کورونا وائرس: بلوچستان میں کورونا کے 304 نئے مریض، خیبرپختونخوا میں متاثرین 15 ہزار سے زیادہ

دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, کم از کم ایک ہزار مریضوں پر ’ایکٹیمرا‘ انجکشن کے ٹرائلز کرنے جا رہے ہیں، یاسمین راشد

    کورونا وائرس سے بچانے والے انجکشن ’ایکٹیمرا‘ کے ٹرائلز سے متعلق ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ پبلک سیکٹر میں کم از کم ایک ہزار مریضوں پر ٹرائل کر سکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس انجکشن کے فوائد نظر آئے ہیں اور ہم نے اس پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا ’دنیا کے مقابلے میں ہم بہت بڑا ٹرائل کرنے جا رہے ہیں اور ہم نے وزیِرِ اعلیٰ سے 1000 مریضوں پر ٹرائل کی اجازت لے لی ہے اور اس سلسلے میں انجکشن بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔‘

  2. بریکنگ, ’گھبرانے کی ضرورت نہیں، پنجاب کے ہسپتالوں میں کافی صلاحیت موجود ہے‘ یاسمین راشد

    وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے لوگوں کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ’گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہسپتالوں میں کافی صلاحیت موجود ہے۔‘

    لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس وقت 42 فیصد وینٹیلیٹر اور انتہائی نگہداشت یونٹ میں 63.2 بیڈز زیرِ استعمال ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کوئی ہسپتال ایسا نہیں ہے جہاں وینٹیلیٹر موجود نہ ہوں اور صروری بندوبست نہ کیا گیا ہو۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’مریضوں کا جس ہسپتال میں دل چاہے وہاں نہیں جاسکتے کیونکہ ہو سکتا ہے وہاں بستر میسر نہ ہوں۔ یہ کوئی فرمائشی پروگرام نہیں ہے۔ اس لیے آپ ہمیں فیصلہ کرنے دیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پنجاب جلد ہی تمام ہسپتالوں میں مریضوں کے متعلق انفارمیشن ڈیسک قائم کرے گی تاکہ مریضوں کے لواحقین کو ان کی حالت کے بارے میں باخبر رکھا جاسکے۔

  3. بلوچستان: طبی ماہرین کے مطابق بے احتیاطی کی صورت میں آنے والے تین ماہ مشکل ہو سکتے ہیں

    bal

    بلوچستان میں ماہرین طب نے تحقیق اور ریسرچ کی روشنی میں کہا ہے کہ آنے والے تین ماہ، خاص طور پر ستمبر، کوروناوائرس کے پھیلاؤ اور اثرات کے حوالے سے انتہائی حساس ہوسکتے ہیں۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات ماہرین طب نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کورونا وائرس کے رویے، پھیلائواور اثرات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔

    صوبائیاعلامیہ کے مطابق ماہرین کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مقامی سطح پر پھیلنے والے وائرس کا رویہ اور اثرات دیگر صوبوں سے مختلف ہیں۔ صوبے میں وائرس سے متاثرہ افراد کا تناسب زیادہ ہے تاہم مریضوں کی صورتحال بہتر اور اموات کا تناسب بھی کم ہے۔

    صوبے میں کل 6788 کیسز میں مقامی منتقلی کے کیسز کی تعداد 6640 جو کہ 97 فیصد بنتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اب تک کی ریسرچ کے مطابق لوگوں کو کورونا وائرس کے ساتھ رہنا ہوگا تاہم احتیاطی تدابیر کے ساتھ اس کے پھیلائو اور اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

    Bal

    سیکریٹری صحت دوستین جمال دینی نے اجلاس کوبتایاکہ فاطمہ جناح ہسپتال کی لیبارٹری میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت روزانہ 1500 تک، شیخ زید ہسپتال میں 50 اور بی ایم سی ہسپتال میں 24 ہے۔

    اب تک صوبے میں 72598 افراد کی اسکریننگ اور 31117 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    انچارج ریجنل بلڈ سینٹر ڈاکٹر فاروق احمد نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ادارے میں میں پلازمہ کے حصول اور اس کے ذریعہ کورونا سے متاثرہ مریضوں کا علاج شروع کیا گیا ہے جس کے مثبت نتائج آرہے ہیں۔

    بلوچستان کا ریجنل بلڈ سینٹر ملک کے نو بلڈ سینٹرز میں پہلا اور واحد سینٹر ہے جہاں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کا پلازمہ حاصل کیا جارہا ہے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ چلنا ہے لیکن یہ اب عوام پر منحصر ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنے آپ کو کس حد تک محفوظ رکھتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام محتاط رہیں گے تو وائرس کے اثرات درمیانی سطح کے ہوں گے لیکن بے احتیاطی کی صورت میں اس کے اثرات شدید ہوسکتے ہیں جس سے انھیں ہسپتال میں داخل ہونے، آکسیجن اور وینٹیلیٹر کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔

  4. کورونا وائرس: 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟

    کھرنڈ پیس کر مریضوں کی ناک میں چڑھانا یا زخم کی پس تندرست فرد کو لگانا سننے میں تو بہت عجیب لگتا ہے لیکن ویکسین کی تیاری کی تاریخ میں ان دونوں اعمال کا بہت اہم کردار ہے۔جانیے ویکسین کی ایک ہزار سال قدیم تاریخ بی بی سی کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  5. انٹارکٹیکا میں کورونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے نیوزی لینڈ کا تحقیقی منصوبے روکنے کا اعلان

    NZ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا کے ساتویں براعظم انٹارکٹیکا میں کام کرنے والے نیوزی لینڈ کے تحقیقی ادارے نے وہاں پر آنے والے دنوں میں اپنے جاری منصوبوں میں کمی کرنے کا فیصلے کیا ہے تاکہ انٹارکٹیکا میں کورونا وائرس کی وبا نہ پھیلے۔

    حکومت کی نیوزی لینڈ کی تنظیم ’انٹارکٹیکا نیوزی لینڈ‘ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے 36 میں سے 32 منصوبوں کو اس وقت روک رہے ہیں اور صرف طویل مدتی سائنسی نگرانی اور آپریشنل اقدامات جاری رہیں۔

    انٹارکٹیکا میں تحقیق منصوبہ کا کام اکتوبر سے مارچ تک جاری رہتا ہے۔

    انٹارکٹیکا نیوزی لینڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا: ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ کووڈ 19 کیسے دنیا بھر میں تباہی پھیلا رہا ہے، دنیا کا صرف ایک بر اعظم ہے جو اس سے بچا ہوا ہے اور ہم اس کو ایسا ہی رکھنا چاہتے ہیں۔

  6. ’یورپ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے 30 لاکھ افراد کی جانیں بچ گئیں‘, جیمز گیلاہر، نامہ نگار برائے سائنس اور صحت

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لندن کے معروف امپیرئیل کالج کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق یورپی ممالک میں اگر لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا جاتا تو ’اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔‘

    تاہم انھوں نے اس تحقیق میں زور دیا ہے کہ ابھی بھی بہت کم تعداد میں لوگوں کو وائرس ہوا ہے اور ’ابھی ہم صرف وبا کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔‘

    اسی نوعیت کی ایک اور تحقیق میں کہا گیا کہ عالمی طور پر لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اپنانے سےقلیل مدت میں بڑی تعداد میں جانیں بچ گئیں۔

    امپیرئیل کالج کی تحقیق میں 11 یورپی ممالک، جن میں آسٹریا، بیلجئیم، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، اٹلی، ناروے، سپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ شامل ہیں، میں مئی کے آغاز تک لاک ڈاؤن کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

    اُس وقت تک ان ممالک میں 130000 افراد کی ہلاکت ہو چکی تھی۔

    اس تحقیق میں مرض کی پیشن گوئی کرنے والے ماڈل کے تحت دیکھا گیا کہ اگر لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو کتنی اموات ہوتیں۔

    یاد رہے کہ اسی گروپ کی جانب سے کی گئی تحقیق کے بعد برطانیہ نے لاک ڈاؤن نہ کرنے کے فیصلے کو تبدیل کیا تھا۔

    انھوں نے تنبیہ کی تھی کہ اگر ایسا قدم نہ لیا گیا تو برطانیہ میں چار مئی تک 32 لاکھ افراد ہلاک ہو جائیں گے۔

    سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے برطانیہ میں 470000 افراد کی جانیں بچ گئیں۔ اس کے علاوہ فرانس میں 690000 اور اٹلی میں 630000 جانیں بچ گئیں۔

  7. بلوچستان میں ایک اور سرکاری افسر کی کورونا وائرس کے باعث موت

    Bal

    بلوچستان کے ضلع قلات کی تحصیل منگیچر کے اسسٹنٹ کمشنر وکیل خان کاکڑ کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے ہیں۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل وہ کورونا سے متائثر ہوئے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ طبیعت زیادہ خراب ہونے کے باعث اسسٹنٹ کمشنر کو علاج کے لیے شیخ زید ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ منگل کے روز زندگی کی بازی ہار گئے ۔

    بلوچستان میں عام لوگوں کی طرح سرکاری ملازمین کی بھی ایک بڑی تعداد کورونا سے متائثر ہے جبکہ اس سے ان کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

  8. کراچی کا ’ٹک ٹاک پولیس سٹیشن‘ سیل کر دیا گیا

  9. کووڈ 19 سے صحتیاب مریض اپنا پلازما کہاں کہاں عطیہ کرسکتے ہیں

    گg

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ حکومت نے کچھ عرصہ قبل پلازما تھراپی کے کلینکل ٹرائل کی اجازت دی تھی جس کے حوصلہ افزا نتائج ملے ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی انھوں نے ان آٹھ مراکز کے نام بتائے ہیں جہاں کوووڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے افراد اپنا پلازما عطیہ کرسکتے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. معروف صحافی سہیل وڑائچ میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق

    @suhailswarraich

    ،تصویر کا ذریعہ@suhailswarraich

    معروف صحافی سہیل وڑائچ میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کی اطلاع انھوں نے ٹویٹر کے ذریعے دی۔

    انھوں نے ٹویٹ کیا ’دوستوں کو اطلاع ہو کہ مجھے کوورنا ہو گیا ہے۔ جب سے کرونا کی وبا پھیلی تھی میں بہت احتیاط کر رہا تھا۔ دستانے اور ماسک پہن کر باہر نکلتا رہا۔ سماجی دوری کا خیال رکھا۔ تقریبات میں جانا تقریباً چھوڑ دیا تھا۔ معمول کی ادویات کے علاوہ کلونجی بھی پانی کے ساتھ مسلسل لے رہا تھا۔۔۔ لیکن آئی کو کون ٹال سکتا ہے۔‘

  11. لاہور: ایس او پیز کی خلاف ورزی پر متعدد دکانیں سیل، جرمانے اور گرفتاریاں

    g

    ،تصویر کا ذریعہDC Lahore

    ضلعی انتظامیہ لاہور نے مارکیٹوں میں کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے بنائے گئے ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے پر مجموعی طور پر 89 دکانوں کو سیل اور دکان داروں کو 24 ہزار روپے تک کے جرمانے کیے ہیں۔

    ڈی سی لاہور دانش افضال کے مطابق پانچ دکان داروں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کی سپیشل ٹیمیں آج بھی تمام مارکیٹوں کا دورہ کریں گی۔

    ڈی سی لاہور نے عوام سے مارکیٹوں میں آتے وقت ایس او پیز عمل درامد کرنے اور ماسک، ہینڈ سینیٹائزر ، اور سماجی فاصلہ کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. اٹلی کے مسلمان جنھیں اپنے پیاروں کی تدفین کے لیے جگہ نہ مل سکی

    گ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اٹلی کی مسلم کمیونٹی کو بھی دوسروں کی طرح بہت ساری اموات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اٹلی میں رہنے والی اس مذہبی اقلیت کے غم میں اضافے کی ایک وجہ اپنے پیاروں کو دفن کرنے کے لیے جگہ کی کمی بھی ہے۔

    امام اور مسلم کمیونٹی کے رہنما اب مزید اسلامی قبرستانوں ، یا ملک کے موجودہ قبرستانوں میں اضافی جگہ طلب کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر لوگ میتیں اپنے اپنے ممالک لیجانے کے بجائے اٹلی میں ہی دفن ہونا چاہتے ہیں۔

    میلان سیستو کے امام عبداللہ تیچینا نے اے ایف پی سے باتے کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم (وبائی بیماری) کے درد سے گزرے ہیں ، لیکن یہ غم اس وقت گہرا ہو گیا جب کچھ خاندان اپنے پیاروں کو دفن کرنے کی جگہ نہیں ڈھونڈ پائے کیونکہ قصبے کے قبرستانوں میں مسلمانوں کے لیے کوئی حصہ مختص ہی نہیں تھا۔‘

    اٹلی میں 34،000 سے زیادہ افراد اس وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

    fd

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    d

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    a

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    a

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  13. ریاست کا شہریوں سے گمشدہ معاہدہ

  14. کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کووڈ 19 کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کیا آپ کو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ بھی کورونا وائرس نشانہ بنا سکتا ہے؟ کچھ مریض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیمار کیوں ہیں؟ کیا یہ مرض ہر سردی میں واپس آئے گا؟ کیا ویکسین کارگر ثابت ہو گی؟ کیا امیونٹی پاسپورٹ کی مدد سے ہم میں سے کچھ لوگ کام پر واپس جا سکتے ہیں؟ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کن طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہے؟

    دنیا میں کووڈ 19 کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد جہاں روز بروز بڑھ رہی ہے وہیں یہ سوالات بھی تواتر سے پوچھے جانے لگے ہیں۔

    ان تمام سوالات میں جو ایک چیز مشترک ہے وہ ہے امیون سسٹم یا مدافعتی نظام اور ہم اس بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔

    آپ کورونا وائرس کے خلاف جسم میں مدافعت کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ جانیے بی بی سی کے جیمز گیلیگہر، نامہ نگار برائے صحت و سائنس کی اس تحریر میں۔

  15. کوپن ہیگن کے مشہور تیولی باغات شہریوں کے لیے کھول دیے گئے

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈنمارک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کوپن ہیگن کے مشہور تیولی باغات دوبارہ کھل گئے ہیں۔

    پیر کے روز ، تفریحی پارک نے آخر کار شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دے دی اور حتیاطی تدابیر کے باوجود لوگ بھرپور انداز میں اپنے دن سے لطف اندوز ہوئے-

    باغات میں سیر کے لیے آنے والوں کی تعداد ابھی محدود ہے اور داخلے کے لیے سمارٹ فون ایپ کے ذریعے بکنگ کروانی پڑتی ہے۔

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  16. ملائیشیا کووڈ 19 کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ سے بچ گیا

    ف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اپنے بہت سے پڑوسی ممالک کی طرح ملائیشیا بھی کووڈ 19 کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ سے بچ گیا ہے۔

    ملک کی وزارت صحت نے دو مہینوں کے دوران سب سے کم تعداد میں نئے متاثرین کا اعلان کیا ہے۔

    ملائشیا میں اب تک متاثرین کی کل تعداد 8329، جبکہ اموات 117 ہوئی ہیں۔

    تاہم وزارت نے مک میں ڈینگی کے خطرے سے بھی انتباہ جاری کیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. بیلجیئم: ہوٹلوں میں کھانا کھانے کی اجازت مل گئی

    d

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بیلجیئم نے پیر کے روز تقریباً تمام کاروباروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے جن میں بار اور ریستوران بھی شامل ہیں۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 12 ہفتوں بعد پہلی مرتبہ لوگ ہوٹلوں سے پیک کھانا لینے کے بجائے اب وہاں بیٹھ کر کھا سکتے ہیں۔

    قواعد کے تحت کچھ میزیں خالی رہیں اور ویٹروں نے چہرے پر ماسک پہن رکھے تھے۔

    r

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  18. کورونا وائرس اس صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے، شاہ محمود قریشی

    r

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا انسانیت کودرپش اس صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔انھوں نے ان خیالات کا اظہار آئرلینڈ کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سائمن سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کیا۔انھوں نے آئرلینڈ کے اپنے ہم منصب کو پاکستان میں کوروناوائرس کی وبا کی تازہ ترین صورتحال اوراس کی روک تھام کے لیے کئے جانے والے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ترقی پذیرممالک کے لیے قرضوں کی واپسی میں نرمی سے متعلق عالمی اقدام کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے قریبی تعاون کی ضروت پرزوردیا تاکہ معیشت پرکورونا کے اثرات کوختم کیا جاسکے۔

    آئرلینڈ کے وزیرخارجہ نے قرضوں کی واپسی میں نرمی کے اقدام کی حمایت کی اوراس سلسلے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

  19. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 105 ہلاکتیں، 4646 نئے مریض

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 4646 مریض سامنے آئے ہیں۔ جس کے بعد متاثرین کی کل تعداد 108317 ہو گئی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 105 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی کل تعداد 2172 ہو گئی ہے۔

    اب تک کے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں 773، سندھ میں 679، دارالحکومت اسلام آباد میں 52 جبکہ بلوچستان میں 58، گلگت بلتستان میں 14 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نو مریض ہلاک ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق اب تک سامنے آنے والے کل 108,317 متاثرین میں سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 412، بلوچستان میں 6788، گلگت بلتستان میں 952، دارالاحکومت اسلام آباد میں 5785 اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں 14006 متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے۔

    جبکہ صوبہ پنجاب میں 40819 اور سندھ میں 39555 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرکے مطابق اب تک کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے 730,453 ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔ اور ملک کے 775 ہسپتالوں میں 5255 مریض زئرِ علاج ہیں۔

    ف
  20. کورونا کی وجہ سے سماجی دوری، یہ دو میٹر ہوتا کتنا ہے؟

    تین آسٹریلوی کوالا ہوں یا ایک مائیکل جورڈن یا پھر نصف واکس ویگن بیٹل، یہ وہ فاصلہ ہے جتنا آپ کو کسی بھی فرد سے کورونا کی وبا کے دوران سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے رہنا چاہیے اور اگر بات سمجھ نہیں آئی تو یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ لیں۔