برطانوی حکومت کا آزمائشی بنیادوں پر ’کووڈ پاسپورٹ‘ متعارف کروانے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی حکومت مختلف کھیلوں کے میچوں، ان سے جڑی دیگر تقریبات اور نائٹ کلبوں سے بحفاظت واپسی کی اجازت دینے کے لیے انگلینڈ میں ’کووڈ پاسپورٹ‘ سمیت کئی اقدامات آزمائشی طور پر متعارف کروا رہی ہے۔
اس سلسلے میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کیا واپس آنے والے برطانوی شہری کو ویکسین لگی ہوئی ہے، کیا اُس کے حالیہ ٹیسٹ نیگیٹو آیا تھا، یا اس میں قدرتی مدافعت موجود ہے جو اُسے وائرس کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔
آنے والے اگلے چند مہینوں میں ہونے والے آزمائشی ٹیسٹ سے یہ بھی پتا چل سکے گا کہ ویکسینیشن، ان شہریوں کے ملک سے باہر جانے اور پھر واپس آنے کے موقع پر کی گئی کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ سے کیا فرق پڑتا ہے۔
یہ معلومات وبا کے پھیلنے کے بارے میں بہتر آگاہی دیں گی۔ برطانیہ کے وزیرِ کھیل نے کہا ہے کہ ان آزمائشی ’پاسپورٹوں‘ کا استعمال ایک محدود مدت کے لیے شروع ہو گا۔
یہ آزمائشی پروگرام، جس میں ایف اے کپ کا فائنل شامل ہو گا، مئی کے وسط تک جاری رہے گا اور کچھ معاملات میں لیورپول میں ہونے والے میچوں کے دوران کئی افراد سمیت، وہاں ویکسینیشن لگوانے کی سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں ہو گی۔
برطانوی حکومت نے کہا کہ وہ اس سکیم ’کووڈ سٹیٹس سرٹیفیکیشن‘ کا نام دے رہی ہے، عام لوگوں کے دکانوں یا سٹوروں میں آنے جانے یا ان میں داخلے کے لیے ایک شرط کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہتی ہے۔
انگلینڈ میں آنے والے ہفتوں میں شراب خانوں، ریستورانوں اور غیر ضروری خوردہ فروشی سمیت کئی کاروبار دوبارہ کھل سکتے ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ’کووڈ سٹیٹس سرٹیفیکیشن‘ کو سماجی فاصلوں کے اصول کو نظر انداز کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
















