خیبر پختونخوا: کورونا ٹیسٹ کے نتائج میں تاخیر سے لوگ پریشان, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس سے زیادہ بوجھ ان لیبارٹریوں پر بڑھ گیا ہے جہاں اس مرض کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور کئی لیبارٹریز اب ٹیسٹ 48 سے 72 گھنٹوں سے زیادہ وقت میں مکمل کرتی ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جس کے باعث متشبہ مریضوں کے ٹیسٹ کروائے جانے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں ابتداء میں روزانہ 20 ٹیسٹس کیے جاتے تھے اور اب یہ تعداد بڑھ کر 3000 تک پہنچ چکی ہے۔ خیبر میڈیکل کالج میں قائم لیبارٹری میں سینیئر ڈاکٹر ضیاء الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ اب ٹیسٹ زیادہ آ رہے ہیں اور لیبارٹریوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے جس وجہ سے ٹیسٹ کے نتائج میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ایک ٹیسٹ کے لیے مشین میں 6 سے 7 گھنٹے لگتے ہیں اور اس ٹیسٹ کی تیاری میں یعنی انٹری اور دیگر ضروریات پوری کرنے میں بھی وقت درکار ہوتا ہے اس لیے ایک ٹیسٹ پر دن میں زیادہ وقت لگ جاتا ہے اور موجودہ حالات میں جب زیادہ ٹیسٹ آنا شروع ہو گئے ہیں تو پہلے سے کچھ ٹیسٹ پڑے ہیں انھیں مکمل کرنے کے بعد نئے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جس وجہ سے اب ٹیسٹ پر 48 سے 72 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
یہاں ایسے واقعات پیش آئے ہیں جب مریض کو ہسپتال لایا گیا اور ان کے کورورنا ٹیسٹ کے لیے سواب لے لیے گئے تو رزلٹ آنے میں چار سے پانچ روز لگ جاتے ہیں اور اس دوران چند ایک مریضوں کی اموات بھی ہو گئی ہیں۔
محکمہ صحت کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ٹیسٹ کٹس کی کمی نہیں ہے اور ٹیسٹ کٹس دیگر ممالک سے عطیے میں دی گئی تھیں مگر اب ہسپتالوں سے کہا گیا ہے کہ اگر ٹیسٹ کٹس کم پڑ جاتی ہیں تو ہسپتال اپنے طور پر ان کٹس کی خریداری کریں گے۔
مقامی مارکیٹ میں ایک کٹ کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے جس میں 45 سے 48 سیمپل ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر سامان مثلاً سلوشن وغیرہ درکار ہوتا ہے، اس لیے ایک ٹیسٹ پر پھر پانچ سے چھ ہزار روپے لاگت آ سکتی ہے۔
























