نئے ضوابط کے تحت برطانوی شہریوں سمیت جو کوئی بھی باہر سے برطانیہ آئے گا اسے 14 دن قرنطینے میں گزارنے ہوں گے۔ تاہم آج سے نافذ ہونے والے ان ضوابط سے آئر لینڈ اور ملحقہ علاقوں کے لوگ مستثنیٰ ہیں۔
جو مسافر جہاز، سمندری راستے یا ٹرین سے آئیں گے، ان سے کہا جائے گا کہ وہ اپنا ایڈریس دیں کہ وہ کس جگہ پر جا کر قرنطینے میں وقت گزاریں گے۔
اگر مسافر کوئی پتا نہ بتا سکے تو ایسی صورت میں حکومت ایسے مسافروں کے لیے قرنطینے کا انتظام کرے گی مگر اس کا خرچہ خود مسافروں کو برداشت کرنا ہوگا۔
ضوابط پر عملدرآمد ہو بھی رہا ہے یا نہیں اس حوالے سے نگرانی کا ایک نظام موجود رہے گا۔
وہ لوگ جو قرنطینے میں ہیں وہ کام پر یا سکول اور عوامی مقام پر نہیں جا سکتے اور نہ ہی وہ ملاقات کے لیے کسی کو مدعو کر سکتے ہیں۔
خلاف ورزی کی صورت میں ان پر ایک ہزار پاؤنڈز تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی قرنطینے میں 14 دن پورے نہ کر سکے تو سکاٹ لینڈ میں یہ جرمانہ کم ہے۔
البتہ ضروری خدمات انجام دینے والوں اور میڈیکل پروفیشنلز کو استثنیٰ حاصل ہے۔
سفر کی صنعت سے وابستہ کاروباری لوگ ان ضوابط پر تنقید کر رہے ہیں کہ 14 دن کے قرنطینے جیسی شرائط سیاحوں کو خائف کر دیں گی اور پھر سفر کی صنعت سے وابستہ لوگ بے روزگار ہو سکتے ہیں۔
وہ عارضی مسافر جو برطانیہ اترنے کے بعد ایئرپورٹ سے نکلے بغیر فوری طور پر دوسرے کسی ملک جا رہے ہیں پر ان ضوابط کا اطلاق نہیں ہوگا۔