کورونا کی وجہ سے ٹی بی کے مریضوں کا علاج متاثر ہونے کے خدشات
پنجاب کے پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ میں ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں کورونا وائرس کی وجہ سے دیگر موذی بیماریوں کا علاج متاثر ہونے کے خدشات کا جائزہ لیا گیا۔
اس اجلاس میں عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر پلیتھا مہی پالا نے بھی شرکت کی اور اس دوران صوبے میں جاری ٹی بی پروگرام کا جائزہ، کورونا وائرس کے ٹی بی پروگرام پر اثرات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی۔
اس موقع پر انچارج ٹی بی کنٹرول پروگرام ڈاکٹر سعید نے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کورونا سے بچاؤ کے اقدامات، لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کی وجہ سے ٹی بی کے مریض متاثر ہوئے ہیں جبکہ اس بیماری کا تشخیصی عمل بھی متاثر ہوا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ لاہور میں فروری سے اپریل تک لیب ٹیسٹ کے لیے آنے والے ٹی بی مریض 802 ماہانہ سے کم ہو کر 323 ہوگئے ہیں جبکہ فیصل آباد میں آنے والے مریضون کی تعداد 1005 سے کم ہو کر 683 رہ گئی ہے۔
ڈاکٹر سعید نے آگاہ کیا کہ سکریننگ کے لیے ہسپتال آنے والے ڈرگ ریزسٹنٹ مریضوں کی تعداد میں بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے کمی آئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے پاکستان چیف کا کہنا تھا کہ کورونا کے ساتھ ساتھ صحت کے باقی مسائل کو بھی لازمی دیکھنا ہو گا۔