کورونا وائرس: اتوار کو دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ
دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 26 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ افراد میں اس مرض کی تصدیق جبکہ 5265 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اتوار کو دنیا بھر میں کورونا کے ریکارڈ دو لاکھ 30 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, شام کے صوبے ادلب میں کورونا وائرس کا پہلا کیس، پناہ گزین کیمپوں میں وبا کے پھیلاؤ کے حوالے سے شدید خدشات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام میں باغی فورسز کے زیرِ کنٹرول شمال مغربی صوبے ادلب میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے جس کے بعد اس مرض کے ان پناہ گزین کیمپوں میں پھیلنے کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں جہاں بےگھر ہونے والے افراد کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی انتہائی برے حالات میں رہتی ہے۔
علاقے میں کام کرنے والی فلاحی تنظیموں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ترک سرحد کے قریب ایک قصبے میں ایک ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر خود کو آئیسولیٹ کر رہے ہیں اور ان کے کاٹیکٹس کو ڈھونڈا جا رہا ہے۔
عالمی ادارہِ صحت کا کہنا ہے کہ جس ہسپتال میں مذکورہ ڈاکٹر کام کرتے تھے اسے بند کر دیا گیا ہے۔
چین میں وائرس سے منسلک پہلی سزائے موت
،تصویر کا ذریعہgetty
چین میں ایک 23 سالہ شخص کو فروری میں ایک ہیلتھ چیک پوائنٹ پر دو افراد کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔
ما جیانگو نامی اس شخص نے دونوں اہلکاروں کو چاقو کے وار کر کے صوبے یوہان کے ایک گاؤں میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے سڑک پر لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش میں ہونے والے جھگڑے کے دوران قتل کیا تھا۔
سپریم پیپلز کورٹ آف چائنا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس شخص نے حال ہی میں ایک اور جرم میں پانچ سال قید پوری کی تھی۔
یہ چین میں کورونا وائرس کو محدود کرنے کی کوششوں سے جڑی پہلی تصدیق شدہ موت کی سزا ہے۔
سنگاپور: کورونا وائرس کے باوجود انتخابات کا انعقاد، سخت حفاظتی اقدامات میں ووٹنگ جاری
،تصویر کا ذریعہReuters
سنگاپور میں کورونا وائرس کی وبا کے باوجود عام انتخابات کے سلسلے میں آج ووٹنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ چھوٹی سی ریاست ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باوجود انتخابات کا انعقاد کر رہے ہیں۔
انتخابات کے سلسلے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور شہریوں کو ماسک اور پلاسٹک کے دستانے دیے جانے کے علاوہ ووٹنگ بوتھ میں بھی مقررہ وقت دیا جا رہا ہے۔
ایشیا پیسفک خطے میں سنگاپور سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے۔ یہاں 45000 مصدیقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
کورونا وائرس کی وبا کے پس منظر میں گذشتہ چند ماہ میں صرف چند ہی ممالک ہیں جب کہ انتخابات کروا رہے ہیں۔ جنوبی کوریا میں اپریل میں اور سربیا میں جون کے آخری حصے میں انتخابات ہوئے۔ دونوں ممالک میں برسراقتدار حکومتیں واپس آئیں۔
جنوبی افریقہ: وائرس کے شکار افراد کی قبروں کی تعداد پر ’خطرے کی گھنٹی‘, اینڈریو ہارڈنگ، بی بی سی نیوز، جوہانسبرگ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنگاؤتینگ صوبے کا ایک قبرستان جہاں قبریں کھودی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق وہ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں
جنوبی افریقہ کے ایک طبی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ گوئتینگ کے صوبے میں پانچ لاکھ کے قریب قبریں کھودی جا رہی ہیں تاکہ قبرستان کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے بوجھ کو برداشت کر سکیں۔
صوبے کے صحت کے امور کے سربراہ ڈاکٹر باندیلے نے یہ اعلان ایک انٹرویو کے دوران کیا، تاہم ان کے دفتر نے فوراً ہی اس کی وضاحت میں کہا کہ اصل اعداد و شمار اس سے بہت کم ہیں۔
تو انھوں نے یہ اعداد و شمار کیوں بتائے؟ سمجھا یہی جا رہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ملک میں خطرے کی گھنٹی بجانا چاہ رہے تھے تاکہ لوگ وائرس پر توجہ دیں۔ جنوبی افریقہ میں وائرس بہت آہستہ سے پھیلا ہے اور اس کے نتیجے میں عوام اب اس کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔
حالیہ دنوں میں جوہانسبرگ کے گرد انفیکشن کی شرح تیزی سے بڑھی ہے اور یہاں اور دوسرے بڑے شہروں میں ہسپتال مشکل سے بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ کہیں آکسیجن کی کمی ہے تو کہیں بستروں اور ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) کی۔
جنوبی افریقہ کے پاس اس طوفان سے نمٹنے کے لیے کئی مہینے تھے۔ اب ان تیاریوں کی آزمائش کا وقت ہے لیکن کئی جگہ ان میں کمی صاف نظر آ رہی ہے۔
جنوبی افریقہ میں اب تک دو لاکھ 38 ہزار سے زائد متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ یہاں 3700 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
گلگت بلتستان: کورونا کے کُل متاثرین 1619، مزید دو ہلاکتیں
محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق گلگت بلتستان میں 14 نئے مریضوں کے ساتھ کُل کورونا متاثرین کی تعداد 1619 ہوگئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 33 ہوچکی ہے۔
خطے کے طبی حکام کے مطابق 19 مزید مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 1291 ہوگئی ہے۔
اس وقت گلگت بلتستان میں 295 مریض زیر علاج ہیں جن میں ہنزہ میں 55، استور میں 54، سکردو میں 47، غذر میں 46، گلگت میں 44، دیامر میں 25، نگر میں 19 اور گانچھے میں پانچ مریض زیر علاج ہیں۔
بریکنگ, پنجاب کے سات شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب کے 7 شہروں کے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے اور محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
ان شہروں میں لاہور، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اور راولپنڈی شامل ہیں جہاں چند علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون کیا گیا ہے۔
سمارٹ لاک ڈاؤن آج رات 12 بجے سے 24 جولائی تک لاگو رہے گا۔
لاہور
لاہور میں A2 بلاک ٹاؤن شپ، EME سوسائٹی، چونگی امر سدھو کا بازار سے ملحقہ علاقہ بند رہے گا۔
پنجاب گورنمنٹ سرونٹ ہاوسنگ سکیم، واپڈا ٹاؤن، جوہر ٹاؤن سی بلاک اور گرین سٹی میں سمارٹ لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
ایڈن گارڈن، عبداللہ گارڈن، النجف کالونی کے کمرشل اور رہائشی علاقوں کو بند کر دیا گیا۔ مسلم ٹاؤن بی بلاک، مسلم ٹاؤن آئی، مدینہ ٹاؤن کے تین بلاک، آمنہ آباد، نصار کالونی سمن آباد، پیپلز کالونی 1 میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔
جڑانوالہ
جڑانوالہ میں لاہور روڈ سے ملحقہ تمام گلیاں اور نیا بازار، مین بازار خرریانوالہ بشمول سلطان مارکیٹ اور نیو شاپنگ سنٹر بند ہوں گے۔
مین بازار، موککانا مارکیٹ، مسجد بازار، چرچ سے نشاط سنیما چوک تک کے روڈ کو بند کر دیا گیا۔
سیالکوٹ
سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں توصیف مارکیٹ، الیوسف پلازہ، روراس روڈ میانہ پورہ، قیوم سٹریٹ، شہاب پورہ اور مظفر پور میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا۔
گوجرانوالہ
گوجرانولہ کے علاقے واپڈا ٹاؤن، پیپلز کالونی کے چار بلاکس میں لاک ڈاؤن کیا گیا۔
ملتان
ملتان میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کالونی، پیراں غیب روڈ، حور بناسپتی ملز، کسٹم آفس/کالونی کلمہ چوک کو بند کیا گیا۔
راولپنڈی
راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کھبہ، گلستان کالونی، رینج روڈ ایریا، لین چار پی آئی اے کالونی میں بھی سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔
حکام کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن ایریا میں بنیادی اشیائے ضروریہ بدستور میسر رہیں گی۔
کورونا وائرس: اتوار کو دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ
بریکنگ, پاکستان کی تازہ ترین صورتحال!
پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد دو لاکھ 42 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ جبکہ اب تک ملک میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
متاثرین کے اعتبار سے صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
ملک میں صحتیاب افراد کی تعداد 147672 ہو چکی ہے۔
انگلینڈ میں ایک ہفتے میں تصدیق شدہ مریضوں میں 25 فیصد کمی
،تصویر کا ذریعہEPA
پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق 5 جولائی تک کے ہفتے میں انگلینڈ میں تصدیق شدہ انفیکشنز میں 25 فیصد کمی آئی ہے۔
5 جولائی تک اس ہفتے ہیں 3 ہزار 300 سے ذرا اوپر مثبت ٹیسٹ ہوئے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں 28 جون تک کے ہفتے میں مثبت ٹیسٹوں کی تعداد 4 ہزار 400 تھی۔
لیسٹر جہاں ابھی لاک ڈاؤن لگا ہوا، تصدیق شدہ مریض کم ہو کرہر ایک لاکھ افراد میں سے 120 ہو گئے ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے تک یہ تعداد ہر ایک لاکھ افراد میں سے 140 تھی۔
ساؤتھ ویلز میں میرتھر ٹڈفل میں اس ہفتے صرف دو مریض رپورٹ ہوئے، جہاں اس سے ایک ہفتہ پہلے 108 مریض رپورٹ ہوئے تھے۔
لیسٹر کے بعد، پانچ جولائی تک کے ہفتے تک برطانیہ کی 10 اعلیٰ مقامی انتظامیہ میں ایک لاکھ کی آبادی میں سے 30 سے کم متاثرین دیکھے گئے ہیں۔
بریکنگ, بلوچستان میں 47 نئے مریض، مزید ایک ہلاکت
،تصویر کا ذریعہGovt. of Balochistan
بلوچستان میں کورونا وائرس کے47 نئے کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 11099 ہو گئی ہے۔
کورونا سے مزید ایک مریض کی ہلاکت ہوئی ہے جس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 125 ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان داکٹر وسیم بیگ کے مطابق نو جولائی 2020 کو کورونا کے 417 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 47 مثبت آئے۔
بلوچستان میں اب تک کورونا وائرس کے مجموعی طور پر 52660 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے41561 کے نتائج منفی آئے۔
بلوچستان میں مجموعی طو پر پر 113381 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
یہ روبوٹ کتا سنگاپور کے ایک پارک میں کورونا وائرس سے متعلق ایک تحقیق کا حصہ ہے۔ امریکہ میں قائم بوسٹن ڈائنامکس کی تیار کردہ مشین میں ایک کیمرہ لگایا گیا ہے تاکہ اس بات کی نگرانی کی جاسکے کہ بشن انگ مو کیو پارک میں کتنا ہجوم ہوتا ہے۔
اس میں سماجی دوری کو فروغ دینے والے پیغامات کو نشر کرنے کے لئے لاؤڈ اسپیکر بھی لگایا گیا ہے۔
بریکنگ, پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 26 نئے مریض، ایک ہلاکت
،تصویر کا ذریعہGovt. of AJK
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی کے مطابق پانچ خواتین سمیت مزید 26 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 1485 ہوگئی ہے۔
ان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں تین ڈاکٹرز اور تین پیرا میڈیکس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر نجیب نقی کے مطابق بھمبر میں کورونا وائرس کا ایک مریض چل بسا جس کے بعد کورونا سے اس خطے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 41 ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر نجیب نقی کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی دو خواتین سمیت چھ افراد کا مظفرآباد، ایک کا ہٹیاں، ایک کا وادی نیلم، چار کے راولاکوٹ، پانچ کا میرپور، دو کا بھمبر اور تین خواتین سمیت سات افراد کا تعلق کوٹلی سے ہے۔
ان کے مطابق 31 مزید مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب مریضوں کی تعددا 860 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق اب تک اس خطے میں 18891 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے گئے ہیں۔
بلوچستان میں میٹرک اور انٹر کے طلبا کو بغیر امتحانات کے پروموٹ کرنے کی منظوری, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
کورونا وائرس کے باعث ویسے تو پریشانیوں اور مشکلات درپیش ہیں ہی لیکن بلوچستان میں طلبا کے لیے خوشی کا ایک پہلو بھی ہے۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ حکومت بلوچستان نے میٹرک اور انٹر کے طلبا کو امتحان کے بغیر اگلی کلاس میں پروموٹ کرنے کی سمری کی منظوری دیدی ہے۔
رواں برس مارچ میں بلوچستان میں میٹرک کے امتحانات جاری تھے اور بعض پرچے ہو بھی چکے تھے کہ کورونا کے باعث امتحانات کو روکنا پڑا جبکہ اس کے بعد اپریل میں ایف اے اور ایف ایس سی کے امتحانات کو ملتوی کرنا پڑا۔
چیئرمین بلوچستان بورڈ نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کے کھلنے کی صورت میں یہ طلبا اب دسویں اور سیکنڈ ایئر کی کلاسیں لیں گے اور ان کے امتحانات 2021 میں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ انھوں نے نویں اور فرسٹ ایئر کے امتحانات نہیں دیے تھے اس لیے ان کے نویں اور فرسٹ ایئر کے نمبروں کا تعین دسویں اورسیکنڈ ایئر کے امتحانات میں حاصل کیے جانے والے نمبروں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
’مثلاً اگر کوئی طالب علم دسویں کے امتحانات میں 400 نمبر لے گا تو اس کو نویں کے لیے بھی چار سو نمبر دیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھیں تین فیصد اضافی نمبر بھی دیے جائیں گے۔‘
چیئرمین بلوچستان بورڈ نے بتایا کہ کورونا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو طلبا نویں اور فرسٹ ایئر میں تین پرچوں میں فیل ہوئے تھے ان کو بھی پاس کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپارٹ آنے والے ہر مضمون میں ان کو صرف پاسنگ مارکس دیئے جائیں گے جو کہ 33 فیصد ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
ڈیکسا میتھازون دوا کن مریضوں کو اور کن حالات میں دی جائے گی ۔ اس بارے میں ہماری ساتھی عالیہ نازکی نے این ایچ ایس لندن سے وابستہ ماہر امراض تنفس ڈاکٹر سلیم انور سے بات کی ۔۔ انھوں نے کیا کہا ۔۔جانتے ہیں اس پوڈکاسٹ میں ۔۔
سربیا کا اختتام ہفتہ پر کرفیو نہ لگانے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سربیا کی وزیرِ اعظم اینا برنابک نے دارالحکومت میں دو دن کے مظاہروں کے بعد اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت اختتام ہفتہ کو بلغراد میں کرفیو نہیں لگائے گی۔
اینا برنابک نے کہا کہ کچھ نئی پابندیاں ہوں گی، جن میں 10 سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی بھی شامل ہے۔ لیکن جیسا کہ صدر الیگزانڈر ووچچ نے تجویز کیا تھا کہ اختتام ہفتہ پر کرفیو لگایا جائے، وہ نہیں لگے گا۔
بلکان کے بی بی سی کے نامہ نگار گائے ڈیلانے کہتے ہیں کہ ایک غیر معمولی دستبرداری تھی۔ انھوں نے کہا کہ مظاہرین نے جتنا صدر کی قیادت کے طریقے کو تنقید کا نشانہ بنایا اتنا ہی ان کی لاک ڈاؤن کی تجویز کو بھی۔
بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان میں اموات پانچ ہزار سے زیادہ
پاکستان میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث اب تک پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان متاثرین کے اعتبار سے 11ویں نمبر پر ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث پہلی ہلاکت رواں برس 18 مارچ کو ہوئی تھی۔
بریکنگ, صوبہ سندھ میں کل متاثرین ایک لاکھ سے تجاوز کر گئے, گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 40 اموات
پاکستان کے صوبہ سندھ میں مریضوں کی کل تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں مزید 40 اموات بھی ہوئی ہیں۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کے کسی صوبے میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوئی ہے۔
گذشتہ روز صوبے میں 9860 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 1538 مثبت آئے جبکہ 1254 افراد صحتیاب بھی ہوئے۔
اب تک صوبے میں کل 57627 افراد اس وائرس سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔
گذشتہ روز صوبے میں انفیکشن ریٹ 15 اعشاریہ پانچ فیصد رہا اور صوبہ سندھ بدستور ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔
بریکنگ, صوبہ خیبر پختونخوا میں 354 نئے مریض، مزید نو اموات
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں مزید 354 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ نو افراد اس بیماری کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
اب تک صوبے میں کل 29406 افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 1063 اموات بھی ہوئی ہیں۔
صوبے میں صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 19503 ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
جہاں دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی ہو رہی ہے وہیں اس امر پر بھی توجہ مرکوز ہے کہ اس وبا کی دوسری لہر سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
امریکہ میں طبی عملے کو اب بھی حفاظتی لباس کی قلت کا سامنا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں کورونا وائرس کے پہلے کیسز آنے کے پانچ مہینے بعد بھی طبی عملے کو حفاظتی لباس تک رسائی میں دشواری کا سامنا ہے۔
نرسز اور ڈاکٹرز کو اب بھی متعدد ہسپتالوں اور کلینکس میں ایک دن میں ایک ماسک فراہم کیا جا رہا ہے۔ کچھ ہسپتالوں کو این 95 ماسک 15 روز تک استعمال کرنے کا کہا جا رہا ہے جبکہ صحت کے نگران ادارے ایف ڈی اے نے ماسکس کو ڈس انفیکم کرنے کے لیے کیمیائی عمل کی منظوری دی ہے۔
دوبارہ استعمال کیے جانے والے دستانے اور گاؤنز کی بھی قلت ہے جبکہ حفاظتی لباس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ ہسپتال ان اشیا کی خریداری کے لیے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔
نیشنل نرسز یونائیٹڈ کی جانب سے جون کے مہینے میں 23 ہزار نرسوں سروے کے مطابق 85 فیصد کو ہسپتالوں کی جانب سے ماسک دوبارہ استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے۔