کورونا وائرس کی وبا کے دوران ذہنی صحت کا خیال کیسے رکھنا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غلط اور درست کی قید سے بہت دُور، یہ وہ جملے ہیں جو ہر روز ٹی وی پر سننے کو ملتے ہیں یا سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ یہ سب وہ باتیں ہیں جو ماہرینِ نفسیات کے مطابق ہمارے ذہن پر نہایت منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
ہم نے دو افراد سے بات کی جن میں سے ایک کورونا نیگیٹیو اور ایک پازیٹو ہیں، ان سے پوچھا کہ وہ ذہنی دباؤ کے شکار ہیں تو اس سے کیسے نمٹ رہے ہیں؟
عائلہ (فرضی نام) لاہور کی رہائشی ہیں اور گذشتہ ہفتے وہ اور ان کے اہلخانہ اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے جب انھیں کھانسی اور بخار نے آ لیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عائلہ کہتی ہیں کہ وہ مسلسل اس بیماری کی علامات دیکھ رہی تھیں، ’میں اس وقت ڈر گئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب مجھے کورونا ہو گیا ہے جب میرے دو مزید ساتھی بھی عین اس وقت بیمار ہوئے جب میں بیمار ہوئی۔ اُس وقت مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے اہل خانہ کی تھی اور ان سب کی جنھیں میں اس ایک ہفتے میں ملتی رہی ہوں۔ میں سوچتی رہی کہ آخر یہ بیماری میں نے کہاں سے اپنے سر لی ہے۔‘
عائلہ کہتی ہیں کہ یہ وقت ان کے لیے شدید ڈپریشن کا تھا کیونکہ وہ بہت محتاط اور پریشان تھیں۔ 'میں نے سب کو منع کر دیا کہ کوئی میرے کمرے میں نہیں آئے گا۔ میں اپنی ساس کو کہتی کہ وہ محتاط رہیں، میں اپنے والد کو سمجھاتی کہ وہ باہر نہ جائیں۔
’مجھے یہ فکر تھی کہ اگر مجھے کورونا ہی ہے تو خدانخواستہ اب تک یہ میری فیملی میں منتقل ہو چکا ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر وقت ماسک اور دستانے پہننا اور ہاتھ ہی دھوتے رہنا ایک الگ پریشانی تھی۔‘
عائلہ کو کورونا وائرس کے درمیان ذہنی صحت کے کن مسائل کا سامنا ہوا، مزید یہاں پڑھیے۔


















