کورونا وائرس: بلوچستان میں کورونا کے 304 نئے مریض، خیبرپختونخوا میں متاثرین 15 ہزار سے زیادہ
دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔
لائیو کوریج
خیبرپختونخوا: علامات کی صورت میں 1700 پر کال کیجیے اور مفت ٹیسٹ کروائیے
اگر آپ کا تعلق پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا سے ہے اور آپ میں یا آپ کے کسی جاننے والے میں کورونا کی علامات ظاہر ہو رہی ہے تو حکومتی ہیلپ لائن 1700 پر فون کیجیے۔
حکومت خیبرپختونخوا کے مطابق علامات کے صورت میں فوراً اس نمبر پر رابطہ کیجیے تاکہ ریپڈ ریسپانس فورس کے اہکار آپ کے گھر پہنچ کر کورونا ٹیسٹ کر سکیں۔
حکومت کے مطابق گھر آ کر کورونا ٹیسٹ کرنے کی کوئی فیس نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج جاری
،تصویر کا ذریعہM.A.JARRAL
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آج 32 ویں روز بھی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
صحافی ایم اے جرال کے مطابق ینگ ڈاکٹرز نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں شیخ خلیفہ بن زید ہسپتال سے لے کر لال چوک تک احتجاجی ریلی نکالی اور اپنے مطالبات حق میں نعرے لگائے۔ ریلی میں شریک ڈاکٹرز نے مختلف بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف مطالبات درج تھے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر سید فہیم احمد گردیزی نے ایم اے جرال سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے مطالبات میں سرفہرست مطالبہ یہ ہے کہ اگر بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے کیسز کے پیش نظر اس خطے میں کام کرنے والے تمام ڈاکٹرز کو عالمی ادارہ صحت کے بتائے گئے معیار کے مطابق حفاظتی کٹس فراہم کرنے کے علاوہ اس خطے کی آبادی کے تناسب سے ڈاکڑز کی آسامیاں تخلیق کی جاہیں۔
،تصویر کا ذریعہM.A.JARRAL
انھوں نے بتایا کہ اس خطے میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کو پاکستان کے دیگر صوبوں اور وفاق کے ڈاکٹرز کے برابر مراعات دی جائیں جبکہ سرکاری ہسپتال میں آنے والے ریاست کے ہر مریض کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
ڈاکٹر فہیم گردیزی نے بتایا حکومت تمام ضلعی و تحصیل ہیڈ کواٹرز سطح پر آئی سی یو کیئر، سی ٹی سکین، ایم آر آئی اور فری ایمرجنسی سروس مہیا کرنے کے علاوہ خطے میں سکیورٹی ایکٹ کا نفاذ کرے۔
ڈاکٹر فہیم گردیزی نے اس خطے کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان سمیت چیف سیکرٹری مطہر نیاز رنا سے مطالبہ کیا کہ ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے ورنہ بدھ سے ریاست بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروس کے علاوہ دیگر سروس فراہم نہیں کریں گے۔
جنوبی کوریا میں 50 نئے متاثرین کی شناخت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی کوریا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 50 نئے متاثرین کی شناخت ہوئی ہے۔
جنوبی
کوریا نے ایک دفعہ بھی پورے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا تھا تاہم انھوں نے
وائرس کے پھیلاؤ کو قابو کر لیا تھا اور اپریل میں دس سے بھی کم نئے متاثرین سامنے
آ رہے تھے۔
تاہم
گذشتہ چند ہفتوں میں ایسے کئی واقعات ہوئے جب مئی کے مہینے میں سماجی دوری کے
قواعد پر نرمی کی گئی تھی اور لوگوں نے گھلنا ملنا شروع کیا۔
اب تک جنوبی
کوریا میں کُل 12 ہزار کے قریب نئے متاثرین کی شناخت ہوئی ہے اور 276 اموات ریکارڈ
کی گئی ہیں۔
ملک میں
اس وقت بھی 1000 کے قریب متاثرہ مریض موجود ہیں۔
کووڈ 19 کے علاوہ وہ چار وائرس جن کے لیے اب تک کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی
،تصویر کا ذریعہEPA
دنیا بھر کے کروڑوں لوگ کورونا کے وبائی مرض سے نجات پانے کے لیے اس کی ویکسین کے منتظر ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ویکسین بنانے کے عمل پر کتنی تیز رفتاری سے کام کیوں نہ کیا جائے اس میں وقت لگ سکتا ہے اور اگر بہت خراب صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی ویکسین دریافت نہیں بھی ہو سکتی۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ہیلتھ ایمرجنسی کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا: ’اس وائرس کے ساتھ ہمیں رہنا پڑ سکتا ہے۔‘
بہرحال اس وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کا امکان تباہ کن ہو سکتا ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اب تک تقریبا 70 لاکھ افراد اس کی زد میں آ چکے ہیں اور انفیکشن سے چار لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ویکسین کی تلاش برسوں یا عشروں تک جاری رہ سکتی ہے۔
یہ کوششیں ضائع بھی ہو سکتی ہیں اور اچھے نتائج بھی آ سکتے ہیں جیسا کہ ایبولا کی صورت میں دیکھا گیا۔
’ابھی یہ معمہ ہے‘، غیر علامتی منتقلی کے بارے میں بیان پر عالمی ادارہ صحت کی وضاحت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ صحت نے اپنےگذشتہ روز کورونا وائرس کے غیر علامتی منتقلی ہونے کے
بارے میں دیے گئے بیان کی وضاحت پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ عمل ’بہت شاذ و
نادر‘ ہوتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی سائنسدان ڈاکٹر ماریہ وان کرخووے نے کہا: ’میں نے کہا تھا شاذ
و نادر اور میرے خیال میں یہ غلط فہمی ہے کہ عالمی طور پر غیر علامتی منتقلی کم
ہوتی ہے۔ میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ جس تحقیق کی بنیاد پر بات کی اس میں دیے گئے
اور مواد کے بارے میں کہی تھی یہ بات اور وہ ابھی شائع نہیں ہوئی ہے۔
وان خرکووے نے کہا کہ وائرس کی غیر علامتی منتقلی کے بارے میں مصدقہ طور پر
کہنا ابھی ممکن نہیں ہے۔
دنی کے مختلف ممالک کی جانب سے انفیکشن کے پھیلاؤ کے بارے میں بات کرتے ہوئے
ان کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں غیر علامتی منتقلی ہونا شروع ہوئی ہے یہ بہت کم ہوا
ہے کہ ان کہ جاننے والوں میں بھی وائرس پھیلا ہو۔
لیکن انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ ابھی بھی ایک ’معمہ‘ ہے کہ باقی دنیا میں
بھی ایسا ہی ہوا یا نہیں۔
لاک ڈاؤن انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پھلوں اور پھولوں کے شعبے کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدگی اور قدغنوں کی غیریقینی صورتحال کے درمیان بیشتر تعلیم یافتہ نوجوانوں کئی سال سے زرعی شعبے میں نئے تجربات کر کے روزگار کے نئے وسائل پیدا کرنےکی جدوجہد میں مصروف تھے۔
سٹرابیری اور پھولوں کی کاشت کشمیر میں نو ہزار کروڑ روپے کے حجم وانی باغبانی صنعت کا اہم حصہ ہے۔ ابھی یہ صنعت پروان چڑھ ہی رہی تھی کہ حالات نے نوجوانوں کے حوصلے پست کردیے اور اب دو ماہ سے جاری لاک ڈاوٴن نے روزگار کی خاطر نئے تجربے کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کر دی ہے۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر سے دیکھیے یہ ڈیجیٹل رپورٹ۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
پاکستان: کورونا کا بڑا شکار 20 سے 39 برس کی درمیانی عمر کے افراد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 13 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ملک میں اس وائرس کا نشانہ بننے والے افراد کی شرح ان افراد میں زیادہ ہے جن کی عمریں 20 سے 39 برس کے درمیان ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کا 22.79 فیصد (لگ بھگ 25912 افراد) ایسے افراد پر مشتمل ہے جن کی عمریں 30 سے 39 برس کے درمیان ہیں۔
اسی طرح متاثرین میں سے 22.21 فیصد یعنی لگ بھگ 25253 افراد وہ ہیں جن کی عمریں 20 سے 29 برس کے درمیان ہیں۔
اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ تیسرا بڑا گروہ جو اس وائرس سے متاثر ہو رہا ہے ان کی عمریں 40 سے 49 برس کے درمیان ہیں۔ 16.3 فیصد (لگ بھگ 18533 افراد) متاثرین اس ایج گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اسی طرح 13.6 فیصد (یعنی 15463 افراد) متاثرین وہ ہیں جن کی عمریں 50 سے 59 برس کے درمیان ہیں۔
لاک ڈاؤن میں خوراک کی کمی کی وجہ سے ایک ہزار سے زیادہ پرندوں کی موت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کی معروف عبادت گاہ مزار شریف میں پالے جانے والے سفید کبوتروں میں سے ایک ہزار سے زیادہ سفید کبوتر دانے وار اناج کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔
کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے مسجد کافی دنوں تک بند رہی جس کی وجہ سے ان پرندوں کو دانہ نہیں مل سکا اور ان کی موت ہوگئی۔
بارہویں صدی میں تعمیر ہونے والی اس مسجد کو نیلی مسجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ اس کے پتھر نیلے رنگ کے ہیں۔
مسجد کی دیکھ بھال کرنے والے قیوم انصاری نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کبوتر مستقل طور پر مر رہے تھے کیونکہ کوئی انھیں دانہ ڈالنے نہیں آیا۔
انھوں نے بتایا: 'ہر روز 30 سے زیادہ کبوتر (سفید کبوتر) مر رہے تھے اور ہم انھیں اس مسجد کے باہر دفن کر دیتے تھے۔'
ان کا کہنا ہے کہ اب تک وہاں ایک ہزار سے زیادہ کبوتر مر چکے ہیں۔
یہ مسجد ملک میں لاک ڈاؤن کے دوران بند ہونے والی متعدد مذہبی عمارتوں میں سے ایک ہے۔
افغانستان میں کورونا وائرس کے انفیکشن کی تعداد 21 ہزار سے زیادہ ہے لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔
پاکستان میں شرح اموات 60 سے 69 برس کے افراد میں سب سے زیادہ ہے
،تصویر کا ذریعہcovid.gov
پاکستان میں اب تک کورونا وائرس کے باعث 2255 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ متاثرین میں شرح اموات سب سے زیادہ ان افراد میں رپورٹ ہوئی ہے جن کی عمر 60 سے 69 برس کے درمیان ہیں۔
اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2255 ہلاک شدہ افراد میں سے 29.83 فیصد (یعنی لگ بھگ 672 افراد) ایسے تھے جن کی عمریں 60 سے 69 برس کے درمیان تھیں۔
ہلاک ہونے والوں کی دوسری بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جن کی عمریں 50 سے 59 برس کی درمیان ہیں۔ مجموعی طور پر ہلاک شدہ افراد کا 25.3 فیصد (یعنی لگ بھگ 570 افراد) ایسے ہی افراد پر مشتمل ہے۔
اسی طرح ہلاک ہونے والوں میں 17.41 فیصد (یعنی 392 افراد) ایسے ہیں جن کی عمریں 70 سے 79 برس کے درمیان ہیں، 11.89 فیصد (یعنی 268 افراد) کی عمریں 40 سے 49 برس کے درمیان، 6.36 فیصد (یا 143 افراد) کی عمریں 80 سال یا اس سے بڑی ہیں جبکہ 4.99 فیصد یا 112 ہلاک شدہ افراد کی عمریں 30 سے 39 برس کے درمیان ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی شرح سب سے زیادہ ان افراد میں ہے جن کی عمریں 30 سے 39 برس کے درمیان ہیں۔
چین کی جانب سے ہارورڈ یونیورسٹی کی ’انتہائی احمقانہ‘ تحقیق مسترد
،تصویر کا ذریعہHarvard Medical School
امریکی یونیورسٹی ہارورڈ کے میڈیکل سکول کی جانب سے کی گئی حالیہ تحقیق جس
میں اندازہ لگایا گیا کہ کووڈ 19 چین کے شہر ووہان میں اگست 2019 سے پھیلنا شروع ہو گیا
تھا کے بارے میں چین نے رد عمل دیتے ہوئے اسے ’انتہائی احمقانہ‘ قرار دیا ہے۔
چین نے عالمی ادارہ صحت کو کووڈ 19 کے بارے میں 31 دسمبر کو آگاہ کیا تھا۔
ہارورڈ یونی
ورسٹی کی تحقیق میں سٹیلائٹ کے ذریعے لی گئی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ ووہان
میں اگست 2019 میں ہسپتالوں کے باہر گاڑیوں کا رش بڑھ گیا تھا جبکہ انٹرنیٹ پر لوگ
ایسی چیزیں ڈھونڈ رہے تھے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اگست میں کورونا وائرس سے
متاثر ہو گئے تھے۔
چینی
وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے کہا: ’میرے خیال میں یہ بالکل احمقانہ، انتہائی
احمقانہ بات ہے کہ وہ صرف ٹریفک کو دیکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں۔‘
ہارورڈ
یونی ورسٹی کی تحقیق کو ساتھی محققین کی جانب سے نہیں جانچا گیا ہے تاہم دوسرے
سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اس مواد سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا آسان نہیں ہے۔
ایک
ماہر نے اس تحقیق پر تبصرہ کیا کہ اس میں جو تحقیقی طریقہ استعمال کیا گیا ہے وہ
’مبہم‘ ہے۔
ویتنام کا بین الاقوامی پروازیں بحال کرنے پر غور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ویتنام اس تجویز پر غور کر رہا ہے کہ آیا ان ممالک کے لیے پروازیں دوبارہ بحال کی
جائیں جنھیں کورونا وائرس سے ’محفوظ‘ قرار دیا گیا ہے۔
ویتنام میں غیر ملکیوں کا داخلہ 22 مارچ سے بند ہے ماسوائے وہ جنھیں خصوصی
اجازت ملی ہوئی ہے۔
ویتنام
کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے وزیر اعظم نوگوئن ژوان پوک نے حکام سے کہا ہے کہ
وہ ان ممالک کی فہرست تیار کریں جو کہ ’محفوظ‘ ہیں اور جہاں ویتنام دوبارہ پرواز
چلا سکتا ہے۔
خبر کے
مطابق ’محفوظ‘ ممالک وہ ہیں جہاں گذشتہ ایک ماہ سے کورونا وائرس کا کوئی نیا مریض
سامنے نہیں آیا ہے۔
چین کے
ساتھ طویل سرحد ہونے کے باوجود تقریباً دس کروڑ کی آبادی والے ملک میں کورونا
وائرس کے صرف 332 مصدقہ مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے جن میں سے 192 بیرون ملک سے آئے
تھے اور تمام کے تمام صحتیاب ہو گئے۔
تعلیم حاصل کرنے کے باوجود پریکٹس نہ کرنے والی ڈاکٹرز کورونا مریضوں کا علاج کیسے کر رہی ہیں؟
آپ کے حلقہ احباب میں یقیناً کئی ایسی خواتین ڈاکٹرز ہوں گی جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی وجہ سے پریکٹس نہیں کر سکیں۔ اب کراچی کی ایک تنظیم نے دنیا بھر میں موجود ایسی پاکستانی ڈاکٹرز کو کورونا کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کیا ہے۔ کیسے؟ جانیے اِس ویڈیو میں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
ایکٹیمرا انجکشن سے سنا مکی تک: کوورنا کے علاج میں یہ سب کس حد تک مددگار؟
،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
دنیا بھر میں جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے وہیں اس کی ویکسین کی تیاری کی کوششوں میں بھی تیزی آئی ہے۔
تاحال اس بیماری کا علاج دریافت نہیں کیا جا سکا ہے لیکن پاکستان میں اس وبا کے آغاز کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات کی بھرمار دیکھی گئی جس میں مختلف ادویات، جڑی بوٹیوں یا پھر کھانے پینے میں روزمرہ استعمال ہونے والی اشیا کو اس بیماری سے صحت یابی میں مددگار یا پھر اس کا علاج ہی قرار دے دیا گیا۔
یہ بات جہاں ادرک اور کلونجی یا ملیریا کے علاج میں استعمال ہونی والی دوائی کلوروکوئین سے شروع ہوئی وہیں آج کل اکٹیمرا نامی انجیکشن اور سنامکی نامی جڑی بوٹی کا شہرہ ہے اور ایسی ادویات و جڑی بوٹیوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ ان کا استعمال کورونا کے مریض کے جسم میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
پاکستان میں شرح اموات دو فیصد، صحت یابی کا تناسب 31.9 فیصد
،تصویر کا ذریعہAFP
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین میں اموات کی شرح دو فیصد ہے یعنی ہر 100 کورونا مریضوں میں سے دو مریض ہلاک ہو رہے ہیں۔
اسی طرح ملک میں صحت یابی کا تناسب فی الحال 31.9 فیصد ہے۔
اسلام آباد کی صورتحال
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 178 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ اسی دورانیے میں مزید پانچ ہلاکتیں بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت اسلام آباد میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 5963 ہو چکی ہے جبکہ اموات کی کُل تعداد 57 ہو گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں اب تک 843 کورونا متاثرین صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
کیا کورونا وائرس کوئلے کے استعمال کو ختم کرنے میں مدد کرے گا؟, جسٹن رولاٹ، چیف نامہ نگار، ماحولیات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے انسانوں کو توانائی کے استعمال کرنے کے رویے میں تبدیلی لانی پڑی ہے۔
لیکن کیا وبا ماحول کو سب سے زئادہ آلودہ کرنے والے ذریعے یعنی کوئلے کو بھی ختم کر سکتی ہے؟
جہاں اس وبا سے انسانوں کو شدید خطرے لاحق ہوئے ہیں، وہیں ہم نے اس کے ماحول پر پڑنے والے حیرت انگیز اثرات بھی دیکھے ہیں۔
ہم سب نے صاف شفاف آسمان بھی دیکھا، آلودگی سے پاک فضا میں سانس لی۔ یہ سب بہت واضح ثبوت ہیں کہ ہم توانائی کے استعمال کے حوالے سے بہت حیرت انگیز دور سے گزر رہے ہیں۔
لاکھوں افراد کو گھروں میں رہنے کے حکم کے بعد توانائی کی طلب میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اس سے نظر آیا ہے کہ کوئلے میں کیا کیا خرابیاں ہیں، جس نے آج کی جدید دنیا قائم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔
’پاکستان بھر کے ہسپتالوں میں 322 کورونا متاثرین وینٹیلیٹرز پر ہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق اس وقت پاکستان کے مختلف ہسپتالوں میں 322 کورونا متاثرین انتہائی نگہداشت یونٹس میں زیر علاج ہیں اور مصنوعی تنفس فراہم کرنے کے لیے انھیں وینٹیلیٹرز پر منتقل کیا گیا ہے۔
کمانڈ سینٹر کے مطابق پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 1198 وینٹیلیٹرز موجود ہیں۔
پنجاب میں کورونا متاثرین کے لیے مختص کیے گئے بیڈز کی مجموعی تعداد 9276 ہے جن میں سے 3500 بیڈز پر آکسیجن کی سہولت دستیاب ہے۔
صوبے بھر کے ہسپتالوں میں 387 وینٹیلٹرز میسر ہیں جبکہ 159 مریض وینٹیلیٹر پر منتقل کیے گئے ہیں۔
سندھ میں کورونا مریضوں کے لیے دستیاب بیڈز کی کُل تعداد 8094 ہیں جن میں سے صرف 548 بیڈز کے ساتھ آکسیجن کی سہولت میسر ہے۔ صوبے بھر کے ہسپتالوں میں مجموعی طور پر دستیاب وینٹیلیٹرز کی تعداد 304 ہے اور اس وقت انتہائی نگہداشت میں داخل 83 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں۔
اسلام آباد میں فی الوقت 10 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں جبکہ یہاں دستیاب وینٹیلیٹرز کی کُل تعداد 94 ہے جبکہ کورونا متاثرین کے لیے مجموعی طور پر 520 بیڈز مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 262 پر آکسیجن کی سہولت دستیاب ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا متاثرین کے لیے مختص بیڈز کی مجموعی تعداد 379 ہے جبکہ صرف 68 ایسے بیڈز ہیں جن کے ساتھ آکسیجن سلینڈر کی سہولت موجود ہے۔ جبکہ اس خطے کے ہسپتالوں میں کُل 43 وینٹیلیٹرز ہیں تاہم فی الحال کوئی مریض وینٹیلیٹر پر موجود نہیں ہے۔
صوبہ بلوچستان میں کورونا متاثرین کے لیے کُل 2148 بیڈز مختص ہیں جن میں سے 68 پر آکسیجن کی سہولت میسر ہے۔ صوبے بھر میں فی الحال کوئی مریض وینٹیلیٹر پر موجود نہیں ہے تاہم یہاں دستیاب وینٹیلیٹرز کی تعداد 29 ہے۔
گلگت بلتستان میں کورونا مریضوں کے لیے دستیاب بیڈز کی مجموعی تعداد 151 ہے جن میں سے 43 بستروں پر آکسیجن کی سہولت میسر ہے۔ یہاں بھی کوئی مریض وینٹیلیٹر پر نہیں ہے اور دستیاب وینٹیلیٹرز کی تعداد 28 ہے۔
’کینیڈین شہری امریکہ سے واپس کینیڈا آ سکتے ہیں مگر انھیں 14 دن تک قرنطینہ میں رہنا ہو گا‘
،تصویر کا ذریعہReuters
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ ایک ہی خاندان والے کینیڈین شہری امریکہ سے کینیڈا آ سکتے ہیں تاہم انھیں ملک آنے کے 14 دن تک قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان سرحد 21 مارچ سے غیر ضروری سفر کے لیے بند ہے اور 21 جون کو دوبارہ کھلے گی۔
کئی ایسے افراد جو کینیڈین شہری نہیں ہیں لیکن ان کی شادیاں کینیڈین شہریوں سے ہوئی ہے انھیں ملک میں داخل ہونے کی دشواری ہو رہی تھی۔
وزیر اعظم ٹروڈو نے کہا کہ اگر ان قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تو سخت جرمانہ عائد ہوگا۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے ریکارڈ 5385 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ ملک بھر میں گذشتہ روز ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 83 رہی۔
نئے مریض سامنے آنے کے بعد اب پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 113702 ہو چکی ہے جبکہ اموات کی کُل تعداد 2255 ہے۔
مجموعی طور پر 36308 افراد اب تک صحت یاب ہو چکے ہیں۔
صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2641 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور اب یہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 43460 ہو گئی ہے۔
اسی طرح 34 نئی ہلاکتوں کے بعد اب پنجاب میں اموات کی کُل تعداد 807 ہو گئی ہے۔
سندھ میں متاثرین کی مجموعی تعداد 41303، خیبرپختونخوا میں 14527، بلوچستان میں 7031، اسلام آباد میں 5963، گلگت بلتستان میں 974 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا متاثرین کی تعداد 444 ہے۔
807 ہلاکتوں کے ساتھ صوبہ پنجاب سرفہرست ہے جبکہ سندھ میں اب تک 696، خیبرپختونخوا میں 610، بلوچستان میں 62، اسلام آباد میں 57، جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اموات کی مجموعی تعداد نو ہے۔
گذشتہ روز پاکستان میں کُل 23799 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور اب ملک میں ہونے والے کورونا ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد 754,252 ہو گئی ہے۔
ابھی یہ وبا ’ختم‘ نہیں ہوئی: ڈاکٹر انتھونی فاؤچی
،تصویر کا ذریعہReuters
وائٹ ہاؤس میں کورونا وائرس رسپانس ٹیم کے رکن اور امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اور انفیکشس ڈیزیززکے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ ابھی یہ وبا ختم نہیں ہوئی۔|
ان کا کہنا تھا کہ یہ وبا ان کے لیے ایک بدترین ڈراؤنا خواب ہے۔
بائیوٹیکنالوجی سے متعلق ادارے بی آئی او کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ چار ماہ کے دوران کورونا وائرس نے پوری دنیا کو تباہ کیا ہے۔
ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔
انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ وائرس کے اتنی تیزی سے پھیلنے پر حیران ہیں تاہم انھوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ویکسین مل جائے گی۔
بریکنگ, کورونا وائرس: دنیا میں ہلاکتوں کی کل تعداد 411,009 ہو گئی
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مجموعی متاثرین کی تعداد 7,237,093 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 411,009 ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اموات کی تعداد 111,876 ہے جبکہ دیگر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کے اعدا دو شمار یہ ہیں۔