آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, بلوچستان میں مزید 357 افراد کورونا کا شکار، چار افراد ہلاک

    پاکستان کے صوبے بلوچستان میں کورونا کے 357 نئے کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 8794 ہوگئی ہے۔

    کورونا سے مزید چار افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 93 ہوگئی ہے۔

    ہلاک ہونے والوں میں سے دو افراد کا تعلق کوئٹہ جبکہ دیگر دو افراد میں سے ایک کا تعلق لورالائی اور ایک کا تعلق پشین سے تھا جن کی عمریں 34 سے 65 سال کے درمیان تھیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دوخواتین بھی شامل تھیں۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان ترجمان داکٹر وسیم بیگ کے مطابق17جون 2020 کو کورونا کے 1434 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 357 پازیٹو آئے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 40109 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے31315 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طوپر پر88430 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ کورونا وائرس سے اب تک3051 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  2. بریکنگ, مانسہرہ کی تین تحصیلوں کے آٹھ مقامات سیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری

    ڈپٹی کمشنر مانسہرہ نے مانسہرہ کی تین تحصیلوں کے آٹھ مقامات پر کورونا مریضوں میں اضافہ کی وجہ سے سیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    جس میں تحصیل مانسہرہ کے علاقوں محلہ توحید آباد بٹ دریاں، محلہ سراجیاں لاڑی اڈاہ، مسجد فیضان سجاول شریف، محلہ شبیر اینڈ سنز بلڈنگ میٹیریل ڈسٹرکٹ جیل روڈ، تحصیل اوگی میں زمان کالونی، شمدرہ، شیڑ گڑھ اور تحصیل بالاکوٹ میں موضع پت سیری شامل ہیں۔

    صحافی محمد زبیر کے مطابق ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کے دفتر سے جاری کردہ حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ یہ تمام علاقے آج سے 15 روز تک بند رہیں گے۔

    متاثرہ علاقوں میں آنے جانے والے تمام افراد کا داخلہ ممنوع ہو گا تاہم اشیاء ضرورت کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

    صوبہ خیبر پختونخواہ محکمہ صحت کے مطابق مانسہرہ میں گذشتہ 24 گھنٹے میں سات نئے مریض کورونا پازئیٹو ہوئے ہیں۔

    ضلع مانسہرہ میں متاثرین کی مجموعی تعداد 282 ہے۔ مجموعی طو رپر نو لوگ ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 130 کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

  3. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید 37 افراد کورونا سے متاثر

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 15 خواتین سمیت 37 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 740 ہوگی ہے۔

    حکام کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں دو ڈاکٹرز، ایک اسٹاف نرس اور دو پیرا میڈیکل اسٹاف کے ممبر بھی شامل ہیں۔

    ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق کورونا سے متاثر ہونے والے 20 افراد کا تعلق مظفرآباد سے ہے جن میں 10 خواتین بھی شامل ہیں۔

    میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والی 3 خواتین سمیت 11 افراد کا تعلق میرپور جبکہ ایک کا کوٹلی اور ایک خاتون کا بھمبر سے ہے۔

    ڈپٹی کمشنر راولاکوٹ مرزا ارشد جرال کے مطابق راولاکوٹ میں دو افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ضلع باغ کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر منظور کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں ایک شخص کا تعلق باغ سے ہے۔

    حکام کے مطابق 12 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 302 ہو گی ہے۔

    حکام کے مطابق اس خطے میں اب تک 12152 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے جا چکے ہیں۔

  4. بریکنگ, کورونا وائرس: برطانیہ میں مزید 184 ہلاکتیں

    برطانیہ میں ہر طرح کی سیٹنگز میں کورونا وائرس کی وجہ سے مزید 184 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس طرح وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب 42 ہزار 153 تک پہنچ گئی ہے۔

    ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں بدھ کو صبح 9 بجے تک مزید ایک ہزار 115 افراد کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

  5. پینس: امریکہ میں میڈیا وبا کی دوسری لہر کا خوف بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے

    امریکی نائب صدر مائیک پینس نے ایک اداریے میں میڈیا پر الزام لگایا ہے کہ وہ وائرس کی دوسری لہر کے خوف کو ہوا دیتے ہوئے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔

    انھوں نے وال سٹریٹ جنرل میں لکھا کہ میڈیا جو بھی کہے سچائی یہ ہے کہ ہماری ’سارے امریکہ کی حکمتِ عملی‘ کامیاب رہی ہے۔

    ’ہم نے پھیلاؤ کو آہستہ کیا ہے، ہم نے سب سے زیادہ غیر محفوظ افراد کی دیکھ بھال کی ہے، زندگیاں بچائیں ہیں اور ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے۔‘

    ’اس پر جشن منانا چاہیئے نہ کہ میڈیا کی طرح خوف کی سوداگری کرنی چاہیئے۔‘

    اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ ابھی بھی وبا کی دوسری لہر سے گذر رہا ہے۔ مشرقی ریاستیں جیسا کہ نیو یارک اور نیو جرسی، جو بہت زیادہ متاثر ہوئی تھیں اور اب بحال ہو رہی ہیں، لیکن جنوبی ریاستوں نے اب اپنے سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے ہیں۔

    سنیچر کو ٹرمپ اور پینس وبا کے بعد اپنی پہلی انتخابی ریلی میں اوکلاہوما کے شہر ٹلسا جائیں گے۔ ٹلسا میں کووڈ۔19 کے مریض بڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ انھیں کہا گیا ہے کہ وہ نہ آئیں لیکن ٹرمپ کے حمایتی 19 ہزار سیٹوں والے سٹیڈیم کے باہر پہلے ہی انتظار کر رہے ہیں۔

    ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے، جو اکثر وائٹ ہاؤس کی بریفنگز میں نظر آتے ہیں، ڈیلی بیسٹ کو بتایا کہ وہ ریلی میں شرکت نہیں کریں گے کیونکہ ان کی عمر 79 سال ہے اور وہ ’ہائی رسک کی کیٹیگری میں آتے ہیں۔‘

  6. ’ڈیکسامیتھازون کا استعمال فوری شروع کریں‘

    برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسرنے کہا ہے کہ اس سٹیرائڈ دوا کا استعمال جو کووڈ۔19 کے انتہائی بیمار افراد کے علاج کے ٹرائل میں زندگیاں بچانے میں کامیاب ثابت ہوئی ہے فوراً ہی شروع کر دینا چاہیئے۔

    ڈیکسامیتھازون نے، جو کہ ایک سستی اور بڑے پیمانے پر دستیاب دوا ہے، ان مریضوں میں اموات کافی کم کی تھیں جوویٹیلیٹرز پر تھے یا جنھیں آکسیجن درکار تھی۔

    برطانیہ کے چار چیف میڈیکل آفیسرز نے این ایچ کو بھیجے گئے ایک فوری خط میں کہا ہے کہ کووڈ۔19 کی وجہ سے ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کے علاج کے لیے ڈیکسامیتھازون کا ایک اہم مقام ہے۔

    حکومت کے مطابق ڈیکسامیتھازون کی دستیابی کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس ابھی اس دوا کی 2 لاکھ 40 ہزار خوراکیں ہیں۔

  7. بریکنگ, احساس پروگرام میں سندھ کا حصہ 22 سے 31 فیصد کیا گیا: ڈکٹر ثانیہ مرزا

    احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے لیے وزیراعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے تحت سندھ میں 60 ارب روپےکی ترسیل ہورہی ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا کہ احساس ایمرجنسی پروگرام میں سندھ کاحصہ 22 فیصد تھا۔

    ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ بلوچستان کےبعد سب سے زیادہ غربت سندھ میں ہے۔

    ان کے بقول ’اعداد و شمار بڑھنے کے بعد احساس پروگرام میں سندھ کاحصہ 22 سے 31 فیصد ہوا۔‘

    انھوں نے بتایا کے بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ غیر مستحق لوگ ہٹائے گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کے دیگرمستحق افراد کو کفالت پروگرام میں شامل کیا گیا۔

    ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ لوگوں کی مدد وزیراعظم کے کوووڈ ریلیف فنڈ سے کی جا رہی ہے جس میں لوگ وزیراعظم کی ساکھ کی وجہ سے پیسےجمع کررہےہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایک کروڑبیس لاکھ مستحق افراد کا بجٹ تھا ، جانچ پڑتال کےبعد تعداد مستحق افراد کی تعداد 1کروڑ 60 لاکھ ہوگئی۔

    ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے بقول اس موقعے پر ’وزیراعظم نےکہا کہ سیاست سےقطع نظرمستحقین کی مددکریں۔‘

  8. بریکنگ, ملک بند نہیں کریں گے، متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا: عمران خان

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں ڈھائی کروڑ لوگ جو دیہاڑی دار ہیں اگر ملک بند کردیں تو وہ بھوک سے مرنا شروع ہوجائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے دوہرا مسئلہ ہے کہ کورونا سے بھی لوگوں کو بچانا ہے اور بھوک سے بھی۔`

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’ملک بند نہیں کریں گے تاہم متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک عوام خود ذمےداری نہ لیں کوئی ملک کورونا کے خلاف کامیاب نہیں ہوسکتا۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان کورونا کی صورت حال میں بیلنس کر کے نکلا کوئی اور ملک نہیں نکلا۔

    اس موقعے پر وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کے پی، پنجاب، سندھ کسی صوبے میں کوئی فرق نہیں کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پہلی بار سب سے زیادہ پیسہ سندھ میں آیا، پی ایم ریلیف فنڈ کا پیسہ بھی سب سے زیادہ سندھ میں آیا۔‘

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میٹنگ میں مرادعلی شاہ بات مانتے ہیں اوربعد میں بلاول بھٹو کچھ اوربیان دیتے ہیں۔‘

  9. کورونا وائرس: سویڈن میں ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار سے زیادہ

    سویڈن میں صحت کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 5 ہزار 41 ہو گئی ہے۔

    صرف ایک کروڑ کی آبادی والے ملک میں اس کے ہمسایہ ممالک کی نسبت اتنی زیادہ ہلاکتوں کی وجہ اس کے سخت لاک ڈاؤن نہ لگانے کے فیصلے کو کہا جا رہا ہے۔

    اس ماہ کے آغاز میں لاک ڈاؤن نہ لگانے کی پالیسی کے روح رواں اینڈرز ٹیگنل نے تسلیم کیا تھا کہ ان کی اس حکمتِ عملی کی وجہ سے بہت زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

  10. بریکنگ, اسلام آباد: آئی 8 اور آئی 10 سیل کر دیے گئے، مزید علاقے بھی سیل کرنے کا امکان

    اسلام آباد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں روزانہ کی بنیاد پر 3ہزار شہریوں کے ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں اب تک 80ہزار کے قریب ٹیسٹ کروائیں گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سسٹم پر بوجھ کی وجہ سے ٹیسٹنگ کا عمل تاخیر کا شکار ہے تاہم دیگر صوبائی حکومتوں کی نسبت اسلام آباد میں سب سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے۔

    ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسلام آباد کے مختلف علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ’عوام الناس کے عدم تعاون پر دیگر علاقوں میں بھی سمارٹ لاک ڈاؤن پر مجبور ہوں گے۔‘

    ان کے مطاوق وفاقی دارالحکومت کے جس علاقے میں بھی کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہو گا اسے سیل کر دیا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے سیکٹر آئی ایٹ اور آئی ٹین کے سب سیکٹرز کو سیل کرنے کے موقع پر دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ روز سیکٹر آئی 8 اور آئی 10 کے رہائشیوں کو 24 گھنٹے میں ضروری اقدامات کے لیے ہدایات جاری کی تھیں سیکٹر آئی 8 اور آئی 10 کے چند علاقوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل تیزی آ رہی تھی۔ مریضوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر دونوں سیکٹرز کے سب سیکٹرز کو سمارٹ لاک ڈاؤن ایس او پی کے تحت سیل کیا جا رہا ہے، چاروں سیکٹرز کو 16مختلف پوائنٹس سے سیل کیا جائے گا۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ادویات اور اشیاء خوردونوش کے لیے خصوصی انتظامات بھی کئے ہیں۔‘

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ عوامی حمایت کے بغیر کورونا وائرس پر قابو نہیں پایا جا سکتا شہریوں سے گزارش ہے بلاوجہ گھروں سے نہ نکلیں اور انتظامیہ کی طرف سے جاری ہدایات پر عملدرآمد کریں۔

    سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ان علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کے نمائندے، پاک آرمی کے دستے، پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات رہیں گے۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ ان علاقوں کے بعد جی ٹین اور جی سیون چیلنج ہے ان علاقوں میں زیادہ کیس آ رہے ہیں جبکہ لوہی بھیراورغوری ٹاؤن کے علاقوں کو بھی سیل کیا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ’جی نائن کو سیل کیے ہوئے چار دن ہوئے ہیں جہاں پر سو کیس روزانہ آ رہا تھے اب وہاں 8 سے 9 کیس روزانہ آ رہے ہیں اور یہ سمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہے۔جی سکس کے علاقے میں ٹرانسمیشن زیادہ نہیں ہے اگر ٹرانسمیشن زیادہ ہوئی تو متعلقہ علاقوں کو سیل کیا جا سکتا ہے۔‘

    اس موقع پر ایس پی انڈسٹریل ایریا زبیر احمد شیخ نے کہا کہ مختلف جگہوں پر پولیس کی نفری تعینات کی جائے گی۔ سیل کیے جانے والوں علاقوں میں کسی کو داخلے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

  11. جرمنی کی وائرس وارننگ ایپ ساڑھے 65 لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ

    اپنی لانچ کے صرف ایک دن بعد جرمنی کی کورونا وائرس ٹریسنگ ایپ کو 65 لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے، یعنی کہ ایک ہی دن میں 7 فیصد آبادی نے اسے ڈاؤن لوڈ کر لیا ہے۔

    چیف ایگزیکیوٹیو کرسچیئن کلین نے رپورٹروں کو بتایا کہ ’کورونا وارن‘ ایپ کی بڑی کامیابی ایس اے پی اور ڈوچے ٹیلیکوم کے درمیان اشتراک کی سند ہے، جسے صرف چھ ہفتوں میں بنایا گیا ہے۔

    وزیرِ صحت جینز سپان نے کہا کہ ’اب 60 لاکھ سے زیادہ وجوہات ہیں کہ مستقبل میں کورونا وائرس کے کم امکانات کیوں ہوں گے۔‘

    اسی طرح کی ایپس کو فرانس جیسے دوسرے یورپی ممالک کی نسبت جرمنی میں کہیں زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔

    کورونا وارن ایپ اسے استعمال کرنے والے کو اس وقت خبردار کر دیتی ہے جب وہ کسی ایسے شخص سے دو میٹر دور ہو جس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہو، اور یہ فروری میں متعارف کرائے جانے والے جرمنی کے ٹریکنگ اینڈ ٹریسنگ سسٹم کے ساتھ مطابقت بھی رکھتی ہے۔

  12. پنجاب: ہسپتالوں کی صفائی اور دوران علاج انفیکشن کنٹرول کے لیے طبی عملے کی ترییت

    کورونا وائرس کا علاج کرنے والے ہسپتالوں کی صفائی اور دوران علاج انفیکشن کنٹرول کے حوالے سے 5 اضلاع میں ماسٹر ٹرینر کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔

    سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیپٹن (ر) محمد عثمان نے اس ٹریننگ میں خصوصی شرکت کی۔

    ہیڈ انفیکشن کنٹرول پی کے ایل آئی ڈاکٹر الطاف حسین اور کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ ڈاکٹر جاوید حیات خان نے ٹریننگ دی۔

    اس ٹریننگ کے دوران لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان سے ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دی گئی۔ یہ ٹرینر کورس مکمل کر کے اپنے اضلاع میں تمام سٹاف کو تربیت دیں گے۔

    ماسٹر ٹرینر پانچ اضلاع میں آئسولیشن وارڈز کے 1500 سے زائد عملے کو تربیت دیں گے۔

    کیپٹن (ر) محمد عثمان کے مطابق کورونا وائرس مریضوں کے علاج سے پیدا ہونے والے کوڑے کو بحفاظت تلف کرنا انتہائی ضروری ہے اور ٹریننگ کا مقصد فرنٹ لائن ورکر کا تحفظ اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

  13. مردان کے متاثرہ علاقوں میں 14 دن کے لیے لاک ڈاؤن

    خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے ان علاقوں میں جہاں کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے وہاں 14 دن کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔

    ترجمان ڈپٹی کمشنر مردان کے مطابق ایسا صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے کیا گیا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نقشہ جات میں پیلی لکیر لاک ڈاون کے مخصوص علاقہ کو ظاہر کر رہی ہے۔

    سمارٹ لاک ڈاؤن جمعرات کی صبح 10 بجے سے 14 دن کے لیے بجلی گھر نزد دوسہرہ چوک، جان آباد، شیخ ملتون سیکٹر اے مکمل، دامن کوہ نزد مذدور آباد روڈ اور تحصیل روڈ کاٹلنگ بازار میں لگایا گیا ہے۔

    سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ان علاقوں میں داخل ہونے اور باہر نکلنے پر پابندی ہو گی۔

    ان علاقوں میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلتے ہوئے کیسز کی وجہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا۔

    ان علاقوں میں صرف ضروری اشیا خوردنوش، میڈیسن، جنرل سٹور، تندور اور ایمرجنسی سروس کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

    حکام کے مطابق سرکاری اعلامیے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ ایکٹ کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    انتظامیہ نے علاقہ مکینوں سے کہا ہے کہ وہ کل صبح 10 بجے سے پہلے ضرورت کی تمام اشیا کی خریداری کر لیں تاکہ بعد میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  14. ٹوائلٹ فلش کرتے وقت اس کا ڈھکن بند کر لیں!

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈھکن بند کیے بغیر ٹوائلٹ فلش کرنے سے پانی کے ذرات اچھل کر ٹوائلٹ سے باہر آتے ہیں جو کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کے یہ ذرات انسانی قد جتنا اونچا آ سکتے ہیں۔

    چین کی یانگ ضو یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق کے مطابق یہ ذرات تین فٹ اونچائی تک آ سکتے ہیں۔ اسی لیے فلش کرتے وقت ٹوائلٹ کا ڈھکن بند کرنا اہم ہے۔

    کورونا وائرس عموماً کسی کے کھانسنے یا چھینکنے سے ہوا میں پانی کے انتہائی چھوٹے ذرات جانے کی وجہ سے پھیلتا ہے۔

  15. کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ، پشاور کے مزید دو علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کی وجہ سے پشاور کے مزید دو علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے جس کے بعد اب تک شہر کے کُل نو علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا ہے۔

    یہ دو مزید علاقے گلبہار نمبر چار اور کوہی حسن خیل ہیں جہاں سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران سے آنے جانے پر پابندی ہوگی۔

    ان علاقوں میں صرف ضروری اشیا خورد نوش، ادویات، جنرل سٹور، تندور اور ایمرجنسی سروس کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ ان علاقوں کی مساجد میں صرف پانچ افراد کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت ہوگی۔

    علاقہ مجسٹریٹ اور پولیس کو سمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور خلاف ورزی کر نے والوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  16. مسافروں کو ماسک کے بغیر سفر کی اجازت نہیں ہوگی: سات امریکی فضائی کمپنیوں کا اعلان

    امریکی کی سات فضائی کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ماسک پہننے کے حکم پر سختی سے عمل کروائیں گی۔

    ان کمپنیوں کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ مسافر جو جہاز میں ماسک پہننے سے انکار کریں گے انھیں سفر نہیں کرنے دیا جائے گا۔

    ایئرلائنز کے مشترکہ گروپ ’ایئرلائنز فار امریکہ‘ میں الاسکا ایئرلائنز، امریکن ایئرلائنز، ڈیلٹا ایئرلائنز، ہوائین ایئرلائنز، جیٹ بلیو ایئرویز، ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز اور یونائیٹڈ ایئرلائنز شامل ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ مسافروں کی جانب سے پابندی پرعمل نہ کرنے کی صورت میں فضائی کمپنیاں انفرادی طور پر اقدامات کرنے کا فیصلہ کریں گی۔

    یہ فیصلہ امریکی فضائی کمپنیوں کی جانب سے کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے بعد کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کے تحت ہے اور اس کی وجہ وہ مختلف شکایتیں تھیں کہ کچھ مسافر اس حکم کی تعمیل نہیں کر رہے۔

  17. یونان میں قحبہ خانے کھول دیے گئے، 15 منٹ کی پابندی

    یونان میں کورونا وائرس کے قدرے کم مریض سامنے ائے ہیں۔ امریکہ میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق ملک میں ابھی تک 3148 مریضوں کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ 185 اموات سامنے آئی ہیں۔

    حکومت نے کاروبار دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے اور ملک میں سفر کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

    پیر کے روز حکام نے ملک میں قحبہ خانوں کو بھی کھولنے کی اجازت دی ہے تاہم ان پر سخت قوانین لاگو کیے ہیں۔ گاہکوں کو صرف پندرہ منٹ کی اجازت دی گئی ہے اور تمام افراد کو ماسک پہننے کے لیے کہا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ قحبہ خانے کے دروازے اور کھڑکیاں بھی کھلی رکھنے کے لیے کہا گیا ہے اور انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ چار ہفتوں تک صارفین کے نام اور فون نمبرز سنبھال کر رکھیں۔

    ان قحبہ خانوں میں اب رقم کی ادائیگی صرف کارڈ کے ذریعے ہوگی۔

    یونان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی قحبہ خانے کھولنے کے بارے میں غور ہو رہا ہے۔ ہالینڈ میں حکومت نے یکم ستمبر سے یہ اقدام کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

  18. نیوزی لینڈ میں قرنطینہ مراکز فوج کے حوالے کر دیے گئے, شائمہ خلیل بی بی سی نیوز، سڈنی

    نیوزی لینڈ میں ملک کے سرحدی آپریشنز اور قرنطینہ مراکز کا کنٹرول فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب دو افراد جنھیں ملک میں داخل ہونے دیا گیا تھا، ان میں بعد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    وزیراعظم جیکنڈا آرڈن نے اعلان کیا ہے کہ اسسٹنٹ چیف برائے دفاع ڈیرن ویب اب فوجی وسائل اور اہلکاروں کو استعمال کر سکیں گے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بارڈر کنٹرول کا درست اور منظم ہونا حکومت اور عوام دونوں کے لیے اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ کووڈ19 کے دو نئے کیسز اس نظام کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    مذکورہ دو کیسز میں دو خواتین برطانیہ سے براستہ آسٹریلیا نیوزی لینڈ پہنچی تھیں اور حکومتی احکامات کے برعکس قرنطینہ سنٹر سے فارغ ہونے تک ان کا ٹیسٹ نہیں کیا گیا تھا۔ انھیں ہمدردی کی بنیاد پر قرنطینہ سنٹر سے جانے دیا گیا تھا کیونکہ ان کے والدین انتہائی بیمار تھے اور ان کے انتقال کا خطرہ تھا۔

  19. بلوچستان میں صرف تین اضلاع کورونا وائرس سے غیر متاثر، گذشتہ 37 دنوں میں چھ ہزار سے زیادہ متاثرین

    بلوچستان میں اب صرف تین اضلاع ایسے رہ گئے ہیں جن سے تاحال کورونا کا کوئی مصدقہ کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

    بلوچستان کے 33 اضلاع میں سے اب تک جن تین اضلاع سے کورونا کے کیسز رپورٹ نہیں ہوئے ہیں ان میں شیرانی ، بارکھان اور سوراب شامل ہیں۔

    شیرانی اور بارکھان بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق جبکہ سوراب جنوب مغرب میں واقع ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے مطابق صوبے میں وبا میں تیزی کے ساتھ اضافے کا سلسلہ دس مئی کے بعد شروع ہوا جب مکمل لاک ڈاﺅن کو ختم کرکے سمارٹ لاک ڈاﺅن شروع کیا گیا تاہم سب سے زیادہ اضافہ عید الفطر کے بعد ریکارڈ کیا گیا۔

    بلوچستان میں کورونا کا پہلا کیس 10مارچ کو رپورٹ ہوا تھا جبکہ 16جون تک ان کیسز کی تعداد 8437 تھی۔

    رپورٹس کے مطابق 10 مارچ سے 10 مئی تک 61 دنوں میں 2017 کیسز سامنے آئے جبکہ اس کے برعکس 11 مئی سے16 جون تک 37 دنوں میں 6420 کیسز رپورٹ ہوئے ۔

    محکمہ صحت کی رپورٹس میں کیسز میں اضافے کی سب بڑی وجہ لوگوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد نہ کرنے کو قرار دی جارہی ہے ۔

    اس صورتحال کے باعث محکمہ صحت کے حکام جولائی کے وسط سے ستمبر تک کیسز میں بہت زیادہ اضافے کے خدشے کا اظہار کررہے ہیں۔

  20. برازیل میں ایک دن میں تقریباً 35 نئے متاثرین کا اضافہ

    برازیل میں یومیہ نئے متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا جب گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں تقریباً 35000 نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی۔

    اس سے قبل ملک میں اب تک نو لاکھ سے زیادہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں اور وہ امریکہ کے بعد دنیا بھر میں سبسے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔

    دوسری جانب یومیہ 1300 اموات کے بعد ملک میں مجموعی طور پر 45 ہزار سے زیادہ افراد کووڈ 19 کے ہاتھوں جان دے چکے ہیں۔

    حالات دیکھتے ہوئے ایسا نظر نہیں آ رہا کہ ملک میں یہ وبا کسی طرح قابو میں آجائے اور جس تیزی سے نئے متاثرین بڑھ رہے ہیں، اس سے واضح ہے کہ برازیل کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے سب سے بڑا ملک ہے بہت ممکن ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک ملک میں کُل دس لاکھ متاثرین ہو جائیں۔

    اور اہم بات یہ ہے کہ ملک میں ابھی بھی آبادی کے اعتبار سے ٹیسٹنگ زیادہ نہیں ہو رہی اور یہ بہت ممکن ہے کہ اصل تعداد سرکاری تعداد سے کہیں زیادہ ہو۔

    لیکن برازیل کے صدر جیئر بولسونارو نے مسلسل ملک کے مختلف حصوں میں کاروباری سرگرمیوں میں پابندیوں کے خلاف تنقید کی ہے جس کے نتیجے میں برازیل وبا کے عروج سے پہلے ہی کھل گیا ہے۔