آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: بلوچستان میں کورونا کے 304 نئے مریض، خیبرپختونخوا میں متاثرین 15 ہزار سے زیادہ

دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کشمیریوں کو کورونا کے علاوہ نئے فوجی ضابطے سے بھی خطرہ؟

  2. خیبر پختونخوا: ڈاکٹروں کی تنظیم کا وینٹیلیٹرز ختم ہونے کا دعویٰ

    پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ کورونا کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں مختص آئی سی یو وارڈز میں مریضوں کے لیے وینٹیلیٹر بیڈز ختم ہونے لگے ہیں اور مریضوں کے لیے بیڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

    اپنے ایک اعلامیے میں اس تنظیم کا کہنا تھا کہ صوبے میں کورونا متاثرین کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے اور مزید جاری ہے۔

    انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے بھر میں کورونا کے ٹیسٹ کی سہولت میں اضافہ کیا جائے تاکہ کرونا کی صحیح تعداد کا تعین کیا جا سکے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اب تک 400 کے قریب ڈاکٹرز کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں ڈاکٹرز کی کمی پوری کرنے کے لیے جلد از جلد 1300 ڈاکٹرز کو بھرتی کیا جائے۔

    ڈاکٹروں کی تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہسپتالوں میں طبی عملے کی حفاظت کو یقینی بنائے جس میں ان کے مطابق پولیس ناکام ہو چکی ہے، بصورت دیگر احساسِ عدم تحفظ انھیں کام چھوڑنے پر مجبور کردے گا۔

  3. انڈیا: دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال بخار اور کھانسی میں مبتلا

    انڈین میڈیا کے مطابق دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال بخار اور کھانسی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ کورونا وائرس کی عام علامات ہیں۔

    مقامی میڈیا کے مطابق امکان ہے کہ اروند کیجریوال آج اپنا کورونا کا ٹیسٹ کروائیں گے۔

    دلی پہلے ہی کورونا کی وبا کی زد میں ہے۔ اس وقت انڈیا کے دارالحکومت میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 27 ہزار سے زیادہ ہے اور اب تک اس وائرس سے 761 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    اتوار کو اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ شہر کے ہسپتالوں میں مزید بستروں کا بندوبست کرنا ہے کیونکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ مزید لوگ ہسپتالوں میں علاج کی غرض سے داخل ہونا چاہتے ہیں۔

  4. گلگت بلتستان: پٹواریوں اور تحصیل داروں کی تنظیم کی ہڑتال, محمد زبیر خان، صحافی

    گلگت بلتستان کی تنظیم یٹواریاں و قانون گوئیاں نے دیگر ملازمین کی طرح کورونا بونس نہ ملنے پر ہڑتال کر دی ہے اور گلگت میں احتجاجی کیمپ قائم کردیا ہے۔

    تنظیم کے صدر شاہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ گلگت بلتستان میں 272 پٹواری، تحصیل دار اور قانون گو خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جب کورونا وائرس شروع ہوا تو حکومت نے ہماری ڈیوٹیاں لگائیں، ہمیں ناکوں پر بٹھایا گیا، قرنطینہ مراکز میں ذمہ داریاں دی گئیں، جہاں پر ہم لوگوں نے تمام انتظامات سنبھالے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارے 272 ملازمین نے دن رات کام کیا مگر حکومت نے اب اپنے اعلان کردہ کورونا بونس سے ہمیں محروم کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہم لوگوں نے گلگت بلتستان میں ہڑتال کرکے احتجاجی کیمپ قائم کیا ہے اور تمام کورونا فرائض ادا کرنا بند کر دیے ہیں۔

    شاہ خان کا کہنا تھا کہ کورونا فرائض ادا کرنے کی وجہ سے ہمارے تین تحصیل دار کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں اور ایک ملازم ہلاک ہوچکا ہے جبکہ ہلاک ہونے والے کے لیے بھی کسی پیکج کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک اپنے کام پر نہیں جائیں گے جب تک انھیں کورونا بونس سمیت دیگر مراعات نہیں دی جاتیں۔

    دوسری جانب گلگت بلتستان حکومت کے مطابق وہ ملازمین کے ساتھ بات چیت شروع کر رہے ہیں اور ان کے تمام مسائل پر 'ہمدردانہ' غور ہوگا۔

  5. اسد عمر: وفاقی حکومت صوبوں کو 1000 آکسیجن بیڈ فراہم کرے گی

    وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت جون کے مہینے میں صوبوں کو 1000 آکسیجن بیڈز فراہم کرے گی جبکہ جولائی میں اس تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پیر کو این سی او سی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اجلاس میں کورونا کے حوالے سے انتظامات کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث بڑے شہروں کے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھا ہے۔

    اسد عمر نے کہا کہ وفاقی حکومت جون کے مہینے میں ایک ہزار بیڈز جن میں آکسیجن کی سہولت بھی شامل ہے وہ صوبوں کو دینے کی ذمہ داری لیتی ہے جیسا کہ صوبوں کو اس وبا سے نمٹنے کے لیے پہلے بھی امداد دی جا رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایک ہفتے کے اندر 250 وینٹیلیٹر اور بیڈز دیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اجلاس میں ہسپتالوں کے عملے کی ضروریات کے حوالے سے بھی جائزہ لیا گیا جسے آج شام کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

  6. کون سے پانچ ممالک کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں؟

    امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق پانچ ممالک ایسے ہیں جہاں دنیا بھر کے آدھے ممالک سے زیادہ کورونا وائرس کے متاثرین ہیں۔

    ان ممالک میں 19 لاکھ متاثرین کے ساتھ امریکہ سرفہرست ہے۔

    سات لاکھ متاثرین کے ساتھ برازیل کا دوسرا نمبر ہے۔

    روس میں چار لاکھ سے زائد یعنی چار لاکھ 67 ہزار 73 کورونا وائرس متاثرین ہیں۔

    برطانیہ میں یہ تعداد تین لاکھ کے قریب بنتی ہے۔ ملک میں اس وقت تک دو لاکھ 87 ہزار 621 کورونا متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔

    انڈیا ان ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے جہاں اس وائرس کے متاثرین کی تعداد دو لاکھ 57 ہزار 486 سے بڑھ گئی ہے۔

    ان ممالک میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت زیادہ ہے۔ امریکہ میں بھی حالیہ ہفتوں میں اس صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

    انڈیا اور برازیل میں حقیقی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے؟

    ماہرین کے خیال میں برازیل اور انڈیا میں کم ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے اور ان ممالک میں متاثرین کی حقیقی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    ان ممالک کی آبادی کے تناسب کو بھی پیش نظر رکھنا بہت اہم ہے۔

    امریکہ میں تقریباً 33 کروڑ لوگ بستے ہیں جبکہ انڈیا کی آبادی ایک اعشاریہ تین ارب ہے۔

    اس صورتحال میں ماہرین فی لاکھ آبادی پر متاثرین کی اوسط نکالنے والے طریقے پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

    اس لحاظ سے پیرو سرفہرست ہے جہاں ہر ایک لاکھ میں سے 585 لوگ متاثر ہیں۔ اس کے بعد دوسرا نمبر امریکہ کا بنتا ہے جہاں یہ تعداد 579 ہے جبکہ برطانیہ میں 428، اٹلی میں 388 اور روس میں یہ تعداد 311 ہے۔

  7. چمن میں مزدوروں کا سرحد پار کام کے لیے جانے دینے کا مطالبہ, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان میں افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں ان لوگوں نے ایک احتجاجی کیمپ قائم کیا ہے جو کہ کورونا کے باعث سرحد کی بندش سے قبل روزانہ محنت مزدوری کی غرض سے سرحد پار جاتے تھے۔

    احتجاج کرنے والوں میں چھوٹے کاروباری افراد بھی شامل ہیں اور یہ تمام لوگ گذشتہ ایک ہفتے سے زائد کے عرصے سے احتجاج پر ہیں۔

    پہلے ان لوگوں نے شہر میں احتجاجی مظاہرے کیے لیکن اب انھوں نے سرحد کے قریبی علاقے میں ایک احتجاجی کیمپ قائم کیا ہے۔

    ان لوگوں کا کہنا ہے کہ چمن سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مزدوروں اور چھوٹے کاروباری افراد کی آمدن کا ذریعہ سرحدی کاروبار سے وابستہ تھا اور یہ لوگ روزانہ کام کی غرض افغان سرحدی علاقے اسپین بولدک کے منڈیوں میں جاتے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ دو طرفہ تجارت کے لیے گاڑیوں اور لوگوں کی آمد و رفت کے لیے سرحد کو تو کھول دیا گیا لیکن روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد اور چھوٹے کاروباری افراد کو سرحد پار جانے اور آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    ان کا کہنا ہے کہ ڈھائی ماہ سے زائد کے عرصے سے کام نہ ملنے کی وجہ سے وہ مالی مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں۔

    ان کا مطالبہ ہے کہ جس طرح سرحد کو دو طرفہ تجارت کے لیے گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے اس طرح انھیں بھی افغانستان کے سرحدی علاقے میں روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری کے لیے آنے اور جانے دیا جائے۔

  8. نیوزی لینڈ کورونا سے پاک، مگر سرحدیں بند رہیں گی

    نیوزی لینڈ کورونا وائرس سے پاک ہو چکا ہے۔ ملک کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود کے ملک میں کورونا وائرس سے متاثر کوئی شخص نہیں ہے مگر پھر پھر بھی ملکی سرحدیں بند ہی رہیں گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے خلاف ہماری سرحدیں اب ہمارا پہلا دفاع ہیں تاکہ ہم اس وائرس کو درآمد نہ کر سکیں۔

    انھوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ ہماری سرحدیں بند رہیں گی اور سرحدوں پر آئسولیشن کو یقینی بنایا جائےگا۔ ان کے مطابق وائرس کی روک تھام کے لیے یہ ایک انتہائی اہم قدم ہے۔

    ان کے مطابق ہم اس صورتحال کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

    اس وقت نیوزی لینڈ پڑوسی ملک آسٹریلیا کے ساتھ سرحدیں کھولنے سے متعلق مذاکرات کر رہا ہے، جہاں کورونا وائرس متاثرین کی بہت کم تعداد ہے۔

  9. سنگاپور کے شہری 'ٹریکنگ ڈیوائس‘ کی تجویز کے خلاف سراپا احتجاج

    سنگاپور میں شہری ٹریکنگ ڈیوائس پہننے کی تجویز پر احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ سماجی فاصلے کے باعث یہ آن لائن پیٹیشن کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔

    گذشتہ جمعے کو سنگاپور کی پارلیمنٹ میں اس قسم کی ڈیوائس کے استعمال کے امکان پر بحث کی گئی تھی۔ اس متعلق ایک رضاکارانہ طور پر کام کرنے والی ٹریکنگ ایپ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی تھی۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ڈیوائسز لازم ہوں گی یا نہیں تاہم اس رائے کے خلاف آن لائن احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ایک ہفتے کے اندر اندر اس پیٹیشن پر 30 ہزار سے زائد تک دستخط ہو چکے تھے۔

    آن لائن پیٹیشن کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہم مملکت سنگاپور کے آزاد اور قانونی شہری ہیں۔ ہم ان ڈیوائسز کے نظام کو لاگو کرنے کی مذمت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے رازداری، ذاتی حدود اور نقل و حرکت جیسے آئینی حقوق کے منافی ہے۔

    سنگاپور میں اس وقت کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 37 ہزار ہے۔ ان میں زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو روزگار کے سلسلے میں باہر سے آئے ہوئے ہیں اور تنگ و تاریک رہائش رکھنے کی وجہ سے ان کے لیے سماجی فاصلے جیسی شرائط پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔

  10. یہ ویڈیو گیم ’لوگوں کی جانیں بچا سکے گی‘

  11. راولپنڈی پولیس کے چار افسران کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا

    راولپنڈی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ ان کے چار افسران کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد انھیں اپنے اپنے گھروں پر قرنطینے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    کورونا سے متاثر ہونے والے اہلکاروں میں اے ایس پی نیو ٹاؤن عمران خان، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر اظہر حسن، ڈی ایس پی سٹی سرکل اثر علی اور ایس ایچ او گوجر خان شامل ہیں۔

    پولیس کے اعلامیے کے مطابق تمام افسران تک علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور تمام افسران جہاں تعینات تھے وہاں موجود دیگر افسران و ملزمان کے بھی ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں۔

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ تھانوں اور دفاتر کی سطح پر سماجی دوری کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور ایس او پیز پر مکمل عمل بھی کروایا جا رہا ہے تاکہ کورونا سے بچا جاسکے۔

  12. بریکنگ, کورونا ٹیسٹ کی وجہ سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت ملتوی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ میں شامل ایک جج کا کورونا وائرس ٹیسٹ کیے جانے کے بعد سماعت 11 جون تک ملتوی ہو گئی ہے۔

    ایک عدالتی اہلکار کے مطابق جج کے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے میں 24 گھنٹے کا وقت لگے گا، جس کی وجہ سے سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دی گئی۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے چند دن قبل یہ اعلان کیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت اب روزانہ کی بنیادوں پر کی جائے گی جس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ سماعت کو ملتوی کیا گیا ہو۔

  13. بریکنگ, شیخ رشید احمد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا، اپنی رہائش گاہ پر قرنطینے میں چلے گئے

    وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد اُن اعلیٰ حکومتی عہدیداروں میں شامل ہوگئے ہیں جن کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    شیخ رشید احمد نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو اس کی تصدیق کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کل اُن کا ٹیسٹ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سے کروایا گیا تھا جس کی رپورٹ آج مثبت آئی ہے۔

    شیخ رشید نے بتایا کہ مثبت رپورٹ آنے کے بعد وہ اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ میں قرنطینے میں چلے گئے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ان کے عملے کا بھی ٹیسٹ کروایا گیا ہے جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

  14. بلوچستان: مزید دو اضلاع سے متاثرین سامنے آگئے، 33 میں سے 29 اضلاع متاثر, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے مزید دو اضلاع سے کورونا کے مقامی منتقلی کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ان اضلاع کی تعداد 27 سے بڑھ کر 29 ہوگئی ہے جہاں سے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    جن دو نئے اضلاع سے کورونا کے متاثرین سامنے آئے ہیں ان میں آواران اور صحبت پور کے اضلاع شامل ہیں۔ ان میں صحبت پور سے تین جبکہ آواران سے دو متاثرین رپورٹ ہوئے۔

    دوسری جانب جہاں بلوچستان کے 33 اضلاع میں سے 29 سے اب تک کورونا کے متاثرین سامنے آئے ہیں وہاں عید الفطر کے بعد سے مقامی منتقلی کے کیسز میں اضافے کا رجحان بھی برقرار ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی اعداد و شمار کے مطابق 23 جون تک بلوچستان میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 3306 تھی جن میں مقامی منتقلی کے کیسز 3150 (95 فیصد) تھے، تاہم عید کے بعد سات جون تک صرف 15 دنوں میں ان کی تعداد دگنی سے زیادہ ہوکر 6516 ہوگئی جن میں مقامی منتقلی کے کیسز 6368 (97 فیصد) ہیں۔

    کوئٹہ 5332 (83.7) متاثرین کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ کوئٹہ کے بعد جن اضلاع سے زیادہ متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں ان میں افغانستان سے متصل تین اضلاع قلعہ عبداللہ، پشین اور قلعہ سیف اللہ کے علاوہ دیگر اضلاع جعفر آباد، لسبیلہ، مستونگ اور خضدار شامل ہیں۔

  15. امریکہ میں یومیہ اموات 700 سے کم

    امریکہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے 691 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور گذشتہ ہفتے میں یہ یومیہ اموات کی سب سے کم تعداد بنتی ہے۔

    اپریل کے وسط میں اس وبا سے امریکہ میں روزانہ اموات تین ہزار تک ہو گئی تھیں۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمارکے مطابق مجموعی طور پر امریکہ میں ہونے والی اموات کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار بنتی ہے جبکہ مصدقہ متاثرین 19 لاکھ ہیں۔

  16. نیویارک شہر آج سے دوبارہ کھلنا شروع ہوگا

    امریکہ کے شہر نیویارک میں آج سے وہ کاروبار بھی کھل رہے ہیں جو لازمی خدمات میں شمار نہیں ہوتے۔

    نیویارک شہر اور ریاست نیویارک امریکہ میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثر علاقے رہے ہیں۔

    ان نرمیوں کا مطلاب ہے کہ چار لاکھ لوگ تعمیرات، پیداوار اور ریٹیل کے شعبوں میں اپنے کام پر لوٹ سکیں گے جبکہ سب وے ریلوے سٹیشن وبا سے پہلے کے 95 فیصد سطح تک بحال ہوجائے گا۔

    کام کی جگہوں کو حفاظتی اقدامات اپنانے ہوں گے جبکہ ریٹیل کی دکانوں پر صرف باہر سے ہی خریداری کرنے کی اجازت ہوگی۔

    نیویارک شہر میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ یہاں 21 ہزار 844 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

    کورونا وائرس سے یہاں آٹھ لاکھ 80 ہزار سے زیادہ ملازمتیں ختم ہوئی ہیں جبکہ ٹیکس خسارے کی وجہ سے اس شہر کو اگلے سال 9 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا۔

  17. متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافے پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی بی بی سی سے گفتگو, آسیہ انصر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں کورونا متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہاں 350 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ تین ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

    اسلام آباد میں متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافے پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ہے کہ لوگ ایس او پیز کی پابندی نہیں کر رہے، اور اگر کر بھی رہے ہیں تو اس میں بھی صحیح طرح سے احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے۔

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شفقات نے کہا کہ اسلام آباد میں ٹیسٹنگ کی شرح بھی ملک میں سب سے زیادہ ہے اور پڑوسی شہر راولپنڈی سے تین گنا زیادہ ٹیسٹ کیے گئے ہیں، اس کی وجہ سے جتنے متاثرین ہیں سب سامنے آ رہے ہیں، اور یہ بھی متاثرین کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔

    ان کے مطابق اس کی تیسری وجہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن جب سے اٹھایا گیا ہے، تب سے عوام میں یہ فکر پیدا نہیں کی سکی ہے کہ انھوں نے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ لوگوں کی مجبوری بھی ہے کہ اگر کام کی جگہیں کھلیں گی تو انھیں کام پر آنا پڑے گا۔

    حمزہ شفقات نے کہا کہ اس کو روکا نہیں جا سکتا کیونکہ ایسا دنیا کے ہر ملک میں ہوا ہے، اور متاثرین کی تعداد بڑھے گی تو ہی عروج آئے گا اور پھر متاثرین کی تعداد میں کمی آئے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ایسا بھی ہوگا کہ صحت کے نظام پر دباؤ پڑے گا کیونکہ ایک دن میں 600 سے 700 مریض اگر داخل ہوں گے تو کسی بھی شہر کا نظامِ صحت انھیں سنبھال نہیں سکتا۔

    ایس او پیز کے نفاذ میں انتظامیہ کو درپیش چیلنجز پر انھوں نے کہا اگر کورونا سے متاثرہ علاقے ایک یا دو ہوتے تو ان پر بھرپور انداز میں عملدرآمد کیا جا سکتا تھا لیکن پورے شہر میں بے ترتیب انداز میں پھیلاؤ کی وجہ سے ایسا مشکل ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ انتظامیہ مثال کے طور پر ایک وقت میں 500 دکانیں چیک کر سکتی ہے کیونکہ دس سے بارہ مجسٹریٹس ہیں اور پولیس کی نفری ہے، چنانچہ جب تک لوگ خود اس بات کا احساس نہیں کریں گے تب تک فائدہ نہیں ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد ہر جگہ یکساں ہے اس کا تعلق ذاتی آگاہی سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ خود آگاہی رکھتے ہیں وہ ان کی پابندی کر رہے ہیں۔

  18. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر: احتجاج اور مظاہروں کے دوران کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ, ریاض مسرور، بی بی سی اردو

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج اور مظاہروں کے دوران کورونا کے پھیلاؤ میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں 600 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس وقت کل متاثرین کی تعداد 4000 سے زیادہ ہے۔

    یاد رہے کہ انڈیا نے کورونا کی وبا سے پہلے ہی اس علاقے کی قانونی حیثیت تبدیل کر کے اسے ملک کا حصہ بنا دیا تھا جس کے بعد مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا، جس پر قابو پانے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

    پولیس کے مطابق 25 مارچ سے نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن کے بعد انڈین سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 40 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

    ان اموات کے بعد جب فورسز نے بڑے جنازوں کے خدشے سے لاشیں لواحقین کے حوالے نہیں کیں تو مقامی سطح پر بڑے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    مقامی لوگ اس وجہ سے بھی احتجاج کر رہے ہیں کہ فورسز نے ان گھروں کو بھی نقصان پہنچایا ہے جہاں یہ عسکریت پسند رہتے رہے ہیں۔

    انڈین حکام کا کہنا ہے کہ مسلم اکثریتی وادی میں سماجی فاصلے کے اصولوں پر عملدرآمد بہت مشکل ہو کر رہ گیا ہے، جہاں 1980 کی دہائی کے آخر میں عسکریت پسندی شروع ہو گئی تھی۔

  19. فلپائن میں کھانے کا آرڈر منسوخ کرنے والوں کو سزا کی تجویز

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر میں کھانا گھر پر منگوانے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایسی صورتحال میں فلپائن کے ایوانِ نمائندگان ایک ایسے قانون پر بحث کر رہے ہیں جس کے تحت آرڈر منسوخ کرنے والے لوگوں کو سزا دی جا سکے گی۔

    فلپائن میں یہ معمول ہے کہ ڈیلیوری کرنے والا شخص کھانے کی ادائیگی کرتا ہے اور بعد میں گاہک ڈیلیوری کرنے والے کو اس کے پیسے ادا کرتا ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ آرڈر منسوخ کرنے کی وجہ سے رائیڈر کو بل ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ ان کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔

    ایک منتخب نمائندے کی جانب سے لایا گیا یہ بل ایسے لوگوں کو بھاری جرمانوں اور جیل کی سزا کی تجویز دیتا ہے۔

  20. اقتصادی مشاورتی کمیٹی کے رکن عابد قیوم سلہری میں کورونا کی تصدیق

    وزیرِ اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن اور پالیسی تھنک ٹینک ایس ڈی پی آئی کے سربراہ عابد قیوم سلہری میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

    انھوں نے اس بات کا اعلان ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کیا۔

    عابد قیوم سلہری نے لکھا کہ انھوں نے تمام حفاظتی اقدامات اپنانے کی کوشش کی لیکن کہیں نہ کہیں ان سے غلطی ہوئی ہوگی جس کی بنا پر گذشتہ رات ان کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ انھوں نے خود کو گھر پر تنہا کر لیا ہے۔