آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس: انڈیا میں اموات کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے

    اس ہفتے ممبئی اور دہلی نے کووڈ۔19 کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔ سینکڑوں ایسی اموات جو پہلے رپورٹ نہیں ہوئی تھیں اب ہو گئی ہیں۔ ان میں ممبئی میں 862 اور دہلی میں 437 ہیں۔

    ممبئی میں حکام نے کہا ہے کہ نئے اعداد و شمار ’مفاہمت کی مشق‘ کا نتیجہ ہیں تاکہ ہسپتالوں، مردہ خانوں اور لیبارٹریوں سے آنے والے ڈیٹا کا درست موازنہ کیا جا سکے۔

    تاہم بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ اب بھی کئی مُردوں کو ہسپتال لایا جاتا ہے جن کو کووڈ۔19 جیسی علامات تھی لیکن انھیں وہاں ٹیسٹ نہیں کیا جاتا۔ مرنے کی وجہ کے متعلق کووڈ۔19 کی کلاسیفیکیشن یا درجہ بندی کی ہدایات کہتی ہیں کہ جن کیسز ہر شک بھی ہو انھیں بھی شامل کیا جانا چاہیئے۔

    صاف ظاہر ہے کہ اس ہفتے ان اضافی اعداد و شمار کو شامل کرنے لینے کے بعد بھی، سرکاری طور پر بتائی گئی اموات کا ٹوٹل نمبر انڈیا میں وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں سے کہیں کم ہے۔

  2. امریکہ: ماسک نہ پہننے پر مسافر کو جہاز سے اتار دیا گیا

    ایک امریکی ایئرلائنز سے اس وقت ایک مسافر کو نیچے اتار دیا گیا جب اس نے ضابطہ اخلاق کے مطابق ماسک پہننے سے انکار کر دیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ امریکہ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

    برینڈن سٹار جو نیویارک سے ڈیلس ایئرپورٹ کے لیے پرواز میں سوار تھے انھیں ماسک نہ پہننے کی وجہ سے نیچے اترنے کا کہا گیا۔

    قدامت پرست سماجی کارکن نے جو ٹوئٹر پر خاصے مقبول ہیں، اس واقعے کی ویڈیو بنائی، جس میں انھوں نے اس واقعے کو حکام کے پاگل پن سے تعبیر کیا ہے۔

  3. کورونا وائرس: روس نے برطانوی وزیرِ خارجہ کے الزام کو ’بے ہودہ‘ قرار دیا

    برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب نے روس پر کورونا وائرس کی وبا سے ’فائدہ‘ اٹھانے کا الزام لگایا ہے۔

    راب نے کہا کہ کورونا وائرس نے روس جیسی ریاستوں کے لیے ایک ایسے احساس کا موقع فراہم کیا ہے کہ وہ سائبر اور دوسرے طریقے استعمال کر کے کووڈ۔19 کے چیلنجز سے ’فائدہ‘ اٹھا سکتے ہیں، اگرچہ اس سے برطانیہ کو کوئی ’فرق نہیں پڑتا۔‘

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’یقیناً ہم اس سارے بیان سے ہی متفق نہیں ہیں۔ جہاں تک ڈس انفارمیشن (غلط اطلاعات) کا تعلق ہے، ہم اس طرح کے الزامات کو بے ہودہ مانتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ روس وائرس پر بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔

  4. بلوچستان میں کورونا کے 100 دن، طبی اور پولیس اہلکاروں سمیت 2836 ملازمین بھی متاثر

    بلوچستان میں کورونا سے اب تک 2836 ملازمین متاثر جبکہ 23 ہلاک ہوگئے۔ یہ بات حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بلوچستان میں پہلے کیس کے سامنے آنے کے بعد کورونا کے سو دن مکمل ہونے پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بتائی۔

    انھوں نے بتایا کہ متاثر ہونے والے ملازمین میں ڈاکٹروں کی تعداد 287، پیرا میڈیکس کی تعداد 59 اور نرسز کی تعداد 5 ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ریٹائرڈ سمیت پانچ ڈاکٹر کورونا سے زندگی کی بازی ہارگئے جبکہ 3 ریٹائرڈ پیرا میڈیکس بھی ہلاک ہوئے۔

    لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ متاثرہ ملازمین میں پولیس کے دو ڈی آئی جیز اور دیگر افسروں سمیت 111 اہلکار بھی شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان سو دنوں میں بلوچستان میں کوئی ایسا شعبہ نہیں بچا جس سے تعلق رکھنے والے لوگ متاثر نہ ہوئے ہوں۔

    ان کا کہنا تھا اب تک بلوچستان میں مصدقہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 93 ہے جن میں بلوچستان اسمبلی کے رکن اور سابق گورنر بلوچستان سید فضل آغا کے علاوہ دو سابق اراکین بلوچستان اسمبلی بھی شامل تھے۔

    بلوچستان حکومت نے کورونا کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے اور اس مناسبت سے کیے جانے والےانتظامات کے لیے اب تک 6 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں کورونا کی ٹیسٹنگ کے لیے پانج لیباریٹریز کام کررہی ہیں جن میں ٹیسٹنگ کی روزانہ کی صلاحیت ایک ہزار سے زائد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک جو ٹیسٹ کیے گئے جن میں 22فیصد کے نتائج مثبت آئے۔

    لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے پلازما تھراپی کا آغاز بھی کیا گیا ہے جو دیگر صوبوں میں پرائیویٹ سطح پر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 802 ڈاکٹرز 2635 پرامیڈیکس اس تمام آپریشن میں خدمت سرانجام دے رہےہیں۔

  5. خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں وبا کے پھیلاؤ کے بعد لاک ڈاؤن

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں جن علاقوں سے کورونا وائرس کے مریضوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں وہاں سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کے تحت ان علاقوں کو سیل کیا جا رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے کہا ہے کہ علاقوں کو سیل کرنے کے علاوہ ان لوگوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں جو ایس او پیز کی پابندی نہیں کر رہے۔

    گذشتہ رات ڈیرہ اسماعیل خان کے تین علاقوں سے کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے جنھیں سیل کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظآمیہ نے اسلامیہ کالونی، مدینہ کالونی اور گڑھی سدوزئی کے علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔

    مذکورہ علاقوں میں پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غیر ضروری نقل و حرکت کو روکا جا سکے جبکہ ڈبلیو ایس ایس سی اور ٹی ایم اے حکام کو بھی ان علاقوں میں ایس او پیز کے تحت صفائی ستھرائی اور ڈس انفکشن سے متعلق فرائض تفویض کر دیے گئے ہیں۔

    اس سے پہلے پشاور ملاکنڈ ، دیر ، ایبٹ آباد اور دیگر علاقوں میں بھی ایسے علاقے سیل کیے جا چکے ہیں جہاں کورونا کی وبا پھیل رہی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور گذشتہ روز جاری کیے گئے اعدا دو شمار کے مطابق صوبے میں 24 گھنٹوں میں 24 اموات ہوئی ہیں جبکہ کل 755 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ صوبے میں کورونا وائرس کے کل مریضوں کی تعداد 19600 سے تجاوز کر چکی ہے۔

    خیبر پختونخوا کے مشیر تعلیم اجمل وزیر نے آج میڈیا سے کہا ہے کہ صوبے میں کورونا مریضوں کے لیے جدید طبی سہولیات سے آراستہ مزید 176 بستروں کا انتظام کیا ہے جس سے کورونا وائرس سے متاثر شدید بیمار مریضوں کو سہولت میسر آئے گی۔

    گذشتہ 10 دنوں کے دوران صوبے کی مختلف ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے علاج معالجے کے لیے 32 آئی سی یو جبکہ 144 ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس بیڈز کا اضافہ کیا گیا۔

  6. لاک ڈاؤن کے بعد پہلی بالی وڈ فلم سینیما گھر میں نہیں, سدھا جی تلک، دہلی

    جمعہ کو دہلی میں مقیم وکیل ایشیکا گون اور ان کے ساتھ فلیٹ میں رہنے والی ان کی ساتھی نئی بالی وڈ فلم دیکھنے اپارٹمنٹ پر اکٹھی ہوئیں۔

    عام حالات میں ایشیکا اور ان کی دوست قریبی سینیما میں جاتیں اور نئی فلم وہاں دیکھتیں۔ لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والی پابندیوں کا مطلب ہے کہ سینیما گھر بند ہیں اور زیادہ تر فلموں کے شائقین گھروں پر ہی اپنا شوق پورا کر رہے ہیں۔

    سو جب یہ خبر آئی کہ ملٹی سٹارر بالی ووڈ فلم ’گلابو سیتابو‘ کی ریلیز سینیما گھروں کے بجائے آن لائن سٹریم کی جائے گی تو فلم کے مداحوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔

    ایشیکا کہتی ہیں کہ یہ آپ کو ویسا احساس نہیں دیتا جیسا کہ جمعہ کو سینیما میں ریلیز ہونے والی فلم دیکھنے سے آتا ہے، لیکن اب ہم نے اس حقیقت سے سمجھوتا کر لیا ہے کہ مستقبل قریب میں ہم شاید کوئی فلم سینیما گھروں میں نہ دیکھ سکیں۔ ‘

    آنے والے مہینوں میں سٹریمنگ کمپنیاں مزید فلموں کو آن لائن ریلیز کریں گی، کیونکہ مستقبل قریب میں ابھی سینیما گھر کھلتے نظر نہیں آتے۔ انھیں فلموں میں سے ایک ’شکنتلا دیوی‘ ہے، جو کہ ایک مشہور انڈین ریاضی دان کی کہانی ہے۔ ان کا کردار ایوارڈ یافتہ اداکارہ ودیا بالن ادا کر رہی ہیں۔

    پورے انڈیا میں پروڈیوسرز سینیما مالکان کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے ایمازون، پرائم ویڈیو، نیٹ فلکس اور ڈزنی + ہاٹ سٹار جیسے سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر اپنی فلمیں لے کے جا رہے ہیں۔ آدھے درجن سے زیادہ تمل فلمیں پہلے بڑے سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ریلیز ہو چکی ہیں۔

  7. بریکنگ, سندھ میں ایک روز میں اب تک کی سب سے زیادہ 48 ہلاکتیں

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آج کورونا کےمزید 48 مریض ہلاک ہو گئے ہیں اور یہ اب تک ایک دن میں ہونے والے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا ’میں آج بہت ہی تکلیف محسوس کر رہا ہوں، ابتک کورونا کے باعث 964 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔

    و زیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کورونا کے مزید 2286 مریض سامنے آئے ہیں۔

    انھوں ے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 11044 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 2286 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اب تک صوبے میں 340487 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔ جبکہ کل 62269 مریض سامنے آئے۔

    و زیراعلیٰ سندھ کے مطابق اس وقت 30271 مریض زیرعلاج ہیں۔ جن میں سے 664 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور 97 مریضوں کو وینٹی لیٹرز پر رکھا گیا ہے

    صوبہ بھر کے 2286 نئے کیسز میں سے 1395 کا تعلق کراچی سے ہے۔

  8. کورونا وائرس: روس میں تقریباً پانچ سو کے قریب طبی عملے کی اموات ہوئیں

    روس میں طب کے ایک نگراں ادارے روززراورناڈزور کے مطابق ملک میں 489 طبی عملے کے افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    گذشتہ مہینے کے 101 کے مقابلے میں طبی عملے کی اموات میں یہ بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    روززراورناڈزور کے سربراہ ایلا سمیو لوفا کا کہنا ہے کہ حفاظتی سامان مہیا نہ کرنے میں مسائل کی وجہ سے ان ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ سچ کہں تو یہ بات درست ہے کہ شروع سے ہی اس حوالے سے بہت مسائل تھے اور حفاظتی سامان کی کمی تھی۔

    اس وقت روس میں تیسرے نمبر پر کورونا وائرس متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ روس میں کل متاثرین کی تعداد 561,000 ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس میں 7,790 متاثرین کا اضافہ ہوا ہے۔ روس میں اس وائرس سے کل 7,760 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

  9. ’ماسک پہنیں، کورونا وائرس ایک خطرناک حقیقت ہے‘

    پاکستان میں سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضی وہاب نے ماسک پہننے کے فوائد اور طریقہ کار سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر شہری ماسک کا ہر صورت استعمال کرے۔

    بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ایک خطرناک حقیقت ہے اور حفاظت کرکے ہم خود اور دوسروں کو اس وبا سے بچا سکتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ گھروں پر قیام اور باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال ہی احتیاط ہے۔ماسک اس طرح پہنیں کہ آپکا منہ اور ناک دونوں ڈھکے ہوئے ہوں۔ ‘

    بیرسٹر مرتضی وہاب نے خبردار کیا کہ ماسک کو جیب، ہاتھ یا دفتر کی میز پر رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں۔

    ’بعض اوقات لوگ ماسک کو اپنی ٹھوڑی پر رکھتے ہیں جو غلط ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ماسک کے استعمال سے وائرس سے بڑی حد تک حفاظت ہوتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا لہ ’رش والی جگہوں پر جانے سے قطعی طور پر گریز کیا جائے۔

    سندھ حکومت کے ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہ اس وبا سے حفاظت کے لیے تمام ایس او پیز پر عملدرآمد کریں اور حکومت کا ساتھ دیں۔

  10. گلگت بلتستان: وزیر زراعت حاجی جانباز خان کورونا کے باعث ہلاک, محمد زبیر خان

    گلگت میں لوکل گورنمٹ کے ترجمان مظہر علی مغل کے مطابق گلگت بلتستان کے صوبائی وزیر زراعت حاجی جانباز خان گلگت کے سٹی ہسپتال میں کورونا کے ہاتھوں دم توڑ چکے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ وہ ایک ہفتے سے ہسپتال میں داخل تھے۔

    خیال رہے کہ حاجی جانباز خان پانچ مرتبہ گلگت بلتستان اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے علاوہ مشیر جنگلات، وزیر خوراک،وزیر لائیو سٹاک رہ چکے ہیں۔

  11. صوابی کے چار علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں میں پولیس نے سمارٹ ڈاون نافذ کرتے ہوئے داخلی و خارجی راستوں کو سیل کر دیا ہے۔

    ڈی پی او صوابی عمران شاہد کے مطابق کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کئے گئے علاقوں میں صوابی پولیس کی جانب سے سیکورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ضلع صوابی میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 4 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

    ڈی پی او صوابی کی ہدایات پر تمام سیل علاقوں میں نقل و حرکت اور کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے۔ سکیورٹی پلان کے تحت تمام علاقوں میں متعدد پولیس افسران تعینات کیے گئے ہیں۔

    سمارٹ لاک ڈاؤن کئے گئے علاقوں کو تین سب سرکل میں تقسیم کیا گیا ہے۔

    سرکل صوابی میں کورونا سے متاثرہ علاقہ محلہ شمشہ خیل، شین ڈنڈ چم سرکل رزڑ میں گاؤں ڈاگئی محلہ زانگی خیل ،اور سرکل ٹوپی میں دیہہ بوٹکا کے علاقوں کو سیل کیا گیا ہے۔

    مذکورہ علاقوں میں ہر قسم کے آمد ورفت بند ہے۔۔ تمام علاقوں میں ادویات، اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور دیگر ضروری انتظامات کے حوالے سے صوابی پولیس ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر فرائض سرانجام دے گی۔

    ضلع صوابی کے رہائشیوں کو مذکورہ علاقوں کا رخ نہ کرنے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    ڈی پی او صوابی نے کہا ہے۔کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا موجودہ صورتحال میں پولیس اور انتظامی اداروں کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں اور پولیس فورس کے ساتھ تعاون کریں۔

  12. آموں کی برآمدات کے لیے پی آئی اے نے کرائے میں مزید کمی کردی

    کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں کی وجہ سے آم کی برآمد کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے پاکستان ایئرلائنز (پی آئی اے) نے تیسری بار کارگو کرایوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    کرائے میں اس کمی کا مقصد پاکستان سے مختلف اقسام کے لذیز آموں کی برآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اس وقت کورونا وائرس کی وجہ سے فضائی آپریشن معطل ہیں، جس کی وجہ سے یہ برآمد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اپنی اقسام اور منفرد لذت کی وجہ سے پاکستانی آموں کی بین الاقوامی منڈی میں خاصی مانگ ہے۔

    یہ فیصلہ پی آئی اے کے سی ای او کی سربراہی میں ٹیم اور آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں کیا گیا۔

    اس ملاقات کا اہمتام قومی اسبملی کے سپیکر اسد قیصر نے کرایا تھا۔

  13. بریکنگ, راولپنڈی کے 22 علاقوں میں مکمل لاک ڈاؤن, شہزاد ملک بی بی سی اردو، راولپنڈی

    اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں کورونا وایرس کے کیسز میں اضافے کے بعد صوبائی حکومت کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے علاقوں کو سیل کرنا شروع کردیا ہے۔ ان میں کنٹونمنٹ کے علاقے بھی شامل ہیں۔

    صوبائی حکومت کی طرف سے ضلعی انتظامیہ کو جو فہرست فراہم کی گئی ہے ان میں ڈھوک کالا خان، ڈھوک پراچہ، ڈھوک کشمریاں،ڈھوک علی اکبر، مجسٹریٹ کالونی، سیٹلائٹ ٹاون کے اے بلاک اور سی بلاک، صادق آباد، مسلم ٹاون، ڈھیری حسن آباد کے علاوہ کنٹونمنٹ کے علاقے ٹینچ بھاٹا، پیپلز کالونی اور علامہ اقبال قالونی شامل ہیں۔

    یہ تمام راولپنڈی کے گنجان آباد علاقے ہیں۔

    ان علاقوں میں واقع تمام سرکاری اور نجی دفاتر بند رہیں گے جبکہ کسی کو بھی آنے اور جانے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم کسی ایمرجنسی کی صورت میں مکین باہر جانے اور واپس آنے جانے کی اجازت لے سکتے ہیں۔

    ان علاقوں میں صرف کریانہ، دودھ اور سبزی کی دوکانوں کے علاوہ گوشت کی دکانیں صبح نو بجے سے لیکر شام سات بجے تک کھلی رہیں گی جبکہ میڈیکل سٹور24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔ ان علاقوں میں واقع بڑے شاپنگ مالز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گوروسری اور میڈیکل سٹور کھلے رکھیں جبکہ باقی سیکشن بند رکھیں۔

    کورونا وائرس سے پاکستان کا صوبہ پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس کے دارالحکومت لاہور کے بعد ضلع راولپنڈی میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ان کیسوں کی تعداد 4761 بتائی گئی ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو راولپنڈی میں مزید 140 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ ملک اب دوبارہ مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی وجہ سے 22 علاقوں کو مکمل سیل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ عوام کو انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ انتہائی ضرورت کے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتے۔

  14. بریکنگ, پنجاب مزید 53 ہلاکتیں، 2893 بچے وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں

    پاکستان کا صوبہ پنجاب کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 53 اموات ہوئیں۔

    تحریری رپورٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ 45 مریض صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

    صوبے میں 24 گھنٹوں میں مزید 1899 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    کیسز بلحاظ عمر

    صوبے میں ایک سے 15 سال کے 2893 بچے اس مرض میں مبتلا ہوئے۔

    31 سے 45 برس کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو کہ 18689 بتائی گئی ہے۔ اسی طرح 60 سے 75 برس کے 6033 جبکہ 70 سال سے زیادہ عمر کے مریضوں کی تعداد 1004 بتائی گئی ہے۔

    صوبے میں اب تک 983 ہیلتھ ورکرز میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

    سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع

    صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والے اضلاع میں صوبائی دارالحکومت لاہور 31045 کیسز کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔

    دوسرے نمبر پر ضلع راولپنڈی ہے جہاں یہ تعداد 4761 بتائی گئی ہے۔

    دیگر متاثرہ اضلاع کی صورتحال:

    • فیصل آباد: 4104
    • ملتان: 3957
    • گوجرانوالہ: 2237
    • سیالکوٹ: 1621
    • گجرات: 1492
    • ڈیرہ غازی خان: 1120
    • بہاولپور: 970
    • شیخوپورہ: 798
    • سرگودھا: 768
    • رحیم یار خان: 763
  15. ڈیکسامیتھازون سے متعلق نوٹیفکیشن واپس نہیں ہوگا: حمزہ شفقات

    اسلام آباد انتظامیہ نے میڈیکل سٹورز کو پابند بنایا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے کامیاب علاج کی دوا ڈیکسامیتھازون کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور صرف ایسے افراد کو یہ دوائی دیں جن کو ڈاکٹر نے یہ بطور نسخہ لکھ کر دیا ہو۔

    حال ہی میں برطانیہ میں ماہرین نے اس دوا کو کورونا وائرس کا کامیاب علاج قرار دیا ہے۔

    اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری نوٹیفیکیشن میں یہ کہا گیا ہے کہ جن سٹورز پر یہ دوا دستیاب نہیں ہو گی ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اس حوالے سے نگرانی کرنے کا کہا گیا۔

    پاکستان فارماسوٹیکل ایسوسی ایشن نے اس نوٹیفیکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تو اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے اسے واپس کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

  16. بریکنگ, صوبہ بلوچستان کا کوئی ضلع کورونا وائرس سے محفوظ نہیں رہا, محمد کاظم، بی بی سی، کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا کوئی ضلع کورونا وائرس سے محفوظ نہیں رہا کیونکہ اب اس کے تمام 33 اضلاع سے کورونا کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

    16 جون کو محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں تین اضلاع شیرانی، بارکھان اور سوراب ایسے تین اضلاع تھے جن سے کورونا کے کیس رپورٹ نہیں ہوئے تھے۔ بلوچستان کے نقشے میں یہ تینوں اضلاع پیلے رنگ سے مارک کئے گئے تھے جبکہ جن اضلاع سے کیسز سامنے آئے تھے ان کو سرخ رنگ سے مارک کیا گیا تھا۔

    لیکن اب ان تینوں اضلاع سے کیسز سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت کی نئی رپورٹ میں بلوچستان کے تمام اضلاع کو سرخ رنگ سے مارک کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ان اضلاع میں سے سوراب سے ایک ،شیرانی سے دو اور بارکھان سے 6 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ بلوچستان کے 33 اضلاع میں سے اب تک کورونا کے رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد 8794 ہے جن میں مقامی منتقلی کے کیسز کی تعداد 8646 ہے۔

    مقامی منتقلی کے سب سے زیادہ کیسز کوئٹہ سے سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 6838 ہے

    سندھ سے متصل ضلع جعفرآباد 266 کیسز کے ساتھ دوسرے جبکہ افغانستان کے ساتھ متصل دو سرحدی اضلاع چاغی اور قلعہ عبداللہ 147، 147 کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

  17. جرمنی کے ذبح خانے سے وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ہزاروں شہری قرنطینہ میں

    جرمنی میں ایک ذبح خانے سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ہزاروں شہریوں کو قرنطینہ میں چلے جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    جرمنی کے شمالی مغربی علاقے گٹرسلوہ ایک گوشت کے پلانٹ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد 650 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    بدھ کی سہ پہر سے اس پلانٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔

    ابھی تک ایک ہزار سے زائد ملازمین کے ٹیسٹ لیے گئے ہیں جبکہ ہزاروں ملازمین ابھی بھی ٹیسٹ کے انتظار میں ہیں۔

  18. ایمازون کے مقامی قبیلے کے سربراہ کورونا وائرس سے ہلاک

    مشہور ایمازون جنگلات کے مقامی محافظین میں سے ایک پالینہو پائیکان، کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ان کی عمر 65 برس تھی۔ وہ کیاپو قبیلے کے سربراہ تھے۔

    وہ سنہ 1980 کی دہائی میں برازیل میں بننے والے دنیا کے تیسرے بڑے ڈیم کی مخالفت میں پہلی بار منظرعام پرآئے۔ انھیں سنہ 1988 میں ایک 18 برس کی لڑکی کے ریب میں سزا ملی۔ ان کی بیوی کو اس ریپ میں معاونت کرنے پر سزا سنائی گئی۔

    تاہم مقامی قبیلے کے سربراہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف یہ مقدمہ ان کی شہرت کو تباہ کرنے اور انھیں چپ کروانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

  19. پاک ایران سرحد تجارت کے لیے کھولنے کا حکمنامہ جاری ہونے کے بعد تاجر منتظر, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    حکومت پاکستان صوبہ بلوچستان سے متصل پاکستان ایران سرحد، تفتان باڈر کو تجارت کے لیے کھولنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔

    ابھی یہ سرحدی روٹ باضابطہ طور پر دوبارہ کھلا نہیں تاہم وہاں سے موصول ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تاجر سامان کے ساتھ وہاں تیار کھڑے ہیں۔

    گذشتہ روز جاری ہونے والے حکمنامے میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا تدارک کرنے کے لیے ضابطہ کار پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    خیال رہے کہ ایران میں کورونا وائرس کے پھیلنے اور اس میں بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتوں کے بعد سے ایران کے ساتھ 900 سے زائد طویل کلومیٹر طویل سرحد کو تجارت اور آمد و رفت کے لیے بند کیا گیا تھا۔

    دو طرفہ تجارت کے لیے سرحد کی طویل بندش کے بعد سے پاکستانی تجارتوں کو مشکلات اور نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

    چند روز قبل سرحدی شہر تفتان میں پاکستان کی جانب سے ایران ایکسپورٹ ہونے والے پھل آم کی ایران جانے میں تاخیر سے آم کی ایک بڑی کھیپ خراب بھی ہوئی تھی۔

    تاہم اب وفاقی حکومت نے تجارت کے لیے تفتان سے سرحد کو ہفتے میں سات یوم کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تفتان سے تعلق رکھنے والے مقامی تاجر اور ایکسپورٹر حاجی ضیا الرحمان نے اس فیصلے کو خوش آمدید کہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ دیر آید درست آید کے مصداق یہ اچھا فیصلہ ہے جس سے پاکستانی تجارت اور تاجروں دونوں کو فائدہ ملے گا ۔

  20. اقوام متحدہ افغانستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کیسے مدد کر رہا ہے؟

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانسان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پارٹنرز سے مل کر کام کر رہے ہیں۔

    عالمی ادارے کے انسانی حقوق پر کام کرنے والے ادارے او سی ایچ اے نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ نگرانی کے نظام سے ملک مں 512،242 افراد کو تلاش کیا گیا۔

    13 لاکھ لوگوں تک پانی کی رسائی، صفائی کے ساتھ ساتھ صحت مند اشیا تک رسائی ممکن بنائی گئی

    40 لاکھ سے زائد افراد کو کورونا وائرس سے متعلق آگاہی دی گئی، جس میں اس وائرس سے ہونے والے خطرات اور بچاؤ کے طریقوں سے متعلق بتایا گیا۔