آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. صوبہ پنجاب میں 16 سے 45 برس کی عمر کے افراد کورونا کا بڑا شکار

    صوبہ پنجاب میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد وہ ہیں جن کی عمریں 31 سے 45 سال کے درمیان ہیں۔

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق 31 سے 45 برس کی درمیانی عمر کے 20429 افراد میں اب تک کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

    صوبے میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 65739 ہے۔ دوسرے درجے میں زیادہ متاثرین وہ ہیں جن کی عمریں 16 سے 30 برس کے درمیان ہیں اور اس عمر کے متاثرین کی کُل تعداد 19038 ہے۔

    اسی طرح 40 سے 60 برس کی عمر کے 14146 افراد کورونا کا شکار ہوئے ہیں جبکہ 61 سے 75 برس کی عمر کے 6754 بزرگ افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق ایک سال سے 15 سال کی عمر کے 3089 بچے جبکہ 75 سال اور اس سے بڑی عمر کے 1140 معمر افراد اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

  2. مغربی افریقہ میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

    مغربی افریقہ کے کئی ممالک میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    کوٹ ڈی ووآر میں 402 نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد وہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 7276 تک پہنچ گئی ہے۔ اب تک وہاں 52 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

    سینیگال میں 144 نئے متاثرین سامنے آئے جبکہ وہاں مزید تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اب تک افریقہ میں 5783 مثبت متاثرین اور 55 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    نائیجر میں سنیچر کو کووڈ 19 کے نو نئے درآمد شدہ کیس سامنے آئے۔ مجموعی طور پر نائیجر میں 1035 متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ 67 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    ٹوگو میں کووڈ 19 کے چھ مزید متاثرین سامنے آنے کے بعد یہاں کُل تعداد 561 ہوگئی ہے جبکہ اب تک 13 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    بینن میں 53 مزید افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد یہاں کُل متاثرین 650 ہوگئے ہیں۔ اب تک 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    برکینا فاسو کے مقامی میڈیا کے مطابق مقامی منتقلی کا ایک نیا کیس سامنے آنے کے بعد وہاں متاثرین کی کُل تعداد 902 ہوچکی ہے جبکہ 53 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  3. بریکنگ, سندھ: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 2275 نئے کورونا متاثرین، مزید 41 ہلاکتیں

    صوبہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2275 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد یہاں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 69628 ہو گئی ہے۔

    وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں کورونا کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 41 کورونا مریض ہلاک بھی ہوئے ہیں اور اب سندھ میں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1089 ہو چکی ہے۔

    سندھ میں کورونا سے صحت یاب ہونے والی متاثرین کی کُل تعداد 36278 ہو گئی ہے۔ اب پاکستان میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 178892 جبکہ اموات کی کُل تعداد 3542 ہو چکی ہے۔

    سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13890 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور اب صوبے بھر میں کیے جانے والے ٹیسٹوں کی تعداد 378849 ہو گئی ہے۔

    اس وقت صوبے میں 32261 کورونا متاثرین زیر علاج ہیں جن میں سے 30 ہزار سے زائد اپنے اپنے گھروں یا سرکاری قرنطینہ مراکز میں موجود ہیں جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زائد صوبے بھر کے مختلف ہسپتالوں میں موجود ہیں۔

    صوبے میں مجموعی طور 718 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور ان میں سے 117 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے 2275 کیسز میں سے 1280 کراچی سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ گھوٹکی میں 74، سکھر میں 72، خیرپور میں 64، حیدرآباد میں 63، میرپور خاص میں 38، شکار پور میں 38، بینظیر آباد میں 36 جبکہ کشمور میں 33 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ نے ایک مرتبہ پھر عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔

  4. عراق کے قومی فٹ بال ہیرو احمد رضی کی کورونا کے باعث وفات

    عراق کے سب سے مشہور فٹ بالرز میں سے ایک احمد رضی 56 سال کی عمر میں کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔

    ان کی وفات پر ملک بھر کے فٹ بال شائقین ماتم کناں ہیں۔

    احمد رضی نے اپنی آخری سانس اتوار کو بغداد کے ایک ہسپتال میں لی۔ ان میں گذشتہ ہفتے کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

    انھوں نے 1982 سے 1997 کے دوران عراق کی قومی فٹ بال ٹیم کے لیے 121 مرتبہ کھیل پیش کیا جس میں انھوں نے 62 گول کیے۔

    انھوں نے 1986 میں میکیسیکو میں ہونے والے ورلڈ کپ مقابلے میں عراق کا پہلا اور واحد ورلڈ کپ گول کرنے پر قومی ہیرو کا درجہ حاصل کیا۔

    رضی کا عراق میں ایک کامیاب کریئر رہا اور انھوں نے کئی ٹیموں کے ساتھ ٹرافیاں جیتیں، اور 1988 میں ایشیئن پلیئر آف دی ایئر قرار پائے۔

    ان کی وفات پر عراق کے وزیرِ کھیل عدنان درجال نے ان کے لیے تعزیتی پیغام میں انھیں عراق کا بیٹا قرار دیا۔

    عراق اس وقت کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں زبردست اضافے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سنیچر کو مزید 88 اموات سامنے آئیں جو کہ وبا کے آغاز سے اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق یہاں اب تک 1000 سے زائد اموات ہوچکی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 29 ہزار ہے۔

  5. بلوچستان میں لاک ڈاؤن سے ’مزید چار لاکھ محنت کش بے روزگار ہوئے‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان میں کورونا کے باعث مکمل لاک ڈاﺅن کی وجہ سے مزید چار لاکھ محنت کش بے روزگار ہوگئے جبکہ پہلے کے مقابلے غربت کی شرح میں اضافے سے مزید پانچ لاکھ 20 ہزار گھرانے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    یہ بات بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے میڈیا کو دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر کورونا کے روزگار پر پڑنے والے منفی اثرات سے متعلق کہی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے معیشت اور روزگار پر بھی بہت زیادہ منفی اثرات پڑے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ کورونا سے پہلے بلوچستان میں غربت کی شرح 40 اعشاریہ سات فیصد تھی لیکن کورونا کے بعد مزید پانچ لاکھ 20 ہزار گھرانے خط غربت سے نیچے چلے جانے سے غربت کی شرح بڑھ کر 68 فیصد ہوگئی ہے۔

    لیاقت شاہوانی نے کہا کہ کورونا سے پہلے آٹھ لاکھ 29 ہزار گھرانے انتہائی غربت کا شکار تھے لیکن اب ان کی تعداد 13 لاکھ 49 ہزار ہوگئی ہے۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان نے بتایا کہ اگر لاک ڈاﺅن کو مزید ایک مہینے کے لیے جاری رکھا جاتا تو یہ تعداد بڑھ کر17 لاکھ 70 ہزار ہوجاتی۔

    انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں کل گھرانوں کی تعداد 19 لاکھ ہے جس کا مطلب ہے کہ مکمل لاک ڈاﺅن میں توسیع سے صرف چند لاکھ گھرانے کچن چلانے کی پوزیشن میں رہ جاتے جبکہ باقی تمام کا انحصار راشن کے لیے ریاست پر ہوتا۔

    بلوچستان حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ جب لاک ڈاﺅن کو سمارٹ لاک ڈاﺅن میں تبدیل کیا گیا تو راشن کے لیے کال کرنے والوں کی تعداد میں کمی آئی اور یہ تعداد اب صرف دو سے تین فیصد رہ گئی ہے۔

  6. کورونا کی وجہ سے سماجی دوری، یہ دو میٹر ہوتا کتنا ہے؟

    تین آسٹریلوی کوالا ہوں یا ایک مائیکل جورڈن یا پھر نصف واکس ویگن بیٹل، یہ وہ فاصلہ ہے جتنا آپ کو کسی بھی فرد سے کورونا کی وبا کے دوران سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے رہنا چاہیے اور اگر بات سمجھ نہیں آئی تو یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ لیں۔

  7. وکٹوریہ، آسٹریلیا: صحت کی ایمرجنسی میں چار ہفتوں کی توسیع

    آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں ایک مہینے کے دوران کووڈ 19 کے زیادہ متاثرین سامنے آنے کے بعد ہنگامی حالت میں چار ہفتوں (19 جولائی تک) کے لیے توسیع کردی گئی ہے۔

    اس اقدام سے حکام کو صحت کو لاحق خدشات کے سبب قانونی بنیادوں پر نقل و حرکت محدود کرنے کا اختیار ملتا ہے۔

    آسٹریلیا میں ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نک کوٹس ورتھ کا کہنا ہے کہ ’یہ اس بات کی بروقت یاد دہانی ہے کہ ایسے افراد جن میں وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت نہیں ہے، ہم وکٹوریہ کی طرح انھیں وقتاً فوقتاً وبا سے متاثر ہوتے دیکھیں گے۔‘

    حالیہ دنوں میں اس جنوب مشرقی ریاست میں کورونا وائرس انفیکشن کی ایک بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔

    ریاستی وزیر اعظم نے نئے متاثرین کی بڑھتی تعداد کا الزام خاندان سے خاندان میں منتقلی کو قرار دیا ہے۔

    سنیچر کے روز آسٹریلیا کی اس دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کے حکام کا کہنا تھا کہ وہ لاک ڈاؤن کے کچھ اقدامات اٹھانے میں تاخیر کریں گے اور گھریلو اجتماعات کو محدود رکھنے سمیت سماجی فاصلہ رکھنے کی پابندیوں کا نفاذ بھی کریں گے۔

  8. یمن میں صورتحال اتنی خراب کیوں ہے؟

    یمن دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں کورونا کے زیادہ پھیلنے کا خدشہ ہے اور اس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوسکتا ہے۔

    تاحال کووڈ 19 کے 922 متاثرین اور 254 اموات کی تصدیق ہوسکی ہے لیکن یہ اعداد و شمار اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں۔

    ملک میں اب بھی جنگ جاری ہے اور بنیادی ضروریات کا فقدان ہے۔ یہاں انسانی حقوق کا بدترین بحران ہے۔ لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور قریب 80 فیصد آبادی عالمی امداد پر انحصار کرتی ہے۔

    پانچ سال تک جاری رہنے والی جنگ کی وجہ سے ہسپتال تباہ ہو چکے ہیں اور صحت کا نظام بدحالی کا شکار ہے۔ اس سب کے ساتھ کورونا سے متعلق درست اعداد و شمار کا کسی کو علم نہیں ہے۔

    حفاظتی سامان و سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز اور طبی عملہ بھی کورونا سے متاثر ہو رہا ہے۔

  9. روس میں کورونا کے 7728 نئے متاثرین

    روس میں گذشتہ روز کووڈ 19 کے 7728 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہاں متاثرین کی کل تعداد 584680 ہے۔

    اسی دوران 109 اموات ہوئیں۔ اب ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 8111 ہوچکی ہے۔

    دوسری طرف افغانستان میں گذشتہ روز 409 متاثرین اور 12 اموات ہوئی۔ ملک میں حکام کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے۔

    اب تک 28,833 متاثرین اور 581 اموات ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔

  10. کورونا وائرس: کیا کووڈ 19 کی دوسری لہر آ سکتی ہے؟

    جہاں دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی ہو رہی ہے وہیں اس امر پر بھی توجہ مرکوز ہے کہ اس وبا کی دوسری لہر سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

  11. دنیا بھر میں 49 فیصد افراد صحتیاب ہوچکے ہیں

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے جہاں دنیا بھر میں اب تک 464,510 اموات ہوچکی ہیں تو وہیں 4,366,818 افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں اور اس وقت 4,427,519‬ افراد زیر علاج ہیں۔

    اس طرح صحتیاب ہونے والوں کی شرح 49 فیصد سے زیادہ بنتی ہے۔ دیگر تفصیلات کچھ اس طرح ہیں:

    امریکہ 617,460 صحتیاب، 119,719 اموات

    برازیل 576,779 صحتیاب، 49,976 اموات

    روس 334,024 صحتیاب، 7,992 اموات

    انڈیا 227,728 صحتیاب، 13,254 اموات

    چلی 196,609 صحتیاب، 4,295 اموات

    اٹلی 182,453 صحتیاب، 34,610 اموات

    جرمنی 174,710 صحتیاب، 8,895 اموات

    ایران 161,384، 9,507 اموات

  12. سپین میں سیاحت کا آغاز: غیرملکیوں کو خوش آمدید!

    سپین، یورپی یونین، شینگن زون ممالک اور برطانیہ سے آنے والے غیر ملکی سیاحوں کے لیے سفری پابندیاں ختم کرکے اپنی سیاحت کی صنعت کو دوبارہ کھول رہا ہے۔

    سپین میں پہنچنے والے تمام مسافروں کا درجہ حرارت ہوائی اڈے پر لیا جائے گا اور وہ اس بارے میں معلومات جمع کروائیں گے کہ آیا وہ ماضی میں وائرس کا شکار تھے یا نہیں اور خود سے رابطے کی تفصیلات بھی فراہم کریں گے۔

    یہ اقدام سپین میں تین ماہ کی ہنگامی صورتحال کے اختتام پر لیا گیا ہے جس میں ملک بھر میں مفت سفر کی اجازت دی گئی ہے۔

    لیکن ایسے عوامی مقامات جہاں معاشرتی دوری ممکن نہیں وہاں چہرے پر ماسک پہننا لازم ہیں۔

    سپین میں کووڈ 19 سے اب تک 245،000 سے زیادہ متاثرین اور 28،000 اموات ہوئی ہیں۔ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سپین کا شمار کیا جاتا ہے۔

    گرمیوں کا موسم ختم ہونے سے پہلے سپین میں ہولے ڈے مارکیٹ کے دوبارہ کھولے جانے کو ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

  13. ڈیکسا میتھازون دوا کن مریضوں کو دی جائے گی؟

    ڈیکسا میتھازون دوا کن مریضوں کو اور کن حالات میں دی جائے گی ۔ اس بارے میں ہماری ساتھی عالیہ نازکی نے این ایچ ایس لندن سے وابستہ ماہر امراض تنفس ڈاکٹر سلیم انور سے بات کی ۔۔ انھوں نے کیا کہا ۔۔جانتے ہیں اس پوڈکاسٹ میں ۔۔

  14. جنوبی کوریا کا پاکستانیوں کے لیے ویزے، پروازیں محدود کرنے کا فیصلہ

    جنوبی کوریا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے شہریوں کو ویزے کی فراہمی محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اس فیصلے کا اطلاق 23 جون سے ہوگا اس کی وجہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں تیزی سے بڑھتے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بتائی گئی ہے۔

    جنوبی کوریا کے وزیر صحت نے اتوار کو پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ ان کے ملک پہنچنے والے پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کی ایک بڑی تعداد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو رہی ہے۔

    اس طرح پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کی جنوبی کوریا آمد پر ان میں کورونا کے حوالے سے سخت چیکنگ کی جائے گی۔

    جنوبی کوریا شیڈول سے ہٹ کر پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والی پروازوں کو بھی محدود رکھے گا۔

    وزیر صحت پارک نِنغو کے مطابق جنوبی کوریا ان ممالک سے آنے والوں کے لیے ویزا حاصل کرنے کا نظام مزید سخت کر دے گا جہاں کورونا وائرس کے متاثرین بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ ان ممالک کے لیے پروازیں بھی کم کر دی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا پہنچنے والے افراد کے لیے لازم ہے کہ وہ دو ہفتے قرنطینہ میں گزاریں اور ان کا کورونا ٹیسٹ بھی لیا جاتا ہے۔

  15. چین: کورونا کی ممکنہ ویکسین کی انسانوں پر آزمائش ’دوسرے مرحلے میں‘

    چین میں سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔

    چین کی اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل بیالوجی (آئی ایم بی سی اے ایم ایس) نے اتوار کے روز کہا کہ اس ویکسین کی مزید افادیت اور تحفظات کا جائزہ لینے کے لیے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔

    دنیا بھر میں ایک درجن کے قریب ویکسین انسانوں پر آزمائش کے مختلف مراحل میں ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آرہی ہے اور ’دنیا ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔‘

    تاہم ابھی تک کسی ویکسین نے تین مراحل عبور نہیں کیے جو ویکسین کی فروخت کے لیے باقاعدہ منظوری حاصل کرنے سے پہلے ایک ضروری اقدام ہے۔

    چینی انسٹی ٹیوٹ نے سنیچر کے روز انسانوں پر تجرباتی شاٹ کے لیے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا۔ یاد رہے چینی سائنس دان اس وقت چھ ممکنہ ویکسینز پر کام کر رہے ہیں۔

    پہلے مرحلے میں ان ویکسینز کی آزمائش کے لیے مئی سے لے کر اب تک 200 کے قریب افراد کو بھرتی کیا گیا۔

    دوسرے مرحلے میں ویکسین کی خوراک کا تعین کیا جائے گا۔ اس بات کا تحقیق جاری رکھی جائے گی کہ آیا یہ ممکنہ ویکسین صحت مند افراد میں قوتِ معدافعت کے ردعمل کو محفوظ طریقے سے متحرک کرسکتی ہے یا نہیں۔

  16. ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن: پاکستان میں 52 ڈاکٹرز کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں

    پاکستان میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) کے مطابق اب تک ملک میں طبی عملے کے 63 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 52 ڈاکٹرز شامل ہیں۔

    ان میں سب سے زیادہ پنجاب میں 30 ڈاکٹرز کی اموات پیش آئی ہیں جبکہ صوبے میں تین نرسز اور ایک پیرا میڈک بھی کووڈ 19سے ہلاک ہوچکا ہے۔

    کورونا وائرس سے سندھ میں 11، بلوچستان میں پانچ، خیبر پختونخوا میں چھ اور گلگت بلتستان میں ایک ڈاکٹر کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    ملک بھر میں کئی نرسز اور پیرا میڈک عملے میں کووڈ 19 کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

  17. نوشین حامد: ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں

    صحت کی پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامد کا کہنا ہے کہ حکومت ملک میں کورونا وائرس ٹیسٹنگ کرنے کی صلاحیت میں مزید اضافے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    ریڈیو پاکستان سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان فنڈز اور وسائل کی کمی کے باعث کورونا وائرس کے بارے میں تحقیق کے حوالے سے پیچھے ہے۔

    نوشین حامد نے ان رکاوٹوں کے باوجود ملک میں کورونا وائرس کے ٹیسٹوں کے لیے تشخیصی کٹس اور وینٹی لیٹرز کی کامیابی سے تیاری کو سراہا۔

  18. کورونا وائرس سے صحت یابی کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟

    دنیا میں اب تک لاکھوں افراد کووڈ 19 سے مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں لیکن صحت یابی کا دورانیہ مختلف لوگوں میں مختلف ہوسکتا ہے۔ کم علامات والے متاثرین ایک ہفتے میں صحت یاب ہوسکتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق سنگین معاملات میں یہ دورانیہ ایک سال سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔کورونا وائرس سے صحت یابی کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے، جانیے اس ویڈیو میں

  19. ٹوکیو میں 35 نئے متاثرین کی تصدیق، نو کا تعلق نائٹ لائف کے مشہور ضلع سے

    جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں میٹروپولیٹن کے سرکاری عہدیداروں نے شہر میں کورونا وائرس کے 35 نئے مریضوں کی تصدیق کی ہے۔

    مسلسل چوتھے دن یومیہ مریضوں کی تعداد 30 سے زیادہ رپورٹ کی گئی ہے۔

    نائٹ لائف کے مشہور ضلع شینجوکو وارڈ کی حکومت کی طرف سے کی گئی گروپ ٹیسٹنگ میں 35 میں سے نو مثبت متاثرین کی شناخت ہوئی ہے۔

  20. جنوبی کوریا میں کورونا کے 48 نئے مریضوں کی تصدیق

    جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے 48 نئے متاثرین کی اطلاع ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کے خلاف کامیابی حاصل کرلی گئی تھی لیکن اب صحت کے حکام وبا کی اس نئی لہر پر قابو پانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔

    کوریا میں امراض پر قابو پانے اور روک تھام کے مراکز کے اتوار کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق متاثرین کی کل تعداد12421 ہے جبکہ اب تک 280 اموات ہوئی ہیں۔

    نئے متاثرین میں سے 24 سیول میٹروپولیٹن کے گنجان آباد آبادی والے علاقے سے سامنے آئے ہیں، جو مئی کے آخر سے ملک میں وبا کا مرکز رہا ہے۔

    وسطی شہر ڈیجیون سے دیگر دس مریضوں کی اطلاع ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی سرگرمیوں میں اضافے اور معاشرتی فاصلوں کا خیال نہ رکھنے کے سبب یہ وائرس زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلنا شروع ہو رہا ہے۔