کورونا وائرس: بلوچستان میں کورونا کے 304 نئے مریض، خیبرپختونخوا میں متاثرین 15 ہزار سے زیادہ

دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. برطانیہ: اموات میں کمی لیکن چیلنجز اپنی جگہ برقرار, نک ٹریگل، صحت کے نامہ نگار

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ نے 23 مارچ کو لگائے گئے لاک ڈاؤن کے بعد سے اب تک کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی سب سے کم اموات ریکارڈ کی ہیں۔

    اموات میں کمی ایک اچھی خبر ہے۔

    لیکن اس کے ساتھ ایک انتباہ بھی ضروری ہے، یہ اموات اختتامِ ہفتہ کی ہیں اور سنیچر اور اتوار کو ہلاکتوں کی رپورٹ ہمیشہ دیر سے آتی ہے۔

    گذشتہ ہفتے اس وقت صرف 100 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں لیکن بعد میں دورانِ ہفتہ وہ بڑھ کر 300 ہو گئیں۔

    جو بھی ہو ترقی ضرور ہوئی ہے۔

    دو ہفتے قبل 120 ہلاکتیں ہوئی تھیں اور اس سے قبل یہ تعداد 160 تھی۔ وبا کے عروج پر ایک دن میں 1000 سے بھی زیادہ ہلاکتیں دیکھی گئیں ہیں۔

    اب چیلنج یہ ہے کہ ان اعداد و شمار کو پابندیوں میں نرمی کے دوران بھی کسی طرح کم ہی رکھا جائے۔

  2. کیا کووِڈ 19 کا ماحولیات پر اثر دیرپا ثابت ہو گا؟

  3. ووہان: یونیورسٹی کے طالب علموں کی ’سماجی دوری‘ اختیار کرتے ہوئے واپسی, کیری ایلن، بی بی سی مانیٹرنگ

    وہان: یونیورسٹی کے طالب علم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے شہر ووہان کی کئی یونیورسٹیوں میں آج پہلی مرتبہ طالب علم واپس لوٹ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ووہان ہی وہ شہر تھا جہاں کورونا وائرس کی وبا سب سے پہلے پھیلی تھی۔

    مئی کے اوائل سے مقامی حکومت نے طالب علموں کو آہستہ آہستہ تعلیمی اداروں میں واپس بھیجنا شروع کر دیا تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق آج فائنل ایئر اور پوسٹ گریجویٹ طالب علم جو سائنسی تحقیق کرتے ہیں واپس آ جائیں گے۔

    چین کے سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی میں آنے والی تصاویر میں سوٹ کیس پکڑے اور ماسک پہنے ہوئے طالب علم یونیورسٹیوں میں واپس آتے ہوئے دکھائے جا رہے ہیں۔ انھیں بتایا گیا ہے کہ ایک خاص وقت پر آئیں تاکہ سماجی دوری کا خیال رکھا جا سکے، اور آنے پر ان کے جسم کا درجہ حرارت بھی چیک کیا جائے گا۔

    ووہان میں کووڈ 19 کے 50,000 سے زیادہ تصدیق شدہ مریض ہیں اور شہر میں لوگوں نے لاک ڈاؤن میں 76 دن گذارے ہیں۔ جمعہ کو انتظامیہ نے کہا تھا کہ شہر میں وائرس کی اب کوئی علامات نہیں ہیں، لیکن تقریباً 200 افراد پر جن میں علامات نہیں ہیں، ان کا طبی مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

  4. بریکنگ, مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری میں کورونا وائرس کی تصدیق

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ٹوئٹر پر اس بات کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا 'میرے کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ میری طرح کئی دوسرے لوگ بھی ایسے ہی مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ مثبت سوچیں اور یقین رکھیں۔‘

    یاد رہے اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. انڈیا کو چین سے تعلقات بہتر بنانے کی جلدی

  6. ماسکو میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان: ’بھولیں نہیں کہ خطرہ کم ہوا ہے، لیکن ابھی ختم نہیں ہوا‘, سارہ رینزفورڈ، نامہ نگار، بی بی سی ماسکو

    ماسکو کے میئر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ماسکو کے میئر نے کورونا وائرس کے حوالے سے حالیہ دور میں لگائی جانے والی زیادہ تر پابندیوں میں نرمی کے نظام الاوقات کا اعلان کیا ہے۔

    ایسا شہر میں ہر روز بہت زیادہ نئے متاثرین رپورٹ ہونے کے باوجود کیا گیا ہے۔ گذشتہ پنرہ دنوں میں روزانہ 2000 نئے مریض رپورٹ ہوتے ہیں۔

    منگل کو سیلف آئسولیشن کا دور سرکاری طور پر ختم ہو جائے گا، جسکا مطلب ہے کہ سبھی لوگ جن میں 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگ بھی شامل ہیں، شہر میں آزادی سے گھوم سکیں گے۔ مارچ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وہ گھروں سے باہر آ سکیں گے۔

    میئر سرگئی سوبیانن نے کہا کہ ایسا اس لیے ممکن ہو سکا ہے کہ شہر نے سخت انتظامات کی وجہ سے اپنے آپ کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وبا آہستہ سے لیکن یقیناً ختم ہو رہی ہے، ہسپتالوں میں کم مریض داخل ہیں اور کم نئے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ اس لیے شہر قدم بہ قدم معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ نہ بھولیں کہ خطرہ کم ہوا ہے لیکن ابھی ختم نہیں ہوا۔‘

  7. کورونا کی وجہ سے سماجی دوری، یہ دو میٹر ہوتا کتنا ہے؟

    تین آسٹریلوی کوالا ہوں یا ایک مائیکل جورڈن یا پھر نصف واکس ویگن بیٹل، یہ وہ فاصلہ ہے جتنا آپ کو کسی بھی فرد سے کورونا کی وبا کے دوران سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے رہنا چاہیے اور اگر بات سمجھ نہیں آئی تو یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ لیں۔

  8. بریکنگ, کورونا وائرس: خیبرپختونخوا میں 519 نئے مریض، مزید 12 اموات

    خیبر پختونخواہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ 519 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 14006 ہو گئی ہے۔

    محمکہ صحت خیبر پختونخواہ کے مطابق صوبے میں وائرس سے متاثرہ مزید 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد اموات کی تعداد 587 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 37 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ اس طرح صحتیاب ہونے والوں کی کل تعداد 3579 ہو گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. بلوچستان میں 50 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے، لیاقت شاہوانی

    h

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت کورونا کے 150 مریض ہسپتالوں کے اندر زیر علاج ہیں جن میں سے 50 کی حالت تشویشناک ہے۔ تاہم یہ مریض وینٹیلیٹرز پر نہیں ہیں۔

    کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ متاثرین میں اضافے سے ظاہر ہے کہ کورونا بلوچستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ امر افسوسناک ہے جو ایس او پیز لوگوں کے اپنے فائدے کے لیے بنائے گئے ہیں وہ ان پر عملدرآمد نہیں کررہے ہیں۔

    یاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ جب تک لوگ تعاون نہیں کریں گے اس وقت تک کورونا کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں ہوگی۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کورونا وائرس سے صحتیاب افراد کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا جو کہ خوش آئند ہے۔

  10. ’سفر کے حوالے سے قرنطینہ کے نئے برطانوی قوانین ایک سٹنٹ ہے‘

    رائن ایئر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    برطانیہ آنے والے مسافروں کے 14 دن کے لیے سیلف آئیسولیشن کے نئے قوانین آج سے لاگو ہو گئے ہیں۔

    جو بھی مسافر بشمول برطانوی شہری، جہاز، فیری یا ٹرین سے برطانیہ آ رہا ہو گا، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ایک پتہ بتائے جہاں وہ سیلف آئیسولیٹ ہو گا۔ جو قوانین توڑیں گے انھیں جرمانہ ہو گا۔

    وزیرِ داخلہ پریتی پٹیل نے کہا ہے کہ قوانین کورونا وائرس کی دوسری لہر سے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔

    لیکن رائن ایئر کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ قوانین ایک ’سیاسی سٹنٹ‘ ہے اور یہ قرنطینہ نہیں ہے۔

    مائیکل او لیری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب ہوم آفس آپ کو غیر متوقع واقعہ کے وقت فون کرے گا اس وقت آپ سینزبریز میں ہو سکتے ہیں، ساحلِ سمندر پر ہو سکتے ہیں، یا گولف کورس میں ہو سکتے ہیں۔ ان کے پاس صرف ایک موبائل نمبر ہی ہے۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ ہوم آفس بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ ان قوانین کو لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

  11. بریکنگ, سابق رکن بلوچستان اسمبلی سردار در محمد نصر کورونا وائرس سے انتقال کر گئے

    بلوچستان میں حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی مشیر برائے صنعت سردار در محمد خان ناصر کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے ہیں۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل سردار در محمد نصر کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور طبیعت بگڑنے پر انھیں کراچی کے نجی ہسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری تھا۔

    تاہم ان کی حالت میں بہتری نہیں آئی اور آج وہ انتقال کر گئے۔

    بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال خان اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے ان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

  12. برطانیہ میں شراب خانے 22 جون سے کھولے جانے کا امکان

    گ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ وزرا کا کہنا ہے کہ پب اور ریستوران کھولنے سے متعلق ہدف 22 جون ہے۔

    یہ کاروبار پہلے پلان سے دو ہفتے قبل ہی کھولے جا سکتے ہیں۔

    اس پلان کے تحت معیشت کو دوبارہ رواں دواں رکھنا ہے تاکہ کروڑوں ملازمتوں کو بچایا جا سکے۔ اخبار کے مطابق حتمی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے منگل کو کابینہ کے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق ریستوران کا کاروبار 4 جولائی تک بند رہنا تھا مگر اب کابینہ کے آدھے وزار گرمیوں میں اس کاروبار کو جلد کھولنے کے حامی ہیں۔

    تجارت کے وزیر الوک شرما کاروبار کو رواں رکھنے کے لیے دو میٹر کے فاصلے کی شرط کو ایک میٹر تک کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ لوگ صیحح معنوں میں کاروبار چلا سکیں۔

  13. بریکنگ, تیل کی بڑی کمپنی بی پی 10 ہزار نوکریاں ختم کر رہی ہے

    بی پی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تیل کی بڑی کمپنی بی پی نے اعلان کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی طلب میں کمی ہونے کے بعد 10,000 نوکریاں ختم کر رہا ہے۔

    تیل کی اس بڑی کمپنی نے وبا کے عروج پر زبردستی نوکریاں ختم کرنے کا عمل روک دیا تھا لیکن اس نے عملے کو پیر کو بتایا کہ سال کے آخرتک تقریباً 15 فیصد لوگوں کو نکال دیا جائے گا۔

    بی پی نے یہ نہں کہا کہ برطانیہ میں کتنی نوکریاں ختم کی جائیں لیکن خیال ہے کہ یہ تعداد 2,000 کے قریب ہو گی۔

    چیف ایگزیکیوٹیو برنارڈ لوونی نے تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو اس کی وجہ بتایا ہے۔

    عملے کو بھیجی جانے والی ایک ای میل میں انھوں نے کہا کہ ’تیل کی قیمتیں اس سطح سے کہیں زیادہ گر گئی ہیں جہاں ہم منافع کما سکتے ہیں۔‘

    ’جتنا ہم کما رہے ہیں ہم اس سے کہیں، کہیں، کہیں زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ میں روزانہ لاکھوں ڈالر کی بات کر رہا ہوں۔‘

  14. بریکنگ, کوئی بھی ملک زیادہ عرصے تک لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتا، وزیر اعظم عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI Facebook

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اب پوری دنیا نے لاک ڈاؤن کھول دیا ہے کیونکہ امیر ترین ممالک بھی یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ کوئی ملک بھی لاک ڈاؤن زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کرسکتا۔

    جب کوئی ملک لاک ڈاؤن کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کورونا وائرس ختم ہوجائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس تیزی سے یہ وائرس پھیلتا ہے تو لاک ڈاؤن سے یہ پھیلاؤ کم ہوجاتا ہے کیونکہ جتنے لوگ جمع ہوتے ہیں اتنی تیزی سے یہ وائرس پھیلتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کا جمع ہونا اور باہر نکلنا بند کردیں تو وبا ختم نہیں ہوتی لیکن اس کے پھیلاؤ میں سستی آجاتی ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے جب لاک ڈاؤن کیا تو لوگ ایک مشکل وقت سے گزرے، بیروزگاری کی انتہا ہے اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے طبقے کے گھروں میں مشکلات تھیں۔‘

  15. بریکنگ, اگر احتیاط نہ کی گئی تو بڑا مشکل وقت آنے والا ہے، وزیر اعظم عمران خان

    f

    ،تصویر کا ذریعہ@ptiofficial

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اگر احتیاط نہ کی گئی تو بہت مشکل وقت آنے والا ہے۔

    اسلام آباد میں کورونا وائرس کی صورتحال پر ویڈیو خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عمل کریں تو کورونا کے کیسز تیزی سے نہیں پھیلیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر عوام احتیاط کرلیں تو پاکستان اس تباہی سے نہیں گزرے گا جو امیر ترین ممالک میں آئی لیکن اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو بڑا مشکل وقت آنے والا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون اس وبا کا حل نہیں ہے بلکہ صرف اس کے پھیلاؤ کی رفتار کو کم کرتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں اس وبا کا عروج جولائی کے آخر اور اگست کے وسط تک متوقع ہے، اگر ہم اپنے کاروبار اور روزمرہ امور کو انجام دیتے ہوئے ایس او پیز پر عمل کریں گے تو بڑی تباہی سے بچ سکتے ہیں۔‘

  16. کورونا وائرس: سنگاپور کے کم از کم آدھے نئے مریضوں میں ’علامات نہیں‘

    سنگاپور

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سنگاپور کی کورونا ٹاسک فورس کے سربراہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ملک میں کووڈ 19 کے نئے مریضوں میں سے کم از کم آدھے ایسے مریض ہیں جن میں کورونا وائرس کی کوئی علامات نہیں ہیں۔

    لارنس وانگ نے بتایا کہ ’ہمارے تجربے کے مطابق ہر علامات والے مریض کے ساتھ کم از کم ایک ایسا کیس بھی ہو گا جو علامات کے بالکل بغیر ہو۔‘

    ’اسی لیے ہم (ملک کو) دوبارہ کھولنے کے منصوبوں کے متعلق احتیاط برت رہے ہیں۔‘

    50 لاکھ کی آبادی والا ملک سنگاپور دوسرے ایشیائی ممالک کی نسبت کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور اس میں ابھی تک 38,000 افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تھی، لیکن ابھی بہت سے لوگ گھروں سے ہی کام کر رہے ہیں۔

    وانگ نے کہا کہ ’لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم کیوں جلدی سے معیشت نہیں کھول رہے؟‘

    ’ہمیں زیادہ احتیاط سے چلنا چاہیئے۔ ابھی بھی علامات کے بغیر کیسز موجود ہیں جو کمیونٹی میں گردش کر رہے ہیں اور ان کی ہم نے شاید ابھی تشخیص نہ کی ہو۔‘

  17. کورونا وائرس: 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟

    کھرنڈ پیس کر مریضوں کی ناک میں چڑھانا یا زخم کی پس تندرست فرد کو لگانا سننے میں تو بہت عجیب لگتا ہے لیکن ویکسین کی تیاری کی تاریخ میں ان دونوں اعمال کا بہت اہم کردار ہے۔جانیے ویکسین کی ایک ہزار سال قدیم تاریخ بی بی سی کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  18. جنوبی افریقہ: سخت ترین لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد بچوں کی سکولوں میں واپسی

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی افریقہ جہاں دنیا کا سخت ترین لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا، وہاں حکومت آہستہ آہستہ پابندیوں میں نرمی کر رہی ہے اور بچے سکول واپس آرہے ہیں

    ابتدائی طور پر صرف ساتویں اور 12ویں جماعت کے طلبا کلاسوں میں واپس آئیں گے۔ باقیوں کے لیے آہستہ آہستہ پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔

    اساتذہ یونین کا کہنا ہے کہ سکولوں میں حفظان صحت کے مناسب اقدامات کی کمی کے باعث دوبارہ کھولنے میں تاخیر ہوئی ہے۔

    تاہم تمام سکول دوبارہ نہیں کھل رہے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں پانی کی کمی ہے اور ہاتھ دھونا تقریباً ناممکن ہے۔

    وزیر تعلیم اینجی موتیشیکگا کا کہنا ہے کہ 95 فیصد سکولوں کو دوبارہ سے کھولنے سے پہلے وہاں بنیادی ضروریات کو پورا کیا گیا تھا اور انھوں نے وعدہ کیا کہ باقی سکولوں میں بھی بنیادی ضروریات پوری کی جائیں گی۔

    جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کے تقریباً 50،000 متاثرین اور 1000 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  19. پیرس کی رنگینیاں لوٹ آئیں، شہر میں کیفے کھل گئے

    کاروبار زندگی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کے دارالحکومت پیرس کی رنگینیوں میں اضافہ کرنے والے کیفے اور بار ایک بار پھر کھل گئے ہیں۔ باہر بیٹھ کر کھانے پینے اور گپ شب لگانے کا موقع دوبارہ پا کر لوگ بہت خوش ہیں۔

    کیفے میں بیٹھی 88 سال کی میتیلڈ کا کہنا ہے کہ وہ اس موقع کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں ’میں چاہتی تھی کہ میرے دائیں بائیں لوگ ہوں نہ کہ میں اکیلی بیٹھی رہوں۔‘

    فرانسیسی ثقافت پر لکھنے والے تاریخ دان جان دیجان کا کہنا ہے کہ پیرس کی ویرانی میں بھی کچھ تھا جو لاک ڈاؤن میں دل کو چُھو رہا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ پیرس کو دانستہ طور پر اس طرح بنایا گیا ہے کہ لوگ اس کی گلیوں میں گھومیں، ان کا نظارہ کریں اور ان کو سراہیں۔

  20. جمہوریہ آئرلینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں لاک ڈاؤن میں نرمی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    آج سے جمہوریہ آئرلینڈ اور شمالی آئر لینڈ میں لاک ڈاؤن کے اقدامات میں نرمی کی جارہی ہے۔

    جمہوریہ آئر لینڈ میں سماجی فاصلے کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی شرط کے ساتھ تمام بڑی دکانوں کو دوبارہ کاروبار شروع کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    لوگ اپنے گھر یا کہیں سے ملک میں 20 کلومیٹر تک سفر کر سکتے ہیں۔ پہلے صرف پانچ کلومیٹر تک آنے جانے کی اجازت تھی۔

    شمالی آئرلینڈ میں کمزور لوگوں کو بھی باہر جانے کی اجازت مل گئی ہے۔

    کار شورومز سمیت بڑے کاروباروں کو بھی اپنا کام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ گھر سے باہر شادی میں صرف 10 لوگ شریک ہو سکتے ہیں۔