آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. چین میں کورونا وائرس کے 28 نئے کیسز

    چین میں مزید 28 کورونا کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 21 کیسز دارالحکومت بیجنگ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

    گذشتہ کچھ دنوں میں بیجنگ میں اچانک کورونا کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اس نئی لہر کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بڑی فوڈ مارکیٹس سے پھیلی ہے۔ اس صورتحال میں نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں اور گردو نواح کے علاقوں کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔

    ان حالیہ کیسز سے پہلے بیجنگ میں 57 روز تک مقامی سطح پر کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔

  2. آسٹریلیا کی ایک ریاست میں کورونا وائرس کے مقامی طور پر پھیلاؤ میں اضافہ

    ہم یہ تو جانتے ہیں کہ آسٹریلیا ان کامیاب ممالک میں شامل ہے جنھوں نے کامیابی سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا ہے او کئی علاقوں میں اس کا خاتمہ کر دیا۔

    تاہم ملک کی دوسری بڑی گنجان آباد ریاست وکٹوریا میں اس وائرس کے مقامی پھیلاؤ کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ آسٹریلیا کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ اس ریاست میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے مگر یہ تعداد بہت کم ہے۔

    آج حکام نے ایسے 12 نئے متاثرین کا پتا چلایا ہے جبکہ چھ کے بارے میں گذشتہ روز تصدیق ہوئی تھی۔

    ان نئے متاثرین کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے نیو ساؤتھ ویلز میں کئی ہفتوں تک کوئی نئے متاثرین سامنے نہیں آئے تھے۔

    متاثرہ ریاست کے وزیر صحت جینی میکاکوس کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم ہے کہ اس وقت کل متاثرین کی تعداد سے یہ تعداد زیادہ دکھائی دے رہی ہے لیکن خاص بات یہ ہے کہ ہم نے حالیہ ہفتوں میں وکٹوریا میں ایسے متاثرین کا کامیابی سے پتا چلایا ہے۔

    ہم کسی ایک دن مخصوص تعداد کے بجائے اس حوالے سے ٹرینڈ پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔

    اپریل سے آسٹریلیا میں متاثرین کی تعداد 0.5 فیصد بنتی ہے۔ اس وقت ملک میں کل 500 ایکٹو متاثرین ہیں۔ یہ زیادہ تعداد میں وہ لوگ ہیں جو باہر کے ممالک سے واپس آئے ہیں اور اب قرنطینہ میں رہ رہے ہیں۔

  3. انڈیا میں ایک دن میں کورونا وائرس کے ریکارڈ کیسز

    دنیا کی زیادہ تر توجہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے لاطینی امریکہ پر ہے لیکن انڈیا میں بھی حالات انتہائی ابتر دکھائی دے رہے ہیں اور محکمہ صحت کا نظام صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔

    بدھ کو ملک میں 12881 نئے کیسز روپورٹ ہوئے۔ وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ ایک روز میں اب تک سامنے آنے والے متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    • دارالحکومت دہلی میں وزیرِ صحت کو بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ رواہں ہفتے کے آغاز میں وہ سانس لینے میں تکلیف اور شدید بخار میں متبلا ہو گئے تھے۔
    • صنعتی مرکز ممبئی میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد ریاست مہاراشٹرا میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی نصف تعداد سے زیادہ ہے۔ یہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے اور اب تک وہاں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔
    • انڈیا کورونا سے متاثر ہونے والوں میں تعداد کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہے لیکن گذشتہ ہفتے حکومت نے ساڑھے تین لاکھ کیسز کے باوجود لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی تھی۔
  4. بریکنگ, پاکستان: مزید 118 ہلاکتیں، ملک میں 5358 نئے مریض

    پاکستان میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید 118 مریض ہلاک ہو گئے۔

    اس حوالے سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کو ملک میں مزید 5358 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں 31,500 ٹیسٹ بھی کیے گئے اور اب تک ملک بھر میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 59,215 ہو چکی ہے۔

    پاکستان کا صوبہ پنجاب 1202 ہلاکتوں کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔

    صوبہ سندھ 916 ہلاکتوں کے ساتھ متاثر ہونے والا دوسرا بڑا صوبہ ہے۔ دونوں صوبوں میں مریضوں کی بلترتیب تعداد 60138 اور 59983 ہے۔

    صوبہ خیبر پختونخوا میں ہلاکتوں کی تعداد 755، بلوچستان میں 93 دارالحکومت اسلام آباد میں 94 جبکہ گلگت بلتسان میں 18 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو چکی ہے۔

  5. پشاور میں 12 افراد زیرِ حراست

    پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے مارکیٹس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی خلاف ورزی کرنے والے 12 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

  6. راولپنڈی کے تین ہوٹلوں کو سیل کر دیا گیا

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع راولپنڈی میں کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر حکومت نے ہوٹل مالکان کو کاروبار کھولنے کے لیے چند مخصوص ضابطہ کار پر عمل کرنے کا پابند کیا ہے۔

    راولپنڈی کے ڈپٹی کمنشر کی جانب سے بدھ کو سماجی دوری پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے شہر کے تین ہوٹلوں کو سیل کرنے کی تصدیق کی گئی۔

    یہ ہوٹل راولپنڈی کی معروف فوڈ سٹریٹ میں موجود ہیں۔

  7. کووڈ-19: وہ خاتون جو انڈیا میں ’کورونا کی آواز بنی‘

  8. کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں سیاحت پر پابندی: ’یہ موسم ہاتھ سے نکلا جارہا ہے‘, محمد زبیر خان، صحافی

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے جہاں پاکستان میں صحت کا بحران پیدا ہوگیا ہے تو وہیں سیاحت سمیت بیشتر شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

    حکومتی احکامات پر ملک بھر میں سیاحت مارچ کے تیسرے ہفتے سے بند ہے۔ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف سیاحت کو معیشت کے لیے اہم سمجھتی ہے لیکن موجودہ حالات میں سیاحتی و تفریحی مقامات کو کھولنے سے وائرس پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔

    اسی لیے صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے سیاحت پر سے پابندی ہٹانے کا اپنا فیصلہ موخر کردیا تھا۔ جبکہ گلگت بلتستان کی حکومت کی جانب سے سیاحت پر مزید دو ہفتوں کی پابندی عائد کی گئی ہے۔

    پاکستان کے یہ دو خطے ہر سال لاکھوں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اپنے دلکش نظاروں کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔

  9. کورونا وائرس: کیا ڈیکسامیتھازون پاکستان میں فوری استعمال ہو سکتی ہے؟

  10. بریکنگ, دنیا بھر سے تازہ ترین

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 448,504 ہو گئی ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس سے اب تک 8,331,135 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

    امریکہ میں اموات کی تعداد 117,717 ہو گئی ہے اور یہ سب سے زیادہ ہے۔

    دیگر ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد:

    برازیل: 46,510

    برطانیہ: 42,238

    اٹلی: 34,448

    فرانس: 29,578

    سپین: 27,136

    میکسیکو: 19,080

    انڈیا: 11,903

    بیلجیئم: 9,675

    ایران: 9,185

  11. کورونا وائرس: کراچی کے چھ اضلاع کےعلاقوں میں دو جولائی تک مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے چھ اضلاع کی متعدد یونین کونسلز میں دو جولائی تک مکمل لاک ڈاؤن کرنے فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اس فیصلے کا اطلاق آج شام سات بجے سے ہو گا۔

    جن اضلاع کے علاقوں میں لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے ان میں ضلع کورنگی، ضلع جنوبی، ضلع مشرقی، ضلع مغربی، ضلع ملیر، ضلع وسطی شامل ہیں۔

    لاک ڈاؤن کے دوران ان تمام علاقوں میں داخل ہونے والوں کے لیے ماسک پہننا لازمی ہو گا۔ اس کے علاوہ گھر کے صرف ایک فرد کو گھر سے نکلنے کی اجازت ہو گی اور شناختی کارڈ دکھانا لازم ہو گا۔

    گھروں پر کسی قسم کی کوئی تقریبات کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ اس دوران صرف ضروری اشیا کی دکانیں اور فارمیسیز کھلی رہیں گی۔

  12. کورونا وائرس: پاکستان میں آکسیجن سلینڈرز کی قلت، طلب اور قیمت بڑھنے سے مریضوں کو مشکلات درپیش

    پاکستان میں کورونا وائرس نے صحت کے نظام میں پائی جانے والی خامیاں اب واضح کر دی ہیں۔

    پاکستان میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے ساتھ جہاں طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان اور مریضوں کے لیے بستر، وینٹیلیٹرز، آئی سی یو وارڈز اور ادویات کی کمی محسوس کی جا رہی ہے تو وہیں اب آکسیجن کی قلت کا مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے۔

    بڑے شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں تو شاید آکسیجن کی قلت نہ ہو لیکن ان چند ایک بڑے شہروں کے علاوہ پاکستان کے بیشتر شہروں کے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے آکسیجن کی کمی واقع ہو رہی ہے۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع پشاور اور ایبٹ آباد کے ہسپتالوں میں آکسیجن کا مرکزی نظام ہے۔ لیکن صوبے کے باقی 36 اضلاع کے ہسپتالوں میں آکسیجن کے سلینڈروں پر گزارہ ہوتا ہے۔ اگر یہ سلینڈر کم پڑ جائیں تو مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

  13. کورونا وائرس: زندگی بچانے والی پہلی دوا کی تفصیلات

    کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔ برطانیہ میں ماہرین نے اس دوا کو کتنا مفید قرار دیا ہے؟

    اس دوا کے بارے میں مزید تفصیلات بتا رہی ہیں ہدیٰ اکرام ہمارے ساتھی موسیٰ یاوری کی اس پوڈکاسٹ میں

  14. فیس بک پر ’جھوٹ‘ پھیلانے پر روسی خاتون کو جرمانہ, بی بی سی مانیٹرنگ

    روسی اخبار نووایا گیزیٹا کے مطابق روس کے شہر یاکیتیرنبرگ میں ایک خاتون کو فیس بک پر ’جھوٹی‘ پوسٹ لگانے پر جرمانہ کیا گیا ہے۔ اس عورت نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ان کا مقامی ہسپتال کورونا وائرس کے مریضوں کو داخل کرنے سے اجتناب کر رہا ہے۔

    تاتنیا زنیک نے ایک دوست کے متعلق لکھا کہ ’ہسپتال بھر چکا ہے، لوگ بڑی تعداد میں مر رہے ہیں، ہر ایک میں نمونیے کی تشخیص ہو رہی ہے۔ انھوں نے اس کو راہداری میں ڈال دیا ہے۔‘

    عدالت نے کہا کہ خاتون نے حالات کو غلط طریقے سے پیش کیا ہے اور اصرار کیا کہ وہاں بیماری کی وجہ سے کوئی ہلاکت بہیں ہوئی ہے۔

    زنیک کو 15 ہزار روبل (200 ڈالر) جرمانہ کیا گیا ہے۔ ان کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو ہم انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں بھی جائیں گے۔‘

    سرکاری اعدادو شمار کے مطابق روس میں دنیا میں تیسرے نمبر سب سے زیادہ، 55 لاکھ 2 ہزار 549ّ، متاثرین ہیں اور اب تک 7 ہزار 468 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

  15. پیرس کا ایفل ٹاور اگلے ہفتے دوبارہ کھل رہا ہے

    پیرس کا ایفل ٹاور، جو فرانس کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقامات میں سے ایک ہے، سیاحوں کے لیے اگلے ہفتے دوبارہ کھل جائے گا۔

    دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے لمبے عرصے کے لیے بند رہنے کے بعد اب ٹورازم کے اہلکاروں کا منصوبہ ہے کہ شروع میں محدود لوگوں کو ٹاور پر جانے دیا جائے گا۔

    اسے دیکھنے کے لیے آنے والے افراد کو صرف پہلی اور دوسری منزل پر جانے کی اجازت ہو گی، اور پہلے مرحلے میں لفٹیں بھی بند رہیں گی۔

    لوگوں کے چلنے پھرنے کی جگہوں کو ہر دو گھنٹوں کے بعد صاف کیا جائے گا، اور 11 سال سے اوپر سب آنے والوں کے لیے ماسک پہننا ضروری ہو گا۔ امکان ہے کہ یہ 25 جون کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔

    ایفل ٹاور کو دیکھنے ہر سال عموماً 70 لاکھ کے قریب لوگ آتے ہیں، لیکن مارچ میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد فرانس کی سیاحت کی صنعت کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔

  16. کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی پالیسی کو معید یوسف کیسے دیکھتے ہیں؟

    پاکستان کی لاک ڈاؤن پالیسی اب تک کنفیوثن کا شکار لگتی ہے۔ جس کے تحت اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ لاک ڈاؤن کرنا ہے یا نہیں۔

    جہاں دیگر ممالک میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اب ملک کو مرحلہ وار کھولنے کی بات کی جارہی ہے، وہیں پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن کے بعد مختلف سیکٹرز کو پہلے سے ہی کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    کورونا وائرس کی حکومتی پالیسی کیا ہے اور اس بارے میں حکومت کیا کررہی ہے، اس بارے میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے حفاظتی امور معید یوسف نے بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ سے بات کی۔

  17. بریکنگ, کورونا وائرس: صوبہ پنجاب میں متاثرین 60 ہزار سے زیادہ، مزید 53 اموات

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 1899 نئے مریض سامنے آئے جبکہ 53 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    اب تک صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اب تک صوبے میں 1202 اموات بھی ہوئی ہیں۔

    اب تک صوبے میں 17825 افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

  18. بریکنگ, صوبہ سندھ میں کورونا کے مزید 2115 کیسز اور 30 ہلاکتیں

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں آج جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید 2115 کیسز سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 59983 ہو گیی ہے۔

    مزید 30 ہلاکتوں کے بعد اب تک وبا کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 916 ہو گئی ہے۔

    سندھ میں 29693 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔

    اب تک 329,443 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

  19. گلگت بلستان میں کورونا کے 49 نئے مریض

    گلگت بلستان کے مطابق 49 نئے مریضوں کے ساتھ گلگت بلستان میں مجموعی متاثرین کی تعداد 1213 ہوگئی ہے۔

    ایک مریض اور ہلاک ہوا ہے جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔

    تیس مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت مند مریضوں کی تعداد 768ہوگئی ہے۔

    جبکہ اس وقت 427 مریض زیر علاج ہیں۔

  20. عملے کے تحفظ کے لیے نئی ٹیکنالوجی پر ایمازون پر تنقید

    ایمازون نے کہا ہے کہ وہ اپنی فیکٹریوں میں اپنے عملے کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہا ہے۔

    امریکی چینل سی این بی سی کو ملنے والے ایک میمو کے مطابق اس میں وہ آلات شامل ہیں جو کسی دوسرے شخص کے زیادہ قریب جانے سے پہلے ہی انھیں پہننے والے متنبہ کر دیتے ہیں۔

    عملے کے کچھ اراکین نے کہا ہے کہ وہ اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ ایمازون ویئر ہاؤس کے ملازمین میں سے ایک نے نجی آن لائن فورم پر لکھا: ’اگر انھوں نے اسے لازمی بنایا تو بہت سے لوگ اسے (ایمازون کو) چھوڑ جائیں گے۔‘

    اپنے ویئر ہاؤسز میں انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے ایمازون کو فرانس اور امریکہ میں قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے۔ ایمازون کا کہنا ہے کہ اس نے کووڈ۔19 کے اقدامات کے لیے اربوں ڈالر لگایا ہے۔

    لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن شاپنگ میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے ایمازون کو بہت زیادہ منافع ہوا ہے۔