پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں پانچ ہزار سے زائد نئے متاثرین، 100 اموات
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 100 اموات ہوئی ہیں جبکہ 5139 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 50 افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔
لائیو کوریج
جرمنی میں لاک ڈاؤن میں توسیع، ایسٹر پر سخت پابندیوں کا اعلان
جرمنی نے لاک ڈاؤن میں تین ہفتوں کی توسیع کی ہے۔ کورونا کی تیسری لہر کے خدشے کی وجہ سے ایسٹر کے تہوار کے دوران 18 اپریل تک مکمل لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔
یکم سے پانچ اپریل تک دکانوں کو سختی سے بند رکھنے اور اجتماعات سے گریز کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ ’صورتحال بہت سنگین ہے۔۔۔ متاثرین تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور انتہائی نگہداشت کے بیڈ ختم ہو رہے ہیں۔‘
یورپ میں ویکسینیشن مہم بھی جاری ہے مگر ان حفاظتی خوراکوں میں تاخیر ہوئی ہے۔ جرمنی میں مثبت متاثرین کی شرح کے مطابق ہر ایک لاکھ میں سے سو سے زیادہ افراد وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ گذشتہ روز جرمنی میں 7485 متاثرین اور 250 اموات کی تصدیق ہوئی تھی۔
اسلام آباد: ڈی ایچ او کے دفتر میں چھ افراد کورونا سے متاثر
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کے دفتر کے چھ افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
تحقیق: انسانی جسم میں عام نزلہ زکام کورونا وائرس کو ’شکست دے سکتا ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک نئی تحقیق کے مطابق وہ وائرس جو عام نزلہ زکام کا باعث بنتا ہے، انسانی جسم میں کورونا وائرس کو شکست دے سکتا ہے۔
عام طور پر جسم میں مختلف وائرس کی آپسی لڑائی بھی چلتی رہتی ہے اور جو یہ جنگ جیت جاتا ہے پھر وہی وائرس جسم میں انفیکشن کا سبب بن جاتا ہے۔
گلاسکو یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس میں کورونا وائرس کا مقابلہ نزلہ زکام کا سبب بننے والے رائنو وائرس سے ہو تو پھر کووڈ کی ہار ہوتی ہے۔
سائنسی ماہرین کے مطابق اس کا کم وقت کے لیے ہی فائدہ ثابت ہو سکتا ہے مگر رائنو وائرس اتنا عام پھیلا ہوا ہے کہ یہ ابھی بھی کورونا وائرس کو شکست دے سکتا ہے۔
اگر ایک بار کوئی وائرس انسانی جسم میں داخل ہو جائے تو یہ دوسرے وائرس کے داخلے کا بھی سبب بن جاتا ہے یا پھر یہ دوسرے وائرس کو شکست دے کر اپنا اثر دکھاتا ہے۔
انفلوئنزا سب سے زیادہ ’خود غرض‘ وائرس سمجھا جاتا ہے اور زیادہ تر خود ہی جسم کو انفیکٹ کر دیتا ہے جبکہ ایڈونو کی طرز کے وائرس دوسروں کے لیے بھی جگہ پیدا کرتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلاسکو یونیورسٹی کے سینٹر فار وائرس ریسرچ کے سائنسدانوں نے عام نزلہ زکام کا سبب بننے والے رائنو وائرس کو کورونا وائرس سے انفیکٹ کیا۔
جب رائنو وائرس اور کورونا وائرس (Sars-CoV-2) کو ایک ہی وقت میں ریلیز کیا تو اس تجربے کے دوران سائنسدانوں نے دیکھا کہ رائنو وائرس نے کورونا وائرس کو شکست دے دی۔
جب کورونا وائرس کو اپنا کام دکھانے کے لیے 24 گھنٹے دیے گئے تو اس کے بعد بھی رائنو وائرس نے کورونا وائرس کو شکست دے دی۔
ڈاکٹر پابلو مورشیا نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ کورونا وائرس کو انفیکشن کا موقع ہی نہیں ملتا، رائنو وائرس اس پر حاوی آ جاتا ہے۔
ان کے مطابق یہ بہت مسرت کی بات ہے کہ اگر آپ کے جسم میں رائنو وائرس کی تعداد زیادہ ہے تو یہ نئے کورونا وائرس کو کچھ کرنے سے روک دیتا ہے۔
اس طرح کے اثرات پہلے بھی مشاہدے میں آئے ہیں۔ رائنو وائرس کی بڑی تعداد 2009 میں سوائن فلو کی وبا کو یورپ کے کچھ حصوں میں پھیلنے میں تاخیر کا سبب بنی۔
مزید تجربات سے یہ بات ثابت سامنے آئی کہ رائنو وائرس ایسا مدافعتی نظام پیدا کرتا ہے جو کورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکتا ہے۔
پاکستان بھر میں کاروباری سرگرمیاں روزانہ رات آٹھ بجے تک بند کرنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن کو وسیع اور سخت کیا جائے، جس میں ایمرجنسی کی صورتحال کے علاوہ تمام نقل و حرکت پر پابندی ہوگی۔
اس میں کہا گیا ہے کہ:
انڈور ڈائننگ یعنی ریستورانوں اور ہوٹلوں کے اندر کھانا کھانے پر مکمل پابندی ہوگی تاہم آؤٹ ڈور یعنی باہر کھانا کھانے کی اجازت رات دس بجے تک ہوگی
تمام اوقات میں ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے کی سہولت کی اجازت ہوگی
تمام کمرشل یا کاروباری سرگرمیاں اور غیر ضروری سروسز کو رات آٹھ بجے کے بعد بند کر دیا جائے گا، یعنی تمام مارکیٹس اور دکانیں رات آٹھ بجے تک ہی کھلی رکھی جاسکیں گی
ہر ہفتے دو محفوظ دن تعطیلات کی صورت میں دیے جائیں گے
شادی اور دیگر تقریبات کے لیے عمارتوں سے باہر (آوٹ ڈور) 300 لوگوں کے جمع ہونے کی اجازت ہوگی تاہم انھیں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا
ان ڈور تمام تقریبات پر پابندی رہے گی
سینما اور درگاہیں بند رکھی جائیں گی
کھیلوں کے ایونٹس اور اجتماعی طور پر ثقافتی تہوار منانے پر پابندی ہوگی
آوٹ ڈور شادی کی تقریبات کی اجازت صرف رات 10 بجے تک زیادہ سے زیادہ 300 مہمانوں کی موجودگی کی صورت میں ہوگی
پارک بند رہیں گے لیکن ورزش اور جوگنگ ٹریک کھلے رہیں گے
نجی و سرکاری دفاتر میں صرف 50 فیصد ملازمین کو بلایا جاسکے گا
پبلک ٹرانسپورٹ میں 50 فیصد سیٹوں کو خالی رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے
ریلوے سروس 70 فیصد صلاحیت کے ساتھ چل سکے گی
تمام افراد کے لیے چہرے پر ماسک پہنا لازم ہوگا
عدالتوں میں لوگوں کے ہجوم کی حوصلہ شکنی کی جائے گی
گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں سیاحتی مقامات پر ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا
ان نئے احکامات کا اطلاق 11 اپریل تک ہوگا اور این سی او سی اس پر 7 اپریل کو نظرثانی کرے گا۔
تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق فیصلہ این سی او سی کے 24 مارچ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ فی الحال ملک بھر میں تعلیمی ادارے 28 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ برقرار ہے۔
امریکی ٹرائل کے نتائج میں آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ویکسین محفوظ قرار
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں کیے گئے آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ویکسین کے ٹرائل کے نتائج ایک طویل انتظار کے بعد بالآخر سامنے آ گئے ہیں اور ان کے مطابق یہ ویکسین محفوظ بھی ہے اور انتہائی مؤثر بھی۔
یہ ٹرائل کولمبیا یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف روچیسٹر نے ایسٹرازینیکا کے اشتراک سے کیا تھا۔
اس ٹرائل میں 32 ہزار سے زیادہ رضاکاروں نے حصہ لیا جن میں سے زیادہ تر کا تعلق امریکہ سے تھا مگر کچھ لوگ چلی اور پیرو سے بھی تھے۔
اس ویکسین کو لوگوں میں علامات والا کووڈ پھیلنے سے روکنے میں 79 فیصد مؤثر جبکہ لوگوں کو شدید بیمار ہونے سے روکنے میں 100 فیصد کامیاب پایا گیا۔
اس کے علاوہ خون کی پھٹکیاں بننے جیسا بھی کوئی طبی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ان نتائج کے بعد یورپی ممالک کو کچھ تسلی ہوگی جنھوں نے خون کی پھٹکیاں بننے کے اس ویکسین سے تعلق کے خدشات کے پیشِ نظر اس ویکسین کا استعمال روک دیا تھا۔
کچھ یورپی ممالک نے پہلے ہی اس کا دوبارہ استعمال شروع کر دیا ہے کیونکہ یورپی یونین کے ادویاتی ریگولیٹر نے اسے محفوظ اور مؤثر قرار دے دیا ہے۔
انڈیا: ایک ہفتے کے دوران دو لاکھ 60 ہزار سے زائد نئے متاثرین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں گذشتہ ہفتے دو لاکھ 60 ہزار نئے کورونا متاثرین سامنے آئے ہیں جو کہ گذشتہ سال وبا کے آغاز سے اب تک سب سے بڑی ہفتہ وار تعداد ہے۔
ملک کے مجموعی متاثرین کی سب سے بڑی تعداد مغربی ریاست مہاراشٹر میں ہے جہاں سے 70 فیصد متاثرین سامنے آئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حفاظتی تدابیر پر ناقص عملدرآمد کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے۔
کچھ کا خیال ہے کہ کورونا کی نئی اقسام اس کی وجہ ہو سکتی ہیں تاہم یہ بات ابھی تک ثابت نہیں ہوئی ہے۔
انڈیا میں اب تک ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ایک لاکھ 60 ہزار اموات ہوئی ہیں۔
انڈیا میں سال 2021 کے آغاز پر یومیہ انفیکشنز کی تعداد میں کمی ہونی شروع ہوئی تھی۔ ستمبر تک یومیہ انفیکشن 90 ہزار کی سطح کو چھو رہے تھے تاہم بعد میں 20 ہزار کی سطح تک پہنچ گئے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ متاثرین کی تعداد میں اس کمی کی وجہ سے لوگوں نے پابندیوں پر عملدرآمد کرنا چھوڑا جس کی وجہ سے صورتحال یہاں تک پہنچی ہے۔
انڈیا میں اب تک چار کروڑ لوگوں کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگائی گئی ہے تاہم یہ ملکی آبادی کا صرف چار فیصد بنتا ہے۔
کورونا وائرس: پاکستان میں پابندیاں سخت کرنے کا فیصلہ
پاکستانی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے میں مدد دینے والی سرگرمیوں پر پابندیوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن کے سربراہ اسد عمر نے ٹوئٹر پر یہ اعلان کیا ہے۔
این سی او سی کے آج کے اجلاس میں صوبائی اور اسلام آباد کے انتظامی حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور خلاف ورزیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کریں۔
پاکستانی حکام کے مطابق ملک اس وقت کورونا وائرس کی تیسری لہر کی زد میں ہے۔
حال ہی میں برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے پاکستان آمد پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ بدھ کو ایک اجلاس میں تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
این سی او سی کا اجلاس آج، شادی کی تقریبات، کھیلوں پر پابندی کی تجویز زیر غور
پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر اور ملک میں بڑھتے کیسز کا جائزہ لینے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اہم اجلاس آج ہو گا جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے ایک نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کے دوران کہا ہے کہ شادی کی تقریبات اور کھیلوں پر دو ہفتے کیلئے مکمل پابندی کی تجویز بھی زیرغور ہے۔
انھوں نے کہا کہ تقریبات لوگوں کی زندگی سے زیادہ اہم نہیں۔
تاہم فردوس عاشق اعوان نے یہ بھی کہا کہ ایسی سرگرمیوں کومحدود کیا جائے گا، جن کے بغیر معیشت کا پہیہ چل سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی شہر میامی بیچ میں کرفیو نافذ کر دیا گیا
امریکی شہر میامی بیچ میں موسم بہار کی چھٹیوں میں بڑی تعداد میں جمع ہونے والے افراد کو لاحق کورونا وائرس کے خطرے کے پیشں نظر ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
12 اپریل تک جاری رہنے والے اس کرفیو میں ٹریفک پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں جبکہ ساؤتھ بیچ کے مصروف علاقے میں کاروبار بھی بند رہیں گے۔
میامی بیچ کے میئر ڈین گیلبر نے کہا ہے کہ ہزاروں سیاح شہر میں ’افراتفری اور اضطراب‘ لائے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
’کئی سال تک‘ ماسک پہننا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا پڑ سکتا ہے
وبائی امراض کی ایک ماہر نے پیشگوئی کی ہے کہ لوگوں کو ’کئی سال تک‘ ماسک پہننے اور سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
انگلینڈ میں پبلک ہیلتھ سے وابستہ میری رامسے نے کہا کہ بنیادی حفاظتی اقدامات اس وقت تک جاری رہ سکتے ہیں جب تک کہ دیگر ملک بھی کامیابی سے ویکسین نہیں لگا دیتے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا کی تیسری لہر، پاکستان میں سکول کھولنے کا فیصلہ 24 مارچ کو ہو گا
پاکستان کے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ 24 مارچ کو ہو گا۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ تمام وزرا برائے تعلیم و صحت 24 مارچ کو این سی او سی میں تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق فیصلہ لیں گے۔
شفقت محمود کے اس اعلان کے بعد پاکستان میں ٹوئٹر پر ایک بار پھر ان کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پنجاب کے چھ شہروں میں مارکیٹس بند رکھنے کے شیڈول میں تبدیلی
صوبہ پنجاب میں سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق راولپنڈی، جہلم، شیخوپورہ، چنیوٹ، خانیوال اور ڈیرہ غازی خان میں مارکیٹس اتوار کو کھلی رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اب تاجر حضرات نئے احکامات کے مطابق جمعے اور ہفتے کو مارکیٹس بند رکھیں گے اور اتوار کو کام کرسکیں گے۔
’متعلقہ اضلاع میں مارکیٹس صوبے بھر میں نافذ کیے گئے احکامات کے مطابق چھ بجے ہی بند ہوں گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’پاکستان سمیت دنیا بھر سے میری اور خاتونِ اول کی کورونا سے جلد شفایابی کے لیے دستِ دعا بلند کرنے اور ہمارے لیے نیک خواہشات کا تحفہ بجھوانے والوں کا میں تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔‘
’اسلام آباد میں ہفتہ وار تعطیل کے بعد متاثرین مزید بڑھ سکتے ہیں‘, آسیہ انصر، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہEPA
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن اور ہفتہ وار چھٹیوں کے باعث کورونا کے کیسز میں کمی آئی ہے تاہم جوں ہی لوگ باہر نکلیں گے یہ تناسب ’پھر بڑھ سکتا ہے۔‘
’اگر لوگوں نے ایس او پیز پر عمل نہیں کیا تو ہسپتالوں میں جگہ کم ہے اور جگہ کم ہوتی رہے گی۔ ہم کورونا کے پھیلنے کی شرح کو 12 فیصد سے آٹھ فیصد تک تین دن میں لے کر آئے ہیں۔ لیکن اب ویک اینڈ کے بعد لوگ جب دوبارہ باہر نکلیں گے تو اس شرح میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگوں کی ضد ہوتی ہے کہ ان کو اپنی پسند کے ہسپتال میں وینٹ چاہیے اور اس وقت وہاں اگر وینٹ خالی نہیں ہوتا تو انھیں مسئلہ پیش آتا ہے۔‘
’بعض اوقات مریض کو وینٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم لوگ اصرار کرتے ہیں کہ ان کو وینٹ کے ساتھ والا بیڈ دیا جائے تاکہ اگر ضرورت پڑے تو وہ اس میں جا سکیں۔‘
ٹوئٹر پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے پیغام کے مطابق وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں 20 مارچ کو کورونا کے 571 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور گذشتہ روز کے مقابلے مثبت کیسز کی شرح 12 اشاریہ پانچ فیصد سے کم ہو کر 8 اشاریہ چار فیصد تک جا پہنچی ہے۔
حمزہ شفقات کے مطابق ایس او پیز پر عمل در آمد کے لیے انتظامیہ مسلسل متحرک ہے اور خلاف ورزی پر جرمانے بھی کیے جا رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے 96 وینٹی لیٹرز مختص ہیں۔ 20 مارچ کو شام سات بجے کے ڈیٹا کے مطابق اسلام آباد کے ہسپتالوں میں 43 وینٹی لیٹرز پر مریض موجود ہیں جبکہ 53 خالی ہیں۔ کووڈ کے مریضوں کے لیے مختص 606 بیڈز میں سے تین سو کے قریب بیڈز پر مریض موجود ہیں۔
دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے بی بی سی کے ساتھ شیئر کیے گئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس وقت اسلام آباد میں متاثرین میں سے سب سے زیادہ افراد کی عمریں 30 سے 39 سال کے درمیان ہیں۔
جبکہ کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تر کی عمریں 60 سے 69 سال کے درمیان ہیں۔
کیا بین الاقوامی سفر کے لیے ویکسین لگانا لازمی ہو گا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا کی کنٹاس ایئر لائن کی انتظامیہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومتیں اب بین الاقوامی مسافرین کے لیے کورونا وائرس ویکسین کو لازمی قرار دینے پر زور دے رہی ہے۔
اس صنعت کے لیے دنیا بھر میں ویکسین کا عمل انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ ہوائی سفر میں کورونا وائرس کی وجہ سے گذشتہ ایک برس میں 75 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
آسٹریلین ائیرلائن کنٹاس کے چیف ایگزیکٹو الان جوئس نے کہا ہے کہ کئی ممالک اب داخلے کے لیے ویکسین کی شرط عائد کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق اگر حکومتیں ایسا نہ بھی کریں تو بھی ایئرلائنز کو خود سے اپنی پالیسی پر علمدرآمد کو یقینی بنانا چائیے۔
ان کے مطابق ہمارے مسافروں اور عملے کی حفاظت ہمارا فرض بنتا ہے اور ہم یہ وثوق سے کہہ سکیں کہ اس جہاز میں سب لوگوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے مطابق اس اعتبار سے ٹکٹ جاری کرنے کی شرائط میں تبدیلیاں لانے کا بہتر جواز ہو گا۔
الان جوئس کے خیال میں مسافر ان شرائط کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوں جائیں گے۔ ان کے مطابق مسافروں کی بڑی تعداد بین الاقوامی سفر کے لیے ویکسین لگوانے کے خیال سے متفق ہیں۔ ان کے مطابق ان کی طرف سے کرائے گئے ایک سروے میں 90 فیصد سے زائد مسافروں نے اس خیال یعنی ویکسین کے حق میں رائے دی۔ تاہم عالمی ادارہ صحت سمیت متعدد بااثر اداروں اور لوگوں نے اس شرط کی مخالفت بھی کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے ہیلتھ اینڈ ڈیجیٹل انوویشن برنارڈو مریانو نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم اس خیال سے متفق نہیں ہیں کہ بین الاقوامی سفر کے لیے ویکسین کی تصدیق والا پاسپورٹ درکار ہونا ایک شرط قرار دی جائے۔
پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 44 ہلاکتیں، تین ہزار سے زیادہ نئے مریض
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کورونا سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 44 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جس سے ملک میں اس وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 13 ہزار 843 ہو گئی ہے۔
ملک بھر میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 3 ہزار 667 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ یوں پاکستان میں ایک دن میں مثبت ٹیسٹ کی شرح آٹھ اعشاریہ سات تک پہنچ گئی ہے۔
اس وقت پاکستان میں اس وائرس کی تیسری لہر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور حکام نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متعدد پابندیوں بھی عائد کی ہیں۔
اس وقت پاکستان میں 2900 افراد کی اس وائرس کی وجہ سے حالت بہت تشویشناک ہے۔ اس مجموعی تعداد میں 250 افراد کا اضافہ محض ایک دن میں ہوا ہے۔
پاکستان کے کس علاقے میں متاثرین کی تعداد زیادہ ہے؟
اس وقت پاکستان کا صوبہ سندھ اس وائرس سے سب سے زیادہ متاترہ ہے، جہاں مریضوں کی تعداد 263،058 بنتی ہے۔ پنجاب میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 197،177 جبکہ بلوچستان میں 19،327 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 51،414 ہو گئی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرین کی تعداد 11 ہزار سے زائد ہے جبکہ گلگت بلتستان میں ایسے متاثرین کی تعداد چار ہزار سے زائد بنتی ہے۔
خاتونِ اول بشریٰ بی بی میں بھی کورونا کی تصدیق
آج دوپہر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ وزیرِ اعظم عمران خان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اب پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے اعلان کیا ہے کہ خاتونِ اول بشریٰ بی بی بھی کورونا سے متاثر ہو چکی ہیں۔
انھوں نے ٹوئٹر پر اس حوالے سے اطلاع دیتے ہوئے وزیرِ اعظم اور اہلیہ سمیت کووڈ سے متاثر ہونے والے تمام افراد کی صحتیابی کے لیے دعا کی اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ احتیاط کریں۔
،تصویر کا ذریعہTwitter
نریندر مودی کی جانب سے عمران خان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور ان کی جلد صحتیابی کی امید ظاہر کی ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور انھوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔
بریکنگ, ’عمران خان کی صحت بہتر ہے، کورونا کی علامات بہت معمولی نوعیت کی ہیں‘
،تصویر کا ذریعہPTI
وزیر اعظم عمران خان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ان سے ملاقات کی ہے اور اس حوالے سے کچھ تفصیلات شیئر کی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عمران خان میں کورونا کی علامات بہت معمولی نوعیت کی ہیں اور ان کی صحت بہتر ہے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا ہے کہ جب وزیر اعظم کو ویکسین کی دو خوراکوں میں سے پہلی خوراک دی گئی تھی تو ممکن ہے کہ ابھی ان میں قوت مدافعت پیدا نہیں ہوئی ہوگی یا وہ اس سے قبل کورونا سے متاثر ہوچکے ہوں گے۔
جو لوگ عمران خان سے رابطے میں رہے ہیں انھیں حفاظتی تدابیر سختی سے اپنانے کی اپیل کی گئی ہے۔
انھوں نے ویکسین کی افادیت سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع فیصل مسجد کو عام لوگوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ فیصل مسجد میں محدود انداز میں عبادتوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور سماجی فاصلے کو برقرار رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ فیصل مسجد کو وفاقی دارالحکومت کے تفریحی مقامات میں سے ایک بھی سمجھا جاتا ہے۔