بلوچستان میں ماہرین
طب نے تحقیق اور ریسرچ کی روشنی میں کہا ہے کہ آنے والے تین ماہ، خاص طور پر ستمبر،
کوروناوائرس کے پھیلاؤ اور اثرات کے حوالے سے انتہائی حساس ہوسکتے ہیں۔
ایک سرکاری اعلامیہ
کے مطابق یہ بات ماہرین طب نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس
میں کورونا وائرس کے رویے، پھیلائواور اثرات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔
صوبائیاعلامیہ کے مطابق ماہرین کا کہنا تھا کہ بلوچستان
میں مقامی سطح پر پھیلنے والے وائرس کا رویہ اور اثرات دیگر صوبوں سے مختلف ہیں۔ صوبے
میں وائرس سے متاثرہ افراد کا تناسب زیادہ ہے تاہم مریضوں کی صورتحال بہتر اور اموات
کا تناسب بھی کم ہے۔
صوبے میں کل 6788 کیسز میں مقامی منتقلی کے کیسز کی تعداد 6640 جو کہ 97 فیصد بنتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق
اب تک کی ریسرچ کے مطابق لوگوں کو کورونا وائرس کے ساتھ رہنا ہوگا تاہم احتیاطی تدابیر
کے ساتھ اس کے پھیلائو اور اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
سیکریٹری صحت دوستین جمال دینی نے اجلاس کوبتایاکہ فاطمہ جناح ہسپتال کی لیبارٹری میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت روزانہ 1500 تک، شیخ زید ہسپتال میں 50 اور بی ایم سی ہسپتال میں 24 ہے۔
اب تک صوبے میں 72598 افراد کی اسکریننگ اور 31117 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
انچارج ریجنل بلڈ سینٹر ڈاکٹر فاروق احمد نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ادارے میں میں پلازمہ کے حصول اور اس کے ذریعہ کورونا سے متاثرہ مریضوں کا علاج شروع کیا گیا ہے جس کے مثبت نتائج آرہے ہیں۔
بلوچستان کا ریجنل بلڈ سینٹر ملک کے نو بلڈ سینٹرز میں پہلا اور واحد سینٹر ہے جہاں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کا پلازمہ حاصل کیا جارہا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ چلنا ہے لیکن یہ اب عوام پر منحصر ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنے آپ کو کس حد تک محفوظ رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام محتاط رہیں گے تو وائرس کے اثرات درمیانی سطح کے ہوں گے لیکن بے احتیاطی کی صورت میں اس کے اثرات شدید ہوسکتے ہیں جس سے انھیں ہسپتال میں داخل ہونے، آکسیجن اور وینٹیلیٹر کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔