آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بلوچستان میں کورونا کے 164 نئے کیسز

    بلوچستان میں کورونا کے 164 نئے کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 9162 ہوگئی ہے۔

    کورونا سے مزید ایک فرد کی ہلاکت ہوئی ہے جس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 100 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 19جون 2020 کو کورونا کے770 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 164 پازیٹو آئے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 41736 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 32574 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طوپر پر91107 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ کورونا وائرس سے اب تک 3289 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔

  2. گلگت بلتستان میں 40 نئے مریض اور تین ہلاکتیں

    محکمہ گلگت بلستان کے مطابق 40 نئے مریضوں کے ساتھ گلگت بلستان میں مجموعی متاثرین کی تعداد 1253 ہوگئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں گلگت بلستان میں ریکارڈ تین مریض ہلاک ہوئے ہیں۔ جس کے بعد تعداد 21ہوگئی ہے۔

    28 مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت مند مریضوں کی تعداد 816 ہوگئی ہے جبکہ اس وقت 416 مریض زیر علاج ہیں۔

  3. خیبر پختونخوا میں مزید 608 کیسز

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 608 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 20190 ہو گئی ہے۔

    اس دوران مزید 16 افراد کی ہلاکت کے بعد صوبے میں ہلاکتیں 189 ہو گئی ہیں۔

    صوبے میں اب تک 5623 افراد وبا سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

  4. اقوامِ متحدہ کی رپورٹ: لاک ڈاؤن سے بچوں کو زیادہ خطرہ ہے

    اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک ارب بچے، جو تقریباً دنیا کے تمام بچوں کا نصف ہیں، جسمانی، جنسی یا نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنے ہیں جو وبا کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاؤن کے باعث مزید بری شکل اختیار کر گیا ہے۔

    اس طرح کی اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق میں عالمی ادارۂ صحت نے دریافت کیا ہے کہ 2017 میں تقریباً 40 ہزار بچے قتل ہوئے تھے۔

    اس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا نے تشدد کو بڑھایا ہے، کیونکہ گھر پر رہنے کی پالیسیوں نے مدد کے ذرائع کم کر دیے ہیں اور متاثرہ فرد کی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت بھی کم ہو گئی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادہانوم غیبریسیئس نے اسے کووڈ۔19 کا ’پریشان‘ اثر کہا ہے۔

    تقریباً 80 فیصد ممالک میں فنڈز کی کمی ہے اور روک تھام کے پروگراموں کے لیے قابلِ پیمائش اہداف نہیں ہیں، جس کی وجہ سے اس قسم کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سائبر بولنگ جیسے نقصان دہ آن لائن رویے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

  5. کورونا وائرس: برطانیہ میں اموات 173

    برطانوی حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے ہونے والی اموات میں 173 کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ جمعرات سے زیادہ ہے جو 135 تھیں۔ اس طرح اب اموات کی کل تعداد 42 ہزار 461 ہو گئی ہے۔

    انفرادی طور پر ویلز، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ اپنے اعداد و شمار کا اعلان علیحدہ بھی کرتے ہیں۔ وہ اعداد و شمار برطانوی حکومت سے ذرا مختلف ہوتے ہیں کیونکہ وہ مختلف اوقات میں لیے جاتے ہیں۔

    ویلز میں مزید چار افراد کی موت ہو گئی جبکہ شمالی آئرلینڈ میں ایک نئی ہلاکت ریکارڈ کی گئی۔

    سکاٹ لینڈ نے پہلے ہی چار ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

  6. اسلام آباد کے عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

    ضلعی مجسٹریٹ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق تمام شہریوں پر لازم ہے کہ وہ عوامی مقامات پر جاتے ہوئے چہرے پر ماسک پہنیں۔

    یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس کا اطلاق دو ماہ تک جاری رہے گا۔

    یہ فیصلہ وفاقی حکومت اور طبی ماہرین ے مشورے پر کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے کیا گیا ہے۔

  7. ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر ڈیکسامیتھازون خطرناک بھی ہو سکتی ہے

    امیریکاز میں ایک سرکاردہ صحت کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نسخے کے بغیر ڈیکسامیتھازون خطرناک ہو سکتی ہے۔

    ڈیکسامیتھازون ایک سستا سٹیروئڈ ہے جس کے متعلق حال ہی میں پتہ چلا ہے کہ وہ ہسپتال میں موجود کووڈ۔19 کے شدید بیمار مریضوں میں شرح اموات کم کرنے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    پین امیریکن ہیلتھ آرگینائزیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر جارباس باربوسا نے بی بی سی کے پروگرام آؤٹ سائیڈ سورس کو بتایا کہ ’کئی مخصوص حالات میں، یہ جسم کے وائرس کے حوالے سے ردِ عمل کو مزید خراب بھی کر سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ اسے انفیکشن کے شروع میں لیں، یا آپ کو کوئی اور انفیکشن ہے جو کہ کووڈ۔19 نہیں ہے، تو یہ صورتِ حال بگاڑ بھی سکتا ہے۔‘

    ’بدقسمتی سے لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں، آپ ڈیکسامیتھازون اور دوسری ادویات بغیر کسی نسخے کے خرید سکتے ہیں، اس لیے یہ بہت اہم ہے کہ قومی حکام اسے واضح طور پر بتائیں۔‘

  8. کورونا وائرس: برطانیہ کا قرضہ پوری معیشت سے زیادہ

    مئی میں حکومت کی طرف سے ریکارڈ مقدار میں قرضہ لینے کے بعد برطانیہ کا قرضہ اس کی کل معیشت سے زیادہ ہو گیا ہے۔

    55.2 ارب پاؤنڈ کا قرضہ گذشتہ مئی میں لیے جانے والے قرضے سے نو گنا زیادہ ہے اور 1993 کے بعد سب سے زیادہ لیا جانے والا قرضہ ہے۔

    قرضوں کی ’شاہ خرچی‘ اتنی ہو گئی ہے کہ اب حکومت کا کل قرضہ بڑھ کر 1.95 ٹریلیئن پاؤنڈ تک پہنچ گیا ہے جو کہ گذشتہ 50 سال میں پہلی مرتبہ معیشت کے حجم سے بڑھ گیا ہے۔

    چانسلر رشی سوناک نے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وائرس کے پبلک فنانسز پر کتنے برے اثرات پڑے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پبلک فنانسز کو زیادہ پائیدار بنیادوں پر دوبارہ بحال کرنے کا بہترین طریقہ ہے کہ احتیاط سے اپنی معیشت کو دوبارہ کھولیں تاکہ لوگ اپنے کام پر واپس آ سکیں۔‘

    ’ہم نے اپنی معیشت کی بحالی کا ایک ایسا منصوبہ ترتیب دیا ہے کہ اسے دھیرے دھیرے اور محفوظ طریقے سے کیا جائے، جس میں اس ہفتے پورے ملک کی ہائی سٹریٹس کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔‘

  9. بریکنگ, سندھ میں 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ نئے کیسز اور 49 اموات

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال صوبے بھر میں خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور آج مزید 49 افراد کورونا کے باعث جان کی بازی ہار گئے جو صوبے میں 24 گھنٹوں کے دوران اب تک کی ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

    اب تک سندھ میں کورونا وائرس کے باعث مجموعی ہلاکتیں 1013 ہو چکی ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 13642 ٹیسٹ کئے گئے جو ایک ریکارڈ ہے جس کے بعد آج 2894 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جو سب سے زیادہ ہیںگ ’

    سندھ اب تک 354129 ٹیسٹ ہوچکے ہیں، صوبے میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 65163 ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سندھ کے مطابق اس وقت 31425 مریض زیر علاج ہیں، اور ان میں سے 673 مریض تشویشناک حالت میں ہیں اور 113 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ آج 1691 مریض صحتیاب ہوکر عام زندگی کی طرف لوگ گئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں اب تک 32725 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام کی حفاظت کی خاطر مختلف علاقوں میں منتخب لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے عوام کو انتظامیہ سے تعاون کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ’آپ کے تعاون سے ہم عوام کو اس وبائی صورتحال سے نکال لیں گے۔ یہ وقت اتحاد، ایک دوسرے کی حفاظت اور احتیاط کا ہے۔‘

  10. کورونا وائرس: بلوچستان میں لیبارٹریز کو مریضوں کا جامع ریکارڈ رکھنے کی ہدایت

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان نے تمام پرائیویٹ لیباریٹریوں کو ہدایت کی ہے کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کروانے والے مریضوں کا مکمل اور جامع ریکارڈ رکھا جائےاور اس ریکارڈ کو کورونا وائرس سیل بلوچستان کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر شیئر کیا جائے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق کورونا وائرس سیل بلوچستان کے سربراہ ڈاکٹر نقیب نیازی کی قیادت میں کوئٹہ کی پرائیویٹ لیبارٹریز کے نمائندوں کا اجلاس ھوا۔

    اجلاس میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے ایس او پیز پر مکمل طور پر عمل درآمد کا طریقہ کار طے کیا گیا۔

    اس موقع پر تمام لیبارٹریز کے نمائندوں کو کورونا وائرس کے ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

    ڈاکٹر نقیب نیازی نے کہا کہ کورونا وائرس سیل بلوچستان کی ٹیمیں مختلف اوقات میں ان لیبارٹریز کا دورہ کریں گی اور محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے متیعن کردہ ایس او پیزکو چیک کریں گی۔

  11. برطانیہ میں معذور افراد میں شرح اموات دوگنا ہے, رابرٹ کف، بی بی سی نیوز

    قومی ادارہ برائے شماریات کے مطابق برطانیہ میں معذور افراد میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد دوگنا ہے۔

    تحقیق کے مطابق لاکھ میں سے 200 افراد معذور ہیں جبکہ اسی تعداد کے متاثرین میں سے 140 معذوری کا سامنا کرنے والی خواتین کی شرح بنتی ہے۔

    ایسے افراد جو معذور نہیں تھے ان کی ایک لاکھ افراد میں سے مرنے کی تعداد 70 بنتی ہے اور خواتین میں یہ تعداد صرف 36 تک بنتی ہے۔

    اس تجزیے میں دو مارچ سے لے کر 15 مئی تک کورونا وائرس سے مرنے والے شامل ہیں۔

  12. کورونا وائرس: یونیسف نے 10 ہزار ٹیسٹ کِٹس یمن پہنچا دیں

    اقوامِ متحدہ کی بچوں کی ایجنسی یونیسیف کا بھیجا ہوا ایک چارٹرڈ جہاز 10 ہزار کورونا وائرس ٹیسٹ کِٹس لے کر یمن کے دارالحکومت صنعا پہنچا ہے۔

    اس کے علاوہ آنے والے دنوں میں 8 ہزار کٹس کی ایک اور شپمنٹ دوسرے بڑے شہر عدن پہنچے گی۔

    یمن میں یونیسیف کی نمائندہ سارا بیسلو نیانتی نے کہا کہ ’ان کِٹس سے ملک بھر میں کووڈ۔19 کی وسیع پیمانے پرٹیسٹنگ میں مدد ملے گی اور ان سے تصدیق شدہ کیسز کی بر وقت مینجمنٹ سے زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔‘

    گذشتہ ہفتے یونیسیف نے خبردار کیا تھا کہ یمن میں صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جہاں سرکاری طور پر کووڈ۔19 کے پہلے مریض کی تصدیق 10 اپریل کو ہوئی تھی۔

  13. کورونا کے باعث پابندیاں: چمن میں مزدوروں اور چھوٹے تاجروں کا احتجاج جاری

    کورونا کے باعث پابندیوں کی وجہ سے افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں روزانہ اجرت کی بنیاد پر محنت مزدوری کرنے والے اور چھوٹے کاروباری افراد کا احتجاجی دھرنا جمعہ کو گیارہویں روز بھی جاری رہا۔

    یہ احتجاج سرحد سے روزانہ اجرت کی بنیاد پر محنت مزدوری اور چھوٹے کاروباری افراد کی آمد و رفت پر تاحال پابندی برقرار رہنے کے خلاف کیا جارہا ہے۔

    فون پر رابطہ کرنے پر چمن کے تاجر رہنما صادق اچکزئی نے بتایا کہ مزدوروں سمیت چمن سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے معاش اور روزگار کا انحصار سرحدی تجارت پر ہے جس کے لیے انہیں روزانہ کی بنیاد پر افغانستان جانا اور واپس آنا پڑتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کورونا کے باعث سرحد کی بندش کے بعد سے ان لوگوں کے گھروں کے چولھے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں جس کے باعث ان لوگوں کے پاس احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ تاحال سرحدی تجارت کی اجازت نہ ملنے کے خلاف تین روز قبل چمن شہر میں شٹرڈاﺅن ہڑتال بھی کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ جس طرح وزیر اعظم عمران خان لوگوں کی مالی مشکلات کی وجہ سے مکمل لاک ڈاﺅن کے حق میں نہیں اسی طرح انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس معاملے کا بھی جائزہ لیا جائے۔

    ان کے بقول احتیاطی تدابیر کے ساتھ محنت کشوں اور چھوٹے تاجروں کی آمد و رفت پر بھی پابندی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ ان لوگوں کا روزگار بحال ہو۔

  14. ہسپتال کے بستر سے وائرل اپیل کرنے والی خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش

    اس برطانوی خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی ہے جو ہسپتال کے بستر سے لوگوں کو اپیل کرتی تھیں کہ وہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی نہ کریں اور اسے سنجیدگی سے لیں۔

    ان کی یہ اپیلیں انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی تھیں۔

    کینٹ کے علاقے ہیرن بے سے تعلق رکھنے والی کیرن میننرنگ اس وقت چھ ماہ کی حاملہ تھیں جب انھیں مارچ میں کورورنا وائرس لگا۔ ان کو ہسپتال میں داخل کر لیا گیا جہاں ان کے دونوں پھیپھڑوں میں نمونیے کی تشخیص ہوئی۔

    وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے یہ ویڈیو ہسپتال کے بستر سے اس لیے بنائی تھیں کیونکہ وہ سب کو بتانا چاہتی تھیں کہ وائرس کو سنجیدگی سے لیں۔

    اب وہ کورونا سے بحال ہو چکی ہیں۔

  15. راولپنڈی میں لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل در آمد

    کورونا وائرس سے بچاؤ کے سلسلہ میں راولپنڈی کے سیل کیے گئے علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔

    سی پی او راولپنڈی کے مطابق شہریوں کے تحفظ کی خاطر لاک ڈاؤن کے حکومتی احکامات پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  16. کورونا وائرس سے جڑی اصطلاحات کے معنی کیا ہیں؟

    کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ہماری روزمرہ کی زندگی میں کئی نئے الفاظ اور اصطلاحات متعارف کرائی ہیں، چاہے بات قرنطینہ، وائرس، مدافعت یا سماجی فاصلے کی ہو۔ لیکن آخر ان سب اصطلاحات کا مطلب کیا ہے؟

  17. کورونا وائرس مذہب کی بنیاد پر بالکل تفریق نہیں کرتا

    کورونا کو لے کر ہم سب کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں۔ خاص طور پر پاکستان میں ٹائیفائیڈ اور کورونا کے بیچ تشخیص کرنے کے حولے سے کیا اقدام لیے جانے چاہئے؟ ایسے ہی کئی سوال ہم نے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر فہیم یونس سے پوچھے۔ ان کے جواب جاننے کے لیے محمد ابراہیم کی یہ ویڈیو ملاحظہ کریں۔۔۔

  18. برطانیہ: کووڈ-19 الرٹ میں ایک درجے مزید کمی

    بی بی سی کے نمائندہ برائے داخلہ امور ڈینیل سینڈ فورڈ کے مطابق برطانیہ نے کورونا وائرس کے خطرے میں ایک درجے مزید کمی کا اعلان کا ہے۔

    اس وقت برطانیہ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں کووڈ-19 الرٹ چار سے کم ہو کر لیول تین پر آ گیا ہے یعنی متاثرین کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔

    لیول فور کا مطلب یہ ہے کہ ابھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ زیادہ موجود ہے جبکہ لیول تھری کا مطلب ہے کہ اب عمومی نوعیت کا ہے۔

    برطانیہ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر کا کہنا ہے کہ انھوں نے ملک میں کورونا وائرس کے خطرے پر نظرثانی کے بعد ایک درجہ کم کرنے کی سفارش کی ہے۔

    اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ان چار ممالک میں اب کورونا وائرس کے متاثرین میں تسلسل سے کمی واقع ہو رہی ہے۔

    اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب یہ وبا ختم ہو گئی ہے۔ یہ وائرس اب بھی موجود ہے اور اس وبا کے مقامی سطح پر پھیلنے کا امکان موجود ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کے تعاون سے اس وائرس کے خلاف یہ پیش رفت کی ہے اور ابھی بھی ہمیں اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر سے متعلق عوامی تعاون درکار ہے۔

  19. کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کی اپنے موبائل فون سے دوستی

    کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر ہر وقت موبائل فون اپنے پاس رکھتے ہیں۔ جہاں وہ اس میں اپنے بچوں کی تصاویر دیکھتے ہیں، وہیں وہ اپنے مریضوں کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔

    اس وائرس سے تشویشناک مریض اپنے پیاروں سے رابطے میں بھی رہتے ہیں اور ان کے براہ راست محبت بھرے پیغامات ان تک پہنچتے ہیں۔

  20. ’اٹلی میں کورونا وائرس گذشتہ سال دسمبر میں پھیلا‘

    اٹلی کے نیشنل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ (آئی ایس ایس) کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں ہی کورونا وائرس شمالی اٹلی تک پھیل چکا تھا۔ تاہم اٹلی میں دو ماہ بعد اس وائرس کی باقاعدہ تشخیص ہوئی تھی۔

    آئی ایس ایس کا کہنا ہے کہ اٹلی کے شہر میلان اور تورین میں جنوری میں اس وائرس کے نمونے استعمال شدہ پانی کے اندر سے ملے ہیں۔

    انسٹیٹیوٹ نے اکتوبر 2019 سے لے کر فروری 2020 تک استعمال ہونے والے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا ہے۔

    انسٹیٹیوٹ کے واٹر کوالٹی کی ماہر جیوسپینا لا روزا کا کہنا ہے کہ اکتوبر اور نومبر 2019 میں حاصل کیے گئے نمونے نیگیٹو آئے، جس کا مطلب تھا کہ اس وقت تک وائرس نہیں پھیلا تھا۔