آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’پاکستان ان چار ممالک میں شامل جہاں کورونا کیسز اور اموات کی شرح بڑھ رہی ہے‘

    پاکستان عالمی سطح پر ان چار ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں کورونا کے مصدقہ متاثرین اور اس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی شرح میں مسلسل اور تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    ایسے ممالک میں سرِفہرست برازیل ہے جبکہ میکسیکو، انڈیا اور پاکستان بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔

    اگرچہ چند ممالک ایسے ہیں جہاں اب بھی یومیہ متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہے تاہم ایسے ممالک میں یہ شرح ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہو رہی ہے تاہم ان چار ممالک میں یہ شرح بتدریج بڑھ رہی ہے۔

    لاطینی امریکہ کے ممالک میں کورونا کیسز کی بڑھتی تعداد اور ہلاکتوں کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ لاطینی امریکہ کورونا وبا کا نیا مرکز ہے۔

    یہ تفصیلات بی بی سی کی ’ویژویل اینڈ ڈیٹا جنرنلزم ٹیم‘ نے فراہم کی ہیں جو کہ اس عالمی وبا کے پھیلاؤ کی ٹریکنگ کر رہی ہے۔

  2. سکاٹ لینڈ: کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد پانچویں دن بھی صفر

    سکاٹ لینڈ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے کوئی نئی ہلاکت سامننے نہیں آئی ہے۔ یہ جون کا پانچواں دن ہے جب سکاٹ لینڈ میں کورونا وائرس کے باعث کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی ہے۔

    اس وقت سکاٹ لینڈ میں ہلاکتوں کی کُل تعداد 2472 ہے۔

    مثبت متاثرین میں سے 518 فی الوقت ہسپتال میں ہیں جبکہ 16 مریض انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں ہے۔

    سکاٹ لینڈ میں پیر سے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کی جا رہی ہے۔

    مگر حکومت کی جانب سے ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر اموات کی کم تعداد کے حوالے سے خبردار کیا جاتا رہا ہے۔

  3. اینٹی باڈیز ٹیسٹ کیا ہوتا ہے اور کی اہمیت کیوں زیادہ ہے؟

    پاکستان میں کئی لیبارٹریاں کورونا وائرس کے لیے اینٹی باڈی ٹیسٹ کر رہی ہیں۔ برطانوی ادارے پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے بھی کورونا وائرس کے لیے ایک نیا اینٹی باڈی ٹیسٹ منظور کر لیا ہے۔

    آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے اور اس کی اہمیت کیوں زیادہ ہے۔

  4. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید 32 افراد میں وائرس کی تصدیق, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سات خواتین سمیت 32 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 845 ہو گی ہے۔

    حکام کے مطابق متاثر ہونے والے افراد میں ایک ڈاکٹر اور دو پیرا میڈیکل عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔

    ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا آئسولیشن ہسپتال میں زیر علاج کورنا کا ایک مریض دم توڑ گیا جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 20 ہوگی ہے۔

    ان کے مطابق نئے متاثرہ افراد میں سے 19 افراد کا تعلق مظفرآباد، چھ افراد کا بھمبر، چار افراد کا میرپور جبکہ تین کا تعلق کوٹلی سے ہے۔

    کام کے مطابق مزید 12 مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 348 تک پہنچ گی ہے۔

  5. نیدرلینڈز: لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر واٹر کینن کا استعمال, اینا ہولیگن، بی بی سی نیوز، دی ہیگ

    نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں پولیس نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ایک پرامن گروہ میں مخالف فٹ بال شائقین گروہوں کے شامل ہوجانے پر واٹر کینن کا استعمال کیا ہے۔

    مظاہرے میں شامل چند افراد نے پولیس پر سخت گیر رویہ رکھنے کا الزام عائد کیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیوز میں لاٹھی اور ڈھال بردار پولیس اہلکاروں کو ایک مشتعل ہجوم کو پیچھے دھکیلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکام نسل پرستی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی اجازت دے کر مگر اسی شہر میں اسی مقام پر لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کی اجازت نے دے کر منافقت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

    شہر کے مرکز میں سڑکوں کو بند کر دیا گیا ہے اور ٹریفک کو دوسری جگہوں سے موڑا جا رہا ہے۔ بظاہر حکام وہاں امن بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

  6. متعلقہ ادارے بروقت مویشی منڈیوں کے حوالے سے حکمت عملی طے کریں: محمد سرور

    گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا ہے کہ عیدالضحی کے موقع پر اگر شہریوں نے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل نہ کیا تو کورونا وائرس کا پھیلاؤ تیز ہو سکتا ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے کہا کہ اس موقع پر ملک بھر میں لگنے والی مویشی منڈیوں کے ذریعے وائرس پھیلنے کے خدشات موجود ہیں اور اسی لیے صوبے بھر کے تمام متعلقہ اداروں اور حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس حوالے سے بروقت حکمت عملی کا تعین کر لیں۔

    گورنر پنجاب نے ملک بھر کے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی خدمات کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

  7. برطانیہ: 24 گھنٹوں میں مزید 43 افراد ہلاک

    برطانیہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 43 مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد یہاں کورونا وائرس کے سبب ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 42 ہزار 632 ہو گئی ہے۔

    اس کے علاوہ یہاں گذشتہ روز 1221 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

  8. کووڈ 19 کے مریضوں کی جان بچانے والی دوا ’ڈیکسامیتھازون‘ ماہرین کی نظر میں کیسے آئی؟

    یہ ایک غیر معمولی اور خوش آئند لمحہ ہے کہ ہم کووڈ 19 کے علاج کے بارے میں کچھ مثبت کہنے کے قابل ہوئے ہیں۔

    ایک ہفتے پہلے تک جان بچانے والی کسی بھی دوا کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی لیکن اب ہمارے پاس ڈیکسامیتھازون ہے، جس سے وینٹیلیٹر پر موجود ایک تہائی مریضوں میں موت کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے اور جو مریض آکسیجن پر ہوں ان میں سے 20 فیصد کو بچایا سکتا ہے۔

    میں ’اہم پیشرفت‘ جیسی اصطلاح کا استعمال کم ہی کرتا ہوں لیکن اس معاملے میں واقعی ایسا ہی ہوا ہے۔

    ایسا آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک چھوٹی سی ٹیم کی استقامت اور یک جہتی اور برطانیہ بھر کے ہسپتالوں کے تعاون اور ہزاروں مریضوں اور ان کے اہلخانہ کی رضامندی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

    وہ مطالعہ جس کا ڈیکسامیتھازون ایک حصہ ہے، اس کا نام ’ریکوری‘ ہے۔ طبی آزمائشیں عام طور پر مہینوں جاری رہتی ہیں، کبھی کبھی ان میں کئی سال بھی لگ جاتے ہیں اور اس میں سینکڑوں مریض بھی شامل ہوتے ہیں۔

  9. پاکستان: گذشتہ ایک ہفتے میں ساڑھے 38 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 38854 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، یعنی یومیہ ساڑھے پانچ ہزار نئے مریض۔

    20 جون کو سامنے آنے والے متاثرین کی تعداد 4951، 19 جون کو 6604، 18 جون کو 4944، 17 جون کو 5839، 16 جون کو 4443، 15 جون کو 5248 جبکہ 14 جون کو سامنے آنے والے متاثرین کی مجموعی تعداد 6825 تھی۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں شرح اموات دو فیصد جبکہ صحت یاب ہونے والے متاثرین کی اوسط 38.4 فیصد ہے۔

  10. یمن میں کورونا وائرس کی صورتحال اس قدر خراب کیوں ہے؟

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی دیگر ممالک کے برعکس یمن میں کورونا وائرس زیادہ تیزی سے، زیادہ بڑی آبادی میں اور زیادہ خطرناک نتائج کے ساتھ پھیل سکتا ہے۔ اس کی پانچ وجوہات ہیں۔

    • یمن ابھی تک جنگ کی صورتحال میں ہے۔ 2015 سے اب تک یمن میں تنازع جاری ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ صحت کے نظام، صاف پانی، نکاسی آب وغیرہ کی صورتحال سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ تمام چیزیں وائرس کو روکنے کے لیے اہمیت کی حامل ہیں۔
    • یہاں پر دنیا کا بدترین انسانی المیہ جاری ہے۔ یمن میں موجود صورتحال کی وجہ سے آبادی کسی بھی وبائی مرض کا شکار ہونے کے خطرے کی خاص طور پر زد میں ہے۔
    • یمن کا نظامِ صحت تباہ ہو چکا ہے۔ جنگ کی وجہ سے یہ کسی وبا سے نمٹنے کے قابل نہیں رہا ہے۔
    • یہاں پر کورونا وائرس کے متاثرین کی حقیقی تعداد اب بھی معلوم نہیں ہے۔ اور کس کس کو کورونا وائرس ہے، یہ جانے بغیر اس کا پھیلاؤ روکنا ناممکن ہے۔
    • طبی عملہ خود بھی وائرس کی زد میں ہے۔ دواؤں کے علاوہ طبی عملے کو ذاتی حفاظتی سامان کی کمی کا بھی سامنا ہے جس میں گاؤن، ماسک وغیرہ شامل ہیں۔
  11. کورونا وائرس اور عام نزلہ زکام میں کیا فرق ہے؟

    کورونا وائرس کی دو اہم علامات ہیں، یہ بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی ہوتی ہے۔

    مگر آپ یہ کیسے جانچ سکتے ہیں کہ جو علامات آپ محسوس کر رہے ہیں وہ عام نزلہ زکام ہے یا کورونا وائرس؟

  12. تین فیصد آبادی کو لاک ڈاؤن کر کے کورونا کا پھیلاؤ 40 فیصد تک روکا جا سکتا ہے: اسد عمر

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ملک بھر کے 20 شہروں میں 92 ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی ہے۔

    اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ یہ 92 ہاٹ سپاٹس دراصل وہ علاقے ہیں جہاں احتیاطی تدابیر نہ ہونے اور دیگر وجوہات کی بنا پر کورونا بہت تیزی سے پھیل رہا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ہاٹ سپاٹس کی تفصیلات تمام متعلقہ صوبوں کو فراہم کر دی گئی ہیں تاکہ صوبے اپنے اپنے علاقوں میں صحت سے متعلق ضروری اقدامات کر سکیں۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کرنے کی بجائے ہاٹ سپاٹس پر سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی بہت بہتر ہے۔

    انھوں نے آگاہ کیا کہ ان 92 ہاٹ سپاٹس میں پورے پاکستان میں موجودہ مصدقہ متاثرین کا 40 فیصد حصہ بستا ہے جبکہ یہ علاقے پوری پاکستان کی آبادی کا صرف تین فیصد ہیں۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صرف تین فیصد آبادی کو لاک ڈاؤن کر کے اس مرض کے 40 فیصد متاثرین کو وائرس آگے منتقل کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے آگاہ کیا کہ اسلام آباد میں مزید 189 آکسیجن بیڈز فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ جولائی کے آخر تک ملک بھر میں 2100 آکسیجن بیڈز کا اضافہ کیا جائے گا۔

  13. برازیل میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہزار کے قریب، لاطینی امریکہ کی مجموعی صورتحال

    برازیل میں کورونا وائرس کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سنیچر کو 49 ہزار 976 تک پہنچ گئی ہے۔ ملکی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک یہاں 10 لاکھ 67 ہزار 579 لوگوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے تاہم اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ناکافی ٹیسٹنگ کے باعث یہ تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔

    دنیا بھر میں امریکہ کے بعد اموات اور ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد برازیل میں ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ برازیل میں وبا اپنے عروج سے اب بھی کئی ہفتے دور ہے اور یہ کہ وائرس ملک کے دریائی علاقوں اور دیسی برادریوں میں بھی پھیل رہا ہے۔

    دوسری جانب ایک اور لاطینی امریکی ملک چلی نے سنیچر کو اعلان کیا ہے کہ وہ گنتی کے ایک نئے طریقہ کار کے تحت مزید 3069 ہلاکتیں اپنے اعداد و شمار میں شامل کرے گا۔

    اب تک وہاں پر دو لاکھ 37 ہزار سے زیادہ مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔ نظرِ ثانی شدہ اعداد و شمار کے ساتھ وہاں اموات کی تعداد سات ہزار سے بڑھ جائے گی۔

    میکسیکو میں دارالحکومت میکسیکو سٹی کے میئر نے کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں کمی تک کاروبار کھولنے کے منصوبے کو مؤخر کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شہر میں لاک ڈاؤن کا سخت ترین درجہ اگلے ہفتے تک جاری رہے گا۔

    میکسیکو میں اب تک کورونا وائرس کے سبب 20 ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد مصدقہ متاثرین موجود ہیں، مگر وہاں بھی ناکافی ٹیسٹنگ کے باعث متاثرین کی تعداد زیادہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ میکسیکو سٹی ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ ہے۔

  14. بنا علامات اور ’خاموشی‘ سے بیماری پھیلانے والے اس وبا کو کیسے پیچیدہ بنا رہے ہیں؟, ڈیوِڈ شکمین، بی بی سی سائنس ایڈیٹر

    کورونا وائرس کا بحران جیسے جیسے بڑھا، سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے ایک عجیب اور پریشان کن پہلو کے بارے میں مزید شواہد ڈھونڈ لیے ہیں۔

    جہاں اس سے متاثرہ بہت سے افراد میں کھانسی اور بخار کے ساتھ ساتھ کھانے اور سونگھنے کی حس متاثر ہوتی ہے، وہیں کئی لوگ ایسے بھی ہیں جن میں اس بیماری کی کوئی علامات نہیں پائی جاتیں اور انھیں اس بات کا ہرگز علم نہیں ہوتا کہ انھیں کووڈ 19 ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایسے کتنے لوگ ہیں اور کیا یہ سائلنٹ سپریڈر یعنی خاموش سے اس بیماری کو پھیلا کر اس وبا کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

  15. وزیر اعلیٰ سندھ نے 140 بستروں کی گنجائش والے ’ہائی ڈیپینڈنسی یونٹ‘ کا افتتاح کر دیا

    وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایکسپو سینٹر کراچی میں ’ہائی ڈیپینڈنسی یونٹ‘ کا افتتاح کر دیا ہے۔ 140 بستروں اور سات کمروں کی گنجائش والے اس یونٹ کو دس روز میں تعمیر کیا گیا ہے۔

    اس یونٹ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ اس سہولت کے قیام سے اب سندھ میں مزید 140 آکسیجن والے بیڈز مریضوں کو دستیاب ہوں گے جس کی مدد سے صوبے کے دیگر ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کچھ کم ہو گا۔

    انھوں نے آگاہ کیا کہ اس یونٹ میں صرف ان شدید بیمار کورونا متاثرین کو رکھا جائے گا جنھیں زندہ رہنے کے لیے مصنوعی تنفس کی ضرورت ہو گی۔

    مراد علی شاہ کے مطابق اس یونٹ کے ہر وارز میں تربیت یافتہ پیرا میڈیکل سٹاف ہمہ وقت موجود رہے گا جبکہ اس یونٹ کے لیے آکسیجن پہلے ہی وافر مقدار میں فراہم کر دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل آرمی ایکسپو سینٹر کراچی میں 1200 بیڈز پر مشتمل فیلڈ آئسولیشن سینٹر بنا کر صوبائی حکومت کے حوالے کر چکی ہے۔

    وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے میں پہلے ہی 1553 آکسیجن والے بیڈز کی سہولت میسر ہے اور اب اس میں مزید 140 بستروں کا اضافہ ہو گیا ہے۔

  16. ’کاش میں اپنے عزیز کو ہسپتال نہ بھیجتی‘

    پاکستان میں اس وقت کورونا کے مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں بستروں، ادویات، طبی آلات اور وینٹیلیٹرز کا حصول دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

    اس بات کا اندازہ ہماری ساتھی ترہب اصغر کو اس وقت ہوا جب انھیں خود اپنے ایک عزیز کو ہسپتال میں داخل کروانے کے لیے بہت سے اعلیٰ حکام سے التجائیں کرنی پڑیں۔ اس دن کی کہانی سنیے ترہب اصغر کی ہی زبانی، اس پوڈکاسٹ میں۔

  17. بخار، کھانسی اور سانس میں دشواری، اس بیماری کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور اب تک مصدقہ متاثرین کی تعداد 83 لاکھ اور ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ہے۔ پاکستان پر نظر ڈالیں تو وہاں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ تین ہزار سے زیادہ افراد اس وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔

    سو سوال یہ ہے آپ اسے کیسے شناخت کر سکتے ہیں۔

    یہ وائرس پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے اور دو بنیادی علامات بخار اور مسلسل خشک کھانسی ہیں۔

    صحت کے برطانوی قومی ادارے کے مطابق خشک کھانسی کا مطلب گلے میں خراش پیدا کرنے والی ایسی کھانسی جس میں بلغم نہیں نکلتا۔

  18. کورونا سے دنیا میں حقیقتاً کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں؟

    بی بی سی ریسرچ کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث باضابطہ طور پر چار لاکھ 64 ہزار ریکارڈ کی گئی اموات کے علاوہ بھی اس مرض سے کم از کم ایک لاکھ 30 ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    27 ممالک میں اموات کی ابتدائی شرح کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ وائرس کے اثرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے بھی کئی مقامات پر وبا کے دوران ہلاکتوں کی مجموعی تعداد معمول سے زیادہ رہی ہے۔

    یہ ‘اضافی اموات’ یعنی اوسط سے زیادہ اموات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کورونا کی وبا کے انسانوں پر اثرات سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہیں۔

    تفصیلی ڈیٹا کے لیے اس لنک پر آئیے۔

  19. پنجاب کے تمام اضلاع میں کورونا کے متاثرین اور ہلاکتوں کی صورتحال

    اگر آپ صوبہ پنجاب کے رہائشی ہیں جو مندرجہ ذیل چارٹ کے ذریعے آپ جان سکتے ہیں کہ اس وقت آپ کے ضلعے میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد کتنی ہے اور اب تک کتنی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

  20. صوبہ پنجاب میں اب تک 983 ہیلتھ کیئر ورکرز میں کورونا کی تشخیص ہو چکی ہے

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں اب تک صحت کے شعبے سے منسلک 4608 مشتبہ ہیلتھ ورکرز کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    اب تک پنجاب میں 983 ہیلتھ کیئر ورکرز میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق ہیلتھ کیئر ورکرز میں کورونا وائرس مثبت ہونے کی شرح 21 فیصد ہے۔