کورونا وائرس: بلوچستان میں کورونا کے 304 نئے مریض، خیبرپختونخوا میں متاثرین 15 ہزار سے زیادہ

دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. خیبر پختونخوا: کورونا ٹیسٹ کے نتائج میں تاخیر سے لوگ پریشان, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس سے زیادہ بوجھ ان لیبارٹریوں پر بڑھ گیا ہے جہاں اس مرض کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور کئی لیبارٹریز اب ٹیسٹ 48 سے 72 گھنٹوں سے زیادہ وقت میں مکمل کرتی ہیں۔

    پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جس کے باعث متشبہ مریضوں کے ٹیسٹ کروائے جانے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    صوبہ خیبر پختونخوا میں ابتداء میں روزانہ 20 ٹیسٹس کیے جاتے تھے اور اب یہ تعداد بڑھ کر 3000 تک پہنچ چکی ہے۔ خیبر میڈیکل کالج میں قائم لیبارٹری میں سینیئر ڈاکٹر ضیاء الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ اب ٹیسٹ زیادہ آ رہے ہیں اور لیبارٹریوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے جس وجہ سے ٹیسٹ کے نتائج میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ایک ٹیسٹ کے لیے مشین میں 6 سے 7 گھنٹے لگتے ہیں اور اس ٹیسٹ کی تیاری میں یعنی انٹری اور دیگر ضروریات پوری کرنے میں بھی وقت درکار ہوتا ہے اس لیے ایک ٹیسٹ پر دن میں زیادہ وقت لگ جاتا ہے اور موجودہ حالات میں جب زیادہ ٹیسٹ آنا شروع ہو گئے ہیں تو پہلے سے کچھ ٹیسٹ پڑے ہیں انھیں مکمل کرنے کے بعد نئے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جس وجہ سے اب ٹیسٹ پر 48 سے 72 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

    یہاں ایسے واقعات پیش آئے ہیں جب مریض کو ہسپتال لایا گیا اور ان کے کورورنا ٹیسٹ کے لیے سواب لے لیے گئے تو رزلٹ آنے میں چار سے پانچ روز لگ جاتے ہیں اور اس دوران چند ایک مریضوں کی اموات بھی ہو گئی ہیں۔

    محکمہ صحت کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ٹیسٹ کٹس کی کمی نہیں ہے اور ٹیسٹ کٹس دیگر ممالک سے عطیے میں دی گئی تھیں مگر اب ہسپتالوں سے کہا گیا ہے کہ اگر ٹیسٹ کٹس کم پڑ جاتی ہیں تو ہسپتال اپنے طور پر ان کٹس کی خریداری کریں گے۔

    مقامی مارکیٹ میں ایک کٹ کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے جس میں 45 سے 48 سیمپل ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر سامان مثلاً سلوشن وغیرہ درکار ہوتا ہے، اس لیے ایک ٹیسٹ پر پھر پانچ سے چھ ہزار روپے لاگت آ سکتی ہے۔

  2. ’11 میں سے نو چینی ٹیسٹنگ کٹس بالکل کچرا تھیں‘, کیٹی واٹسن، نامہ نگار، بی بی سی جنوبی امریکہ

    brazil

    لاطینی امریکہ کے سب سے بڑے ملک برازیل میں کورونا وائرس کے متاثرین کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار کا تنازع شروع ہونے سے قبل ہی کئی ماہرین کو اندازہ تھا کہ یہ درست نہیں ہیں، کیونکہ وہاں بہت کم تعداد میں ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

    برازیل کو کئی دشواریوں کا سامنا ہے اور ان میں سے ایک بڑا مسئلہ ٹیسٹنگ کٹس درآمد کرنے کا ہے، اور وہ بھی ایک ایسے وقت جب دنیا بھر میں ان کی طلب میں اضافہ ہے۔

    لیکن اس سے بھی اہم مسئلہ حکومت کی خراب منصوبہ بندی ہے۔

    ساؤ پاؤلو شہر میں فلیوری لیبارٹری کے کلینکل ڈائریکٹر ڈاکٹر کیلسو گراناٹو نے کہا کہ ’فروری اور مارچ میں بڑی تعداد میں چینی ٹیسٹ کٹس برازیل آنا شروع ہوئیں جن میں سے ہم نے تیز رفتار ٹیسٹنگ والی 11 کٹس کو استعمال کیا مگر ان میں سے نو بالکل کچرا تھیں۔‘

    لیکن انھوں نے کہا کہ حکومت نے پھر بھی وہ خرید لیں۔ ’انھیں لگا کہ بہتر ہے کہ ان خراب کٹس سے ٹیسٹ کر لیے جائیں۔‘

    حکومتی فیصلوں کے علاوہ ملک کا رقبہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ برازیل میں موجود زیادہ تر لیبارٹریاں جہاں پی سی آر ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہے وہ ملک کجنوبی حصے میں ہیں۔

    لیکن ملک کے دور دراز کے علاقے جیسے ایمازون کے جنگلات وغیرہ، جہاں بڑی تعداد میں متاثرین ہیں، وہاں سے ٹیسٹ کے نمونے صحیح حالت میں لانا بہت دشوار ہے اور کئی نمونے اسی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں۔

    ’ایمازون کا ساؤ پاؤلو سے فاصلہ تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر ہے اور آپ کو نمونہ حاصل کرنے کے بعد لیب تک جمع کرانے تک اسے ایک یکساں درجہ حرارت پر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔‘

    اس صورتحال کے پیش نظر برازیل نے اپنے ملک میں خود کووڈ کی جانچ کے لیے نیا ٹیسٹ تیار کرنا شروع کیا ہے جو پروٹین کی مدد سے ہوتا ہے اور وہ پی سی آر ٹیسٹ کے مقابلے میں زیادہ دیرپا ہے۔

    یہ ابتدائی دن ہیں لیکن درست سمت میں ہیں۔

  3. عالمی ادارہ صحت کا یاسمین راشد کو خط، متاثرین کی تعداد میں اضافے پر تشویش، سفارشات

    یاسمین راشد

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے پاکستان آفس نے صوبہ پنجاب کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن میں دو ہفتے کے لیے نرمی اور دو ہفتے کے لیے سختی کی حکمتِ عملی اپنائے کیونکہ اس سے مرض سب سے زیادہ قابو میں رہے گا۔

    وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کے نام ایک خط میں ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر پلیتھا ماہیپالا نے لکھا ہے کہ پاکستان میں اس وقت مثبت مریضوں کے سامنے آنے کی شرح 24 فیصد ہے اور اس شرح کو دیکھتے ہوئے یومیہ 50 ہزار ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا نہایت اہم ہے۔

    اپنے خط میں انھوں نے حکومتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق یکم مئی کو جب لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی اور اس کے بعد 22 مئی کو لاک ڈاؤن مزید نرم کر دیا گیا، تو اس کے نتیجے میں کورونا وائرس پھیلنے میں اضافہ ہوا ہے۔

    انھوں نے اپنے خط میں لکھا کہ لاک ڈاؤن اٹھانے کے لیے مندرجہ ذیل چھ شرائط پوری ہونی چاہییں:

    • مرض کا پھیلاؤ قابو میں ہو
    • نظامِ صحت ہر مشتبہ مریض کا پتہ چلا سکیں، انھیں ٹیسٹ کر سکیں، انھیں الگ رکھ سکیں، ان کا علاج کر سکیں اور ان سے رابطے میں آنے والے ہر شخص کا پتہ چلا سکیں۔
    • خطرے کی زد میں موجود جگہوں مثلاً نرسنگ ہومز میں خطرے کو کم سے کم سطح پر رکھا جا سکے۔
    • سکولوں، کام کی جگہوں اور دیگر ضروری مقامات پر حفاظتی اقدامات موجود ہوں۔
    • نئے متاثرین کی ملک میں آمد کو ‘قابو کیا جا سکے۔’
    • عوام مکمل طور پر آگاہ ہوں، اور انھیں اس نئی صورتحال میں زندگی گزارنے کے لیے ساتھ لے کر چلا جائے۔

    لیکن انھوں نے کہا کہ پاکستان لاک ڈاؤن اٹھانے کی ان پیشگی شرائط میں سے کسی ایک کو بھی پورا نہیں کرتا۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انھوں نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ پاکستان میں مشتبہ اور مصدقہ مریضوں کی نگرانی کا نظام کمزور ہے جبکہ انتہائی نگہداشت فراہم کرنے کی صلاحیت محدود ہے اور کووِڈ 19 کے لیے صرف 751 وینٹیلیٹر مختص کیے گئے ہیں، جبکہ عوام رویوں میں تبدیلی لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    ڈاکٹر ماہیپالا نے مزید لکھا کہ پاکستان سب سے زیادہ متاثرین رپورٹ کرنے والے دنیا کے 10 ممالک میں سے ہے اس لیے پاکستان کو اقتصادی خوشحالی، انسانی حقوق اور غذائی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے عوامی صحت کے اقدامات میں نرمی یا سختی کرنے کے سٹریٹجک فیصلے لینے ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ان مشکل فیصلوں میں مخصوص علاقوں (ضلعوں، قصبوں، یا دیہات اور ان کے حصوں) میں وقفے وقفے سے لاک ڈاؤن کرنا پہلا آپشن ہے اور اسے ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ اسی دوران صحت کی خدمات کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے ہم آہنگ اقدامات اور سٹریٹجک منصوبہ بندی ضروری ہے جس سے نظام بیٹھ جانے کے خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔

  4. برطانیہ: مارچ کے بعد سے ہلاکتوں کی تعداد 64,000 زیادہ, رابرٹ کف، بی بی سی

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مارچ کے بعد سے برطانیہ میں دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور یہ اعداد و شمار ہر سال کے ان مہینوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے 64,000 زیادہ ہیں۔

    یہ تعداد ان اموات سے بھی زیادہ ہے جو ہر روز ہم حکومت کی کورونا وائرس کی بریفنگ میں سنتے ہیں کیونکہ ان میں صرف ان افراد کو شامل کیا جاتا ہے جن کا ہلاک ہونے سے پہلے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہو۔

    63,708 کے اس نمبر میں وہ لوگ شامل ہیں جو کورونا وائرس کی تشخیص کے بغیر ہی ہلاک ہو گئے یا جو ہیلتھ کیئر اور معاشرے پر مجموعی دباؤ کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

    صرف مئی کے آخری ہفتے میں ہی 11,000 سے کچھ اوپر لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ پچلے ہفتوں سے کم تھے، سو رجحانات درسt سمت میں جا رہے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اعداد و شمار معمول کے مطابق آ گئے ہیں۔

    ابھی بھی ہلاکتوں کی تعداد معمول سے 20 فیصد زیادہ ہے۔

  5. پشاور. ایل آر ایچ کے کورونا کمپلیکس میں تیمارداروں کے لیے ویڈیو کالز کی سہولت کی فراہمی

    کورونا

    پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے کورونا کمپلیکس میں تیمارداروں کے لیے ویڈیو کالز کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے جس کے ذریعے کورونا وارڈ میں داخل مریضوں کے لواحقین ان کے ساتھ براہ راست ویڈیو کال کر سکیں گے.

    ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک کونسلنگ روم بنایا گیا ہے جہاں پر لواحقین کو اپنے مریض کی حالت کے بارے میں معلومات دی جائیں گی۔

    مریضوں کے لواحقین اسی وقت کورونا وارڈ میں موجود طبی عملے سے بھی براہ راست گفتگو کر سکیں گے۔

    انتظامیہ کے مطبق تیمارداروں کو ویڈیو کال کی سہولت سے ہسپتال اور طبی عملے کے بارے میں غلط تاثر ختم کرنے میں مدد ملے گی اور کورونا کے مریض جب اپنے لواحقین سے بات کریں گے تو ان کو مزید اطمینان ہوگا۔

  6. ایکٹیمرا انجکشن سے سنا مکی تک: کوورنا کے علاج میں یہ سب کس حد تک مددگار؟

  7. ایک جھلک: دنیا میں آج کیا کچھ ہوا

    ویسٹ انڈیز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جو قاریئن ابھی ابھی ہمارے صفحے پہ آئے ہیں ان کے لیے دنیا بھر سے کورونا وائرس کے حوالے سے ہیڈ لائنز کی ایک جھلک:

    • انگلینڈ کے سبھی پرائمری سکولوں میں بچوں کو ٹرم ختم ہونے سے پہلے سکول واپس بھیجنے کا منصوبہ ختم کیا جا رہا ہے۔
    • ایک تحقیق کے مطابق اگست 2019 کے بعد چین کے شہر وہان کے ہسپتالوں کے باہر بظاہر رش میں اضافہ دیکھنے سے لگتا ہے کہ کورونا وائرس اس سے پہلے موجود تھا جو رپورٹ کیا گیا ہے۔
    • ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم انگلینڈ پہنچ گئی ہے اور اب مانچییسٹر میں قائم ایک محفوظ ماحول میں قرنطینہ میں رہے گی۔ وہ یہاں ایک ٹیسٹ سیریز کھیلے گی جو 8 جولائی سے شروع ہو رہی ہے۔
    • اینٹارٹکا میں واقع نیوزی لینڈ کا ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ اس کوشش میں وہاں اگلے سیزن کے لیے بنائے گئے تحقیق کے منصوبوں کو کم کر رہا ہے تاکہ برِ اعظم کو کورونا وائرس سے پاک رکھا جا سکے۔
    • جنوبی افریقہ کے سب سے بڑے شہر جوہانسبرگ کے میئر اپنے عملے کے ایک رکن میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد خود بھی آئسولیشن میں چلے گئے ہیں۔
  8. انڈیا کی سپریم کورٹ: دربدر مزدوروں کو گھر پہنچانے کے لیے 15 روز کا وقت

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی سپریم کورٹ نے کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے باعث دربدر ہوجانے والے بیسیوں ہزار مزدوروں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کے لیے حکومت کو 15 روز کا وقت دیا ہے۔

    جب مارچ کے اواخر میں چار گھنٹے کے نوٹس پر لاک ڈاؤن نافذ ہوا تو لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے اور انھیں اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے کوئی ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہوسکی۔

    بیشتر لوگ سینکڑوں کلومیٹر پیدل یا سائیکل کے ذریعے شہروں سے اپنے دیہات تک پہنچے۔ اس دوران کئی لوگ تھکاوٹ، بیماری اور ٹریفک حادثات کے باعث ہلاک ہوگئے۔

    جب کئی اندوہناک خبروں نے میڈیا میں اپنی جگہ بنائی تو سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیا۔

    عدالت نے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر مزدوروں کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات واپس لیں۔

    گذشتہ ماہ سے انڈیا کی حکومت مزدوروں کو اپنے گھروں تک پہنچانے کے لیے خصوصی ٹرینیں اور بسیں چلا رہی ہے۔ اب حکومت کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ اپنی آبائی ریاستوں میں ان لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرے۔

  9. جامعہ کشمیر کا 22 جون سے ایچ ای سی کی پالیسی کے تحت امتحانات لینے کا فیصلہ, ایم اے جرال، صحافی

    جامعہ کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہM. A. Jarral

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قائم یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر نے 22 جون سے ایچ ای سی کی پالیسی کے تحت امتحانات لینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ آن لائن کلاسز کا آغاز جولائی سے ہوگا۔

    مظفرآباد میں اے جے کے یونیورسٹی کی پریس ریلیز کے مطابق امتحانی پالیسی ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی گائیڈ لائنز نمبر 6 اور اوپن بک امتحان کی شق A3 کے مطابق ترتیب دی ہے، جس کے تحت سیمسٹر خزاں سنہ 2020 کے بقیہ رہ جانے والے ٹرمینل امتحانات اوپن بک کے تحت 22 جون 2020 سے شروع ہوں گے۔

    ان کے مطابق پالیسی کے تحت طلبہ و طلبات جوابی کاپی بذریعہ انٹرنیٹ و واٹس ایپ یا ڈاک کے ذریعے بھیج سکتے ہیں جبکہ امتحانات کی ڈیٹ شیٹ متعلقہ شعبے کے سربراہ جاری کریں گے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اوپن بک امتحان کی تفصیلات اور ایس او پیز جاری کر دی گئی ہیں جن کی تفصیلات اے جے کے یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر اگلے چند روز تک آپ لوڈ کر دی جائیں گی جبکہ طالبعلم کو ڈیٹ شیٹ کے ساتھ امتحانی طریقہ کار کا ڈرافٹ بھی متعلقہ شعبہ جاری کرے گا۔

    ترجمان کے مطابق یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ کالجز کے بی ایس پروگرام کے طلباء کے لیے بھی یہی پالیسی ہو گی اور انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے کالجز یا جامعہ کے ڈائریکٹوریٹ آف بی ایس پروگرام سے رابطہ کریں۔

  10. مالٹا میں ہر شہری کو کھانے پینے کے لیے 100 یورو دیے جائیں گے

    گ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپی ملک مالٹا کی حکومت اپنی معیشت کی بحالی کے لیے کوشاں ہے اور اس کام کے لیے شہریوں کو 100 یورو کے واؤچر دیے جائیں گے جنھیں وہ ملک کے شراب خانوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں استعمال کر سکیں گے۔

    مالٹا کی مجموعی قومی آمدن کا ایک چوتھائی سیاحت سے حاصل ہوتا ہے جو کہ مارچ کے وسط میں کووِڈ 19 کی وجہ سے مکمل طور پر تھم چکی ہے۔

    اس کے جواب میں حکومت کا ارادہ ہے کہ 16 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو 20 یورو کے پانچ واؤچر دیے جائیں جن میں سے کم از کم چار کو ہوٹلوں اور ریستورانوں میں استعمال کرنا ہوگا۔

    اس کے علاوہ ستمبر کے مہینے تک سیاحت کے شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کو فی کس 800 یورو ماہانہ کی سبسڈی دی جائے گی۔

  11. کورونا وائرس ختم ہونے کے بعد نیوزی لینڈ میں زندگی کیسی ہے؟

    گ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لگائی گئی تمام پابندیاں اٹھا لی گئیں ہیں۔ اور روزمرہ زندگی نارمل ہونے کے بعد نیوزی لینڈ کے باشندوں نے پہلے دن کا بھرپور مزا لیا۔

    مقامی وقت کے مطابق آدھی رات کو ملک میں خطرے کے انتباہ کا درجہ واپس ایک درجے پر کر دیا گیا۔

    نیوزی لینڈ میں دو ہفتے سے کورونا وائرس کا ایک بھی مریض سامنے نہیں آیا۔

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  12. خواب پرتعیش شادی کے لیکن بارات میں گنتی کے چار لوگ

  13. لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ہی ماسکو میں زندگی لوٹ آئی

    ف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ماسکو کے شہری لاک ڈاؤن میں نرمی کے پہلے دن سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ مارچ کے بعد، پہلی بار 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد آزادانہ طور پر شہر میں گھوم سکتے ہیں۔

    روسی دارالحکومت میں نقل و حرکت پر پابندیاں ختم کردی گئیں ہیں اور حجام، بیوٹی سیلون اور جانوروں کے کلینک دوبارہ کھل گئے ہیں۔

    پچھلے پندرہ دنوں میں شہر میں روزانہ 2000 کے لگ بھگ متاثرین سامنے آنے کے باوجود لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے۔

    f

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  14. بریکنگ, سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 6995 ٹیسٹس کے بعد 1748 نئے متاثرین، اموات کی کل تعداد 696

    bbc

    سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ نے منگل کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 6995 ٹیسٹس کے نتیجے میں 1748 نئے متاثرین کی شناخت ہوئی ہے جو کہ 25 فیصد انفیکشن ریٹ یعنی مثبت نتائج کی شرح ہے۔

    اس کے علاوہ صوبے میں 17 مزید افراد کی ہلاکت کے بعد کل تعداد 696 ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب ابھی بھی سندھ میں مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے اور گذشتہ روز بھی 759 افراد صحتیاب ہو گئے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. کیا تھرمل کیمرے واقعی کورونا وائرس کی نشاندہی کر سکتے ہیں؟

    re

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لاک ڈاون میں نرمیوں کے ساتھ ہی عوامی مقامات پرہر طرف تھرمل امیجنگ کیمرے نظر آ رہے ہیں۔ ان کیمروں کا مقصد لوگوں کی صحت کا جائزہ لینا اور یہ چیک کرنا ہے کہ کہیں انھیں بخار تو نہیں۔

    انفراریڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے یہ کیمرے عام طور پر پیشانی سے جسم میں گرمی کی ہدت کا بتہ لگاتے ہیں- اور پھر جسم کے بنیادی درجہ حرارت کا اندازہ لگاتے ہیں۔

    تھرمل امیجنگ کیمرے اکثر فائر فائٹرز کے زیرِ استعمال ہوتے ہیں لیکن انھیں طبی آلات کے طور پر ڈیزائن نہیں کیا گیا ہے۔ یہ کیمرے نصف ڈگری تک جلد کا درجہ حرارت بتا سکتے ہیں لیکن یہ جسمانی درجہ حرارت کے جیسا نہیں ہے۔

    یونیورسٹی کالج لندن میں میڈیکل امیجنگ سائنس کے پروفیسر ڈیرک ہل کہتے ہیں ’کہ یہ آلات عام طور پر کان میں رکھے جانے والے میڈیکل ڈیوائس تھرمامیٹروں سے تھوڑے کم درست ہیں ۔‘

  16. بریکنگ, بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، اجمل وزیر

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیر اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ حکومت بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 15 اپریل سے لے کر 2 جون تک 29 پروازوں کے ذریعے 5670 مسافر پشاور آ چکے ہیں اور اب تک بیرون ملک سے شہریوں کی 40 میتیں بھی وطن واپس لائی جا چکی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک پھنسے پاکستانیوں کو لانے کے لیے ہر ہفتے 48 پروازوں کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے اور اس تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی محمود خان کی ہدایت پر بیرونِ ملک سے پاکستانیوں کو وطن واپس پہنچانا ہماری اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے ہم پشاور ائیر پورٹ پر ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ہوائی اڈوں پر تمام ایس او پیز کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے۔

  17. بریکنگ, سیاحت کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایس او پیز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، اجمل وزیر

    د

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیر اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے سیاحت کی صنعت کو دوبارہ کھولنے سے پہلے مشاورت سے ایس او پیز تیار کر لیے ہیں۔

    پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی محمود خان آئندہ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ان ایس او پیز کو پیش کریں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام میں کورونا وائرس سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے حکمتِ عملی کی منظوری دے دی گئی ہے اور وزارت اطلاعات اور اس سلسلے میں وزارت سیاحت کے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کر لیا گیا ہے۔

  18. انڈیا: باڈی بلڈروں کا حکومت سے انوکھے انداز میں جم دوبارہ کھولنے کا مطالبہ

    a

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    کورونا وائرس پھیلانے کے خدشے کے تحت فٹنس مراکز کھولنے پر پابندی کے خلاف ہفتے کے آخر میں متعدد انڈین شہروں میں جم کے مالکان اور ٹرینرز نے مظاہرے کیے۔

    مارچ کے آخر میں ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کے 10 ہفتوں سے بھی زیادہ عرصے بعد پیر سے شاپنگ مالز، ریستوران، ہوٹلوں اور عبادت گاہوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    لیکن متعدد شہروں میں مالکان اور ٹرینرزز مایوسں ہیں کیونکہ جم ابھی بند رہیں گے۔

    امرتسر جم ایسوسی ایشن کے صدر دھرمیندر ورما نے اے ایف پی کو بتایا ، ’ہم پچھلے تین ماہ سے خسارے میں ہیں اور اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی جا رہی کہ حکومت کب جموں کو کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔‘

    ورما کا کہنا تھا کہ جم کے مالکان بند ہونے کے باوجود کرایہ اور عملے کی تنخواہوں کی ادائیگی کررہے ہیں۔

    a

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    a

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    a

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  19. این سی او سی کی چھ نکات پر مبنی میٹنگ، وزیر اعظم کی قیادت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع

    PAk

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@PakPMO

    وزیر اعظم پاکستان کے دفتر سے جاری کی گئی ٹویٹ کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے منگل کو میٹنگ میں چھ نکات پر بات کی۔

    ان نکات میں بیماری کے پھیلاؤ کے اعداد و شمار پر گفتگو کے علاوہ قلیل مدتی ایکشن پلان، طبی عملے کے لیے خصوصی مراعات، ٹیسٹنگ صلاحیت میں اضافے، رضاکارانہ طبی عملے کی خدمات حاصل کرنا تاکہ ہسپتالوں سے بوجھ کم ہو سکے اور ڈیجیٹل پاکستان کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    دوسری جانب ایک اور ٹویٹ میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہو چکا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  20. انڈیا کے دارالحکومت میں متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ

    delhi

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں پیر کو 1000 کے قریب نئے متاثرین کی شناخت ہوئی جس کے بعد صرف وہاں کل متاثرین کی تعداد 30 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔

    نئی دہلی میں چند روز قبل ایک دن میں 1500 نئے مریضوں کی تشخیص ہو چکی ہے اور یہ تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور اب ماہرین کو خدشہ ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی ہونے کے بعد اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    نئی دہلی میں اب تک 800 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

    پانچ ڈاکٹروں پر مشتمل ماہرین کی ایک کمیٹی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر یہی رحجان جاری رہا تو جون کے اختتام تک نئی دہلی میں ایک لاکھ کے قریب مریض ہو سکتے ہیں۔

    خبروں کے مطابق نئی دہلی میں ہسپتالوں میں جگہ بھرنے لگی ہے اور مریضوں کو داخلہ دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب انڈیا کی معیشت کے لیے اہم ترین شہر ممبئی میں اب تک 50 ہزار سے زیادہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں اور وہ انڈیا کا سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے۔

    ملک میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ متاثرین اور 7466 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔