آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پشاور لاک ڈاؤن: بازار میں مقیم خاندانوں کی مشکلات

    پشاور رامداس بازار لاک ڈاؤن کی وجہ سے مکمل بند ہے جبکہ بازار کے اندر مقیم 500 سے زائد گھرانوں کو لاک ڈاؤن کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    رامداس بازار کے صدر رحمان گل کا کہنا ہے کہ ہم نے ہر مشکل میں حکومت کا ساتھ دیا ہے اور اب بھی دیں گے لیکن حکومت عوام کے ساتھ تعاون کرے۔

    انھوں نے حکومت سے بلاسود قرضے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ مکان، دکانوں کا کرایہ اور بل ادا کیے جا سکیں۔

  2. آسٹریلیا: نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد دوبارہ سخت پابندیاں لاگو

    آسٹریلیائی کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ریاست نے مسلسل چوتھے روز کورونا وائرس متاثرین میں دوگنے اضافے کے بعد گھروں اور عوامی اجتماعات پر دوبارہ سخت پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔

    وکٹوریہ کے وزیر اعظم ڈینیئل اینڈریوز نے بوسہ لینا اور گلے ملنا جیسے عوامل میں ملوث ہونے اور معاشرتی رابطے سے متعلق رہنما اصولوں کو نظرانداز کرنے پر شہریوں کی سخت سرزنش کی۔

    اس کے ساتھ ہی انھوں نے گھر میں ملنے جلنے کے لیے جمع ہونے والے افراد کی حد تعداد پانچ اور عوامی اجتماعات میں 10 کردی۔

    نئی پابندیوں کا اطلاق 12 جون تک رہے گا۔

    ریاستی عہدیداروں نے سنیچر کے روز 25 نئے متاثرین کی تصدیق کی جن میں ایسے خاندان بھی شامل ہیں جنھوں نے ایسے ہوٹل میں محفلیں منعقد کیں جہاں مسافروں کو قرنطینہ کیا گیا تھا۔

  3. برطانیہ: دو میٹر سماجی دوری کے اصول سے متعلق نتیجے کا اعلان جلد متوقع

    ایک برطانوی وزیر کے مطابق حکومت آنے والے دنوں میں دومیٹر سماجی دوری کے اصول سے متعلق نتیجے کا اعلان کرے گی۔

    بہت سارے کاروباری افراد خاص طور پر مہمان نوازی اور تفریحی شعبوں سے وابستہ افراد کا کہنا تھا کہ لوگوں کو دو میٹر کے فاصلے پر رکھنے والے اصول کے باعث انھیں لاک ڈاؤن کے بعد دوبارہ کاروبار کی بحالی میں مشکلات درپیش ہیں۔

    لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے بعد انہیں تیز رفتار سے واپس آنے سے روکیں گے۔

    جمعہ کے روز وزیر ثقافت اولیور ڈاؤڈن نے بی بی سی ریڈیو کو بتایا ’ہم نے دو میٹر سے ایک میٹر کے قاعدے پر نظرثانی کرنے کا عہد کیا ہے اور ہم جلد ہی اس پر نتیجہ اخذ کریں گے۔‘

  4. کورونا وائرس: 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟

    کھرنڈ پیس کر مریضوں کی ناک میں چڑھانا یا زخم کی پس تندرست فرد کو لگانا سننے میں تو بہت عجیب لگتا ہے لیکن ویکسین کی تیاری کی تاریخ میں ان دونوں اعمال کا بہت اہم کردار ہے۔ جانیے ویکسین کی ایک ہزار سال قدیم تاریخ بی بی سی کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  5. بریکنگ, بلاول بھٹو: صحت کے تحفظ کے لیے مختص پیسہ حکومتی ایم این ایز کو دیا جا رہا ہے

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سنیچر کو کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے بجٹ میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کو اولین ترجیح نہیں سمجھا۔

    پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ: ’صحت کے تحفظ کے لیے مختص پیسہ حکومتی ایم این ایز کو دیا جا رہا ہے۔۔۔ صوبوں کو کہا جا رہا ہے کہ خود اپنے بجٹ سے اقدامات کریں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہر صوبے کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ ’سندھ کو 229 ارب روپے کم دیے گئے ہیں۔ باقی صوبوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہورہی ہے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ وقت صوبائی حکومتوں کی حمایت کرنے کا تھا۔ ’تحریک انصاف کی حکومت نے وبا کی آمد سے ہر متنازع مسئلہ چھیڑ دیا ہے۔۔۔ جنگ جیسی قدرتی آفت کے مقابلے میں حکومت ناکام رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’بجٹ کووڈ 19 سے مقابلے، ڈاکٹروں اور نرسوں کی سہولت اور عوام کے ریلیف کے لیے استعمال ہونا تھا۔۔۔ حکومت کا بجٹ صحت اور معاشی صورتحال کو تحفظ نہیں دیتا۔‘

  6. امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کی ریلی میں ماسک لازم قرار دینے کا مطالبہ مسترد کردیا

    امریکہ کی ریاست اوکلاہوما کی سپریم کورٹ نے ایک ایسی درخواست مسترد کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں تمام شرکا کے لیے چہرے پر ماسک پہننا لازم ہونا چاہیے۔

    یہ مطالبہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے اور سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا تھا۔

    عدالت کے دو ججز نے کہا کہ مقامی شہری جو ٹرمپ کی ریلی میں احتیاطی تدابیر لازم قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ عدالت کے سامنے یہ ثابت نہیں کرسکے کہ وہ اس ریلیف کے مطالبہ کا حق رکھتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کی ریلی گذشتہ مہینوں کے دوران امریکہ کی سب سے بڑی اِن ڈور تقریب قرار دی جارہی ہے۔

    درخواست ایسے دو افراد نے دائر کی تھی جنھیں کووڈ 19 سے ’خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔‘

    ریاست میں جمعے کو کورونا کے 359 نئے متاثرین اور ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔ اب تک یہاں کووڈ 19 کی وجہ سے 9706 متاثرین اور 367 اموات ہوچکی ہیں۔

  7. جنوبی کوریا میں یومیہ متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

    جنوبی کوریا میں گذشتہ تین ہفتوں کے دوران کورونا وائرس کے یومیہ متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ سامنے آیا ہے۔

    حکومتی عہدیداروں کے مطابق مزید67 مریضوں کے بعد ملک میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 12373 ہو گئی ہے جبکہ اب تک 280 اموات ہوئی ہیں۔

    جنوبی کوریا میں 28 مئی کو 79 متاثرین رپورٹ ہونے کے بعد سے یومیہ متاثرین کی تعداد میں یہ اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نئے مریضوں میں سے 31 ملک سے باہر سے آئے ہیں جبکہ دیگر 36 مقامی منتقلی کے کیسز ہیں۔

    جنوبی کوریا میں مئی کے آغاز میں معاشرتی دوری کے قواعد میں نرمی کی گئی تھی جس کے بعد متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    نئے متاثرین کا تعلق نائٹ لائف کلبز، چرچ، ای کامرس کے ایک بڑے گودام اور گھر گھر جا کر اشیا بیچنے والوں سے ہے۔

  8. خیبر پختونخوا: ریسکیو 1122 کا عملہ بھی کورونا سے متاثر

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ڈی جی ریسکیو 1122 ڈاکٹر خطیر احمد کے مطابق ہنگامی صورتحال سے متعلق امدادی ادارے کے 49 اہلکار کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    ’ریسکیو1122 کے ڈائریکٹر پلاننگ، ڈپٹی ڈائریکٹر مینٹینس اور تین خواتین اہلکار بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوئی ہیں۔‘

    ڈاکٹر خطیر احمد کا کہنا ہے کہ پشاور، نوشہرہ ، چارسدہ ، ہنگو اور خیبر میں قائم ریسکیو سروسز کے سربراہان بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔ ’دوران ڈیوٹی متاثر ہونے والے اہلکاروں کے حوصلے بلند اور عوامی خدمت کا جذبہ دیدنی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا ہے کہ اس کے باوجود صوبے کے 26 اضلاع میں ریسکیو 1122 کی خدمات و سہولیات اب بھی ہر وقت جاری ہیں۔

    ’ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے اب تک دو ہزار سے زائد ممکنہ اور مشتبہ مریضوں کو ہسپتال و قرنطینہ سینٹرز منتقل کیا۔ روزمرہ کی بنیاد پر صوبے کے مختلف اضلاع میں جراثیم کش سپرے بھی جاری ہے۔‘

  9. ویکسین کی کھوج کے دوران بندروں کی طلب، قیمت میں اضافہ

    کورونا کی ویکسین تلاش کرنے والی ایک چینی لیبارٹری میں سائنسدان پورے ہفتے کام میں مصروف رہتے ہیں اور چھٹی بھی نہیں لے پاتے۔ جبکہ یہاں بندروں پر ویکسین کی آزمائش سے قبل ان کی کمی واقع ہوگئی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی لیب یشینگ بائیو فارما گذشتہ جنوری سے ویکسین کی تلاش میں شامل ہے۔ کمپنی اپنی ویکسین کی آزمائش جانوروں پر کر رہی ہے جبکہ اس کے بعد انسانوں کی باری آتی ہے۔

    ان کے مطابق چوہوں اور خرگوشوں پر ویکسین کے اچھے نتائج آئے ہیں جس سے جسم میں اینٹی باڈیز بننے میں مدد ملی۔

    کمپنی کے مطابق ویکسین صرف وائرس سے محفوظ نہیں رکھے گی بلکہ مریضوں کو صحتیاب ہونے میں بھی مدد دے گی۔

    کمپنی کے لیے اگلا مرحلہ ویکسین کی بندروں پر آزمائش ہے۔ یہ مرحلہ اب مہنگا ہوگیا ہے کیونکہ کئی لیبارٹریاں کووڈ 19 کے لیے اپنی ادویات اور ویکسینز کی بندروں پر آزمائش کر رہی ہیں جس سے ان کی طلب کافی زیادہ ہوگئی ہے۔

    لیبارٹری کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق پہلے ہر بندر کے لیے 1400 سے 2800 ڈالر ادا کرنا پڑتے تھے۔ لیکن اب ہر بندر کے لیے 14 ہزار ڈالر تک دینے پڑ سکتے ہیں۔

    چین پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر لیبارٹریوں کے لیے بندروں کی برآمد کرتا ہے۔

  10. کورونا: زندگی بچانے والی پہلی دوا؟

    کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔

    برطانیہ میں ماہرین نے اس دوا کو کتنا مفید قرار دیا ہے؟ اس دوا کے بارے میں مزید تفصیلات بتا رہی ہیں ہدیٰ اکرام ہمارے ساتھی موسیٰ یاوری کی اس پوڈکاسٹ میں

  11. امریکہ کی کئی ریاستوں میں کووڈ 19 کے متاثرین میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اوکلاہوما ریاست میں ایک ریلی کی صدارت کرنے سے ایک دن قبل امریکہ کی متعدد ریاستوں، خاص طور پر جنوب اور مغرب میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی شرح میں پریشان کن حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    یاد رہے اوکلاہوما ریاست میں منعقد ہونے والی یہ ریلی مہینوں بعد امریکہ میں سب سے بڑا انڈور اجتماع ہوگا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وال سٹریٹ کووڈ 19 انفیکشن کی تعداد میں دوبارہ اضافے پر حیرت زدہ ہے جبکہ ریاستیں طویل عرصے بند رہنے کے بعد تجارت سرگرمیاں بحال کر رہی ہیں اور سماجی دوری کے اقدامات میں نرمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ ٹیسٹنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ کے ہسپتالوں میں داخل ہونے والے متاثیرن کی تعداد میں بھی بڑا اضافہ ہوا ہے۔

    ایریزونا کے ہسپتال میں ایمرجنسی روم فزیشن ڈاکٹر مرتضیٰ اختر کا کہنا ہے کہ یقینی طور پر متاثرین تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

    ’ہمیں تشویش ہے کہ آنے والے دو ہفتوں میں ہمیں ناجانے کیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

  12. پنجاب میں گذشتہ روز ریکارڈ اموات

    پنجاب میں گذشتہ ایک روز کے دوران کورونا کے 2538 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں اور اب صوبے میں کل تعداد 64216 ہوگئی ہے۔

    حکام کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس سے مزید 82 اموات جبکہ کل 1347 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    اب تک 407,083 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ 17,964 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  13. کورونا سے اموات چار لاکھ 60 ہزار سے تجاوز کر گئیں

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک دنیا بھر میں کورونا سے 460,043 اموات ہوچکی ہیں۔

    سب سے زیادہ اموات ان ممالک میں پیش آئی ہیں:

    امریکہ 119,131

    برازیل 48,954

    برطانیہ 42,546

    اٹلی 34,561

    فرانس 29,620

    سپین 28,315

    میکسیکو 20,394

    انڈیا 12,948

    بیلجیئم 9,695

    ایران 9,392

  14. اسلام آباد: ’31 سے 45 سال کے افراد کو کورونا سے زیادہ خطرہ‘

    اسلام آباد میں صحت کے ضلعی آفیسر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت میں 31 سے 45 سال عمر کے افراد کو کورونا سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ 19 جون کو شہر میں 373 افراد کورونا سے صحتیاب ہوئے جبکہ 304 نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی۔

    شہر میں اب تک 9941 کل متاثرین سامنے آچکے ہیں جبکہ 95 اموات ہوئی ہیں۔

    19 جون کو کونٹیکٹ ٹریسنگ کی مدد سے 9616 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔

    یاد رہے کہ شہر میں اب عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازم قرار دے دیا گیا ہے۔

  15. سوئس دوا ساز کمپنی نووارٹیس نے ہائیڈروکلوروکوین کے تجربات روک دیے

    سوئس دوا ساز کمپنی نووارٹیس نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ملیریا کے مریضوں پر استعمال ہونے والی دوا ہائیڈروکلوروکوین کے تجربات روک رہی ہے کیونکہ انھیں ٹرائلز کے لیے لوگ نہیں مل رہے۔

    کچھ تحقیقات میں سامنے آنے والے ڈیٹا سے ایسے اشارے ملے ہیں جو اس دوا کی افادیت سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔

    یاد رہے اپریل میں کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ کورونا وائرس کا شکار 440 زیر علاج مریضوں پر ملیریا کے لیے استعمال ہونے والی دوا ہائیڈروکلوروکوین کا تجربہ کرنے کے لیے ان کا امریکہ کے ساتھ معائدہ ہو گیا ہے۔

    لیکن یہ منصوبہ صرف مٹھی بھر افراد کو بھرتی کرنے میں کامیاب رہا۔

    نووارٹیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بھرتی کے لیے پیش آنے والی مشکلات نے اس بات کا امکان کم کر دیا ہے کہ ہماری کلینکل ٹیم مقررہ وقت میں کورونا وائرس کا شکار زیرِ علاج مریضوں سے قابلِ بھروسہ ڈیٹا حاصل کر پائے گی۔

  16. کورونا وائرس: پالتو جانور مالکان کے خوف کی وجہ سے بے گھر

    مشرقِ وسطیٰ میں کچھ پالتو جانوروں کے مالکان نے کورونا وائرس کے خدشے کی وجہ سے انھیں اپنے پاس رکھنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ یہ ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا کہ وائرس کے پھیلاؤ میں جانوروں کا کوئی قابلِ ذکر کردار ہے۔

  17. بیجنگ میں ہزاروں ڈیلیوری بوائز کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں

    چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کھانے اور پارسل کی ڈیلیوری اہلکاروں کے بھی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک مارکیٹ سے کورونا کے نئے متاثرین میں اضافے کے بعد شہر میں ٹیسٹنگ میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

    پہلے ٹیسٹنگ صرف رہائشی علاقوں تک محدود تھی لیکن اب اسے مارکیٹ، دکانوں اور کاروباری مراکز میں بھی کیا جا رہا ہے۔

    شہر میں ہزاروں ڈرائیوری بوائز کے بھی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جو روزانہ متحرک رہتے ہیں۔

    ایک کمپنی کے مطابق صارفین اب کسی ڈیلیوری بوائے کا درجہ حرارت اور انفیکشن سے متعلق پارسل کی تفصیلات انٹرنیٹ پر دیکھ سکیں گے۔

    آئندہ ہفتے سے شہر کے تمام کوریئر کے عملے کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے وائرس پارسلز کی وجہ سے پھیلا ہو۔ جمعے کو 22 نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی۔

    جون 11 سے شہر میں 200 سے زیادہ ایسے نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے جن میں وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا۔

  18. پاکستان: ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 839 دکانیں اور تین صنعتی یونٹ سیل

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 9305 جگہوں پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دی گئی ہدایات یا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی گئی۔

    نیشل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق ان میں سے 839 سے زیادہ مارکیٹوں یا دکانوں اور تین صنعتی یونٹس کو سیل کیا گیا۔

    اس کے علاوہ 1522 ٹرانسپورٹروں پر بھی جرمانہ کیا گیا۔

    پاکستان بھر میں ایس اور پیز کی خلاف ورزیوں اور ان پر عمل درآمد کے اقدامات کی تفصیلات:

    سندھ:

    خلاف ورزیاں: 681

    بند یا سیل: بازار یا دکانیں 70، ٹرانسپورٹ 8

    پنجاب:

    خلاف ورزیاں: 2287

    بند یا سیل: بازار یا دکانیں 368، صنعت یونٹ 2، ٹرانسپورٹ 987

    خیبر پختونخوا:

    خلاف ورزیاں: 4684

    بند یا سیل: بازار یا دکانیں 167، ٹرانسپورٹ 115

    بلوچستان:

    خلاف ورزیاں: 703

    بند یا سیل: بازار یا دکانیں 97

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر:

    خلاف ورزیاں: 683

    بند یا سیل: بازار یا دکانیں 73، صنعت یونٹ 1، ٹرانسپورٹ 285

    گلگت بلتستان:

    خلاف ورزیاں: 267

    بند یا سیل: بازار یا دکانیں 64، ٹرانسپورٹ 127

  19. کورونا وائرس: جرمنی میں 601 نئے متاثرین

    جرمنی میں کورونا وائرس سے متاثرہ 601 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

    جرمنی میں متعدی بیماریوں کے ادارے رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ (آر کے آئی) کے سنیچر کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد 189،135 ہوگئی ہے۔

  20. کورونا سے صحتیابی میں کتنا وقت لگتا ہے؟

    دنیا میں اب تک لاکھوں افراد کووڈ 19 سے مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں لیکن صحت یابی کا دورانیہ مختلف لوگوں میں مختلف ہوسکتا ہے۔

    کم علامات والے متاثرین ایک ہفتے میں صحت یاب ہوسکتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق سنگین معاملات میں یہ دورانیہ ایک سال سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔