نئے حکومتی احکامات کے بعد بیلجیئم کے باسیوں نے ماسک پہن لیے, گیون لی، بی بی سی نامہ نگار برائے یورپ

بیلجیئم کی حکومت نے عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا تھا۔
حکمنامے کے تحت دکانوں، کیفے، بارز، ریستورانوں، میوزیمز، لائبریریوں اور عبادت گاہوں میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔
اس سے قبل صرف لوگوں کو ماسک پہننے کی ہدایت کی جا رہی تھی لیکن ماسک پہننا صرف ہسپتالوں، کلینکس، حجاموں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں لازی قرار دیا گیا تھا۔

بیلجیئن وائرولوجسٹ اور حکومت مشیر مارک وین رینسٹ نے کہا ہے کہ یہ اقدام اس لیے اٹھانا پڑا کیونکہ یہ واضح ہو چکا تھا کہ صرف لوگوں کو ہدایت دینا کافی نہیں تھا۔
انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ماسکس کے ذریعے قطروں کو باہر نکلنے سے روکا جا سکتا ہے اور اس طرح وائرس کا پھیلاؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو اس حوالے سے منانے کے لیے ایک عرصہ لگا لیکن اب وقت آ گیا ہے۔‘

ماسک نہ پہننے والوں کو سزائیں دی جائیں گی جبکہ ایسی دکانیں اور کاروبار جو اس پر عمل نہیں کرواتے انھیں بند بھی کیا جا سکتا ہے۔
اس بات پر مزدور انجمن کی جانب سے تنقید بھی کی گئی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ذمہ داری گاہکوں پر عائد ہوتی ہے۔

















