جرمنی میں گوشت پروسیسنگ کمپنی ٹونیز کے ایک ہزار سے زائد ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد مقامی محکمہ صحت نے تمام 6500 ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو قرنطین میں جانے کا حکم دیا ہے۔
مقامی سطح پر کیا گیا یہ لاک ڈاؤن جرمنی کے دوبارہ کاروبار کھولنے والے منصوبے کے لیے ایک دھچکا ہے۔
چانسلر انجیلا میرکل نے طویل عرصے تک لاک ڈاؤن برقرار رکھنے کی حمایت کی تھی لیکن علاقائی عہدیداروں کے دباؤ کے بعد پابندیوں میں نرمی لائی گئی۔
اگرچہ یورپی ممالک میں جرمنی کورونا وائرس بحران پر قابو پانے میں سب سے زیادہ کامیاب رہا ہے تاہم جرمنی کے ذبح خانوں میں متعدد بار وبا کو پھیلتے دیکھا گیا ہے۔
ان کمپنیوں میں کام کرنے والے اکثر تارکینِ وطن ملازمین ہوتے ہیں جو کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ پُرہجوم رہائش گاہوں میں رہتے ہیں۔
سنیچر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوشت پروسیسنگ کمپنی کے مالک کلیمینس ٹینی نے کہا کہ کمپنی میں کام بند کر دیا گیا ہے کیونکہ حکام اس وبا پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹینی نے کہا ’ایک کمپنی کی حیثیت سے ہمارا خیال تھا کہ ہم نے سب ٹھیک کر لیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ان کی کمپنی نے ملازمین اور ٹھیکیداروں کی ذاتی معلومات اکٹھا کرنے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں تاکہ حکام اس وبا کا سراغ لگا سکیں۔
’ایک کاروباری شخص کی حیثیت سے میں صرف معافی مانگ سکتا ہوں۔ ہم اس کی وجہ بنے ہیں اور تمام تر ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔‘