کورونا: جنوبی ایشیا کے شہریوں کے برطانیہ میں ہلاک ہونے کے امکانات زیادہ, جیمز گلاگہر، بی بی سی نیوز
تحقیق کے مطابق جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا برطانیہ کی ہسپتالوں میں مرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
اس خطے کے لوگوں میں ہسپتالوں میں مرنے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ذیابطیس کی بیماری ہے۔
اس تحقیق کی بہت اہمیت ہے۔ اس میں ہسپتالوں سے حاصل کیے گیے اعداوشمار پر تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں برطانیہ کے 27 ادارے، جس میں یونیورسٹیاں، 260 ہسپتال اور عوامی صحت کے ادارے بھی شامل ہیں۔
اس تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے جب کوئی ہسپتال داخل ہوتا ہے تو ایسے میں پھر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں مئی کے وسط تک برطانیہ اور ویلز کے 260 ہسپتالوں کے 35 ہزار کورونا مریضوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
ایڈنبرگ یونیورسٹی کے پروفیسر ایون ہارسن نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے اس وائرس سے مرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ تاہم سیاہ فام لوگوں اس وائرس کے گہرے اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں۔
سفید فام لوگوں کے مقابلے میں جنوبی ایشیا کے باشندوں میں اس وائرس سے مرنے کے 20 فیصد امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ دیگر اقلیتوں میں مرنے کی شرح اس قدر زیادہ نہیں ہے۔