آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: بلوچستان میں کورونا کے 304 نئے مریض، خیبرپختونخوا میں متاثرین 15 ہزار سے زیادہ

دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. الجیریا میں چھوٹے کاروبار دوبارہ کھل گئے

    الجیریا نے کورونا وائرس لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے اپنے منصوبے کے تحت متعدد چھوٹے کاروبار دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

    سبزیوں اور پھلوں کی منڈیوں، پیسٹری اور حجام کی دکانوں میں دوبارہ کام کا آغاز ہو گیا ہے۔

    الجیریا میں لاک ڈاون میں نرمی کا دوسرا مرحلہ 14 جون سے شروع ہو گا اور مزید کاروبار دوبارہ کھل سکیں گے۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق الجیریا میں کورونا وائرس سے 698 اموات ہوئی ہیں جبکہ 10،050 متاثرین موجود ہیں۔

  2. کورونا وائرس: امریکہ میں ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد اموات، 20 لاکھ کے قریب متاثرین

    امریکہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد تقریباً 20 لاکھ کے قریب ہے۔

    دوسری جانب امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث متاثرین میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    امریکہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد تقریباً 20 لاکھ کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ یاد رہے یہ دنیا میں کووڈ 19 کے متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    امریکہ کے بعد کووڈ 19 کے سب سے زیادہ متاثرین برازیل میں 672،000 اور اس کے بعد روس میں 467،000 ہیں۔

  3. بریکنگ, بلوچستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ 295 نئے مریض

    بلوچستان میں کورونا وائرس کے 295 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 6516 ہو گئی ہے۔

    بلوچستان میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 54 ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق سات جون 2020 کو کورونا کے 1030 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 295 پازیٹو آئے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر پر31117 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 24601 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طوپر پر پر72598 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ مشتبہ مریضوں کی تعداد 30248 ہے جبکہ کورونا وائرس سے اب تک 2313 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  4. گلگت بلتستان حکومت نے سیاحت پر مزید دو ہفتوں کے لیے پابندی عائد کر دی, محمد زبیر خان، صحافی

    گلگت بلتستان میں مزید دو ہفتوں کے لیے سیاحت پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ، کورونا وائرس سے متاثرہ چار اضلاع (گلگت، سکردو، استور اور ہنزہ) میں 8 جون سے سخت لاک ڈاون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق اتوار کے روز وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کی صدارت میں اہم جلاس منعقد ہوا جس میں سیاحت کے لیے ایس او پیز پیش کیے گے تھے۔

    تاہم اس اجلاس میں طبی ماہرین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ’اس وقت حالات ایسے نہیں ہیں جن میں سیاحت کو کھولا جاسکے۔ اس سے عوام کی جانوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ سیاحت کے لیے ایس او پیز کی تیاری کا کام جاری رہے گا اور دو ہفتوں کے بعد کی صورتحال دیکھ کر سیاحوں کو گلگت بلتستان میں داخلے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ہوگا۔

    اس دوران گلگت بلستان صرف سیاحوں ہی کے لیے نہیں بلکہ دیگر صوبوں کے شہریوں کے لیے بھی بند رہے گا۔

    فیض اللہ فراق کے مطابق اجلاس میں کورونا مریضوں میں اضافے کے پیشِ نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ آٹھ جون سے گلگت، سکردو، استور اور ہنزہ میں سخت لاک ڈاون ہوگا۔ اس دوران صرف میڈیکل سٹور، کھانے پینے کی دوکانوں کو سخت ایس او پیز کے تحت کھلے رہنے کی اجازت ہوگی۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کے مطابق تعمیراتی کاموں سے متعلق کاروبار کو جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے مگر وہ سخت نگرانی میں رہیں گے اور اگر ایس او پیز کی پابندی نہ ہوئی تو ان کو بند کیا جا سکتا ہے۔

    فیض اللہ فراق کے مطابق گلگت بلتستان حکومت وسائل کی کمی کے سبب تشویش میں مبتلا ہے اور حکومت نے اپنی ضروریات سے وفاق کو آگاہ کردیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارا مسئلہ سیاحت کھولنے کا نہیں ہے بلکہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کورونا پر قابو پانا اور مریضوں کو سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

  5. اٹلی: کورونا وائرس سے متاثرہ 197 نئے مریض، مزید 53 اموات

    اٹلی میں اتوار کے روز کورونا وائرس سے متاثرہ 197 نئے مریضوں اور مزید 53 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ایک دن قبل 270 متاثرین جبکہ 72 اموات کی اطلاع تھی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 21 فروری سے اب تک ہلاکتوں کی کل تعداد 33،899 ہے۔

    اموات کے لحاظ سے امریکہ ، برطانیہ اور برازیل کے بعد اٹلی دنیا کا چوتھا متاثرہ ترین ملک ہے۔

    اٹلی میں تصدیق شدہ متاثرین کی کل تعداد 234،998 ہے۔ عالمی سطح پر کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں اٹلی ساتویں نمبر پر ہے۔

  6. برطانیہ: لاک ڈاؤن کے بعد پہلی بار یومیہ اموات کی سب سے کم تعداد رپورٹ

    برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 77 ہلاکتوں تصدیق ہوئی ہے۔ 23 مارچ کا لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد یہ یومیہ اموات کی سب سے کم تعداد ہے۔

    محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز اموات کی کل تعداد 40،542 تھی۔

    ٹیسٹنگ اور رپورٹنگ میں وقفے کی وجہ سے ہفتے کے آخر میں اموات کے اعدادوشمار عام طور پر کم ہوتے ہیں۔

  7. بریکنگ, پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: مزید 35 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک دو سالہ بچے اور 13 خواتین سمیت 35 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 396 ہوگئی ہے۔

    ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد میں نو خواتین جن میں ایک لیڈی ڈاکٹر بھی شامل ہیں، سمیت 25 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    ڈاکٹر سعید کے مطابق ان افراد کے رہائشی علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔

    ضلع مظفرآباد میں اب تک 176 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جو اس خطے کے کسی بھی ضلع میں متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    ضلع پلندری کے ڈپٹی کمشنر ندیم احمد جنجوعہ کے مطابق چار خواتین سمیت چھ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان کے مطابق بھمبر میں ایک دو برس کے بچے سمیت مزید چار افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید پانچ مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب مریضوں کی تعداد 195 ہوگی ہے.

  8. بریکنگ, گلگت بلتستان: کورونا وائرس کے 30 نئے مریض، متاثرہ افراد کی تعداد 957 ہوگئی, محمد زبیر خان، صحافی

    گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 30 متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 957 ہوگئی ہے۔

    گلگت بلتستان میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہے۔

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق 22 مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب مریضوں کی تعداد 595 ہوگئی ہے۔

    گلگت حکومت کے ترجمان مظہر علی کے مطابق اتوار کے روز گلگت، غذر اور ہنزہ میں مکمل لاک ڈاون کیا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایس او پی کی خلاف ورزی پر گلگت میں 30 دوکانوں کو سیل کرکے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ اور اب ماسک نہ پہننے والوں پر بھی جرمانے شروع کر دیے گئے ہیں۔

    اسٹنٹ کمشنر گلگت کیپٹن (ر) اسامہ محید چیمہ کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بننے والوں اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی اور اگر عوام نے تعاون نہ کیا تو انتہائی سخت اقدامات سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

  9. بلوچستان: ہوٹلوں اور ریستورانوں کو کھلنے کی اجازت دے دی گئی, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان میں کورونا وائرس کے باعث نافذ العمل لاک ڈاﺅن میں مزید نرمی کے بعد ہوٹلوں اور ریستورانوں کو بھی کھلنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن بعض شرائط سے ان کے مالکان خوش دکھائی نہیں دیتے۔

    لاک ڈاﺅن میں تیسری بار نرمی کے بعد کوئٹہ شہر میں اکثر ہوٹل اور ریستوران کھل گئے ہیں لیکن ایس او پیز کے تحت وہ گاہکوں کو ہوٹلوں میں نہیں بٹھا سکتے۔

    جناح روڈ پر بعض ریستورانوں کے مالکان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اب صرف پارسل کے ذریعے کھانا فروخت کرسکتے ہیں جس کے باعث پہلے کے مقابلے میں وہ 20 فیصد بھی سیل نہیں کر پا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایس او پیز کے تحت گاہکوں کو ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے اور وہ ان ایس او پیز پر وہ عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ڈھائی ماہ سے شہر میں زیادہ تر ہوٹل اور ریستوران بند رہے جس سے ان کا بڑا نقصان ہوا ہے اور اب جب کھولنے کی اجازت دی گئی ہے تو ان سے فائدہ نہیں ہورہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر گاہکوں کو ہوٹل کے اندر بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی تو اس سے نہ صرف مالکان کو نقصان ہوگا بلکہ ہزاروں مزدور بھی بے روزگار ہوجائیں گے۔

  10. پریکٹس نہ کرنے والی پاکستانی ڈاکٹرز کورونا مریضوں کا علاج کیسے کر رہی ہیں؟

  11. سکاٹ لینڈ میں کورونا وائرس سے مزید کوئی ہلاکت نہیں ہوئی

    حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سکاٹ لینڈ میں کورونا وائرس سے مزید کسی نئی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

    اتوار کو جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق سکاٹ لینڈ میں کووڈ 19 سے اب تک 2415 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔

    سکاٹ لینڈ کی ہیلتھ سکریٹری جین فری مین نے کہا ہے کہ وہ اتوار کے اعداد و شمار کو احتیاط سے دیکھنے کا مشورہ دیں گی کیوں کہ ہفتے کے آخر میں کم اموات رپورٹ ہوتی ہیں۔

    سکاٹ لینڈ حکومت کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اب تک 15621 افراد میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سنیچر کے روز 18 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

  12. خیبر پختونخوا: ’کورونا وارڈز میں بستروں کی شدید قلت کا سامنا ہے‘ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے کے کورونا وارڈز میں مریضوں کے لیے بستروں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صوبے میں کورونا متاثرین کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور مزید جاری ہے۔

    پریس ریلیز میں خیبر پختونخوا حکومت سے ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت وینٹیلیٹرز اور بیڈز کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’اب بھی لواحقین مریضوں کو ایمبولینس میں پھرا رہے ہیں جبکہ بیڈز نہیں مل رہے۔‘

    پریس ریلیز میں خبردار کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخواہ کےمطابق صوبے میں چار سو کے قریب ڈاکٹرز کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اس لیے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈاکٹرز کی کمی پوری کرنے کے لیے جلد از جلد 1300 ڈاکٹر کو پی جی ایم آئی آئی کے تحت انڈکشن دیا جائے۔

    پریس ریلیز میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر تحصیل ہیڈ کوارٹر اور آر ایچ سی ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کا انتظام کرے اور ان ہسپتالوں کو تکنیکی معاونت کے لیے آن لائن ٹیچنگ ہسپتالوں کے ساتھ منسلک کیا جائے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ڈاکٹروں کی جنرل ڈیوٹیز ختم کرنے اور ہر ضلعے کے اندر سپیشلسٹ ڈاکٹرز کو ریزرو پر رکھنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ انفیکشن سے بچ سکیں۔

    پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کے تمام وسائل کورونا کی طرف مبزول کرائے جائیں اور خیبر پختونخواہ ہسپتالوں اور ہیلتھ کیئر سٹاف کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پولیس ناکام ہو چکی ہے اس لیے ہسپتالوں میں آرمی یا رینجرز کو تعینات کیا جائے اور خیبر پختونخوا آرڈیننس کے تحت سیکیورٹی ایکٹ لاگو کیا جائے ورنہ عدم تحفظ کی صورت میں ڈاکٹر کام چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

  13. کیا چین کورونا ویکسین کی تیاری کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے؟

  14. کورونا وائرس کے حوالے سے دنیا بھر کی صورتحال

    امریکہ اور کئی دوسرے ممالک میں نسل پرستی اور پولیس کی بربریت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جبکہ اس سب کے درمیان دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

    • جان ہاپکنز یونیورسٹی کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے ہلاک والے افراد کی تعداد 400،000 سے تجاوز کرچکی ہے۔
    • برازیل کی حکومت نے کووڈ 19 سے متعلق کئی مہینوں سے جمع کی گئی معلومات اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیں ہیں۔ برازیل کے صدر جیئر بولسنارو پر تنقید کی جا رہی تھی کہ ان کی حکومت وائرس پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ یاد رہے برازیل میں پہلے ہی 35،000 سے زیادہ اموات کی تصدیق کی جا چکی ہیں۔
    • نسل پرستی اور پولیس کی بربریت کے خلاف امریکہ بھر میں بڑی ریلیاں نکالی گئیں اور اتوار کے روز روم اور کوپن ہیگن میں بھی مظاہرے ہوئے۔ یاد رہے یہ احتجاج سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد سے شروع ہوا تھا۔
    • ویٹیکن نے اعلان کیا ہے کہ کیتھولک چرچ کی گورننگ باڈی اور ویٹیکن سٹی کے مزید کسی فرد میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
    • عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ میلپاس نے اس وبائی مرض کو عالمی معیشت کے لیے ایک ’تباہ کن دھچکا‘ قرار دیا ہے۔
  15. بلوچستان: بین الصوبائی اور بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ کو نقل و حمل کی اجازت

    بلوچستان حکومت نے لاک ڈاﺅن میں مزید نرمی کرتے ہوئے بین الصوبائی اور بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ کو نقل و حمل کی اجازت دیدی ہے۔

    اتوار کو محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق بین الصوبائی اور بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ کو فوری نقل وحمل کی اجازت دیدی گئی ہے۔

    پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے 18ایس و پیز بنائے گئے ہیں جن کے تحت:

    • بس کا اندرونی حصہ مکمل طور پر ڈس انفیکٹ کیا جائے گا۔
    • بسوں میں دو مسافروں کے درمیان ایک نشست کو خالی چھوڑا جائے گا۔
    • بسوں اور ویگنوں میں ہینڈ سینیٹائزرز کی دسیتابی کے علاوہ تمام مسافروں اور گاڑیوں کے عملے کے لیے ماسک پہننا لازمی ہوگا۔
    • ہر مسافر کے ریکارڈ کو برقرار رکھا جائے گا اور گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ان کا ٹمپریچر تھرمل گن سے چیک کیا جائے گا۔
    • جس شخص کو بخار ہو یا کسی کے پاس ماسک نہیں ہو تو اسے گاڑی میں نہیں بٹھایا جائے گا۔
    • منزل مقصود پر پہنچنے پر ہر بس کو مکمل ڈس انفیکٹ کیا جائے گا اور گاڑیوں کے اندر درمیان میں کسی کو بھی کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
    • 18سیٹوں پر مشتمل ویگنوں میں صرف 11افراد جبکہ ٹیکسیوں میں صرف تین افراد کو بٹھانے کی اجازت ہوگی۔
    • بس ٹرمینلوں میں ماسک کے بغیر کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ بس ٹرمینلوں میں لوگوں کے ہجوم سے اجتناب برتا جائے گا۔

    نوٹیفیکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کے مرتکب ٹرانسپورٹروں اور گاڑیوں کے مالکوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

  16. ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں کووڈ 19 سے متاثرہ طبی عملے کی تعداد 50 ہو گئی, محمد زبیر خان، صحافی

    ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے دو مزید ڈاکٹروں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد متاثرہ طبی عملے کی تعداد 50 ہوگئی ہے۔

    ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے مطابق نئے متاثر ہونے والے دونوں ڈاکٹروں کا تعلق شعبہ اطفال سے ہے۔

    خیال رہے کہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال، صوبہ خیبر پختونخوا کا دوسرا بڑا ہسپتال ہے جہاں پر کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے 84 بستروں کا وارڈ موجود ہے جس کا نصف مریضوں سے بھر چکا ہے جبکہ آٹھ مریض وینٹیلیڑ پر ہیں۔

    وزارت صحت اسلام آباد کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے صرف دو شہروں میں وینٹیلیڑ کی سہولت موجود ہے جس میں پشاور اور ایبٹ آباد شامل ہیں۔

    ایبٹ آباد میں مجموعی طور پر 25 وینٹیلیڑ ہیں جن میں سے 12 کورونا مریضوں کے لیے مختص ہیں۔

    ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر احسن کے مطابق متاثر ہونے والوں میں 31 ڈاکٹر اور 19 پیرا میڈیکس سٹاف شامل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہسپتال کے کورونا وارڈ کے علاوہ تمام وارڈوں میں 70 فیصد مریض موجود ہیں جہاں پر طبی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے اور وائرس سے متاثر ہورہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ طبی عملے کے کئی افراد کورونا متاثرین کے ساتھ رابطوں کی بنا پر قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔

    ڈاکٹر احسن کا کہنا تھا کہ اس وقت ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں کورونا مریضوں کے لیے جگہ دستیاب ہے مگر ہمارے پاس مریضوں کا بوجھ بہت بڑھ چکا ہے۔ لیکن اگر کوئی ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ہم مزید چار سو بستروں کا انتطام کرسکتے ہیں۔

  17. کورونا وائرس ختم ہونے کا جشن منانے میں جلدی نہ کریں، اطالوی شہریوں کو پوپ کی تنبیہ

    پوپ فرانسس نے اتوار کے روز اطالوی باشندوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ انفیکشن کی کم شرح کے باوجود، کورونا وائرس کے خلاف اپنا محتاط رویہ ہرگز ترک نہ کریں۔

    انھوں نے معاشرتی دوری اور ماسک پہننے کے حکومتی قوانین کی پابندی کرنے کی بھی تاکید کی۔

    پوپ فرانسس نے اتوار کے روز سینٹ پیٹرس سکوائر میں کئی سو افراد سے خطاب کیا۔

    سینٹ پیٹرس سکوائر میں جمع ہونے والے افراد کی تعداد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اٹلی نے وبائی مرض کی شدت پر قابو پالیا ہے۔

    انھوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ’محتاط رہیں۔ اور کورونا وائرس ختم ہونے کا جشن منانے میں جلدی نہ کریں۔‘

    اٹلی میں کورونا وائرس سے لگ بھگ 34000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اموات کے حوالے سے امریکہ، برطانیہ اور برازیل کے بعد اٹلی دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

  18. کورونا وائرس: 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟

    کھرنڈ پیس کر مریضوں کی ناک میں چڑھانا یا زخم کی پس تندرست فرد کو لگانا سننے میں تو بہت عجیب لگتا ہے لیکن ویکسین کی تیاری کی تاریخ میں ان دونوں اعمال کا بہت اہم کردار ہے۔جانیے ویکسین کی ایک ہزار سال قدیم تاریخ بی بی سی کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  19. یونان: تارکین وطن کے کیمپوں میں لاک ڈاؤن میں توسیع کردی گئی

    یونان نے تارکین وطن کے کیمپوں میں لگائے گئے لاک ڈاؤن میں مزید 21 جون تک توسیع کردی ہے۔

    ایجیئن جزیروں کے پانچ کیمپوں میں 33 ہزار سے زیادہ اور دیگر سہولیات میں تقریباً 70 ہزار سے زیادہ تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد رہتے ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی کیمپ سے کورونا وائرس کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

    مجموعی طور پر یونان میں کورونا وائرس سے 180 اموات اور 2980 متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں۔

    یونان نے 21 مارچ کو تارکین وطن کیمپوں میں سخت اقدامات نافذ کیے تھے۔ اور بعد میں 23 مارچ کو مکمل لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا تھا۔

    یونان نے سیاحت پر منحصر معیشت کو بحال کرنے کے لیے کچھ اقدامات میں نرمی کرنی شروع کردی ہے۔ گذشتہ روز ریستوران اور ہوٹلوں کے اندر موجود کھانے کے ہالز کھولنے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ آئندہ چند روز میں مزید پابندیوں کو کم کیا جائے گا۔

  20. بریکنگ, خیبر پختونخوا: کورونا وائرس کے 486 نئے مریض، مزید 14 اموات

    خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے متاثرہ 486 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 13487ہو گئی ہے۔

    محمکہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے میں وائرس سے متاثرہ مزید 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد اموات کی تعداد 575 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 92 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ اس طرح صحتیاب ہونے والوں کی کل تعداد 3542 ہو گئی ہے۔