کورونا وائرس: بلوچستان میں کورونا کے 304 نئے مریض، خیبرپختونخوا میں متاثرین 15 ہزار سے زیادہ
دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔
لائیو کوریج
سندھ میں 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ 2487 متاثرین
صوبہ سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ کی دس جون کی پریس کانفرنس میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں یومیہ سب سے زیادہ تعداد میں نئے متاثرین کی شناخت ہوئی ہے جو کہ 2487 ہے۔
یہ نتیجہ کل کیے گئے 9100 ٹیسٹس کے بعد آیا یعنی انفیکشن ریٹ یا ٹیسٹس کا مثبت نتیجہ آنے کی شرح 27 فیصد رہی۔
اسی طرح صوبے میں ایک روز میں سب سے زیادہ اموات کا بھی نیا ریکارڈ بنا جب 42 ہلاکتیں گذشتہ 24 گھنٹے میں ریکارڈ کی گئی جس کے بعد اب سندھ میں مجموعی متاثرین 43790 جبکہ ہلاکتیں 738 ہو گئی ہیں۔
صوبہ پنجاب پاکستان کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ
پاکستان میں نو جون کے حتمی اعداد و شمار کے مطابق اب تک سب سے زیادہ متاثرین کی تعداد ملک میں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں دیکھنے میں آئی ہے جہاں اب تک 43 ہزار سے زیادہ متاثرین کی شناخت ہو چکی ہے اور یہ پاکستان کے مجموعی متاثرین کا 38 فیصد بنتا ہے۔
ہلاکتوں کے اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو نو جون تک آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہونے والی 2255 اموات میں سے سب سے زیادہ یعنی 807 پنجاب میں ہوئی ہیں جو کہ کل تعداد کا 38.7 فیصد بنتی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کئی ماہ سے ہم پاکستانی اور باقی دنیا کے لوگ کورونا وائرس کی وبا کے سائے تلے جی رہے ہیں لیکن اب بھی اس بیماری کے بارے میں بہت کم مصدقہ معلومات دستیاب ہیں۔ کیا کریں، کیا نہ کریں اور کس کا یقین کریں، یہ ہماری زندگیوں میں بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
آپ کے سوالات کے جوابات دینے، وبا اور اس سے جڑے لاک ڈاؤن اور اس کے ایس او پیز کے حوالے سے غلط فہمیاں دور کرنے، اور پاکستان کی تازہ ترین صورتحال کی معلومات جاننے کے لیے بی بی سی اردو نے اس خصوصی زوم لائیو کی نشست کا اہتمام کیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں کورونا سے متاثرہ ڈاکٹرز کی تعداد 455 ہو گئی: صوبائی ڈاکٹرز اسوسی ایشن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختنخواہ کی صوبائی ڈاکٹرز اسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کورونا کے خلاف خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کی بڑی تعداد کورونا کا شکار۔
صوبائی اسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق خیبر پختنخواہ میں 455 ڈاکٹرز کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
اب تک صوبے میں 170 کے قریب نرسسز جبکہ 375 نیم طبی عملے کے اراکین کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
اسوسی ایشن کے مطابق خیبر پختنخواہ میں اب تک 6 ڈاکٹرز، ایک نرس، چار پیرامیڈیکس، ایوب میڈیکل کالج کا ایک اکاونٹنٹ اور مردان میں ایک کلاس فور شاکر وارڈ بوائے کورونا وائرس سے ہلاک ہوا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں خیبر پختنخواہ میں ڈاکٹرز کا کورونا کا شکار ہونا باعث تشویش ہے اور صوبائی حکومت ڈاکٹرز کی کمی کو دور کرنے کے لیے ایک ہزار سپیشلسٹ ڈاکٹرز کو پی جی ایم آئی کے تحت بھرتی کرنے کی ضرورت ہے جو گزشتہ چھ مہینے سے کورٹ کے فیصلے کے باوجود بھرتی نہیں ہوئے۔
چینی سوشل میڈیا: ’امریکی قونصل خانہ نہیں چاہیئے‘, کیری ایلن، بی بی سی مانیٹرنگ
،تصویر کا ذریعہAFP
چین کے مرکزی شہر ووہان میں امریکی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر چینی سوشل میڈیا میں بہت غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔
امریکی دفترِ خارجہ نے 22 جون کو ووہان میں اپنا قونصل خانہ دوبارہ کھولنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن چینی سوشل میڈیا کہہ رہا ہے کہ امریکی اہلکاروں کو شہر خوش آمدید نہیں کہے گا اور قونصل خانہ دوبارہ کھولنے کا عمل بے شرمی ہو گا۔
سائینو ویئبو مائیکرو بلاگ ایک یوزر نے لکھا کہ ’ٹرمپ کے وائرس کو چین نہ لائیں‘، اس مائیکرو بلاگ کو 7,000 مرتبہ لائیک کیا گیا۔ کووڈ۔19 کو ’ٹرمپ وائرس‘ کہنا چین میں بہت مقبول ہے کیونکہ امریکی صدر نے پہلے کووڈ۔19 کو چینی وائرس کہا تھا۔ چینی عوام نے امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو پر بھی سخت تنقید کی تھی جب انھوں نے اسے ووہان وائرس کہا تھا۔
کیونکہ امریکہ میں کووڈ۔19 کے 19 لاکھ سے زیادہ متاثرین ہیں جو کہ کسی بھی دوسرے ملک سے لاکھوں زیادہ ہیں، چین میں بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ امریکی سفارتکاروں کے ملک میں آنے اور آپریشنز دوبارہ شروع کرنے سے وبا کی دوسری لہر آ سکتی ہے۔
چین میں وبا سے سب سے متاثر ہونے والا شہر ووہان تھا جہاں کووڈ۔19 کے 50 ہزار سے زیادہ تصدیق شدہ متاثرین تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے دو ماہ قبل تقریباً دنیا کے تمام ملکوں نے یا تو اپنے ایئر پورٹس بند کر دیے تھے یا ہوائی سفر کو بےحد محدود کر دیا تھا۔
یورپ میں بھی یہی صورتحال تھی لیکن اب جیسے جیسے یورپی ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے ایئرپورٹس بھی کھولے جا رہے ہیں۔
تو اس وقت یورپ میں ہوائی سفر کرنے کا تجربہ کیسا ہے؟
بی بی سی کی نامہ نگار جین میکینزی نے یورپ میں کورونا وائرس کی صورتحال پر رپورٹنگ کے دوران متعدد ایئرپورٹس سے سفر کیا۔
چند دن قبل برطانیہ واپس آتے ہوئے انھوں نے ہوائی سفر کے اپنے تجربے کی عکس بندی کی۔
بریکنگ, دینی مدارس نہ کھولے گئے تو طلبہ کے پاس ایسی مصروفیات موجود ہیں جو شاید ریاست کے لیے قابل قبول نہ ہوں: مولانا فضل الرحمان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے دینی مدارس کے طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف نہ کیا اور اساتذہ کے ساتھ وابستہ نہ کیا تو جہاں ان کا تعلیمی حرج ہو گا وہاں بہت سے اطراف میں ان کے پاس مصروفیات کے ایسے مواقع موجود ہیں جو شاید ریاست کے لیے کل قابلِ قبول نہ ہوں۔
انھوں نے کہا کہ سرکاری تعلیمی ادارے تو عموماً گرمی کے مہینوں یعنی جون جولائی اور اگست میں بند رہتے ہیں لیکن دینی مدارس میں یہ چھٹیاں ہجری کیلنڈر کے اعتبار سے شعبان، رمضان اور شوال کے مہینوں میں ہوتی ہیں۔
انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دینی مدارس کو فوراً کھولیں تاکہ طلبہ کے امتحانات لیے جا سکیں اور انھیں مصروف رکھا جا سکے۔
کوروناوائرس: یہ آخری وبا نہیں ہے
تمام وسائل استعمال کر کے کورونا کے بارے میں خوف پیدا کیا جا رہا ہے: فضل الرحمان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے تمام وسائل کا استعمال کر کے کورونا کی وبا کے بارے میں خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب ایک بیماری کا علاج ہی نہیں ہے تو پھر خوف کیوں پھیلایا جا رہا ہے؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایک بیماری کا مقابلہ قوتِ مدافعت کے ذریعے کیا جاتا ہے تو پھر ایسا کیوں ہے کہ اس کے بارے میں خوف پھیلا کر قوتِ مدافعت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ اپنے سفارت خانے کا دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے لیکن کوئی ان کی مدد نہیں کر رہا ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی نااہلی تسلیم کرتے ہوئے استعفیٰ دے۔
غیر مصدقہ خبروں کو فروغ دینے والوں کے لیے ڈاکٹر تمکینت کا پیغام!
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
سوشل میڈیا اور میسنجرز پر کورونا وائرس کی وبا کے بارے میں بہت سی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔
ان افواہون اور غلط خبروں سے نہ صرف اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، بلکہ طبی عملے کو بھی بہت دشواریوں کا سامنا ہے۔
ڈاکٹر تمکینت منصور پچھلے 15 سال سے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
اس ویڈیو میں دیکھیں ڈاکٹر تمکینت کا پیغام ان لوگوں کے لیے جو ان غیر مصدقہ خبروں کو فروغ دیتے ہیں۔
کورونا وائرس: اٹلی میں حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی
،تصویر کا ذریعہReuters
کورونا وائرس کے شکار افراد کے 50 رشتہ داروں نے وبا سے نمٹنے کی حکمتِ پر اٹلی کی حکومت کے خلاف شکایات درج کرائی ہیں۔ یہ اٹلی میں اپنی نوعیت کی پہلی قانونی کارروائی ہے۔
جب 31 سالہ سٹیفانو فسکو کے دادا مارچ میں ایک کیئر ہوم میں ہلاک ہو گئے تو انھوں نے ایسے افراد کے لیے ایک فیس بک گروپ بنایا جن کو ایسے ہی حالات کا سامنا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں بدلہ نہیں چاہیئے، ہمیں انصاف چاہیئے۔‘
یہ شکایات برگامو میں پروسیکیوٹر کے دفتر میں درج کرائی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ شمالی اٹلی کا وہی شہر ہے جو وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اٹلی میں کورونا وائرس سے جڑی ہوئی ابھی تک 34,043 اموات ہو چکی ہیں۔
خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے وکلا میں سے ایک، کونسیلو لوکاٹی، نے کہا ہے کہ برگامو کے پراسیکیوٹرز کو مزید 200 شکایات بھیجی جا رہی ہیں۔
پنجاب: گذشتہ نو دنوں میں 83 مسافروں میں کورونا کی تصدیق، صوبے میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھ کر 10 ہزار ہو گئی
،تصویر کا ذریعہPunjab Health Department
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ نو دنوں میں 83 مسافروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ صوبے میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھ کے 10 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہPunjab Health Department
گذشتہ روز پنجاب میں کل 9709 ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں سے 2641 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
یعنی گذشتہ روز صوبے میں انفیکشن ریٹ 27 فیصد رہا جبکہ اب تک یہاں کل 308806 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
کورونا وائرس: کووڈ 19 کے علاوہ وہ چار وائرس جن کے لیے اب تک کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی
،تصویر کا ذریعہReuters
دنیا بھر کے کروڑوں لوگ کورونا کے وبائی مرض سے نجات پانے کے لیے اس کی ویکسین کے منتظر ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ویکسین بنانے کے عمل پر کتنی تیز رفتاری سے کام کیوں نہ کیا جائے اس میں وقت لگ سکتا ہے اور اگر بہت خراب صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی ویکسین دریافت نہیں بھی ہو سکتی۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ہیلتھ ایمرجنسی کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا: ’اس وائرس کے ساتھ ہمیں رہنا پڑ سکتا ہے۔‘
ویکسین کی تلاش برسوں یا عشروں تک جاری رہ سکتی ہے۔
یہ کوششیں ضائع بھی ہو سکتی ہیں اور اچھے نتائج بھی آ سکتے ہیں جیسا کہ ایبولا کی صورت میں دیکھا گیا۔
کورونا وائرس: پنجاب میں 16 سے 45 برس کے 26 ہزار سے زائد افراد متاثر
،تصویر کا ذریعہPunjab Health Department
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے باعث 16 سے 45 برس کے 26 ہزار سے زائد افراد ہوئے ہیں۔
صوبہ اس وقت اموات کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے اور یہاں گذشتہ روز 2641 نئے مریض بھی سامنے آئے تھے۔
،تصویر کا ذریعہHealth Department Punjab
متاثرین کے ساتھ ساتھ یہاں اموات کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران صوبے میں 203 اموات ہوئی ہیں اور آٹھ جون کو ہونے والی 58 اموات یہاں اب تک کی یومیہ اموات کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
’کورونا وائرس‘ بچوں کے لیے اس سال کا لفظ قرار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیگزیکوگرافرز یا لغت نویسوں نے بی بی سی کے کہانیوں کی لکھائی کے ایک مقابلے کے لیے بھیجی جانے والی ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ کہانیوں کا تجزیہ کر کے کورونا وائرس کو بچوں کا سال کا لفظ قرار دیا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے ریڈیو 2 کے بریک فاسٹ شو کے 500 الفاظ کی کہانیوں کے مقابلے میں 459 مرتبہ وائرس کے متعلق حوالہ جات دیکھے۔
اس نے لاک ڈاؤن سے تقریباً ایک مہینہ قبل 27 فروری کو سبمیشنز لینا بند کر دی تھیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ہیلین فری مین نے بتایا کہ وہ کورونا وائرس کا اتنی مرتبہ ذکر سن کر پریشان ہو گئی تھیں۔
این ایچ ایس، وائرس، اینٹی باڈیز، ایپی ڈیمک، وہان اور لاک ڈاؤن ایسے الفاظ تھے جو معمول سے زیادہ استعمال کیے گئے۔
ایک لاکھ 37 ہزار 709 کہانیوں میں سب سے زیادہ جس شخص کا ذکر ہوا وہ ڈونلڈ ٹرمپ تھے، اس کے بعد ہٹلر اور کرسچیانو رینالڈو کا ذکر کیا گیا۔
کورونا وائرس: کیا کووِڈ 19 کا ماحول پر پڑنے والا اچھا اثر دیرپا قائم رہے گا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا کے تمام براعظموں میں فضائی آلودگی اور مضرِ صحت گیسوں کا اخراج کم ہوا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پوری دنیا اس وقت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مگر کیا یہ سب عارضی ہے یا مضر صحت گیسوں کے اخراج میں کمی دیرپا ہو گی؟
گذشتہ چند ہی مہینوں میں دنیا بدل گئی ہے۔ ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مزید کئی لاکھ افراد کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ کر بیمار پڑے ہیں۔ کورونا ایک ایسا مہلک وائرس ہے جس کے بارے میں دسمبر 2019 سے پہلے دنیا کو کچھ معلوم نہ تھا۔
راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں ’ڈس انفیکشن‘ مہم کے مناظر
،تصویر کا ذریعہRWMC
پاکستان کے شہر راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے زیرِ اہتمام صفائی اور ڈس انفیکشن مہم جاری ہے۔
،تصویر کا ذریعہRWMC
خیال رہے کہ راولپنڈی پاکستان کا دوسرا سب سے متاثرہ ضلع ہے۔ یہاں نو جون تک 3480 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 165 ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
بلوچستان: رکشہ و لوکل بس سروس بحال
حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں رکشہ اور لوکل بس سروس کو دوبارہ چلانے کی اجازت دے دی ہے۔
اس حوالے سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈرائیور حضرات اور سواریوں کے لیے احتیاطی تدابیر کا ایک ضابطہ جاری کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
صوبہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2487 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اب صوبے میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 43790 ہو گئی ہے۔
اسی دورانیے میں مزید 42 افراد کورونا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں اور اب صوبے میں ہلاکتوں کی کُل تعداد 738 ہو چکی ہے۔
بلوچستان میں نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد اب پاکستان میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 116189 جبکہ اموات کی کُل تعداد 2297 ہو گئی ہے۔
وزیر اعلی سندھ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 1111 متاثرین صحت یاب بھی ہوئے ہیں اور اب صوبے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 21007 ہو گئی ہے۔
فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 9100 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 2487 مثبت آئے ہیں۔
وزیر اعلی سندھ کے مطابق گذشتہ روز کروائے گئے ٹیسٹوں کا نتیجہ 27.3 فیصد آیا ہے جو کہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔
وزیر اعلی کے مطابق اس وقت صوبے میں 493 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 77 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں۔
انھوں نے آگاہ کیا کہ اس وقت 22052 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 20478 گھروں میں قرنطینہ ہیں جبکہ 1526 صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں موجود ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں سامنے آنے والے 2487 متاثرین میں سے 1755 کراچی میں سامنے آئے ہیں۔
رپورٹر کو بوسہ دینے پر رگبی پلیئر قرنطینہ میں، رپورٹر کا کورونا ٹیسٹ ہو گا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک سٹار رگبی پلیئر کو اس وقت قرنطینہ میں جانا پڑا جب انھوں نے ٹریننگ سیشن کے دوران ایک صحافی کے رخسار پر بوسہ دے دیا۔
ان کے اس عمل کو سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے اصول کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
رگبی پلیئر بنجی مارشل اس وقت ٹریننگ کے سلسلے میں آسٹریلیا میں موجود ہیں۔
ان کے کلب ویسٹس ٹائیگرز نے اعلان کیا ہے کہ بنجی کو ان کے گھر تک محدود رہنے کا کہا گیا ہے جبکہ جس رپورٹر کو بوسہ دیا گیا تھا ان کا کورونا ٹیسٹ کروایا جائے گا۔
رپورٹر مشعل بشپ نے بعدازاں ٹویٹ کی کہ ’بعض اوقات ہم بالکل بھول جاتے ہیں کہ اس وقت دنیا کس دور سے گزر رہی ہے‘ اور کس طرح کی احتیاط کی ضرورت ہے۔