آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا کی وجہ سے ٹی بی کے مریضوں کا علاج متاثر ہونے کے خدشات

    پنجاب کے پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ میں ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں کورونا وائرس کی وجہ سے دیگر موذی بیماریوں کا علاج متاثر ہونے کے خدشات کا جائزہ لیا گیا۔

    اس اجلاس میں عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر پلیتھا مہی پالا نے بھی شرکت کی اور اس دوران صوبے میں جاری ٹی بی پروگرام کا جائزہ، کورونا وائرس کے ٹی بی پروگرام پر اثرات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی۔

    اس موقع پر انچارج ٹی بی کنٹرول پروگرام ڈاکٹر سعید نے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کورونا سے بچاؤ کے اقدامات، لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کی وجہ سے ٹی بی کے مریض متاثر ہوئے ہیں جبکہ اس بیماری کا تشخیصی عمل بھی متاثر ہوا ہے۔

    یہ بھی بتایا گیا کہ لاہور میں فروری سے اپریل تک لیب ٹیسٹ کے لیے آنے والے ٹی بی مریض 802 ماہانہ سے کم ہو کر 323 ہوگئے ہیں جبکہ فیصل آباد میں آنے والے مریضون کی تعداد 1005 سے کم ہو کر 683 رہ گئی ہے۔

    ڈاکٹر سعید نے آگاہ کیا کہ سکریننگ کے لیے ہسپتال آنے والے ڈرگ ریزسٹنٹ مریضوں کی تعداد میں بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے کمی آئی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے پاکستان چیف کا کہنا تھا کہ کورونا کے ساتھ ساتھ صحت کے باقی مسائل کو بھی لازمی دیکھنا ہو گا۔

  2. کورونا سے صحت یاب ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

    دنیا میں اب تک لاکھوں افراد کووڈ 19 سے مکمل صحت یاب ہو چکے ہیں لیکن صحت یابی کا دورانیہ مختلف لوگوں میں مختلف ہو سکتا ہے۔

    کم علامات والے متاثرین ایک ہفتے میں صحت یاب ہوسکتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق سنگین معاملات میں یہ دورانیہ ایک سال سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔

  3. پنجاب کی عوام احتیاطی تدابیر پر عمل کر رہی ہے: عثمان بزدار

    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس دنوں کے دوران عوام کی جانب سے کورونا سے متعلقہ قواعد و ضوابط خاص طور پر ماسک پہننے کی شرط پر عملدرآمد میں کافی بہتری دیکھی گئی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ کہ صوبائی حکومت نے صوبے کے آٹھ شہروں کے 127 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا ہے جبکہ طبی عملے کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ چند دنوں میں صوبے کے صحت کے نظام میں مزید 500 مریضوں کے بیڈز شامل کیے گئے ہیں جبکہ آئندہ چند دنوں میں مزید ایک ہزار بیڈز دستیاب ہوں گے۔ عثمان بزدار کے مطابق انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں وینٹیلیٹرز کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے جس سے صحت کے نظام پر بوجھ کچھ کم ہوا ہے۔

    وزیر اعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ صرف حکومت اور ہیلتھ کیئر ورکرز نے نہیں بلکہ پوری قوم نے لڑنی ہے اس لیے حکومت کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔

  4. ایکٹیمرا انجکشن سے سنا مکی تک: کوورنا کے علاج میں یہ سب کس حد تک مددگار؟

    دنیا بھر میں جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے وہیں اس کی ویکسین کی تیاری کی کوششوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

    تاحال اس بیماری کا علاج دریافت نہیں کیا جا سکا ہے لیکن پاکستان میں اس وبا کے آغاز کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات کی بھرمار دیکھی گئی جس میں مختلف ادویات، جڑی بوٹیوں یا پھر کھانے پینے میں روزمرہ استعمال ہونے والی اشیا کو اس بیماری سے صحت یابی میں مددگار یا پھر اس کا علاج ہی قرار دے دیا گیا۔

    یہ بات جہاں ادرک اور کلونجی یا ملیریا کے علاج میں استعمال ہونی والی دوائی کلوروکوئین سے شروع ہوئی وہیں آج کل اکٹیمرا نامی انجیکشن اور سنامکی نامی جڑی بوٹی کا شہرہ ہے اور ایسی ادویات و جڑی بوٹیوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ ان کا استعمال کورونا کے مریض کے جسم میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

    بی بی سی نے طبی و غذائی ماہرین کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان ادویات اور ٹوٹکوں کے کورونا کے علاج یا پھر علاج میں مددگار ہونے کے دعووں میں کتنی حقیقت ہے۔

  5. یورپی یونین کے کورونا سے نمٹنے کے پلان پر بحث کا آغاز

    کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین کے رہنما 750 ارب یورو فنڈ جمع کرنے کے ہدف کے لیے ویڈیو سمٹ میں اکھٹے ہونے جا رہے ہیں۔

    اس فنڈ کا مقصد کورونا وائرس سے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنا ہے۔

    کچھ شمالی یورپی ریاستی یورپی یونین کمیشن کے اس پلان کی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ اس فنڈ کا مقصد اٹلی اور سپین کی طرح کے وائرس سے زیادہ متاثرہ ممالک کے لیے 500 بلین یورو کی مدد فراہم کرنا ہے۔

    بی بی سی کے گیون لی کے مطابق یہ فنڈ جسے 'نیکسٹ جنریشن ای یو‘ یعنی اگلی یورپی نسل کے نام سے تعبیر کیا جا رہا ہے یہ ایک بہت غیر معمولی پیمانے پر اکھٹا کیے جانے والا فنڈ ہے۔

    عام طور پر یورپی یونین رکن ممالک کی قرض کی صورت میں مدد کرتی ہے جسے بعد میں شرائط کے مطابق واپس کرنا ہوتا ہے۔

    سویڈن، ڈنمارک، آسٹریا اور نیدر لینڈز اس فنڈ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے 1.1 یورو ٹریلین بجٹ سے متعلق بھی تقسیم پائی جاتی ہے۔

    جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل اور فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کمیشن کے پلان کی حمایت کر رہے ہیں۔

    سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ یکم جولائی تک اس اجلاس سے پہلے کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔

  6. ڈاکٹر ظفر مرزا: طبی عملے کی شکایات وصولی کے لیے ہیلپ لائن قائم

    وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بنائی گئی کورونا ہیلپ لائن پر اب طبی عملے کے کارکن اپنی شکایات درج کروا سکیں گے۔

    اسلام آباد میں بریفننگ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فرنٹ لائن طبی عملے کا کوئی بھی رکن واٹس ایپ نمبر 0300-1111166 پر اپنی شکایات حکومت کو بھیج سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ موصول ہونے والی تمام شکایات کو متعلقہ حکام تک پہنچایا جائے اور فوری طور پر اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ فرنٹ لائن پر مصروف عمل طبی عملے کی شکایات ترجیحی بنیادوں پر حل کی جائیں گی۔

  7. کیا ’ٹی آر وی 027‘ کورونا مریضوں کو بلڈ کلاٹنگ سے بچا پائے گی؟

    سائنسدان ایک تجرباتی دوا کا یہ جانچنے کے لیے ٹیسٹ کریں گے کہ آیا اس کی مدد سے کووڈ 19 سے منسلک مہلک شریانوں اور رگوں میں خون جمنے کی بیماری (بلڈ کلاٹنگ) سے بچا جا سکتا ہے یا نہیں۔

    ’برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن‘ کی مالی اعانت سے کیے جانے والے اس ٹرائل کے ذریعے یہ پتا چلانے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا کورونا وائرس انفیکشن کے باعث پیدا ہونے والا ہارمونز کا عدم توازن بلڈ کلاٹنگ کا باعث بنتا ہے۔

    یہ کورونا وائرس سے لاحق ہونے والی بیماری کے بدترین اثرات کو روکنے کے لیے آزمائشی دواؤں میں سے ایک بن جائے گی۔

    کورونا کے باعث ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں میں سے ایک تہائی مریضوں کو بلڈ کلاٹنگ جیسے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹی آر وی 027 نامی دوا فشار خون، پانی اور نمک سے متعلقہ ہامونز کے عدم توازن کو درست کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

    ایمپیرئل کالج لندن کے سائنسدان اس ٹرائل سے منسلک ہیں۔ اُن کا خیال کہ جب وائرس انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے تو یہ اینزم (خلیہ) کو استعمال کرتے ہوئے انسانی جسم کے خلیوں میں دخل انداز ہوتا ہے۔

  8. سہیل وڑائچ کو کورونا کیسے ہوا اور آج کل وہ قرنطینہ میں وقت کیسے گزار رہے ہیں

    مشہور صحافی سہیل وڑائچ میں چند دن پہلے کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ان کے مطابق ان کو یہ بیماری کیسے لگی؟ ٹیسٹ کے مثبت نتائج آنے کے بعد قرنطینہ کے دنوں میں ان کی مصروفیات کیا ہیں؟ اور وہ اس بیماری کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں؟ سنتے ہیں ان کی زبانی اس وی لاگ میں۔

  9. سپین: بارسلونا اوپرا ہاؤس دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

    سپین کے تین ماہ سے بند پڑے اوپرا ہاؤس کو ایک کنسرٹ کے ساتھ پیر کو کھول دیا جائے گا۔

    اس کنسرٹ کو لائیو ویب سائٹ پر نشر کیا جائے گا۔ تاہم اس موقع پر اوپرا پرفارمنس انسانوں کے بجائے پودے دیکھیں گے۔

    کنسرٹ میں فنکار 2200 سے زائد پودوں کے سامنے کارکردگی دکھائیں گے۔

    اداکار یوجینیو امپڈیا کا کہنا ہے کہ 'ایسے وقت میں جب انسانیت کا ایک اہم حصہ کچھ جگہوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اسے نقل و حرکت سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔ فطرت نے وہ ہم سے واپس لے لی جس پر ہم قابض ہو گئے تھے۔‘

    اس موقع پر صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں میں 2،292 پودے تقسیم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انھیں بحران کے دنوں میں کام کرنے کے لیے آرٹسٹ کی طرف سے ایک شکریے کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔

  10. پاکستان متاثرین کی فہرست میں 15ویں، ہلاکتوں میں 21ویں نمبر پر

    امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کورونا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں 15ویں نمبر پر ہے۔

    اسی طرح اگر ہلاکتوں کی بات کی جائے تو پاکستان زیادہ ہلاکتوں والے ممالک کی فہرست میں 21ویں نمبر پر ہے۔

    22 لاکھ کے لگ بھگ متاثرین اور ایک لاکھ 18 ہزار سے زائد اموات کے ساتھ امریکہ بدستور کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    برازیل میں مصدقہ متاثرین کی تعداد نو لاکھ 80 ہزار سے زائد جبکہ یہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 49 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ برازیل دنیا بھر میں دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    انڈیا متاثرین کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے جہاں متاثرین کی تعداد تین لاکھ 80 ہزار سے زائد جبکہ اموات کی تعداد ساڑھے بارہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد جبکہ اموات کی تعداد 3229 ہے۔

  11. جنوبی ایشیائی مریضوں کا برطانوی ہسپتالوں میں ہلاک ہونے کا خطرہ زیادہ کیوں؟

  12. پنجاب کے مختلف شہروں میں کورونا کی صورتحال

    صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد اور اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیل کے لیے مندرجہ ذیل چارٹ کا مطالعہ کیجیے۔

  13. آئر لینڈّ: ریکارڈ 79 دن وینٹیلیٹر پر گزارنے والی معمر خاتون روبہ صحت

    آئر لینڈ میں کورونا کی شکار معمر خاتون کو 79 دن وینٹیلیٹر پر رہنے کے بعد اب عام وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اب وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ سے باہر آ چکی ہیں۔

    میری سلیوان کو 11 مارچ کو دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد انھیں ہسپتال داخل کر دیا گیا۔ بعدازاں ان میں کورونا وائرس کی بھی تشخیص ہوئی۔ جب نظام تنفس میں خرابی کی وجہ سے ان کی حالت زیادہ بگڑ گئی تو انھیں وینٹیلیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

    ہسپتال میں موجود ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کسی بھی کورونا وائرس کے مریض کا یہ وینٹیلیٹر پر سب سے زیادہ عرصہ بنتا ہے۔

    آر ٹی ای میڈیا نے دکھایا کہ جب وہ جعرات کو انتہائی نگہداشت وارڈ سے باہر آ رہی تھیں تو عملے کے ارکان تالیاں بجا کر انھیں داد دے رہے تھے۔

  14. صوبہ پنجاب میں اب تک طبی عملے کے 983 اراکین کورونا کا شکار ہو چکے ہیں

    پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا کہنا ہے کہ وبا کے آغاز سے اب تک صوبے بھر میں طبی عملے کے ساڑھے چار ہزار سے زائد مشتبہ کیسز سامنے ہیں۔

    فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق تمام مشتبہ طبی عملے کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں 983 افراد کے کورونا ٹیسٹ اب تک مثبت آ چکے ہیں۔

    شعبہ صحت کے مطابق طبی عملے میں نتائج مثبت آنے کی شرح 21 فیصد ہے۔

  15. برطانیہ: ’ستمبر میں تمام سکول کھولنے کا ارادہ ہے‘

    برطانیہ کے وزیر برائے سکولز نِک گِب کا کہنا ہے کہ حکومت ستمبر میں تمام سکولز کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    نک گبز نے سکائی نیوز کو بتایا ہے کہ ہم سائنس اور ماہرین کے مشوروں پر عمل پیرا ہیں، اس وقت دس لاکھ سے زائد بچے ہمارے سکولوں میں ہیں اور ہم ہر قدم بہت محتاط انداز میں اٹھا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت سکولوں کے ساتھ کام کر رہی ہے، ان سے مشورے لے رہی ہے اور انھیں ان کے دوبارہ کھولنے کے منصوبے کے حوالے سے مدد دے رہی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہم دیگر متبادل منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں مگر ہمارا یہ واضح ارادہ ہے کہ ہم ستمبر تک تمام بچوں کو سکولوں میں واپس لے آئیں۔

  16. کورونا وائرس خواجہ سراؤں کی مشکلات میں اضافے کا باعث کیسے بنا؟

    جیسے جیسے پورے پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا پھیل رہی ہے، ویسے ہی خواجہ سرا برادری کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ خواجہ سرا برادری کے لیے ترقی پسند قوانین ہونے کے باوجود یہ برادری سمجھتی ہے کہ ان کو بااختیار نہیں بنایا جا رہا۔ مزید دیکھیے شمائلہ جعفری اور فاخر منیر کی اس رپورٹ میں۔۔۔

  17. وزیر اعلی خیبرپختونخوا کا کورونا ٹیسٹ منفی

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے کورونا ٹیسٹ کا رزلٹ منفی آیا ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات اجمل وزیر کے مطابق وزیراعلی نے بجٹ اجلاس میں شرکت کے لیے کورونا ٹیسٹ کروایا تھا جو کہ منفی آیا۔

    صوبہ خیبرپختونخوا میں آج صوبائی بجٹ برائے مالی سال 2020-21 پیش کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں آج ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے عوامی نمائندوں کو کورونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

    آج صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا بجٹ پیش کریں گے۔

  18. کورونا وائرس: کیا ڈیکسامیتھازون پاکستان میں فوری استعمال ہو سکتی ہے؟

    برطانیہ میں منگل کے روز ماہرین نے اعلان کیا تھا کہ کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے۔

    تحقیق کے مطابق یہ دوا کورونا وائرس کے ایسے مریضوں کو مرنے سے بچا سکتی ہے جو مصنوعی تنفس یعنی وینٹیلیٹر کا سہارا لے رہے ہوں۔ یا پھر انھیں سانس لینے میں دقت سے بچانے کے لیے آکسیجن دی جا رہی ہو۔

    برطانیہ میں اس انتہائی عام اور سستی دوا کو دیگر چند ادویات کے ساتھ کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے کافی عرصے سے تجرباتی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ برطانوی ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ڈیکسامیتھازون وینٹیلیٹر پر موجود مریضوں میں سے ایک تہائی کو بچا سکتی ہے۔

    اگر 25 مریض آکسیجن پر ہوں تو ان میں سے ایک جبکہ وینٹیلیٹر پر موجود آٹھ میں سے ایک مریض کو یہ دوا مرنے سے بچا سکتی ہے۔

  19. بیجنگ میں وائرس کی تازہ لہر یورپ سے آئی؟

    چینی حکام نے بیجنگ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ڈیٹا جاری کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی یورپ میں پھیلنے والے وائرس سے مماثلت پائی جاتی ہے۔

    دباؤ کے نتیجے میں چین نے یہ ڈیٹا عالمی ادارہ صحت کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

    کئی ماہ بعد چین نے اپنے دارالحکومت بیجنگ میں کورونا وائرس کے 200 متاثرین کی تصدیق کی ہے اور اس وائرس سے متعلق ڈیٹا بھی شیئر کیا ہے۔

    اس وائرس کی لہرکے بعد لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔ چینی حکام کے مطابق وائرس کی یہ لہر ایک تھوک مارکیٹ سے آئی۔

    سائنسدان اس وائرس سے متعلق کوئی نتیجہ نکالنے سے متعلق بہت محتاط ہیں۔

    ہانگ کانگ یونیورسٹی کے شعبہ پبلک ہیلتھ کے پروفیسر بین کولنگ نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ یہ وائرس ووہان سے یورپ اور پھر وہاں سے واپس بیجنگ آیا۔

  20. جنوبی کوریا اب بھی کورونا وائرس سے لڑ رہا ہے

    ایک وقت پر ایسا لگ رہا تھا کہ خراب صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے۔ تاہم یہ وائرس ابھی بھی جنوبی کوریا میں موجود ہے۔

    جنوبی کوریا میں جمعے کے دن اس وائرس سے مزید 49 متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے 32 کو مقامی طور یہ وائرس منتقل ہوا۔ ملک میں اس وقت کورونا وائرس متاثرین کی کل تعداد 12،306 ہے۔

    ان میں زیادہ تر متاثرین کا تعلق ملک کے دارالحکومت سیول اور قریبی علاقوں سے ہے، جہاں ملک کی تقریباً آدھی آبادی رہتی ہے۔

    نئے متاثرین سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی جنوبی کوریا میں اس وبا میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

    جنوبی کوریا کے وزیر صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا تو پھر سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے سے متعلق سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    جنوبی کوریا نے مئی میں اس وقت سماجی فاصلے کے اصولوں میں نرمی پیدا کی جب ملک میں متاثرین کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔