ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے کے کورونا وارڈز میں مریضوں کے لیے بستروں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صوبے میں کورونا متاثرین کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور مزید جاری ہے۔
پریس ریلیز میں خیبر پختونخوا حکومت سے ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت وینٹیلیٹرز اور بیڈز کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’اب بھی لواحقین مریضوں کو ایمبولینس میں پھرا رہے ہیں جبکہ بیڈز نہیں مل رہے۔‘
پریس ریلیز میں خبردار کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخواہ کےمطابق صوبے میں چار سو کے قریب ڈاکٹرز کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اس لیے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈاکٹرز کی کمی پوری کرنے کے لیے جلد از جلد 1300 ڈاکٹر کو پی جی ایم آئی آئی کے تحت انڈکشن دیا جائے۔
پریس ریلیز میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر تحصیل ہیڈ کوارٹر اور آر ایچ سی ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کا انتظام کرے اور ان ہسپتالوں کو تکنیکی معاونت کے لیے آن لائن ٹیچنگ ہسپتالوں کے ساتھ منسلک کیا جائے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ڈاکٹروں کی جنرل ڈیوٹیز ختم کرنے اور ہر ضلعے کے اندر سپیشلسٹ ڈاکٹرز کو ریزرو پر رکھنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ انفیکشن سے بچ سکیں۔
پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کے تمام وسائل کورونا کی طرف مبزول کرائے جائیں اور خیبر پختونخواہ
ہسپتالوں اور ہیلتھ کیئر سٹاف کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پولیس ناکام ہو چکی ہے اس لیے ہسپتالوں میں آرمی یا رینجرز کو تعینات کیا جائے اور خیبر پختونخوا
آرڈیننس کے تحت سیکیورٹی ایکٹ لاگو کیا جائے ورنہ عدم تحفظ کی صورت میں ڈاکٹر کام چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔