کورونا وائرس: بلوچستان میں کورونا کے 304 نئے مریض، خیبرپختونخوا میں متاثرین 15 ہزار سے زیادہ

دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس کی وبا کے دوران ذہنی صحت کا خیال کیسے رکھنا ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غلط اور درست کی قید سے بہت دُور، یہ وہ جملے ہیں جو ہر روز ٹی وی پر سننے کو ملتے ہیں یا سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ یہ سب وہ باتیں ہیں جو ماہرینِ نفسیات کے مطابق ہمارے ذہن پر نہایت منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

    ہم نے دو افراد سے بات کی جن میں سے ایک کورونا نیگیٹیو اور ایک پازیٹو ہیں، ان سے پوچھا کہ وہ ذہنی دباؤ کے شکار ہیں تو اس سے کیسے نمٹ رہے ہیں؟

    عائلہ (فرضی نام) لاہور کی رہائشی ہیں اور گذشتہ ہفتے وہ اور ان کے اہلخانہ اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے جب انھیں کھانسی اور بخار نے آ لیا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عائلہ کہتی ہیں کہ وہ مسلسل اس بیماری کی علامات دیکھ رہی تھیں، ’میں اس وقت ڈر گئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب مجھے کورونا ہو گیا ہے جب میرے دو مزید ساتھی بھی عین اس وقت بیمار ہوئے جب میں بیمار ہوئی۔ اُس وقت مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے اہل خانہ کی تھی اور ان سب کی جنھیں میں اس ایک ہفتے میں ملتی رہی ہوں۔ میں سوچتی رہی کہ آخر یہ بیماری میں نے کہاں سے اپنے سر لی ہے۔‘

    عائلہ کہتی ہیں کہ یہ وقت ان کے لیے شدید ڈپریشن کا تھا کیونکہ وہ بہت محتاط اور پریشان تھیں۔ 'میں نے سب کو منع کر دیا کہ کوئی میرے کمرے میں نہیں آئے گا۔ میں اپنی ساس کو کہتی کہ وہ محتاط رہیں، میں اپنے والد کو سمجھاتی کہ وہ باہر نہ جائیں۔

    ’مجھے یہ فکر تھی کہ اگر مجھے کورونا ہی ہے تو خدانخواستہ اب تک یہ میری فیملی میں منتقل ہو چکا ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر وقت ماسک اور دستانے پہننا اور ہاتھ ہی دھوتے رہنا ایک الگ پریشانی تھی۔‘

    عائلہ کو کورونا وائرس کے درمیان ذہنی صحت کے کن مسائل کا سامنا ہوا، مزید یہاں پڑھیے۔

  2. کیا کورونا وائرس کے کسی متاثر شخص کے لیے ہسپتال میں داخل ہونا ضروری ہے اور کتنے فیصد متاثرین کو ہسپتال جانے کی ضرورت پڑتی ہے؟

    کورونا

    سہیل شفیع اور دیگر کا سوال ہے کہ کیا کورونا وائرس کے کسی متاثر شخص کے لیے ہسپتال میں داخل ہونا ضروری ہے اور کتنے فیصد متاثرین کو ہسپتال جانے کی ضرورت پڑتی ہے؟

    اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ کسی شخص کے لیے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد ہسپتال میں داخل ہونا کتنا ضروری ہے کیونکہ یہ مرض ہر کسی کو مختلف انداز میں متاثر کرتا ہے۔

    اس لیے اگر آپ میں یا آپ کے کسی عزیز کو کورونا وائرس ہے اور ان کی طبعیت بگڑ رہی ہے تو آپ کو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ وہی سب سے بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آپ کو ہسپتال میں داخل ہونا چاہیے یا نہیں۔ لیکن جب تک ہسپتال میں داخل نہ ہوں، تب بھی سماجی فاصلہ لازمی طور پر بنائے رکھیں۔

    اس حوالے سے مزید یہاں پڑھیے۔

  3. عالمی ادارہ صحت کا یاسمین راشد کو خط، متاثرین کی تعداد میں اضافے پر تشویش، سفارشات

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے پاکستان آفس نے صوبہ پنجاب کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن میں دو ہفتے کے لیے نرمی اور دو ہفتے کے لیے سختی کی حکمتِ عملی اپنائے کیونکہ اس سے مرض سب سے زیادہ قابو میں رہے گا۔

    وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کے نام ایک خط میں ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر پلیتھا ماہیپالا نے لکھا ہے کہ پاکستان میں اس وقت مثبت مریضوں کے سامنے آنے کی شرح 24 فیصد ہے اور اس شرح کو دیکھتے ہوئے یومیہ 50 ہزار ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا نہایت اہم ہے۔

    اپنے خط میں انھوں نے حکومتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق یکم مئی کو جب لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی اور اس کے بعد 22 مئی کو لاک ڈاؤن مزید نرم کر دیا گیا، تو اس کے نتیجے میں کورونا وائرس پھیلنے میں اضافہ ہوا ہے۔

    انھوں نے اپنے خط میں لکھا کہ لاک ڈاؤن اٹھانے کے لیے مندرجہ ذیل چھ شرائط پوری ہونی چاہییں:

    • مرض کا پھیلاؤ قابو میں ہو
    • نظامِ صحت ہر مشتبہ مریض کا پتہ چلا سکیں، انھیں ٹیسٹ کر سکیں، انھیں الگ رکھ سکیں، ان کا علاج کر سکیں اور ان سے رابطے میں آنے والے ہر شخص کا پتہ چلا سکیں۔
    • خطرے کی زد میں موجود جگہوں مثلاً نرسنگ ہومز میں خطرے کو کم سے کم سطح پر رکھا جا سکے۔
    • سکولوں، کام کی جگہوں اور دیگر ضروری مقامات پر حفاظتی اقدامات موجود ہوں۔
    • نئے متاثرین کی ملک میں آمد کو ‘قابو کیا جا سکے۔’
    • عوام مکمل طور پر آگاہ ہوں، اور انھیں اس نئی صورتحال میں زندگی گزارنے کے لیے ساتھ لے کر چلا جائے۔
    • لیکن انھوں نے کہا کہ پاکستان لاک ڈاؤن اٹھانے کی ان پیشگی شرائط میں سے کسی ایک کو بھی پورا نہیں کرتا۔
  4. کورونا وائرس کا علاج کیا ہے اور کب تک دوا بن سکتی ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ندا خالد، کومل، اور کئی دیگر پاکستانیوں نے سوال کیا ہے کہ پاکستان میں اس کی ویکسین کب تک دستیاب ہو گی؟

    وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کچھ عرصہ کہا ہے کہ کورونا وائرس کے علاج میں مددگار دوا ’ریمڈیسویر‘ کی پاکستان میں تیاری آئندہ چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گی۔ ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ اس دوا کی پاکستان میں تیاری کے بعد اسے 127 ممالک میں برآمد کیا جائے گا۔

    معاونِ خصوصی کے مطابق ریمیڈیسویر انجیکشن کی صورت میں دستیاب ہو گی اور پاکستان کی کوشش ہو گی کہ یہ دوا کم قیمت میں دستیاب ہو۔

    یاد رہے کہ ادویات تیار کرنے والی امریکہ کی ایک کمپنی نے کووڈ 19 کا علاج کرنے والی دوا 'ریمڈیسویر' کو وسیع پیمانے پر تیار کرنے کے لیے جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والی پانچ دوا ساز کمپنیوں سے معاہدے کیے تھے۔

    یہ معاہدے 'گیلیڈ' اور پاکستان کی ایک دوا ساز کمپنی کے درمیان طے پایا ہے اور یہاں تیار کی جانے والی دوا دنیا کے 127 ملکوں کو فراہم کی جائے گی۔

    اس حوالے سے مزید یہاں پڑھیے۔

    مزید مضامین:

  5. کورونا کی کیا علامات ہیں، اور کیا ذائقے اور سونگھنے کی حس میں کمی کا مطلب کورونا ہے؟

    کورونا

    جہانزیب فاروق نے پوچھا ہے کہ کورونا کی کیا علامات ہیں، جبکہ ایک اور سوال پوچھا گیا ہے کہ مجھے بدن درد، ہلکا بخار، اور ذائقے اور سونگھنے کی حس میں کمی محسوس ہوئی، دس دن بعد میں ٹھیک ہوگیا۔ تو کیا مجھے کورونا تھا؟

    جواب: کورونا کی علامات میں سر درد، کھانسی، پٹھوں میں درد، بخار اور تھکن، سانس پھولنا اور سانس لینے میں مشکلات شامل ہیں۔

    وائرس سے متاثرہ فرد کو پہلے بخار ہوتا ہے، اس کے بعد خشک کھانسی ہوتی ہے، اور ایک ہفتے بعد سانس لینے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے اور کچھ مریضوں کو ہسپتال لے کر جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔

    اس کے علاوہ متاثرین میں گلے کی خرابی، سر درد اور اسہال کی علامات بھی پائی گئی ہیں جبکہ کچھ مریضوں نے ذائقے اور سونگھنے کی حس متاثر ہونے کی شکایت بھی کی ہے۔

    عموماً کسی مریض میں علامات ظاہر ہونے میں پانچ دن کا عرصہ لگتا ہے لیکن کچھ افراد میں یہ دیر سے ظاہر ہوتی ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق انفیکشن کے لاحق ہونے سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک کا عرصہ 14 دنوں پر محیط ہے لیکن کچھ محققین کا کہنا ہے کہ یہ 24 دن تک بھی ہو سکتا ہے۔

    اس لیے اگر آپ کو مندرجہ بالا علامات لاحق ہیں تو آپ کو اپنی اور اپنے گھر والوں کی صحت کی خاطر اپنا کورونا کا ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے اور احتیاط کے طور پر خود کو تنہا کر لینا چاہیے۔

    اس حوالے سے مزید یہاں اور یہاں پڑھیے۔

  6. کیا حجام کے پاس جا کر بال کٹوانا یا داڑھی بنوانا محفوظ ہے؟ یا کیا انھیں گھر بُلا کر حجامت بنوائی جا سکتی ہے؟

    کراچی سے عمیر نے دکان پر جا کر حجامت بنوانے کے بارے میں سوال پوچھا ہے۔

    اس حوالے سے پاکستان میں مختلف علاقوں میں مختلف ایس او پیز رائج ہیں اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے حجام کی دکان پر حکومتی ضوابط پر مکمل طور پر عمل ہو رہا ہے، تو ہی آپ کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے۔ اگر نہیں تو آپ اپنے گھر پر بھی بال کاٹنے کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مزید اس ویڈیو میں دیکھیے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  7. پاکستان میں حفاظتی لباس کا استعمال کون، کب، کہاں اور کیسے کرے گا؟

    gettuy

    ،تصویر کا ذریعہgett

    لک میں کورونا وائرس کے پیش نظر وفاقی حکومت نے کورونا سے متعلق نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے تعاون سے وائرس کے بچاؤ کے لیے حفاظتی کٹ کے استعمال کے حوالے سے چند اہم اصول وضع کیا ہیں۔

    ان اصول و ضوابط میں شامل ہے کہ تمام ڈاکٹروں، طبی عملے اور ہر اس شخص کو جو کسی بھی کورونا کے مریض سے بلواسطہ یا بلاواسطہ رابطے میں ہے، کن احتیاطی تدابیر اور ہدایات کے تحت ماسک اور حفاظتی کٹس کا استعمال کرنا ہے۔

    اس حوالے سے ہدایات نامہ تمام ہسپتالوں، لیبارٹریوں اور دیگر اہم مقامات پر آویزاں کیا جائے گا۔

    حفاظتی کٹ میں کیا شامل ہے؟ حفاظتی کٹس کہاں کہاں پہننا ضروری ہیں؟ اس کے بارے میں تفصیلی معلومات یہاں درج ہیں۔

  8. ایک سال سے کم عمر کے بچوں میں صحتیابی کی شرح کیا ہے، اسی طرح سے چند دیگر والدین نے کورونا سے بچوں کو لاحق خطرات کے بارے میں پوچھا ہے۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فاطمہ امتیاز کا سوال ہے کہ ایک سال سے کم عمر کے بچوں میں صحتیابی کی شرح کیا ہے، اسی طرح سے چند دیگر والدین نے کورونا سے بچوں کو لاحق خطرات کے بارے میں پوچھا ہے۔

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 2300 سے زائد بچے کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔ بچوں کے حوالے سے بات کی جائے تو ڈاکٹرز کے مطابق بچوں میں صحت یاب کا تناسب بہت اچھا ہے اور وہ بڑوں کی بانسبت زیادہ جلدی صحت یاب ہو جاتے ہیں اور نہ ہی ابھی تک ایسی کوئی بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ بچوں میں کوئی پیچیدگی پیدا ہوئی ہو۔

    لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر عمر شفیق کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے بچوں میں دیکھا گیا ہے کہ ان کا قوت مدافت اس وائرس کے خلاف مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے۔ جبکہ ہم ان کے علاج کے دوران انھوں بہت زیادہ ادویات دینے کے بجائے غذائیت سے بھرپور خوراک دینے پر زور کر رہے ہیں جس کے نتائج بھی اچھے آرہے ہیں۔

    تاہم ایک سال کم عمر کے بچوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ان میں اس عمر میں قوت مدافت بڑھ رہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کا زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ کورونا سے متاثرہ زیادہ تر بچے دس سے بارہ دن میں بلکل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

    کورونا وائرس بھی عام زکام کی طرح پھیلتا ہے جیسا کہ کھانسی کے ذریعے یا ایسی چیزوں کو ہاتھ لگانے سے جو کھانسی کے ساتھ متاثرہ شخص کے منھ سے نکلنے والے چھینٹوں سے آلودہ ہوں۔ ایسی اشیا میں دروازوں کے ہینڈل، پنسل اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

    دوسرے افراد سے دو میٹر دور رہنے، اپنے چہرے کو چھونے اور کھانا کھانے سے قبل ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھونے کے ذریعے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ لیکن ان تمام ہدایات پر عمل کرنا بڑوں کے لیے بھی اتنا آسان نہیں ہے۔

    اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ہم یہ جان پائے ہیں کہ بڑی عمر کے افراد کورونا وائرس سے ہونے والی پیچیدگیوں کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔

    اس حوالے سے مزید یہاں پڑھیے

  9. کیا بیرونِ ملک سے آنے والے پاکستانی بھی ملک میں کورونا وائرس پھیلا رہے ہیں؟

    کورونا

    یہ سوال بھی عام طور پر پوچھا جا رہا ہے کہ کیا بیرونِ ملک سے آنے والے پاکستانی بھی ملک میں کورونا وائرس پھیلا رہے ہیں؟

    اس حوالے سے نامہ نگار سحر بلوچ وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر کیسز مقامی منتقلی کے ہیں اور انھوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی افراد کی وجہ سے کورونا زیادہ پھیل رہا ہے۔

  10. پلازما تھیراپی کیا ہے اور پاکستان میں اس طریقے سے کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج کیسے ہو رہا ہے؟

    get

    ،تصویر کا ذریعہget

    پیسِو امیونائزیشن کے اسی طریقہ علاج کو ’پلازما تھیراپی‘ یا کونوالیسنٹ پلازما کا نام دیا گیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لیے یہ طریقہ اپنایا جا رہا ہے جس کی کامیابی سے متعلق تاحال کوئی حتمی نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔

    سندہ حکومت نے تین دن قبل صوبے کے تین ہسپتالوں کو اجازت دی تھی کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے مریضوں میں اسی بیماری سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کے خون سے پلازما منتقل کریں تاکہ اس طریقے کے علاج کا جائزہ لیا جا سکے۔

    ایسا صرف ان مریضوں میں کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

    وفاقی حکومت نے اپریل کے پہلے ہفتے میں پلازما تھیراپی کے کلینیکل ٹرائلز کی منظوری دی تھی۔ وفاق کی ہدایت پر وزارت صحت نے ادویات کی نگرانی کے ادارے ڈریپ نے پلازما تھیراپی کی اجازت دی تھی۔

    اس کے بعد حکومت سندھ نے صوبے کے تین ہسپتالوں کو اس کے ٹرائل کی اجازت دے دی تھی۔

    پلازما تھیراپی کیا ہے، اور اس کے کیا فوائد ہیں، جاننے کے لیے ہماری ساتھی فرحت جاوید کا مضمون ضرور پڑھیے۔

  11. کورونا وائرس: وائرل لوڈ کیا ہے اور طبی عملے کی زندگیوں کو خطرے میں کیوں ڈال رہا ہے؟

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کووڈ 19 کے خلاف لڑائی میں دنیا بھر کے طبی کارکنان بہت بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ طبی عملے کے ہزاروں ارکان کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور زندگی کی بازی ہارنے والے طبی عملے کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    حفاظتی لباس اور ماسک کے باوجود، ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی کارکنان کو دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کورونا کے انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہے، اور شاید ان میں شدید بیماری کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔

    بڑا وائرل لوڈ یا وائرس کی زیادہ تعداد کا مطلب یہ ہے کہ بیماری کی شدت زیادہ ہونے کا امکان ہے اور ایسے مریض کے وائرس سے زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    امپیریل کالج لندن میں متعدی بیماریوں کے شعبے سے وابستہ پروفیسر وینڈی بارکلے نے بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام میں بتایا ’جتنا زیادہ وائرس آپ کے اندر موجود ہے، آپ سے اس وائرس کو کسی دوسرے میں منتقل کرنے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہے۔‘

  12. پاکستان میں کووڈ 19 کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیا اس کا نتیجہ غلط بھی ہو سکتا ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص کا موت کے بعد کیا جانے والا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت ہو لیکن ان کی میت کو غسل دینے والے کسی بھی شخص میں وائرس کی تشخیص نہ ہو؟ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے طبی ماہرین اور مقامی انتظامیہ کے لیے ایسا ہی ایک کیس اس وقت معمہ بن گیا ہے۔

    یہاں کے ایک رہائشی کا 24 مارچ کو انتقال ہو گیا۔ محمد عامر 8 فروری کو عمان سے پاکستان آئے تھے اور 23 مارچ کو ان کی شادی ہوئی تھی۔

    مقامی ڈاکٹروں نے بتایا کہ محمد عامر کی طبیعت شادی سے چند روز پہلے خراب ہوئی اور انھیں مقامی سول ہسپتال لایا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد انھیں گھر بھیج دیا گیا۔ جب ان کی حالت مزید بگڑی تو گھر والے انھیں علاج کے لیے ملتان لے گئے، جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔

    ڈاکٹروں کے مطابق وفات کے بعد ان کی لاش سے لیے گئے نمونے میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس پر انتظامیہ حرکت میں آئی اور محمد عامر کے جنازے میں شامل ان کے خاندان کے قریبی لوگوں کے بھی ٹیسٹ کیے گئے۔

    تاہم ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق ان سب میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ ان افراد کے ٹیسٹ کے نتائج ’فالس نیگیٹیو‘ یا ’فالس پازیٹیو‘ کے زمرے میں آتے ہیں؟

    اس حوالے سے مزید ہماری اس تفصیلی رپورٹ میں پڑھیے۔

  13. کیا کورونا سے صحتیاب ہونے والے مریض کو دوبارہ کورونا وائرس ہو سکتا ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انس احمد کا سوال ہے کہ کیا کورونا سے صحتیاب ہونے والے مریض کو دوبارہ کورونا وائرس ہو سکتا ہے؟

    امراض سے نمٹنے کے ذمہ دار امریکہ کے قومی ادارے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اور دیگر ماہرین کے مطابق اب تک یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ کیا کسی شخص کو کورونا وائرس دو مرتبہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔

    اس لیے ماہرین کے مطابق جب تک اس حوالے سے تحقیق مکمل نہیں ہو جاتی، ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں کیونکہ ابھی یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ ایک مرتبہ کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ کورونا وائرس نہیں ہوگا۔

    اس حوالے سے مزید یہاں پڑھیے۔

  14. کورونا وائرس: پاکستان میں کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے کون کون سے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور ان کی اہمیت اور قیمت کیا ہے؟

    klk

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کئی قسم کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ ان ٹیسٹوں کا طریقہ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے نتائج کی حساسیت بھی مختلف ہے۔

    اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وائرس کی تشخیص کے لیے زیادہ تر ’پی سی آر‘ ٹیسٹ ہی کیے جا رہے ہیں۔ تاہم پاکستان کی کچھ نجی لیبارٹریوں نے پی سی آر ٹیسٹ کے علاوہ اینٹی باڈی ٹیسٹ (آئی جی جی اور آئی جی ایم) بھی متعارف کروائے ہیں۔

    عام طور پاکستان سمیت دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ’سواب ٹیسٹ‘ یا پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے کورونا کی تشخیص کی جا رہی ہے۔ اس ٹیسٹ کو کرنے کے لیے مشتبہ متاثرہ شخص کے منھ یا ناک کے ذریعے نمونہ لیا جاتا ہے۔ سواب ٹیسٹ ’پولیمریز چین ری ایکشن‘ یعنی پی سی آر ٹیسٹ کے لیے موزوں ہے۔

    اس ٹیسٹ کو سرکاری لیبارٹریوں میں مفت کیا جاتا ہے جبکہ نجی لیبارٹریوں میں اس ٹیسٹ کے تقریباً آٹھ ہزار روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔

  15. کیا گھر سے باہر فضا میں بھی کورونا کے اثرات ہوتے ہیں؟ گھر واپس آنے کے بعد اپنے کپڑے تبدیل کرنے چاہییں؟ کیا اگر ہم گھر سے باہر کسی سے رابطے میں نہ آئیں تب بھی کورونا ہو سکتا ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طارق اشرف، فرخ سلیم اور کچھ دیگر لوگوں نے پوچھا ہے کہ کیا گھر سے باہر فضا میں بھی کورونا کے اثرات ہوتے ہیں؟ گھر واپس آنے کے بعد اپنے کپڑے تبدیل کرنے چاہییں؟ کیا اگر ہم گھر سے باہر کسی سے رابطے میں نہ آئیں تب بھی کورونا ہو سکتا ہے؟

    نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں ہونے والی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ کھانسنے کے بعد یہ وائرس ہوا میں تین گھنٹے تک رہ سکتا ہے۔

    کھانسی کے ایک سے پانچ مائیکرو میٹر چھوٹے چھوٹے قطرے ہوا میں کئی گھنٹوں تک رہ سکتے ہیں۔ یہ سائز انسانی بال سے 30 گنا زیادہ کم ہے۔

    یعنی کسی بغیر فلٹر والے اے سی کے نظام میں یہ زیادہ سے زیادہ کچھ گھنٹے ہی رہ سکتا ہے کیونکہ جہاں ہوا گھوم رہی ہو وہاں پر یہ قطرے جلدی سرفیسز پر بیٹھ جاتے ہیں۔

    اس حوالے سے واضح طور پر معلوم نہیں ہے کہ کووِڈ 19 کپڑوں پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق کپڑے اور تولیے جراثیم پھیلانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور کئی جراثیم کافی عرصے تک کپڑوں پر نہ صرف زندہ رہ سکتے ہیں بلکہ ان میں پنپ بھی سکتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ کو شک ہو کہ آپ کسی کورونا متاثر شخص سے رابطے میں آئے ہیں تو بہتر ہے کہ آپ اپنے کپڑوں کو تبدیل کر کے فوراً دھو لیں۔

    اس حوالے سے مزید یہاں پڑھیے۔

  16. کیا یہ وائرس مختلف سطحوں پر بھی زندہ رہتا ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سانس کے نظام پر اثر انداز ہونے والے دیگر وائرسز کی طرح کورونا وائرس ان چھوٹے چھوٹے قطروں کے ذریعے پھیلتا ہے جو کسی کھانسنے والے کے منہ اور ناک سے خارج ہوتے ہیں۔ ایک کھانسی میں 3000 تک ایسے قطرے آ سکتے ہیں۔

    قطروں میں جو ذرات ہوتے ہیں وہ کسی سطح، یا کسی کے کپڑوں پر گرتے ہیں اور کچھ ہوا میں ہی رہتے ہیں۔

    امریکہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول کا کہنا ہے کہ کسی ایسی جگہ پر ہاتھ لگانا جہاں یہ وائرس ہو اور پھر اسی ہاتھ کو اپنے چہرے پر لگانا اس وائرس کے پھیلاؤ کا مرکزی طریقہ نہیں ہے۔

    اگرچہ ہمیں ابھی یہ معلوم نہیں کہ کتنے کیسز سطح کو چھونے کی وجہ سے ہوئے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں پتا کہ یہ وائرس کتنی دیر تک انسانی جسم کے باہر زندہ رہتا ہے۔ ماضی کی کچھ تحقیقوں سے پتا چلا ہے کہ اس سے ملتے جلتے وائرس دھات، شیشے یا پلاسٹک پر نو دن تک رہتے ہیں اگر انھیں صحیح سے صاف نہ کیا جائے۔

    کورونا وائرسز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں کئی قسم کی سرفیسز پر زندہ رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اور محققین ابھی یہ سمجھنا شروع کر رہے ہیں کہ یہ وائرس پھیلتے کیسے ہیں۔

    اس حوالے سے مزید یہاں پڑھیے۔

  17. کورونا وائرس سے بچنے کے لیے مرتب کیے گئے اصول کیا ہیں؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد زندگی کے ضابطے اور دنیا داری کے طریقے تبدیل ہو گئے ہیں۔ مختلف ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری سطح پر روز مرہ کے امور انجام دینے کے لیے نئے ضابطے اور طریقہ کار وضع کیے گئے ہیں، جنھیں ایس او پیز یا سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کہا جاتا ہے۔

    گذشتہ برس تک کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سنہ 2020 میں زندگی گزارنا تبدیل ہو جائے گا جہاں چلنے پھرنے، سانس لینے، بازار جانے، کام کے لیے دفاتر، عبادت کے لیے مساجد جانا محال ہو گا۔ تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہو جائیں گے اور بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوں گے۔ ہر کام کے لیے نئے اور حیران کن وضع کردہ رہنما اصولوں پر زندگی گزارنا پڑے گی

    لوگوں سے سماجی دوری اختیار کرنے کا کہا جائے گا، ماسک پہننے اور ہر وقت ہاتھ دھونے کی تلقین کی جائے گی۔ دکانوں کے باہر دائرے بنا دیے جائیں گے جہاں لوگ اپنی باری کا انتظار کریں گے یا لوگ دکان کے باہر کھڑے ہو کر سودا خریدیں گے۔ ہسپتالوں میں جانے سے خوف آئے گا۔ یہ سب کچھ اب ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ کب تک جاری رہے گا کچھ معلوم نہیں لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے نئے اصول ضرور مرتب کر دیے گئے ہیں۔

    وہ اصول کیا ہیں، جاننے کے لیے ہماری ساتھی عزیز اللہ کی یہ جامع تحریر پڑھیے۔

  18. کیا گروسری، کرنسی نوٹس، اخبارات یا پھر پالتو جانوروں سے بھی ہمیں کورونا وائرس لگ سکتا ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    عبدالباسط، حماد، عبداللہ یاسین اور ان جیسے بہت سے لوگوں نے ہم سے یہ پوچھا ہے کہ کیا گروسری، کرنسی نوٹس، اخبارات یا پھر پالتو جانوروں سے بھی ہمیں کورونا وائرس لگ سکتا ہے؟

    اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ کورونا وائرس غذا کے ذریعے پھیلتا ہو لیکن لندن سکول آف ہائیجین کی پروفیسر سیلی بلوم فیلڈ کے مطابق اس حوالے سے ’صفر خطرہ‘ جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیکٹ پر کورونا کے جراثیم موجود ہوں تو ان سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو غذائیں جو پیک نہیں ہوتیں اور مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے گزرتی ہیں، انھیں اچھی طرح پانی سے دھونا چاہیے۔

    کورونا وائرس کا خطرہ نہ بھی ہو تب بھی آپ کو پالتو جانوروں پر ہاتھ پھیرنے یا انھیں سنبھالنے کے بعد اپنے ہاتھ اچھی طرح دھونے چاہییں۔ اور جہاں یہ مانا جا رہا ہے کہ کووِڈ 19 ابتدائی طور پر انسانوں میں جانوروں کے ذریعے آیا تھا، یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ ایسا کیسے ہوا، اور اب تک ایسی کوئی مثال نہیں جس میں انسانوں کو یہ اپنے پالتو جانوروں کے ذریعے لگا ہو۔

    جانوروں کی صحت کی عالمی تنظیم (او آئی ای) کا کہنا ہے کہ بظاہر پالتو جانور وائرس پھیلانے کا سبب نہیں ہیں، مگر اس حوالے سے مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں کہ کیا جانوروں پر یہ اثرانداز ہوتا ہے یا نہیں، اور اگر ہوتا ہے تو کس طرح۔ او آئی ای کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ لوگ جو کووِڈ-19 کے شکار ہیں یا اس بیماری کی وجہ سے زیرِ علاج ہیں، انھیں پالتو جانوروں کے قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے اور کسی دوسرے شخص سے کہنا چاہیے کہ وہ انھیں سنبھال لے۔ اور اگر انھیں یہ خود ہی کرنا ہو تو صفائی کا خیال رکھنا چاہیے اور چہرے پر ماسک پہننا چاہیے۔

    مزید یہاں پڑھیے۔

  19. کورونا وائرس: پاکستان میں کووڈ 19 کے نئے مریضوں کے علاج کے لیے جگہ اور وسائل کم

    gett

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ کورونا وائرس کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اب اس کی وجہ سے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ اور وسائل کم پڑنے لگے ہیں۔

    ملک کے بعض ہسپتالوں میں حکام اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کے پاس کووڈ 19 کے مزید مریضوں کا علاج کرنے کے لیے گنجائش ختم ہوچکی ہے یا انھیں اس حوالے سے خدشات ہیں۔ اس طرح نئے آنے والے مریضوں کو شہر کے کسی دوسرے ہسپتال بھیجا جا رہا ہے۔

    قومی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 64 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ جبکہ اس مرض سے اموات کی تعداد 1300 سے زیادہ ہے۔

    ادارے کی جانب سے پیش کردہ 20 مئی کے اعداد و شمار کے مطابق کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے ملک کے 726 ہسپتالوں میں 20 ہزار 960 بیڈ مختص کیے گئے تھے۔ اس وقت تقریباً 11 ہزار مریض موجود تھے جس کا مطلب ہے کہ ملک میں کورونا کے لیے مختص 50 فیصد سہولیات پہلے سے زیر استعمال ہیں۔ ممکن ہے کہ کورونا کے نئے مریضوں کی آمد کے بعد یہ تعداد مزید کم ہوچکی ہوگی۔

  20. کیا یہ وبا قدرتی طور پر شروع ہوئی، چین کی کسی لیبارٹری میں تیار ہوئی، یا یہ کسی ملک کی سازش ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    تنویر چولستانی اور ملک کاشف دین سمیت کئی لوگوں نے پوچھا ہے کہ کیا یہ وبا قدرتی طور پر شروع ہوئی، چین کی کسی لیبارٹری میں تیار ہوئی، یا یہ کسی ملک کی سازش ہے۔ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ اس حوالے سے تحقیقات کب شروع ہوں گی؟

    اس حوالے سے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان کی کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا، یا وہاں سے حادثاتی طور پر خارج ہوا۔

    اپریل کے آخر میں امریکہ کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ کووِڈ 19 کے قدرتی طور پر پیدا ہونے کے بارے میں سائنسی رائے سے متفق ہیں۔ صدر ٹرمپ بارہا چین کو اس وبا کے آغاز کے لیے ذمہ دار قرار دے چکے ہیں جبکہ انھوں نے عالمی ادارہ صحت پر بھی اس حوالے سے کڑی تنقید کی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے مئی میں کورونا وائرس پر عالمی ردِ عمل کی آزادانہ تحقیقات کے لیے ایک قرارداد منظور کی تھی اور چین کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی پیش کردہ قرارداد پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تھا۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے 18 مئی کو عالمی ادارہ صحت کے اجلاس میں کہا تھا کہ ان کا ملک وبا کے خاتمے کے بعد اس پر عالمی ردِعمل کے غیر جانبدارانہ جائزے کی حمایت کرتا ہے۔

    اس حوالے آپ مزید ہماری تفصیلی رپورٹس میں یہاں اور یہاں پڑھ سکتے ہیں۔