کورونا وائرس: اتوار کو دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 26 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ افراد میں اس مرض کی تصدیق جبکہ 5265 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اتوار کو دنیا بھر میں کورونا کے ریکارڈ دو لاکھ 30 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے۔

لائیو کوریج

  1. صدر ٹرمپ کو ہسپتال کے دورے کے دوران ماسک پہننے کی ’توقع‘

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ وہ واشنگٹن ڈی سی میں ایک ہسپتال کے دورے اور فوجیوں اور طبی عملے سے ملاقات کے دوران ماسک پہنیں گے۔

    امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ماسک پہننے میں کوئی مسئلہ نہیں اگر یہ آرام دہ ہوں۔‘

    ’مجھے توقع ہے کہ میں والٹر ریڈ (آرمی میڈیکل سینٹر) کے دورے کے دوران ماسک پہنوں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر آپ ایک ہسپتال میں ہوں تو یہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

    ’مجھے ماسک پہننے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کو اب تک پبلک میں ماسک پہنے نہیں دیکھا گیا جس کے باعث ان پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ گذشتہ ہفتے فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’وہ بھی ماسک پہننے کے حامی ہیں اگر وہ لوگوں کے ہجوم میں پھنسے ہوں۔‘

    صدر ٹرمپ نے عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دینے سے بھی گریز کیا ہے حالانکہ امریکہ کورونا وائرس کے باعث دنیا میں اب تک سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

  2. دنیا میں وائرس سے منسلک کیسز اور اموات میں اضافہ کہاں ہو رہا ہے؟

    یورپ اور شمالی امریکہ میں اپریل میں وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا تاہم جیسے ہی ان دو براعظموں میں لاک ڈاؤن میں نرمی لائی جانے لگی، ویسے ہی لاطینی امریکہ اور ایشیا میں نئے مریضوں میں اضافہ ہونے لگا۔

    شمالی امریکہ میں بھی گذشتہ ہفتے کے دوران کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہے۔

    corona
  3. وبا کے دوران کاسمیٹکس سرجری میں اضافہ

    کلینک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں کئی کاسمیٹکس سرجری کلینکس میں کورورنا وائرس کی وبا کے دوران زیادہ لوگوں نے علاج کے لیے رجوع کیا ہے، کیونکہ بقول کئی مریضوں کے، وہ اس دوران اپنا علاج چھپا سکتے ہیں۔

    اگرچہ پوری دنیا میں متعدد کاروبار اس دوران بند رہے لیکن پلاسٹک سرجری کے کلینک کووڈ۔19 سے بچاؤ کے سخت ترین اقدامات کے بعد جیسا کہ کووڈ۔19 ٹیسٹس اور بار بار صفائی کے اقدامات کرتے ہوئے کھلے رہے۔

    امریکہ، جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا میں کلینکس نے ہونٹوں میں فلرز، بوٹوکس، فیس لفٹس اور ناک کو خوبصورت بنانے کے خواہش مند افراد میں اضافہ دیکھا۔

    ایرون ہرناندیز نے، جنھوں نے لاس اینجلیز کے ایک کلینک سے ہونٹوں کے فلرز اور گالوں پر سے چربی کم کرائی ہے، بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ’میں نے قرنطینہ کے دوران یہ آپریشن کرانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس سے مجھے اپنی رفتار سے ٹھیک ہونے کا موقع مل گیا تھا۔‘

    ’اپنے ہونٹوں کو ٹھیک کرانا وہ کام نہیں ہے جو سب مرد کرنا چاہتے ہیں، سو ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ مختلف لگے۔ سو میں نے مناسب سمجھا کہ گھر پر رہوں اور پوری طرح بحال ہونے کے بعد ہی باہر نکلوں تاکہ لوگوں کو پتہ بھی نہ چلے کہ میں نے کیا کرایا ہے۔‘

  4. امریکہ میں غیر ملکی طلبا کے لیے نئی تعلیمی پالیسی پر پاکستانی طلبا کی رائے

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    حال ہی میں امریکی حکومت کی جانب سے وہاں مقیم غیر ملکی طلبا کے لیے نئی تعلیمی پالیسی متعارف کروائی گئی ہے جس کے باعث مکمل آن لائن یونیورسٹیوں کے طلبا امریکہ میں نہیں رہ سکیں گے۔

    اس امریکی فیصلے کے بعد پاکستانی طلبا کیا کہتے ہیں دیکھیے ونیت کھرے اور محمد نبیل کی اس ویڈیو میں۔

  5. ایران میں کووڈ۔19 سے مزید اموات

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنایک شخص تہران کے بچوں کے ہسپتال کے سامنے سے گزر رہا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے بہت سے مریض بچوں کا علاج ہو رہا ہے

    ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایران میں کووڈ۔19 سے مزید 142 اموات اور 2 ہزار 262 متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس طرح اب تک اموات کی کل تعداد 12 ہزار 447 اور متاثرین کی 2 لاکھ 52 ہزار 720 ہو گئی ہے۔

    اپریل سے حکومت اپنی پوری کوشش کر رہی ہے کہ کاروبار، سکول اور مذہبی مراکز کھولے اور معیشت کو بحال کرے جو کہ امریکی اقتصادی پابندیوں سے پہلے ہی بہت بری حالت میں ہے۔ تاہم ایسے اقدامات نے صحت کے حکام میں تشویش پیدا کی ہے۔

  6. کورونا وائرس: کیا پاکستان میں کووِڈ 19 کی وبا اپنے عروج سے گزر چکی ہے؟

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کیا پاکستان میں کورونا وائرس کی انتہا گزر چکی ہے، چل رہی ہے یا پھر ابھی آنی باقی ہے، اس سوال کا جواب ہر پاکستانی اس لیے جاننا چاہتا ہے کیونکہ اس حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

    کورونا وائرس کے حوالے سے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو جون کے آغاز سے وسط جون تک ملک میں یومیہ متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی۔

    پاکستان میں یومیہ متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد 13 جون کو ریکارڈ کی گئی جو کہ 6825 تھی۔

    پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی کہا تھا کہ ہمارے ہسپتالوں میں 12 اور 13 جون کے دن سب سے زیادہ دباؤ دیکھا گیا اور اس دوران شدید بیمار مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

  7. کورونا وائرس کی انسانوں میں منتقلی کے بارے میں تحقیقات کے آغاز کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ٹیم چین پہنچ گئی

    عالمی ادارہ صحت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عالمی ادارہ صحت کی ترجمان نے بتایا ہے کہ ماہرین کی ٹیم جمعے کے روز چین روانہ ہو گئی ہے جہاں وہ اس بارے میں تحقیقات کریں گے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ اور اس کی انسانوں میں منتقلی کی ابتدا کیسے ہوئی۔

    اگلے دو روز میں عالمی ادارہ صحت کے دو ماہرین جو حیوانیات اور وبائیات میں ماہر ہیں چینی سائنسدانوں کے ساتھ مل کر اس تحقیق کی وسعت اور اپنے دوروں کے شیڈول ترتیب دیں گے۔

    خیال رہے کہ سائنسدانوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ وائرس چمگادڑ سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔

    عالمی ادارہ صحت کی ترجمان مارگریٹ ہیرس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان دو ماہرین کو چین پہلے بھیجنے کا مقصد تحقیقات کی وسعت کے حوالے سے فیصلے کرنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اس آزادانہ پینل میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا جو جمعرات کے روز سے دنیا بھر میں کووڈ 19 کی وبا سے نمٹنے کے حوالے سے ردِ عمل کا جائزہ لے گا۔

  8. کورونا وائرس کے حوالے سے بی بی سی اردو کا خصوصی خبرنامہ

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  9. ملک میں ایمرجنسی کو بڑھانا پڑے گا: اٹلی کے وزیراعظم

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اٹلی کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے حوالے سے لگائی گئی ایمرجنسی کو 31 جولائی کے بعد تک بڑھانا پڑے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایمرجنسی میں توسیع ایک مناسب اقدام ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس کا مقصد وائرس کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔ ”ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ ہمیں اس سمت میں جانا پڑے گا۔‘

    اٹلی میں ایمرجنسی علاقائی حکومتوں کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ عوامی مقامات کو بند رکھیں اور عوامی تقریبات پر پابند لگائیں۔

  10. کیا آپ اپنی نوکری باربیڈوس میں جا کر کرنا چاہیں گے؟

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    باربیڈوس کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگر آپ کی نوکری کورونا وائرس کی وجہ سے اب آن لائن چلی گئی ہے تو آپ ان کے ملک میں جا کر 12 ماہ تک رہ سکتے ہیں اور اپنی نوکری انٹرنیٹ کے ذریعے کر سکتے ہیں۔

    وزیراعظم میا آمور موٹلی نے ایک نئی ”باربیڈوس ویلکم بیک‘‘ سکیم کا اعلان کیا ہے جس کے ذریعے غیر ملکی مسافر اس جزیرے پر جا کر رہ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ „آپ کو امریکہ یا یورپ میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ یہاں آ کر کچھ ماہ کے لیے رہیں اور پھر واپس چلے جائیں۔‘‘

    اس اقدام کا مقصد مقامی معیشت کا پہیہ دوبارہ چلانا ہے جسے کورونا وائرس کی سفری پابندیوں کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا تھا۔

  11. بریکنگ, پاکستان: سٹیٹ بینک نے ملک میں بینکوں کے کام کرنے کے اوقات بحال کر دیے

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سٹیٹ بینک نے جمعے کے روز ایک حکم نامے میں کہا ہے کہ ملک میں تمام بینکوں کو صبح 9 بجے سے شام 530 تک کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

    یاد رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بینکوں کے اوقات میں کمی کر کے صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقات مختص کیے گئے تھے۔

  12. نیوزی لینڈ میں قرنطینہ سنٹر سے بھاگنے والا شخص ’شراب لینے گیا تھا‘

    NZ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیوزی لینڈ میں ایک شخص عدالت میں پیش ہوا ہے جو حال ہی میں ایک قرنطینہ سنٹر سے فرار ہوا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ وہ شخص شراب لینے کے لیے آئسولیشن سے نکلا تھا۔

    52 سالہ مارٹن جیمز نے مبینہ طور پر ہیملٹن میں ایک قرنطینہ مرکز کی باڑ کاٹ کر فرار حاصل کی تھی۔

    ان پر صحت عامہ کے حوالے سے حکم کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس کے بعد نیوزی لینڈ کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں ہر آئسولیشن سنٹر اور قرنطینہ مرکز پر پولیس مامور رہے گی۔

    مارٹن جیمز سے قبل بھی کورونا وائرس کا ایک 32 سالہ مریض آئسولیشن سے نکل کر آکلینڈ کی سپر مارکیٹ سیر کے لیے چلا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک ایسی جگہ سے باہر نکلا جہاں دوبارہ حفاظتی تار کو تبدیل کیا جا رہا تھا۔

    اسی طرح اس سے قبل ایک خاتون ایک تار پر چڑھتے ہوئے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ دو گھنٹوں کے بعد وہ قریبی علاقے میں پائی گئی۔

    آئسولیشن سنٹرز کی ذمہ دار وزیر میگن ووڈز کا کہنا ہے کہ جو ان آئسولیشن سنٹرز سے باہر نکلے گا وہ ایک سنگین خود غرضی مرتکب ہو گا اور ہم ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں گے۔

  13. عید الاضحی کے حوالے سے وفاق کی جانب سے جاری کیا جانے والا ہدایات نامہ

    عید الاضحی اور قربانی کے حوالے سے وفاقی وزارت برائے قومی صحت کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات کے مطابق اس سال حکومت آن لائن اور ای-قربانی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

    تفصیلی ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ بیچنے والوں سمیت مویشی منڈی جانے والا ہر شخص ماسک پہنے اور دستانوں کے بغیر جانوروں کو ہاتھ نہ لگائے۔

    اسی طرح عید کے اجتماعات میں بھی ہر شخص کو ماسک پہننے اور ایک دوسرے سے کم از کم چھ فٹ کا فاصلہ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے مساجد میں کوئی جائے نماز یا چٹائی نہ بچھائی جائے اور نمازیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا اپنا مصلیٰ ساتھ لے کر آئیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. حاملہ یا ماں بننے والی خواتین پلازما کیوں عطیہ نہیں کر سکتیں؟, کملیش متھینی، بی بی سی نامہ نگار

    plasma

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک کی طرح انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں بھی پلازما بینک بنایا گیا ہے۔

    انڈیا میں پلازما تھیراپی کے ذریعے کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کی منظوری دی گئی تھی اور اب وائرس کے باعث تشویشناک حالت میں مبتلا مریضوں کے علاج میں اس کا استعمال ہو رہا ہے۔

    کورونا کے علاج کے لیے نئی دہلی میں بننے والا پلازما بینک ملک کا پہلا ایسا بینک ہے۔ یہ بینک انسٹیٹیوٹ آف لیور اینڈ بِلیئری سائنسز ہسپتال میں بنایا گیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ پلازما بینک کی مدد سے مریضوں کو پلازما ملنے میں آسانی ہو گی۔

    کووڈ 19 سے متاثر ہو کر ٹھیک ہو چکے افراد سے پلازما کا عطیہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے، لیکن کورونا وائرس کا ہر مریض پلازما کا عطیہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے چند شرائط رکھی گئی ہیں۔

    ہدایات کے مطابق اپنی زندگی میں کبھی بھی ماں بن چکی یا حاملہ خواتین پلازما عطیہ نہیں کر سکتی ہیں۔

  15. پاکستانی لڑکوں کی بنائی ویڈیو گیم: تفریح کے ساتھ کووڈ 19 سے متعلق آگاہی بھی

    ویڈیو گیمز کھیلنا کسے نہیں پسند؟ لیکن اگر ویڈیو گیم تفریح کے ساتھ ساتھ آگاہی بھی فراہم کرے تو کیا ہی بات ہے۔

    آئیے آج آپ کو ایک ایسی منفرد ویڈیو گیم کے بارے بتاتے ہیں جو دو پاکستانی بھائیوں نے بنائی ہے اور کورونا کی وبا سے متعلق شعور میں اضافے کی ایک کوشش ہے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  16. بریکنگ, جنوبی کوریا جانے کے لیے اب آپ کو کورونا ٹیسٹ کے منفی نتائج کا سرٹیفیکیٹ چاہیے ہوگا!

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی کوریا جانے والے ایسے غیر ملکی مسافرین جن کے ممالک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کافی زیادہ ہے، انھیں جنوبی کوریا میں داخل ہونے کے لیے ایسے سرٹیفیکیٹ ساتھ لانے ہوں گے جن میں یہ لکھا ہو کہ اس مسافر کا کورونا ٹیسٹ منفی ہے۔

    یہ اقدام پیر کے روز سے لاگو ہوگا اور اس کے تحت مسافروں کو گذشتہ 48 گھنٹوں میں ہی حاصل شدہ سرٹیفیکیٹ دیکھانا ہوگا۔

    اس کے علاوہ وہ سرٹیفیکیٹ صرف ان ٹیسٹ سنٹرز یا میڈیکل دفاتر سے جاری ہو سکے گا جنھیں جنوبی کوریا تسلیم کرنا ہو۔

    گذشتہ ماہ جنوبی کوریا نے متنبہ کیا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر آ رہی ہے اگرچہ ملک میں نسبتاً کم کیسز سامنے آئے ہیں۔

  17. ہانگ کانگ: کورونا کے کیسز پھر سے بڑھنے لگے، پیر سے تمام سکول بند کرنے کا حکم

    HK

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ہانگ کانگ میں محکمہِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں ایک مرتبہ پھر تیزی آنے کی وجہ سے تمام مقامی سکولوں کو پیر کے روز سے پھر بند کر دیا جائے گا۔

    ہانگ کانگ میں جمعرات کے روز 42 نیے کیسز سامنے آئے تھے۔ یہ دوسرا مسلسل دن ہے جب ہانگ کانگ میں کیسز میں اضافہ ہوا ہو۔

    وزیر تعلیم کیون یونگ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں سامنے آنے والے کیسز میں طالبہ اور ان کے والدین بھی شامل تھے۔

    ہانگ کانگ میں بیشتر سکول فروری کے مہینے سے زیادہ تر بند ہی ہیں اور کچھ سکولوں نے تو موسمِ گرما کی تعطیلات شروع کر رکھی ہیں۔

  18. بریکنگ, امریکہ میں ایک مرتبہ پھر ریکارڈ متاثرین

    جانز ہاپکنز پونیورسٹی کے اعداو شمار کے مطابق جمعرات کے روز امریکہ میں ایک مرتبہ پھر ریکارڈ یومیہ متاثرین سامنے آئے ہیں۔ جمعرات کے روز ملک میں 65000 نئے کیسز سامنے آئے تھے۔

    امریکہ میں اب تک 32 لاکھ کیسز سامنے آ چکے ہیں جو کہ کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    امریکہ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی برھ رہی ہے۔ گذشتہ تین دن میں اوسطً 900 لوگ روزانہ ہلاک ہوئے ہیں۔

    تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اتنے کیسز صرف زیادہ ٹیسٹنگ کی وجہ سے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. کورونا وائرس: پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار، سندھ میں ایک لاکھ سے زیادہ مصدقہ متاثرین

    پاکستان میں کل متاثرین کی تعداد ڈھائی لاکھ کے قریب ہے تاہم اب ان میں سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد اس مرض سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    اس وقت ملک میں زیرِ علاج کیسز کی تعداد 89449 ہے۔

    corona
  20. بریکنگ, آسٹریلیا لوٹنے والے افراد کی تعداد پر پابندی، ’ہمارے خیال میں یہ بالکل مناسب ہے‘

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ مورسن کا کہنا ہے کہ آئندہ پیر سے ملک میں صرف 4000 افراد کی ہر ہفتے آمد کی اجازت ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم صرف 4000 آسٹریلوی شہریوں کو ملک لوٹنے دیں گے۔

    ملک کے دوسرے برے شہر میلبورن میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد آسٹریلیا ملک میں آنے والے لوگوں کی تعداد پر حد مقرر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    وزیراعظم مورسٹ کا کہنا تھا کہ ”آسٹریلیا تک رسائی برقرار رکھی جائے گی تاہم آنے والی پروازوں پر جگہ کم ہوگی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ”موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میرا نہیں خیال کہ یہ غیر مناسب اقدام ہے۔‘

    میلبورن جانے والی تمام بین الاقوامی پروازوں کو پہلے ہی منسوخ کیا جا چکا ہے اور ملک پہنچنے والی زیادہ تر پروازیں سڈنی اور پرتھ جا رہی ہیں۔

    اس وبا کے آغاز سے اب تک تقریباً تین لاکھ آسٹریلوی شہری وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔