آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا: جنوبی ایشیا کے شہریوں کے برطانیہ میں ہلاک ہونے کے امکانات زیادہ, جیمز گلاگہر، بی بی سی نیوز

    تحقیق کے مطابق جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا برطانیہ کی ہسپتالوں میں مرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

    اس خطے کے لوگوں میں ہسپتالوں میں مرنے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ذیابطیس کی بیماری ہے۔

    اس تحقیق کی بہت اہمیت ہے۔ اس میں ہسپتالوں سے حاصل کیے گیے اعداوشمار پر تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں برطانیہ کے 27 ادارے، جس میں یونیورسٹیاں، 260 ہسپتال اور عوامی صحت کے ادارے بھی شامل ہیں۔

    اس تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے جب کوئی ہسپتال داخل ہوتا ہے تو ایسے میں پھر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں مئی کے وسط تک برطانیہ اور ویلز کے 260 ہسپتالوں کے 35 ہزار کورونا مریضوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

    ایڈنبرگ یونیورسٹی کے پروفیسر ایون ہارسن نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے اس وائرس سے مرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ تاہم سیاہ فام لوگوں اس وائرس کے گہرے اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں۔

    سفید فام لوگوں کے مقابلے میں جنوبی ایشیا کے باشندوں میں اس وائرس سے مرنے کے 20 فیصد امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ دیگر اقلیتوں میں مرنے کی شرح اس قدر زیادہ نہیں ہے۔

  2. شدید گرمی اور کورونا: گھروں میں رہیے، محفوظ رہیے

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ وبا کے اس دور اور شدید گرمی کے موسم میں دل کا دورہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مشروبات کا استعمال کریں اور غیرضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کریں۔

  3. کورونا: پلازمہ عطیہ کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

    پاکستان میں پلازمہ کے عطیے سے کورونا وائرس کے مریضوں کو خاصی مدد ملتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق پلازمہ کا عطیہ دینا بے حد ضروری ہے لیکن لوگوں میں اس بارے میں اب بھی بہت سے خدشات پائے جاتے ہیں۔

    پلازمہ کا عطیہ کیا ہے، یہ کیوں ضروری ہے اور یہ ہوتا کیسے ہے، ان تمام سوالات کے جواب دے رہے ہیں ڈاکٹر طاہر شمسی اس ویڈیو میں۔۔۔

  4. ’دلی میں لاک ڈاؤن کا خاتمہ مگر ڈر ابھی بھی گھروں میں رہنے پر مجبور کر رہا ہے‘, کرو,ٹیکا پاٹھی، بی بی سی نیوز، دلی

    میں یہ تحریر دلی میں گھر سے بیٹھ کر لکھ رہی ہوں، جہاں اب ایئرکنڈیشن اور پنکھا تیزی سے چل رہے ہیں۔ جیسے سورج آگ کے شعلے پھینک رہا ہو، جس سے دلی کا درجہ حرارت 45 سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔

    گرمیوں میں اس کی توقع کی جاتی ہے۔ اس مہینے کے آغاز سے انڈیا نے لاک ڈاؤن میں نرمی پیدا کی تھی۔

    اب شہر کے معاملات پہلے جیسے ہیں، سڑکوں پر کاریں چل رہی ہیں، دکانیں کھلی ہیں اور گاہک مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں۔ جہاں تک تعلق دلی میں واقع میرے اپارٹمنٹ کی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اب بھی لاک ڈاؤن کا راج ہے۔

    دلی میں اس وقت کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔ میں گھر سے باہر تو نکل سکتا ہوں اور ٹیکسی میں بیٹھ کر ادھر ادھر خوب گھوم پھر سکتا ہوں مگر میں ایسا نہیں کر رہا ہوں۔

    ایسا کرنے سے ابھی خوف آ رہا ہے کیونکہ وائرس مسلسل پھیل رہا ہے اور متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لے رہی ہے۔

    اب بھی شہر میں لاک ڈاؤن کی طرح کے دن ہی کٹ رہے ہیں۔ گھروں سے بیٹھ کر ہی کام ہورہا ہے اور اختتام ہفتہ کے دن بھی گھر پر گزر رہے ہیں۔

  5. ’اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں شہری کورونا کی تشخیص کے بغیر ہلاک نہیں ہو رہے‘

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ نکتہِ نظر کہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں زیادہ تر اموات بغیر کورونا وائرس کی تشخیص کے ہو رہی ہیں درست نہیں ہے۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ ہ فروری سے مئی 2019 اور 2020 کی شرح اموات کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ پتا چلتا ہے کہ سنہ 2019 کے اس دورانیے میں ایسی ہلاکتوں کی تعداد 886 جبکہ سنہ 2020 میں 818 ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ مندرجہ بالا اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ اس سال کی شرح اموات گذشتہ سال سے کم ہیں اور اس کا دستاویزی ثبوت موجود ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ تشویش غلط ہےکہ لوگ وفات پا رہے ہیں اور انتظامیہ لاعلم ہے کہ مرنے والے کو کورونا تھا یا نہیں۔آپ سب کی آگاہی کے لیے دونوں سالوں کے اعداد و شمار بھی ٹویٹ کر دیے گئے ہیں۔گھبرائیے مت اور کسی بھی قسم کی تکلیف میں اپنی ہر دم چوکس انتظامیہ سے رابطہ کیجیے۔‘

  6. ’کاش میں اپنے عزیز کو ہسپتال نہ بھیجتی‘

  7. پاکستان میں آکسیجن سلینڈرز کی قلت، طلب اور قیمت بڑھنے سے مریضوں کو مشکلات درپیش

    پاکستان میں کورونا وائرس نے صحت کے نظام میں پائی جانے والی خامیاں اب واضح کر دی ہیں۔

    پاکستان میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے ساتھ جہاں طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان اور مریضوں کے لیے بستر، وینٹیلیٹرز، آئی سی یو وارڈز اور ادویات کی کمی محسوس کی جا رہی ہے تو وہیں اب آکسیجن کی قلت کا مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے۔

    بڑے شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں تو شاید آکسیجن کی قلت نہ ہو لیکن ان چند ایک بڑے شہروں کے علاوہ پاکستان کے بیشتر شہروں کے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے آکسیجن کی کمی واقع ہو رہی ہے۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع پشاور اور ایبٹ آباد کے ہسپتالوں میں آکسیجن کا مرکزی نظام ہے۔ لیکن صوبے کے باقی 36 اضلاع کے ہسپتالوں میں آکسیجن کے سلینڈروں پر گزارہ ہوتا ہے۔ اگر یہ سلینڈر کم پڑ جائیں تو مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

  8. سنگاپور میں کاروبار زندگی بحال، ریستوران اور جم بھی کھل گئے

    سنگاپور نے کاروبار زندگی بحال کر دیے ہیں۔

    فیز ٹو کے تحت سنگاپور میں سٹورز، جم سمیت دیگر وہ تمام کاروبار جو گذشتہ دو ماہ سے بند پڑے تھے اب دوباہر کھل رہے ہیں۔ ریستوران اور کیفے پہلے کی طرح اپنا کام جاری رکھیں گے، تاہم وہاں اب لوگ بیٹھ کر بھی کھانا کھا سکیں گے۔

    پانچ افراد سے زیادہ لوگ ایک جگہ ہر جمع نہیں ہو سکتے۔ شہریوں کو ابھی بھی ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے جیسے اصولوں کی پاسداری کرنی ہو گی۔

    اس بات کا امکان ہے کہ یہ احتیاطی تدایبر لوگوں کو باہر نکلنے سے نہیں روکیں گی۔ اب سنگاپور میں جشن کا سا سماں ہے۔ کئی ہفتوں تک گھر میں بیٹھ کر اب لوگ باہر نکلنے کے لیے بے تاب ہیں۔

  9. کورونا وائرس سے جڑی اصطلاحات کے معنی کیا ہیں؟

    کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ہماری روزمرہ کی زندگی میں کئی نئے الفاظ اور اصطلاحات متعارف کرائی ہیں، چاہے بات قرنطینہ، وائرس، مدافعت یا سماجی فاصلے کی ہو لیکن آخر ان سب اصطلاحات کا مطلب کیا ہے؟

    ان تمام اصطلاحات کے معنی جاننے کے لیے آپ ہمارا’کورونا وائرس مترجم‘ٹول استعمال کر سکتے ہیں۔

  10. انڈیا کے شہر چنئی میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ

    کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے متاثرین کے پیش نظر حکام نے انڈین کے شہر چنئی میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس شہر کے قریبی تین اضلاع میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔

    30 جون تک نافذ کیے جانے والے اس لاک ڈاؤن کے دوران صرف ضروری اشیا دستیاب رہیں گی اور گراسری کی دکانیں بھی کھلی رہیں گی۔

    چنئی انڈیا کا چھٹا بڑا شہر اور ریاست تامل ناڈو کا دارالحکومت ہے۔

    اس شہر میں 37 ہزار متاثرین ہیں جبکہ ریاست تامل ناڈو میں اس وقت 50 ہزار متاثرین ہیں۔

    اس ریاست میں کورونا وائرس سے 600 اموات ہو چکی ہیں جو دیگر ریاستوں کے مقابلے میں قدرے کم ہے۔ تاہم یہ کہا جاتا کہ اب ان اعداوشمار پر نظر کی جارہی ہے کیونکہ چینائی میں ہونے والی 200 اموات اس میں شامل نہیں کی گئی تھیں۔

    انڈیا میں اس مہینے کے آغاز میں ہی لاک ڈاؤن ہٹایا گیا تھا۔ اب چنئی پہلا شہر ہو گا جہاں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔

  11. ’کورونا متاثرین کے لیے دستیاب وینٹیلیٹرز کی تعداد 1503 ہو گئی‘

    پاکستان میں صحت حکام کے مطابق کورونا سے نمٹنے کے لیے مختلف ہسپتالوں کو مزید 103 وینٹیلیٹرز فراہم کر دیے گئے ہیں جس کے بعد ملک میں کورونا متاثرین کے لیے دستیاب وینٹیلیٹرز کی کُل تعداد 1503 ہو گئی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق نئے وینٹیلیٹرز کی خریداری ہنگامی بنیادوں پر کی جا رہی ہے اور جولائی کے وسط سے جولائی کے اختتام تک مزید 1500 وینٹیلیٹرز دستیاب ہوں گے۔

    آپریشن سینٹر کے مطابق ملک بھر کے مختلف ہسپتالوں میں ایسے بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے گی جن کے ساتھ آکسیجن سلینڈر کی سہولت دستیاب ہوتی ہے۔

    ملک میں مزید 2150 آکسیجن بیڈز کو سسٹم کا حصہ بنایا جائے گا۔ 60 بیڈز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں، 200 بلوچستان میں، 40 گلگت بلتستان میں، 450 اسلام آباد میں، 400 خیبرپختونخوا میں جبکہ سندھ اور پنجاب میں پانچ، پانچ سو بیڈز فراہم کیے جائیں گے۔

    یہ بھی بتایا گیا ہےکہ ملک میں کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں 65 گنا اضافہ کیا گیا ہے اور جولائی کے وسط تک ایک صلاحیت کو یومیہ ایک لاکھ ٹیسٹوں تک لے جایا جائے گا۔

  12. نیوزی لینڈ ایک بار پھر کورونا وائرس سے پاک ہو گیا

    اس وقت نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس کا کوئی بھی مریض باقی نہیں رہا ہے یعنی نیوزی لینڈ ایک بار پھر اس وائرس سے پاک ہو گیا ہے۔

    اس سے قبل برطانیہ سے آنے والی دو خواتین میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، جس سے نیوزی لینڈ میں اس وائرس کی واپسی ہوئی۔

    وزارت صحت کی ڈائریکٹر جنرل اشلے بلومفیلڈ کا کہنا ہے کہ ان دو متاثرین کے سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں 6،273 ٹیسٹ کی گئے مگرکسی ایک شہری میں بھی اس وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    گذشتہ روز بیرون ملک سے آنے والے ایک شخصں کو آئسولیشن میں رکھا گیا ہے جس میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ باہر سے آنے والے تمام افراد کے لیے نیوزی لینڈ میں 14 دن قرنطینہ میں رہنے کی پابندی ہے۔

    اس وقت یہی باہر سے آئے تین متاثرین ہیں۔ نیوزی لینڈ میں اس وائرس سے کل 1507 افراد متاثر ہوئے تھے۔

    نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے نظام کی ناکامی پر تنقید کی تھی کیسے یہ دو نئے متاثرین کا پہلے پتا نہیں لگایا گیا۔ ان متاثرین کو عائلی وجوہات پر قرنطینہ سے جلد جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم بیمار ہونے سے قبل وہ ملک بھر میں گھومتے پھرتے رہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چائیے تھا اور اب اس طرح کی غلطی دوبارہ نہیں ہونی چائیے۔

  13. کیا کورونا وائرس کی دوسری لہر آ سکتی ہے؟

  14. کورونا وائرس ویکسین: عالمی ادارہ صحت نے لاکھوں نسخوں کی جلد دستیابی کی امید ظاہر کی ہے

    عالمی ادارہ صحت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس سال کے اختتام تک کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کے لاکھوں نسخے تیار ہو سکیں گے اور یہ ایسے مریضوں کو دیے جائیں گے جن کی حالت بہت تشویشناک ہے۔

    ابھی تک اس وائرس کے خلاف کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنسدان سومیا سوامناتھن کا کہنا ہے کہ اس وقت ماہرین اس ویکسین کی تیاری کے حوالے سے 200 سے زائد امکانات پر کام کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق تقریباً دس ایسی ویکسین ہیں جن کا کورونا وائرس کے مریضوں پر ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ میں پرامید ہوں، مجھے اس حوالے سے مکمل اعتقاد ہے (کہ یہ ویکسین سامنے آئے گی۔)

    خیال رہے کہ ویکسین کی تیاری ایک مشکل مرحلہ ہے۔ یہ بہت سی غیر یقینی صورتحال کے بعد سامنے آتی ہے۔ تاہم اچھی بات ہے یہ کہ ہمارے پاس بہت سی ویکسین موجود ہیں اور ایسے پلیٹ فارمز بھی ہیں کہ اگر پہلا یا دوسرا تجربہ ناکام بھی ہو گیا تو ہمیں حوصلہ نہیں ہارنا چائیے، ہمیں کوششں ترک نہیں کرنی چائیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی سائنسی ٹیم کی سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر ہماری قسمت اچھی ہوئی تو اس سال کے اختتام تک ایک یا دو کامیاب سائنسدان ویکسین کے ساتھ سامنے آئیں گے۔

  15. کورونا وائرس: زندگی بچانے والی پہلی دوا کی تفصیلات

    کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔ برطانیہ میں ماہرین نے اس دوا کو کتنا مفید قرار دیا ہے؟

    اس دوا کے بارے میں مزید تفصیلات بتا رہی ہیں ہدیٰ اکرام ہمارے ساتھی موسیٰ یاوری کی اس پوڈکاسٹ میں۔

  16. ڈیکسامیتھازون زندگی بچانے والی پہلی دوا ثابت ہو گئی؟

    کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔

    برطانیہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے۔

    یہ دوا عالمی پیمانے پر جاری علاج کی اس بڑی آزمائش کا حصہ ہے جس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا مروجہ ادویات میں سے کورونا وائرس کے خلاف کوئی کارگر دوا ہے۔

    آزمائش میں اس دوا کے استعمال سے ایسے مریضوں میں اموات کی شرح ایک تہائی کم ہوئی ہے جو مصنوعی تنفس یعنی وینٹیلیٹر پر تھے اور جو مریض آکسیجن پر تھے ان کی اموات میں 20 فیصد کے قریب کمی واقع ہوئی۔

    محققین کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ میں وبا کے آغاز کے ساتھ ہی یہ دوا مریضوں کو دی جاتی تو پانچ ہزار کے لگ بھگ زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔

    اس کے علاوہ، غریب ملکوں میں جہاں کووڈ 19 کے مریضوں کی بڑی تعداد ہے، وہاں اس سے بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔

  17. کیلیفورنیا میں شہریوں کو ماسک پہننے کی ہدایت

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں شہریوں کو گھروں سے باہر ہر وقت ماسک پہنے رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش نظر ماسک پہننے کی پابندی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے دیگر ریاستوں میں پہلے ہی ایسی پابندی عائد ہے۔ اب کیلیفورنیا کی حکومت نے بھی اپنے شہریوں کو اس پابندی کا احترام کرنے کا کہا ہے۔ جب لوگ کھا پی رہے ہوں گے یا ورزش کر رہے ہوں تو ایسی صورت میں چھ فٹ کا سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے ماسک اتارا جا سکتا ہے۔

    ماسک پہننے کی پابندی سے متعلق بات کرتے ہوئے ریاست کے گورنر گیون نیوسم کا کہنا تھا کہ ہم ایسے بہیت سارے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ جنھوں نے اپنے چہرے نہیں ڈھانپے ہوتے، جس سے اس کامیابی کے چھن جانے کا خطرہ ہے جو ہم نے کورونا وائرس کے خلاف حاصل کی ہے۔

    جو لوگ اکیلے گاڑی چلا رہے ہوں گے ان پر بھی ماسک پہننے کی پابندی عائد ہو گی۔ تاہم گورنر نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ریاست اس پابندی پر عملدرآمد کیسے کرائے گی۔

    کیلیفورنیا کے عوامی صحت کے محکمے کے ترجمان علی بے نے واضح کیا ہے کہ جس طرح مارچ کے مہینے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لوگوں کو گھروں تک رہنے کی پابندی کرائی گئی تھی، ماسک پہننے کی پابندی بھی ایسے ہی کرائی جائے گی۔ تاہم انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ شہری اس پر خود عملدرآمد کریں گے۔

    حکام کے مطابق متعلقہ حکام کو اختیار ہو گا کہ وہ ایسے شہریوں پر جرمانے عائد کر سکیں جو اس پابندی کا خیال نہیں رکھتے۔

  18. پاکستان میں شرح اموات 1.93 فیصد: 74 فیصد ہلاک شدہ افراد کی عمریں 50 سال یا اس سے بڑی

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں کورونا کے باعث شرح اموات 1.93 فیصد ہے جبکہ عالمی سطح یہ شرح 5.37 فیصد ہے۔

    پاکستان میں اب تک کورونا کے باعث 3229 اموات ہو چکی ہیں جبکہ مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 165062 ہے۔

    اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ہلاک ہونے والوں میں 73 فیصد مرد حضرات ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 74 فیصد افراد کی عمریں 50 سال یا اس سے بڑی تھیں جبکہ ہلاک ہونے والوں میں 73 فیصد متاثرین ایسے تھے جنھیں پہلے ہی کوئی نہ کوئی بیماری لاحق تھی۔

    ہلاک ہونے والوں میں سے 91 فیصد ہسپتالوں میں داخل رہے ہیں اور ہسپتال میں ان کا رہنے کا اوسط دورانیہ پانچ روز ہے۔

  19. اگر اکثریت گھروں سے کام کرنے لگی تو شہر کیسے لگیں گے؟

  20. معیشت کو پٹڑی پر لانے کے لیے جاپان نے سفری پابندیاں اٹھا لیں

    جاپان نے کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں عائد سفری پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک کے وزیر اعظم شنزو ابے نے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ باہر نکلیں اور کنسرٹ سمیت دیگر مشاغل کا حصہ بنیں تاکہ ملک کی معیشت سنبھل سکے۔

    کورونا وائرس کے پیش نظر عائد پابندیوں کی وجہ سے دنیا کے دیگر مملک کی طرح جاپان کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

    کورونا وائرس کے متاثرین میں کمی آنے کے بعد جاپان نے مئی سے ہی ان پابندیوں میں نرمی لانی شروع کردی تھیں۔ جمعرات کو ہنگامی حالات کے خاتمےکا اعلان کرتے ہوئے حکومت نے شہریوں پر عائد تمام پابندیاں واپس لیے ہوئے انھیں باہر نکلنے اور کاروبار زندگی کا حصہ بننے کی ترغیب دی ہے۔

    تاہم جاپانی شہریوں کو سماجی فاصلے جیسے اصولوں کا خیال اب بھی رکھنا ہو گا۔

    جاپان کے وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے لوگ باہر نکل کر سیر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں مگن دیکھنا چاہتے ہیں۔

    ان اقدامات سے جاپان میں خاص طور پر ٹورازم کی صنعت سے جڑے کاروبار کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ تاہم ابھی بحالی کا یہ مرحلہ سست رو ہو گا کیونکہ ابھی بھی بہت سے لوگ جمع ہونے سے گریز کرتے ہیں جبکہ ابھی بھی جاپان سفر کرنے سے متعلق متعدد پابندیاں عائد ہیں۔

    مئی کے مہینے میں جاپان میں صرف 1700 غیر ملکی آئے۔ جاپان کی نیشنل ٹورازم آرگنائزیشن کے مطابق یہ سنہ 1964 کے بعد سب سے کم تعداد ہے۔