، انھیں برطانیہ پہنچے پر 10 دن تک سرکاری طور پر منظور شدہ ہوٹل میں لازمی قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔
ڈیپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نئے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
’عوام تک کورونا ویکسین کی فراہمی پنجاب حکومت کی اولین ترجیح ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ پنجاب کی سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈر ی ہیلتھ کئیر، سارہ اسلم کا کہنا ہے کہ عوام تک کورونا ویکسین کی فراہمی پنجاب حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں ویکسینیشن کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے سارہ اسلم کا کہنا تھا کہ ویکسینشن سینٹر میں ہیلتھ ورکرز سمیت عام عوام تک عمر کی مناسبت سے کورونا ویکسین کی فراہمی جاری ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 17343 افراد کو کورونا ویکسین لگائی گئی۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈر ی ہیلتھ کئیر نے بتایا کہ اب تک 125,511 ہیلتھ کئیر ورکرز کو کورونا ویکسین کی پہلی ڈوز جبکہ 63,666 کو دوسری ڈوز لگا دی گئی ہے۔
سارہ اسلم کے مطابق اب تک 203,043 عام شہریوں کو کورونا ویکسین کی پہلی ڈوز لگائی جا چکی ہے اور گذشتہ روز سے عام شہریوں کو دوسری ڈوز لگانے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق 4,234 عام شہریوں کودوسری ڈوز بھی لگا دی گئی ہے۔
سارہ اسلم کا کہنا تھا کہ فراہم کی جانے والی ویکسین مکمل طور پر محفوظ اور متعلقہ اداروں سے منظور شدہ ہے لہذا ویکسین لگوانا بہت ضروری ہے۔
کراچی کے نجی ہسپتالوں میں کورونا سے بچاؤ کی روسی ویکسین ’سپٹنک‘ لگانے کا آغاز, ریاض سہیل، کراچی
،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے نجی ہسپتالوں میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی روسی ویکسین سپٹنک لگانے کا آغاز ہوگیا ہے۔
روسی ویکسین برآمد کرنے والی فارماسٹیکل کمپنی اے جی پی کا کہنا ہے کہ وہ 25 ہزار ڈوز سپلائی کرچکے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین شہر کے تین بڑے نجی ہسپتالوں آغا خان، ساوتھ سٹی اور او ایم آئی کو فراہم کی جائے گی۔
آغا خان انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نجی شعبے میں ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا۔
دوسری جانب ساؤتھ سٹی ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ویب سائٹ پر آن لائن رجسٹریشن کی جارہی ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ویکسین لگانے کا آغاز ابھی نہیں ہوا۔
او ایم آئی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 10 ہزار 268 روپے میں یہ ویکسین لگائی جا رہی ہے جس میں سروس چارجز بھی شامل ہیں۔
فارماسوٹیکل کمپنی اے جی پی کا کہنا ہے کہ ویکیسن کی فراہمی میں مڈل مین کا کوئی کردار نہیں ہوگا کمپنی ہسپتالوں کو خود ویکسین فراہم کرے گی۔
یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ فارماسوٹیکل کمپنی اے جی پی روسی ویکیسن کی 50 ہزار خوراکیں درآمد کرنے کی اجازت دے چکی ہے۔
پاکستان میں ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے روسی ویکسین سپٹنک کی دو خوراکوں کی قیمت 8449 روپے تجویز کی گئی تھی تاہم کمپنی نے اس کو مسترد کیا اور موقف اختیار کیا کہ اس کو امپورٹ کرنے پر زیادہ لاگت آتی ہے۔
فارماسٹیکل کمپنی اے جی پی کا کہنا ہے کہ اس ویکیسن کو منفی 18 درجہ حرارت پر رکھنا ہوتا ہے۔
کیا پاکستان میں کووڈ 19 کی ’تیسری لہر‘ بچوں کو زیادہ متاثر کر رہی ہے؟
ہمیشہ فرض کیا گیا ہے کہ بچے کسی نہ کسی طرح کورونا وائرس سے محفوظ ہیں۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔
بی بی سی اردو نے بچوں میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے انفیکشن کے بارے میں کچھ ماہرین سے بات کی ہے۔
کورونا وائرس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے مقدمات کی سماعت 11 اپریل تک مؤخر کر دی, 11 اپریل تک صرف اہم نوعیت کے مقدمات کی سماعت کا فیصلہ
کورونا وائرس کی تیسری لہر سے بچاؤ کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے معمول کے تمام مقدمات کی سماعت 11 اپریل تک مؤخر کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی ہدایت پر اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق11 اپریل تک صرف اہم نوعیت کے مقدمات کی سماعت ہو گی۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق ضمانت، حکم امتناع اور حقیقی ہنگامی نوعیت کے کیسز پر سماعت ہو گی اور اہم نوعیت کے مقدمات چیف جسٹس اطہر کی منظوری سے سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے۔
،تصویر کا ذریعہIslamabad Highcourt
انڈیا کے سابق کرکٹر سچن تندولکر ہسپتال داخل ہو گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے سابق کرکٹر سچن تندولکر، کورونا سے متاثرہ ہونے کے بعد ہسپتال میں داخل ہو گئے ہیں۔
سچن نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس بارے میں معلومات دیں۔
انھوں نے لکھا ’مجھے سخت احتیاط اور طبی مشورے کے بعد ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔مجھے امید ہے کہ کچھ ہی دن میں گھر واپس آجاؤں گا۔ آپ سب اپنا خیال رکھیں اور سلامت رہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سچن تندولکر نے تمام ہم وطنوں اور انڈین کرکٹ ٹیم کو بھی 2011 کے ورلڈ کپ کی فتح کے 10 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔
2011 میں اس دن یعنی 2 اپریل کو انڈین کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ کے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر ٹائٹل جیت لیا تھا۔
سچن تندولکر کچھ ہی دن پہلے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔
انڈیا میں ایک بار پھر کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مہاراشٹر بدترین متاثر ریاست ہے۔
پنجاب میں کورونا وائرس کے 2772 نئے مریض، مزید 58 ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 2772 نئے مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 225,953 ہو گئی ہے۔
ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے صوبے میں مطابق کورونا وائرس سے مزید 58 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن کے بعد اموات کی کل تعداد 6,485 ہوچکی ہے۔
صوبے میں اب تک کورونا وائرس کے 3,861,172 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
بلوچستان کے تمام سرکاری دفاتر میں ماسک کے بغیر داخلے پر دوبارہ پابندی عائد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے تمام سرکاری دفاتر میں ماسک کے بغیر داخلے پر دوبارہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
صوبے میں کورونا وائرس کے متاثرین کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔
انڈیا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 81 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین
،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 81 ہزار 466 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
نئے متاثرین کے بعد انڈیا میں فعال متاثرین کی تعداد 6 لاکھ 14 ہزار 696 ہوگئی ہے۔
انڈیا کی مرکزی وزارت صحت کے مطابق کووڈ 19 سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں 469 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی انڈیا میں کووڈ 19 سے اموات کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 63 ہزار 396 ہوگئی ہے۔
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کورونا کے نئے متاثرین کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
جمعرات کے روز انڈیا میں 72 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین رپورٹ ہوئے تھے۔
فاؤچی: امریکہ کو شاید ایسٹرا زینیکا ویکسین کی ضرورت نہ پڑے
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں متعدی امراض کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ امریکی ریگولیٹر کی منظوری کے باوجود شاید امریکہ کو ایسٹرا زینیکا ویکسین کی ضرورت نہ پڑے۔
یاد رہے یہ ویکسین جسے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے دیکھا جا رہا تھا، کے متعلق ایسے دعوے سامنے آئے تھے کہ اس ویکسین کے استعمال کے بعد خون جمنا شروع ہو جاتا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی سائنسی شواہد نہیں ملے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ برائے الرجی اور متعدی امراض کے ڈائریکٹر اور وہائٹ ہاؤس کے چیف میڈیکل ایڈوائزر، فاؤچی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ کے ویکسین بنانے والے دیگر اداروں کے ساتھ کافی معاہدے موجود ہیں اور ممکنہ طور پر موسمِ خزاں میں بوسٹر شاٹس کے لیے یہ تعداد کافی ہو گی۔
اس سوال کے جواب میں کیا امریکہ ایسٹرا زینیکا ویکسین کا استعمال کرے گا، انھوں نے کہا ’یہ ابھی ہوائی باتیں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ متعدد کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے حساب سے ہمارے پاس ایسٹرا زینیکا کی مدد کے بغیر اپنی ساری ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ویکسین موجود ہے۔‘
کوئٹہ: کورونا کے بڑھتے ہوئے متاثرین، سیکریٹریٹ ایک دن بند رکھنے کا فیصلہ
کوئٹہ میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے متاثرین کے پیش نظر سول سیکریٹریٹ کو جمعے کے روز ایک دن کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومتِ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق 2 اپریل کو تمام آفیسرز اور سٹاف گھر سے کام کریں گے تاہم سیکورٹی سٹاف سیکریٹریٹ میں اپنی ڈیوٹی پر موجود رہے گا۔
،تصویر کا ذریعہGovt. of Balochistan
کورونا وائرس: پاکستان میں گذشتہ برس 19 جون کے بعد سے سب سے زیادہ 5234 نئے مریض
،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان میں گذشتہ برس 19 جون کے بعد سے یعنی گذشتہ آٹھ ماہ میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 5234 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 83 افراد کی کورونا وائرس کے باعث ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی ’پیک‘ یعنی ایک دن میں سب سے زیادہ نئے مریض جون 13 کو سامنے آئے تھے اور اس روز یہ تعداد 6825 تھی۔
تاہم 19 جون جب ملک میں 6604 مریض سامنے آئے، اس کے بعد سے یہ اب تک ایک دن میں سامنے آنے والے کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
اسلام آباد میں کورونا کے مزید 724 مریض
،تصویر کا ذریعہDC ISLAMABAD
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دارالحکومت میں مصدقہ کیسوں کی شرح نو اعشاریہ چھ ہے اور 724 کیس سامنے آئے ہیں۔
ان 24 گھنٹوں میں شہر اور مضافاتی علاقوں میں 7564 ٹیسٹ کیے گئے۔
وبا کے دوران مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 572 تک پہنچ چکی ہے۔ لوہی بھیر نامی علاقہ 47 اموات کے ساتھ سرِ فہرست ہے جبکہ وہاں اس وقت ایکٹو کیسوں کی تعداد بھی 1043 ہے جو سب سے زیادہ ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دو ماہ کے دوران 29 مارچ کو ایک دن میں سب سے زیادہ 856 کیس سامنے آئے تھے۔
،تصویر کا ذریعہDC ISLAMABAD
ایران میں ایک دن میں 10 ہزار سے زیادہ کیس، 96 ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی حکام نے یکم اپریل کو ملک میں 11750 نئے کورونا کیسز کی تصدیق کی جس کے بعد ملک میں کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 1897314 ہو گئی ہے۔
ایرانی خبررساں ادارے، آئی آر آئی این این نے ملک کی وزارت صحت کی ترجمان سیما سادات لاری کی طرف سے فراہم کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کو براہ راست نشر کیا جن میں بتایا گیا کہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 96 مریض ہلاک ہوئے ہیں اوراس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 62759 ہو گئی ہے۔
یہ تعداد ایک ہی روز میں ایران میں پانچ دسمبر کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے جب ایک ہی روز میں 12151 نئے کورونا کیس سامنے آئے تھے۔
گذشتہ روز کیسز کی تعداد 10330 تھی اور 96 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 1626144 ہے جبکہ 3989 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
وزارتِ صحت کی ترجمان نے لوگوں کو تاکید کی ہے کہ وہ کل نوروز کی آخری چھٹی کے دن گھروں میں ہی رہیں۔
عام طور پر یہ روایت ہے کہ اس موقع پر لوگ اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب سے ملتے ہیں۔
27 نومبر کو روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والے نئے کیسز کی ریکارڈ تعداد 14051 تھی جبکہ 16 نومبر کو 486 مریض ہلاک ہوئے تھے۔
امیونائزیشن سرٹیفیکیٹ یا ’ویکسین پاسپورٹ‘ کیا ہے اور یہ نادرا سے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
،تصویر کا ذریعہNCOC
،تصویر کا کیپشناین سی او سی کی جانب سے رہنمائی کے لیے شائع کیا گیا ڈمی امیونائزیشن سرٹیفیکیٹ
پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر اپنے جوبن پر ہے اور گذشتہ روز ملک میں 19 جون کے بعد سے ایک روز میں سب سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
ادھر ملک بھر میں ویکسینیشن کا عمل جاری ہے اور 65 سال سے زیادہ عمر کے جن افراد کو سائنوفارم ویکسین کی پہلی خوراک 10 مارچ کو دی گئی تھی انھیں اب 21 دن گزرنے کے بعد ویکسین کی دوسری خوراک بھی دی جا رہی ہے۔
پہلے 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد کی رجسٹریشن کھولی گئی تھی اور اب 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد بھی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
امیونائزیشن سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کا طریقہ
تاہم ان دو خوراکوں کے بعد حکومت کی جانب سے امیونائزیشن سرٹیفیکیٹ کا اجرا بھی کیا جاتا ہے جسے آن لائن اور نادرا کہ ’میگا سینٹرز‘ پر جا کر صرف 100 روپے میں لیا جا سکتا ہے۔
آن لائن اجرا کے لیے ویکسین کی دوسری ڈوز لگنے کے بعد ایک لنک صارف کے موبائل نمبر پر موصول ہوگا جس کے ذریعے چند مراحل اور معلومات فراہم کرنے کے بعد اس سرٹیفیکیٹ کو ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران آن لائن ادائیگی کے لیے صارف ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کی معلومات دے کر سرٹیفیکیٹ وصول کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ این سی او سی کی ویب سائٹ پر درج ہدایات کے مطابق یہ سرٹیفیکیٹ نادرا کے میگا سینٹرز سے 100 روپے میں حاصل کیا جا سکے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اس سرٹیفیکیٹ کی اہمیت کیا ہو گی؟
کووڈ 19 کی عالمی وبا کے باعث آمد و رفت کے لیے چند دستاویزات کی اہمیت میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ان ہی دستاویزات میں سے ایک امیونائزیشن سرٹیفیکیٹ بھی ہے جس کے لیے ’ویکسین پاسپورٹ‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کی اہمیت یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اب بیرونِ ملک سفر کے لیے اور اکثر ممالک میں اندرونِ ملک سفر کے لیے بھی امیونائزیشن سرٹیفییکیٹ کی ضرورت پیش آئے گی۔
اس سے قبل جہاں کووڈ ٹیسٹ منفی آنے کی اہمیت ہوتی تھی، اب اس کی جگہ امیونائزیشن سرٹیفیکیٹ نے لے لی ہے۔
بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان میں گذشتہ برس 19 جون کے بعد سے سب سے زیادہ 4974 نئے مریض
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں گذشتہ برس 19 جون کے بعد سے یعنی گذشتہ آٹھ ماہ میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 4974 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 98 افراد کی کورونا وائرس کے باعث ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی ’پیک‘ یعنی ایک دن میں سب سے زیادہ نئے مریض جون 13 کو سامنے آئے تھے اور اس روز یہ تعداد 6825 تھی۔
تاہم 19 جون جب ملک میں 6604 مریض سامنے آئے، اس کے بعد سے یہ اب تک ایک دن میں سامنے آنے والے کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی وزیرِ اعظم سے دو ہفتوں کے لیے بین الاصوبائی آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کی اپیل
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے وزیرِ اعظم عمران خان سے دو ہفتوں کے لیے بین الاصوبائی آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ کووڈ 19 کیسز میں کمی لائی جا سکے۔
یہ بات صوبہ سندھ کے ترجمان مرتضی وہاب نے ایک ٹویٹ میں کی۔ انھوں نے کہاں کہ وزیرِ اعلیٰ نے ایسے افراد کے لیے کووڈ ویکسینیشن کی اجازت دینے کی بھی اپیل کی ہے جو پہلے سے ایسے عارضوں میں مبتلا ہیں جن کے باعث کورونا وائرس ان کے لیے مہلق ثابت ہو سکتا ہے۔
جرمنی نے 60 سال سے کم عمر افراد کے لیے ایسٹرازینیکا کا استعمال محدود کر دیا
،تصویر کا ذریعہReuters
جرمنی نے 60 سال سے کم عمر افراد کو آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ویکسین لگانے کا عمل محدود کر دیا ہے کیونکہ ان میں عمومی طور پر انتہائی کم خون منجمد ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
جرمنی میں ادویات پر نظر رکھنے والے ادارے کے مطابق جن 27 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی گئی ان میں سے 31 میں خون منجمد ہونے کی ایک قسم ظاہر ہوئی ہے۔
کینیڈا کی جانب سے اس سے قبل 55 سال سے کم عمر افراد میں ایسٹرازینیکا لگانے کا عمل معطل کیا گیا تھا۔
ایسٹرازینیکا کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اداروں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اس ویکسین کے نقصانات اس کے فوائد سے کم ہیں۔
کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ڈیٹابیس میں اعداد و شمار کا جائزہ لے رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ خون منجمد ہونے کے کیسز جنھیں تھرومبوسائٹوپینیا نامی عارضے سے منسلک کیا جا رہا ہے کی تعداد لاکھوں کی آبادی میں قدرتی طور پر سامنے آنے جتنی ہے یا اس سے زیادہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم جرمن حکام کے ساتھ مل کر اس حوالے سے سامنے آنے والے تمام سوالات کے جواب ڈھونڈنے کو تیار ہیں۔‘
چین کی لیب سے کورونا کے پھیلاؤ کے مفروضے کی تصدیق یا تردید کے لیے مزید تحقیق درکار ہے: عالمی ادارہ صحت
،تصویر کا ذریعہReuters
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس مفروضے کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق درکار ہے کہ کووڈ 19 کی شروعات چین کی ایک لیبارٹری سے ہوئیں۔
ٹیڈراس ادھانوم غیبریسس کا کہنا ہے کہ حالانکہ کورونا وائرس کا لیبارٹری سے پھیلاؤ کا امکان انتہائی کم ہے تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق درکار ہے۔
امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے چین پر عالمی ادارہ صحت کو ضروری معلومات تک رسائی نہ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
تاہم بیجنگ کی جانب سے ’وائرس لیک‘ کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور چینی ماہرین کی جانب سے رپورٹ منگل کے روز جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ لیب سے وائرس لیک ہونے کا مفروضہ غلط ہونے کےامکانات کافی زیادہ ہیں اور اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ یہ وائرس چمگادڑوں سے انسانوں میں کسی دوسرے جانور کے ذریعے منتقل ہوا۔
چین کی جانب سے ابھی تک عالمی ادارہ صحت کے تازہ ترین بیان کا جواب نہیں دیا گیا۔
کورونا وائرس: پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 78 افراد ہلاک، 4757 نئے مریضوں کی تشخیص
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے 73 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 4757 نئے افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
دارالحکومت اسلام آباد میں نو ہزار سے زائد متاثرین ہیں۔ یہ تعداد بلوچستان، گلگلت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ بنتی ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا صوبے پنجاب میں اس وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین کی تعداد ہے۔
خیال رہے کہ اس وائرس کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران سندھ پاکستان کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ تھا۔