پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں پانچ ہزار سے زائد نئے متاثرین، 100 اموات

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 100 اموات ہوئی ہیں جبکہ 5139 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 50 افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

لائیو کوریج

  1. آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان معمول کا سفر بحال، مسافروں کو قرنطینہ کی ضرورت نہیں ہوگی

    corona

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے شہری دونوں ملکوں میں بغیر قرنطینہ کی شرط کے سفر کرنے کے اہل ہیں۔ اس حکم کا اطلاق 19 اپریل سے ہوگا۔

    نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے منگل کو اس حکم کا اعلان کیا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر سے نیوزی لینڈ کے شہریوں کو آسٹریلیا بغیر قرنطینہ کے جانے کی اجازت تھی لیکن آسٹریلوی شہریوں کو یہ سہولت میسر نہیں تھی۔

    تاہم اس کے بعد سے دونوں ملکوں نے بڑی حد تک کورونا وائرس پر قابو پا لیا ہے اور نئے متاثرین کی تعداد تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

    گذشتہ برس جب کورونا وائرس کی وبا کا آغاز ہوا تھا تو دونوں ملکوں نے مارچ سے اپنی سرحدیں بند کر دی تھیں اور وطن آنے والے شہریوں اور مسافروں کو قرنطینہ میں کچھ وقت گزارنا لازمی تھا۔

    وبا کے بعد دونوں ملکوں نے فوری طور پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا جس کی مدد سے وہ اسے پھیلنے سے روکنے میں بڑی حد تک کامیاب رہے۔

  2. ٹوکیو اولمپکس: شمالی کوریا کا کورونا وائرس کی وجہ سے کھیلوں سے دستبرداری کا اعلان

    tikyo

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شمالی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ اپنے کھلاڑیوں کو کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات سے بچانے کے لیے وہ اس سال ہونے والے ٹوکیو اولمپکس میں شرکت نہیں کرے گا۔

    اس اعلان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ جنوبی کوریا کا اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ اولمپکس کو سفارتکاری کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے پر عمل نہیں ہو پائے گا۔

    تین سال قبل ہونے والے سرمائی اولمپکس کھیلوں میں دونوں ملکوں نے مشترکہ ٹیم بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے سربراہان کے مابین تاریخی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

    یاد رہے کہ شمالی کوریا کے حکام کا دعوی ہے کہ ان کے ملک میں کورونا وائرس کا کوئی بھی کیس اب تک سامنے نہیں آیا ہے لیکن ماہرین اس دعوی کو تسلیم نہیں کرتے۔

    اس اعلان کے بعد شمالی کوریا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اس سال ہونے والے اولمپکس سے اپنی دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔

  3. پاکستان میں 11 دن کے بعد پہلی بار یومیہ متاثرین کی تعداد چار ہزار سے کم، اموات 100 سے زیادہ

    covid

    ،تصویر کا ذریعہcovid.org.pk

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 3953 نئے یومیہ متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے جو کہ گذشتہ 11 دنوں میں سب سے کم تعداد ہے۔اس سے قبل مارچ 24 کو آخری دفعہ متاثرین کی تعداد چار ہزار سے کم تھی۔لیکن دوسری جانب یومیہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں ایک بار اضافہ دیکھنے میں آیا اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 103 افراد ہلاک ہوئے۔اس سے قبل مارچ 29 کو آخری دفعہ 100 سے زیادہ افراد کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کے بعد مسلسل یہ تعداد 80 کے لگ بھگ رہی تھی۔

  4. سندھ: 50 سال سے زیادہ عمر کے قیدیوں کی ویکسینیشن مہم سات اپریل سے

    سندھ: 50 سال سے زیادہ عمر کے قیدیوں کی ویکسینیشن مہم سات اپریل سے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ سات اپریل سے 50 سال سے زیادہ عمر کے قیدیوں کو ویکسین دینے کی مہم شروع کی جائے گی۔

    ایک بیان میں محکمۂ صحت سندھ نے بتایا کہ مختلف جیلوں میں قید افراد کو بھی وائرس کا خطرہ درپیش ہے۔ انھیں کورونا سے محفوظ رکھنے کے لیے صوبے بھر میں 50 سال سے زیادہ عمر کے قیدیوں کی رجسٹریشن کا آغاز کیا جائے گا۔

    اس مہم کے تحت سندھ میں 2532 قیدیوں کو ویکسین دی جائے گی۔

  5. اسلام آباد: بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ سنیچر، اتوار کو بند رکھنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ سنیچر، اتوار کو بند رکھنے کا فیصلہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آئندہ سنیچر اور اتوار کے دنوں میں بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد انتظامیہ کے ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے متاثرین کے پیش نظر بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ ہفتہ وار دو روز کے لیے بند رہے گا اور خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔

    اس کے مطابق سنیچر اور اتوار کو دیگر صوبوں سے اسلام آباد آنے اور جانے والا پبلک ٹرانسپورٹ بند ہوگا تاہم میڈیکل اور ایمرجنسی سروسز پر پابندی نہیں ہوگی۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق نو اپریل سے 25 اپریل تک ہوگا۔

  6. اسلام آباد: 80 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے ’سنگل ڈوز‘ ویکسین دستیاب

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا کہنا ہے کہ 80 سال سے زیادہ عمر کے افراد ایک خوراک والی (سنگل ڈوز) ویکسین ترلائی سینٹر سے حاصل کر سکتے ہیں۔

    ایک ٹویٹ میں انھوں نے بتایا ہے کہ 80 سال سے زیادہ عمر کے افراد واک اِن سہولت کے تحت صرف ترلائی ویکسینیشن سینٹر جا کر سنگل ڈوز ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس ویکسین میں صرف ایک خوراک لگتی ہے، اس لیے معمر افراد کے لیے اس میں کم تنگی ہوگی۔‘

  7. لاہور اور ملتان کے مزید علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن

    لاہور اور ملتان کے مزید علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور اس سلسلے میں نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    صوبے میں سکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سارہ اسلم کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں لاہور کے مزید نو اور ملتان کے دو علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’زیادہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے والے علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جا رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں کیولری گراؤنڈ، پنجاب ایمپلائی ہاؤسنگ سوسائٹی، ماڈل ٹاؤن ایف اور ای بلاک میں لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔ داتا گنج بخش ٹاؤن میں راج گڑھ، چوہان روڈ، شادمان کالونی نمبر ون، اسلام پورہ اور شاہ جمال اچھرہ کو بند کر دیا گیا ہے۔

    دوسری طرف ملتان کی پیر کالونی اور اشرف کالونی میں بھی کیسز کی بڑھتی شرح کے پیش نظر سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔

    سارہ اسلم کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں تمام شاپنگ مالز، ریستوران، دفاتر (نجی و سرکاری) بند رہیں گے۔ علاقہ مکینوں کی نقل و حمل محدود ہو گی اور انتہائی ضرورت کے پیش نظر ایک فرد ایک سواری استعمال کر سکے گا۔ ہر قسم کے اجتماعات پر مکمل پابندی ہو گی۔

    تمام میڈیکل سروسز، فارمیسی، میڈیکل سٹور، لیبارٹریاں، کولیکشن پوائنٹس، ہسپتال اور کلینکس 24 گھنٹے کھلے رہے گے۔

    چکن اور گوشت/مچھلی کی دکانیں اور بیکریاں صبح سات سے شام سات بجے تک کھلی رہیں گی۔

    گروسری سٹورز، جنرل سٹورز، آٹا چکیاں، فروٹ، سبزی کی دکانیں، تندور اور پیڑول پمپس نو بجے سے شام سات بجے کھل سکیں گے۔

  8. کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز، بنگلہ دیش میں ایک ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان

    بنگلہ دیش

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش میں پیر کے روز سے ایک ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

    مقامی رپورٹس کے مطابق گذشتہ سال مارچ میں لگائے جانے والے پہلے لاک ڈاؤن کی نسبت اس مرتبہ نسبتاً کم پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

    چٹاگانگ سے صحافی منٹو چوہدری کا کہنا ہے کہ زیادہ فاصلے پر سفر کے لیے آمد و رفت بند ہے تاہم شہر میں سی این جی سٹیشن کھلے ہیں اور موٹر سائیکل سوار دکھائی دے رہے ہیں، البتہ باہر موجود لوگوں کی تعداد کم ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ بہت سی گارمنٹس فیکٹریاں اور نجی دفاتر کھلے ہیں مگر شہر میں لاک ڈاؤن کا نفاذ یقینی بنانے کے لیے چھ موبائل کورٹس کام کر رہی ہیں۔

    ادھر راج شاہی میں تاجر برادری کاروبار کھولنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں جبکہ سلہٹ، ادھر ماوا میں کشتی سروس بند ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنی منزل مقصود پر نہیں پہنچ پا رہے جس کی وجہ سے وہاں احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    بی بی سی بنگلہ سروس کے مطابق لاک ڈاؤن پیر صبح آٹھ بجے سے شب بارہ بجے تک پانچ اپریل سے شروع ہوا جو گیارہ اپریل تک نافذ رہے گا۔ حکام کی جانب سے جاری سرکلر میں اس دوران کل گیارہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران تمام قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی۔ تاہم یہ پابندی ملک سے باہر جانے اور آنے والوں پر عائد نہیں ہو گی۔ اشیا کی ترسیل اور ایمرجنسی سروسز کا عمل جاری رہے گا۔ اسی طرح سرکاری، نیم سرکاری اور نجی دفاتر اور عدالتوں کو ایمرجنسی امور کی صورت میں اپنی ٹرانسپورٹ کی اجازت دی گئی ہے۔

    شام چھ بجے سے صبح چھ بجے تک گھر سے ادویات اور اشیائے ضروری کی خریداری یا پھر طبّی امداد لینے یا تدفین کے امور سرانجام دینے کے علاوہ باہر نکلنا ممنوع ہے۔ لاک ڈاؤن میں ریسٹورنٹس میں بیٹھ کر کھانا ممنوع ہے۔ دیگر سروسز بشمول شاپنگ مال بند رہیں گے تاہم مختلف اشیا کی بذریعہ آن لائن خریداری اور گھروں میں ڈلیوری کی اجازت دی گئی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی خریدو فروخت کی اجازت صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک ہو گی۔ فوج کی جانب سے ڈھاکہ میں فیلڈ ہسپتال بھی قائم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ حکم نامے میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی لاک ڈاؤن کے ضوابط کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔

  9. کورونا کے بعد اگلی وبا کہاں سے پھوٹے گی؟

    کورونا وائرس نے دنیا بھر کی معیشت اور بہت سی زندگیوں کو متاثر کیا ہے، مگر ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کسی وائرس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہو۔ سارس، سوائین فلو اور ایبولہ وائرس جیسی کئی مہلک بیماریوں نے اس صدی کے آغاز پر دنیا کو پریشان کیا۔

    کئی سو ایسے نئے وائرس جانوروں میں موجود ہیں جو انسانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور محققین ان کے بارے میں معلومات جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ مگر کیا ہم ان خطرات کو نظر انداز کر سکتے ہیں؟

  10. دنیا بھر کے لوگوں کو کووڈ 19 کی ویکسین کب تک لگ جائے گی؟

    GETTY IMAGES

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ تیدروس ادھانوم غبرائسس کا کہنا ہے کہ ’ویکسین وبائی بیماری کا رخ موڑنے کے لیے بہت امید افزا ہے لیکن دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ تمام لوگوں کو ٹیکے لگائے جائیں نہ کہ صرف ان ممالک میں جو کورونا ویکسین کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں کیونکہ ہر جگہ انھیں خطرہ لاحق ہے۔'

    ویکسین وبائی مرض کے بعد کی دنیا کو معمول پر لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی لیکن اس کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں اور کئی ممالک کے مقابلے میں دوسرے ممالک کو لمبا سفر طے کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مثال کے طور پر ویکسین کی فراہمی کی سہولیات کے مسائل کے علاوہ کچھ ریاستوں اور سیاسی گروہوں نے مقابلہ کرنا شروع کردیا اور ایک طرح کی ’ویکسین نیشنلزم‘ سامنے آئی ہے جس سے غریب ممالک کی آبادی ٹیکے کی قطار میں پیچھے کر دی گئی۔

    اس میں دوسری طرح کی روکاوٹیں بھی ہیں جس میں ٹیکے لگانے میں ہچکچاہٹ، ٹیکوں کی پیداوار اور ان کی فراہمی وغیرہ شامل ہیں، جو عالمی سطح پر کووڈ 19 کے خلاف حتمی جنگ کے مقصد کے لیے ٹیکے لگانے کی راہ مسدود کرتی ہیں۔

    ان رکاوٹوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم کب تک یہ امید کر سکتے ہیں کہ عالمی سطح پر کووڈ کے خلاف ویکسینیشن کا یہ پروگرام کووڈ واقعی مفید ہوگا؟ مزید پڑھیے >>

  11. کووڈ سے مرنے والوں کے آخری لمحات

    انتباہ: کچھ ناظرین کے لیے یہ ویڈیو باعثِ اضطراب ہو سکتی ہے۔’میں یقین دلاتا ہوں کہ جب آپ کی والدہ یا والد یا بچوں کو کووڈ ہو گا تو اپنی زندگی کے اختتام پر وہ یہی دیکھیں گے‘ایک امریکی ڈاکٹر نے اپنی ویڈیو میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ کورونا سے مرنے والوں کے آخری لمحات کیسے ہوتے ہیں۔ انھوں نے لوگوں سے گزارش کی ہے کہ وہ ماسک پہنیں اور احتیاط کریں۔

  12. یونان کو سیاحوں کا انتظار

    بب

    پورے یورپ میں لوگ انتظار کے ساتھ ساتھ دعائیں کر رہے ہیں کہ رواں برس گرمیوں کی تعطیلات ممکن ہو سکیں گی یا نہیں۔

    بہت سارے ممالک فی الحال پابندیاں عائد کر رہے ہیں یا سختی سے سیاحوں کی واپسی کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں، اور واپس آنے والے مسافروں کو قرنطینہ کرنا پڑ رہا ہے۔

    تاہم یونان ان ممالک میں شامل ہے جو سیاحت پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں اور ایسے غیر ملکی سیاحوں کے لیے ملک کھولنے کے خواہاں ہیں جنھیں ویکسین لگ چکی ہو یا جن کا کورونا ٹیسٹ منفی ہو۔

    یورپ کے بہت سے علاقوں میں کورونا وائرس کے متاثرین اب بھی بڑھ رہے ہیں اور صورتحال غیر یقینی ہے۔

    عام طور پر ایتھنز میں کشتی رانی کے کاروبار سے منسلک افراد کے لیے اپریل کا مہینہ سیاحتی سیزن کا آغاز ہوتا ہے، لیکن وبائی امراض کی وجہ یہ سیزن شروع نہیں ہو سکا ہے۔

    bbc
    BBC
  13. لال شہباز قلندر: کورونا کے باوجود زائرین آنے پر بضد

    پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے باعث مزارات پر پابندی کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد سیہون میں قلندر لال شھباز کے مزار پر پہنچ گئی ہے۔

    ان زائرین کا مطالبہ ہے کہ انھیں اندر حاضری دینے کی اجازت دی جائے، گذشتہ روز جب انتظامیہ نے انھیں روکا تو زائرین اور پولیس میں تصادم ہوگیا تھا۔

  14. انڈیا میں ایک دن میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی

    ع

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    انڈیا کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا انفیکشن کے 1،03،558 متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    حالیہ مہینوں میں کورونا متاثرین کے اعداد و شمار میں کمی کے بعد اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

    وزارت کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کی وجہ سے 478 اموات ہوئیں۔

    اس کے ساتھ ہی ملک میں کورونا انفیکشن کے کل متاثرین بڑھ کر 1،25،89،067 ہوچکے ہیں جبکہ ملک میں اب اموات کی کل تعداد 1،65،101 ہوگئی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی ملک میں اب متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 1.24 ملین ہوگئی ہے۔ اس وقت کورونا سے اموات کی تعداد بڑھ کر اب 1،64،623 ہوگئی ہے۔

    حکومت کے مطابق مہراشٹرا، چھتیس گڑھ، کرناٹک اور پنجاب میں کل انفیکشن کا 76.41 فیصد بتایا گیا ہے۔

    مہاراشٹر میں کورونا انفیکشن کے زیادہ تر متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہاں ایک دن میں انفیکشن کے 57،074 متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    دوسری طرف چھتیس گڑھ میں ایک دن میں 5818، پنجاب میں 2686، کرناٹک میں 4373 اور تمل ناڈو میں ایک دن میں انفیکشن کے 3446 متاثرین سامنے آئے ہیں۔

  15. کورونا وائرس: برطانیہ میں ہر شہری کو ہفتے میں دو بار مفت ٹیسٹ کروانے کی پیشکش

    ف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی حکومت کے ٹیسٹنگ پروگرام میں توسیع کے تحت انگلینڈ میں ہر شخص کو ہفتے میں دو تیز رفتار کورونا ٹیسٹوں تک رسائی دی جا رہی ہے۔

    تقریباً 30 منٹ میں نتائج فراہم کرنے والی کٹس، فارمیسیز اور بذریعہ ڈاک مفت دستیاب ہوں گی۔

    سکول جانے والے بچوں، ان کے اہل خانہ اور کام کے لیے گھر سے باہر جانے والوں کو پہلے ہی ٹیسٹ کی پیش کش کی گئی ہے۔

    برطانیہ کے سکریٹری صحت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے مستقبل میں وائرس پھیلنے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    لیکن پروگرام کے نقادوں کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں پیسہ ضائع ہونے کی وجہ سے یہ ’خطرناک‘ بھی بن سکتا ہے۔

  16. کیا پاکستان میں کووڈ 19 کی ’تیسری لہر‘ بچوں کو زیادہ متاثر کر رہی ہے؟

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ چند ہفتے پہلے کی بات ہے جب عصمت یوسف اپنے شوہر کے ہمراہ اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ کے باہر انتہائی پریشانی میں کھڑی تھیں، جہاں اندر وارڈ میں ان کی پونے دو سال کی بیٹی جنت فاطمہ وینٹیلیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھی۔

    عصمت کے مطابق اس وقت ڈاکٹرز کو کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ ان کی بیٹی کو کیا بیماری ہے۔

    پہلے جب ڈاکٹرز نے جنت فاطمہ کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیا تو رپورٹ منفی آئی اور یہ بتایا گیا کہ جنت فاطمہ کو ڈبل نمونیہ ہوا ہے، جس سے اس کا ایک پھیپھڑا شدید متاثر ہوا ہے۔

    تاہم عصمت یوسف کے مطابق بعد میں ڈاکٹرز نے انھیں بتایا کہ اُن کی بیٹی میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور اس کی کم عمری کے باعث وائرس کی تشخیص میں کچھ وقت لگ گیا۔

    تاہم عصمت یوسف اور ان کے خاوند ایسے اکیلے والدین نہیں ہیں بلکہ پاکستان میں اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق 20 ہزار سے زائد بچے اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور ملک میں وائرس کی تیسری لہر کے دوران میڈیا میں ایسی کئی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس بار کم عمر بچے اس بیماری سے کافی متاثر ہو رہے ہیں۔ مزید پڑھیے>>

  17. انڈین ریاست مہاراشٹرا میں آج سے سخت لاک ڈاؤن، دفعہ 144 نافذ

    e

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے ہوئے متاثرین کے پیش نظر، مختلف ریاستی حکومتوں نے محدود پابندیاں عائد کرنا شروع کردی ہیں۔

    مہاراشٹر کے وزیر صحت راجیش ٹوپے نے ریاست میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    مہاراشٹر میں پیر کی صبح 7 بجے سے شام 8 بجے تک سخت لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔پیر سے جمعہ تک پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

    اسی کے ساتھ ہی لوگوں کو ہفتے کے آخر میں جمعہ کی رات 8 بجے سے صبح 7 بجے تک اپنے گھر سے نکلنے پر پابندی ہے۔

    یہ پابندیاں آج سے 30 ​​اپریل 2021 تک لاگو رہیں گی۔ ۔اس دوران صرف ضروری سہولیات اور بسیں، ٹرینیں اور ٹیکسیوں کو ہی چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    اس عرصے کے دوران ریاست میں تفریحی پارک، سیلون، مذہبی مقامات، جم، انڈور کھیل کی سہولیات، سینما گھر اور تھیٹر بند کردیے گئے ہیں۔

    ریاست میں سیاسی اور مذہبی تقاریب پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ریستوران اور شراب خانوں میں صرف پارسل سروس کی اجازت ہوگی۔

    اتوار کے روز یہاں کورونا انفیکشن کے 57،074 متاثرین رپورٹ ہوئے جو وبا کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    ریاستی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد بڑھ کر 55،878 ہوگئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. کورونا وائرس: پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 4323 نئے مریض، مزید 43 اموات

    f

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کوورنا وائرس سے متاثرہ 4323 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 43 افراد کی کورونا وائرس کے باعث ہلاکت بھی ہوئی ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر جاری ہے اور کورونا متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  19. بریکنگ, دنیا بھر میں متاثرین 13 کروڑ، اموات 28 لاکھ سے زیادہ

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں متاثر کی تعداد 13 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اموات 28 لاکھ سے بڑھ گئی ہیں۔

    اس وقت دنیا کو وائرس کی تیسری لہر کا سامنا ہے اور چند ممالک میں یہ پہلی لہر سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

    ادھر دنیا بھر میں ویکسین لگائے جانے کا عمل جاری ہے اور امریکہ میں اس عمل میں خاصی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے جو وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔

  20. لیبیا میں ویکسین کی پہلی کھیپ کی آمد: ’یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے‘

    vaccine

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لیبیا میں بھی کافی تگ و دو کے بعد روس کی سپوتنک کووڈ 19 ویکسین کی ایک لاکھ سے زیادہ خوراکیں طرابلس کے ہوائی اڈے پر پہنچ گئیں ہیں۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق لیبیا میں کورونا وائرس کی ویکسینز کیے یہ پہلی کھیپ ہے۔ لیبیا کا نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول تقریبا ایک ہزار نئے کورونا وائرس کیسوں کا روزانہ اعلان کر رہا ہے جو لیبیا میں کئی سالوں سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے تباہ شدہ صحت کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

    لیبیا کے عبوری وزیر اعظم عبد الحمید دبیبہ نے اتوار کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ’یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم کورونا ویکسین کی پہلا کھیپ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘

    وزارت صحت کی جانب سے ویکسین کا ایک باکس ایک کارگو طیارے سے اتارا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تقسیم سے پہلے اسے وزارت کے گوداموں میں منتقل کردیا جائے گا۔ اس وبائی بیماری کے پھیلنے کے بعد سے ملک میں لگ بھگ

    اب تک دو لاکھ متاثرین کا ریکارڈ تیار کیا گیا ہے جبکہ 2684 اموات بھی ریکارڈ کی گئیں۔

    لیبیا میں صدر قذافی کے خلاف سنہ 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت اور سنہ 2014 میں متحارب مغربی اور مشرقی دھڑوں کے مابین تقسیم کے بعد سے ایک دہائی قبل خانہ جنگی شروع ہوئی تھی۔

    جس پر کافی حد تک قابو تو پا لیا گیا ہے، تاہم ملک اب بھی غیر مستحکم ہے۔