آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سندھ کے وزیر برائے کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 62 لاکھ سے زائد ہے جبکہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ افراد اس بیماری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سندھ کے صوبائی وزیر کچی آبادی مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    پاکستان اور دنیا بھر سے کورونا وائرس کی وبا سے متعلق بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    تازہ ترین خبروں کے لیے یہاں کلک کریں

  2. گلگت بلتستان میں 41 نئے مریض سامنے آ گئے، مجموعی متاثرین 779

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق دو جون کو گگلت بلتستان میں 41 مریضوں میں کورونا وائرس پایا گیا ہے جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 779 ہوگئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک مریض ہلاک ہوا ہے جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12 ہو چکی ہے، جبکہ دو مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب مریضوں کی تعداد 529 ہوچکی ہے۔

    اس خطے میں اس وقت 238 مریض زیر علاج ہیں۔

    گلگت بلتستان کے کورونا کے لیے فوکل پرسن اور وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر شاہ زمان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ عید کے دونوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور شعبہ طب کے ماہرین کی ہدایات پر عمل نہ کرنا ہے۔

    ڈاکٹر شاہ زمان کے مطابق گذشتہ روز 233 ٹیسٹ ہوئے جس میں سے 41 مثبت نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ گلگت بلتستان میں حالات خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے شروع کے دونوں جب یہاں پر کم ٹیسٹوں کے باوجود یومیہ 50 کے قریب مریض سامنے آ رہے تھے تو اس وقت کچھ سخت اقدامات کی وجہ سے حالات بہتری کی طرف گئے، مگر جب سے لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی ہے، بالخصوص رمضان کے آخری دنوں میں، اس کے بعد سے لگ رہا ہے کہ اگر اسی طرح چلتا رہا تو شاید حالات بہت ہی زیادہ سنگین ہوجائیں۔

    ڈاکٹر شاہ زمان کے مطابق محکمہ صحت نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ وہ گلگت بلتستان کے شہری جو دوسرے شہروں سے آتے ہیں ان پر بھی گلگت بلتستان میں داخلے کے لیے کورونا کی رپورٹ لازمی قرار دے دے مگر یہ بھی نہیں ہوا اور اب گذشتہ روز بھی کئی مثبت مریض دوسرے شہروں سے آئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پھر حکومت سے گزارش کی تھی کہ گلگت بلتستان میں کسی دوسرے شہری کو داخل نہ ہونے دیں اور خاص طور پر گلگت شہر کو تو مکمل بند رکھا جائے، مگر یہ بھی ممکن نہ ہوسکا۔

    ڈاکٹر شاہ زمان کے مطابق اب ہماری تجویز ہے کہ 15 جون تک تو گگلت بلتستان میں سیاحت کا نام بھی نہ لیا جائے اور 15 جون کے بعد حالات کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔

    انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان میں لاک ڈاؤن سخت کیا جائے اور لوگوں سے ایس او پیز پر عمل کروایا جائے، ورنہ مریضوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

  3. ایونٹ مینیجمنٹ کے کاروبار کو کھانے کے کاروبار میں کیسے بدلا گیا؟

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے بعد طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے اکثر کاروبار متاثر ہوئے، لیکن اس بحران کو بعض افراد نے مواقع میں تبدیل کیا اور اپنے نئے کاروبار کا آغاز کردیا۔ آئیے ملتے ہیں کراچی کے ایک ایسے ہی نوجوان سے ریاض سہیل اور محمد نبیل کی ڈیجیٹل رپورٹ میں۔

  4. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید دس افراد میں کورونا کی تصدیق, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق یہاں 10 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 283 ہوگئی ہے۔

    ان دس افراد میں سے پانچ کا تعلق ضلع پلندری، تین کا تعلق دارالحکومت مظفرآباد، اور دو کا تعلق ضلع باغ سے ہے۔

    یاد رہے کہ ضلع مظفرآباد میں اب تک 118 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جو اس خطے کے تمام اضلاع میں سے متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    حکام کے مطابق اس خطے میں سات ہزار سے زائد مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے گئے ہیں جس میں سے 54 افراد کے نتائج آنے باقی ہیں۔

  5. اسلام آباد میں کورونا سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز کیا ہیں؟

    پاکستان میں حکومتی احکامات کے بعد لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کا سلسلہ جاری ہے لیکن عوام کے لیے کچھ قواعد و ضوابط لازمی قرار دیے گئے ہیں۔

    عوام کو اپنے گھروں سے نکلنے، خریداری کرنے اور نقل و حرکت کے دوران کن ضوابط کا خیال رکھنا ہوگا، بتا رہے ہیں ہمیں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات۔

  6. این ڈی ایم اے کی جانب سے صوبوں کو حفاظتی سامان کی ساتویں کھیپ فراہم

    نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب کووڈ-19 سے نمٹنے کے لیے تمام صوبوں کو وینٹیلیٹرز اور حفاظتی سامان کی ساتویں کھیپ کی ترسیل شروع کر دی گئی ہے اور پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے آئی سی یو وینٹیلیٹر اور بائی پیپ وصول کر لیے ہیں۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق چاروں صوبوں کو دس دس ونٹیلیٹر اور دس دس بائی پیپ مشینیں دی جا رہی ہیں جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے بھی دس دس بائی پیپ مختص ہیں۔

    صوبوں کو آج ارسال کیے جانے والے دیگر حفاظتی سامان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

    این 95 ماسک

    خیبر پختونخوا، 3164

    بلوچستان، 1477

    گلگت بلتستان، 1055

    فیس ماسک

    خیبر پختونخوا، چار لاکھ 31 ہزار 921

    بلوچستان، دو لاکھ 1563

    گلگت بلتستان، ایک لاکھ 43 ہزار 974

    حفاظتی سوٹ

    خیبر پختونخوا، 7924

    بلوچستان، 3698

    گلگت بلتستان، 2642

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق سامان میں سرجیکل دستانے، گاؤن، شوز کور، فیس شیلڈ اور حفاظتی عینکیں بھی ارسال کر دی گئیں اور بقیہ صوبوں کو اپنا اپنا سامان وصول کرنے کا پیغام بھی دے دیا گیا ہے۔

  7. کورونا وائرس: ’ضروری نہیں زیادہ خطرے کی وجہ نسلیت ہی ہو‘

    انگلینڈ کے ٹیسٹنگ کوآرڈینیٹر جون نیوٹن نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ کووڈ۔19 کے خطرات کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے بعد جلدی میں خود ہی نتائج نہ اخذ کر لیں۔

    انھوں نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے اثرات سیاہ فام، ایشیائی اور نسلی اقلیتوں پر زیادہ تھے، لیکن اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے ڈاؤننگ سٹریٹ کی پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’ضروری نہیں کہ یہ ان کی نسلیت کی وجہ سے ہو، ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق ان کے پیشے سے ہو یا کوئی اور وجوہات ہوں کہ وہ کیوں زیادہ ایکسپوژر کا شکار ہوئے۔‘

    انھیں کہا کہ وقت آنے پر سفارشات مرتب کی جائیں گی۔

  8. پنجاب میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے نیا حکمنامہ جاری

    وفاقی حکومت اور پنجاب کی صوبائی کابینہ کی سفارشات کی روشنی میں صوبے میں لاک ڈاؤن کے حوالے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت تعلیمی ادارے، شادی ہال، ریستوران، پارک اور سنیما ہال بند رہیں گے۔

    محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے جاری کردہ ہدایت نامے کے مطابق سماجی و مذہبی اجتماعات، کھیل کی سرگرمیوں کے لیے اکٹھے ہونے کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ تمام کاروباری مقامات صبح 9 سے شام 7 بجے تک، پیر تا جمعہ کھلے رہیں گے۔ کریانہ سٹور صبح 9 سے شام 7 تک ہفتہ بھر کھلے رہیں گے۔

    ہدایت نامے کے مطابق میڈیکل سٹور، پنکچر شاپ، آٹا چکی، تندور، زرعی ورکشاپس 24 گھنٹے کھلی رکھنے کی اجازت ہو گی۔

    مختلف کال سینٹرز کو 50 فی صد عملے کے ساتھ کھلا رکھنے کی اجازت ہو گی۔ کیپٹن (ر) محمد عثمان بین الاضلاع ٹرانسپورٹ 24 گھنٹے چلنے کی اجازت ہو گی۔

    ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ تمام چرچ صرف اتوار کو صبح 7 سے شام 5 بجے تک عبادت کے لیے کھلے رہیں گے۔

    اس نوٹیفکیشن کا اطلاق فی الفور ہو گا اور یہ 15 جون تک نافذ العمل رہے گا۔

  9. برطانیہ: مزید 324 افراد کی ہلاکت، مجموعی ہلاکتیں 39 ہزار 369

    برطانیہ کے محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے یکم جون کو برطانوی وقت کے مطابق شام پانچ بجے تک مزید 324 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    چنانچہ برطانیہ میں ہلاکتوں کی کُل تعداد 39 ہزار 369 ہوگئی ہے۔

    دو جون کو برطانوی وقت کے مطابق صبح نو بجے تک 46 لاکھ 15 ہزار 146 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے ایک لاکھ 35 ہزار 643 ٹیسٹ یکم جون کو کیے گئے تھے۔

    اب تک برطانیہ میں کورونا وائرس سے دو لاکھ 77 ہزار 985 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

  10. ’وہان کی ساری آبادی کا ٹیسٹ ہو گیا‘

    چین کے شہر وہان میں، جہاں کووڈ۔19 سب سے پہلے دریافت ہوا تھا، حکام نے تصدیق کی ہے کہ شہر کی پوری آبادی کو ٹیسٹ کرنے کا دو ہفتے کا پروگرام کامیاب رہا ہے۔

    ہیوبئے کے صوبائی صحت کے کمیشن نے کہا کہ 14 مئی اور یکم جون کے درمیان ایک کروڑ کے قریب افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق وہان کی کل آبادی ایک کروڑ 10 لاکھ ہے۔

    سرکاری پیپلز چائنا اخبار کے مطابق تقریباً 300 افراد میں وائرس کا ٹسیٹ مثبت نکلا لیکن انھوں نے کوئی علامات نہیں دکھائیں۔

    اخبار نے کہا ہے کہ ٹیسٹوں پر کل 12 کروڑ 60 لاکھ خرچ آیا ہے۔ وہان کے نائب میئر نے کہا ہے کہ حکومت یہ بل ادا کرے گی۔

    شروع میں وہان وبا کا مرکز تھا اور وہاں 50 ہزار سے زیادہ تصدیق شدہ متاثرین تھے۔ وبا کے عروج میں اس کے شہریوں نے 70 دن لاک ڈاؤن میں گذارے تھے۔

  11. بریکنگ, خیبر پختونخوا: 412 نئے مریض، 8 مزید ہلاکتیں

    صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے 412 نئے متاثرین سامنے آگئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد 10 ہزار 897 ہوگئی ہے۔

    صوبے میں آٹھ مزید افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہاں ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 490 ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں کورونا کے 112 مزید متاثرین صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد یہاں صحتیاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 3085 ہوگئی ہے۔

  12. لاطینی امریکہ میں کورونا وائرس سے بچے کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟

    دنیا کے وہ 10 ممالک جن میں کورونا وائرس کا مرض پھیلنے کی شرح سب سے زیادہ ہے، ان میں سے چار ممالک لاطینی امریکہ میں ہیں۔ تو ایسے میں وہاں پر بچے کس طرح متاثر ہو رہے ہیں؟

    • بولیویا کے سب سے زیادہ متاثر خطے سانتا کروز میں سات ہزار سے زائد مصدقہ متاثرین میں سے 500 کی عمر 12 سال سے کم ہے۔ خطے کے طبی حکام کے مطابق یہ چے نہ کام پر جا رہے ہیں، نہ سکول، چنانچہ انھیں وائرس لازماً اپنے والدین اور دیگر عمر رسیدہ افراد سے لگ رہا ہے۔
    • پیرو میں تین سالہ بچی ملک کی وہ پہلی فرد ہے جس میں کاواساکی ڈزیز شاک سنڈروم کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ اس بیماری میں خون کی رگوں میں سوجن ہوجاتی ہے اور ماہرین کے مطابق ممکنہ طور پر اس کا تعلق کورونا وائرس سے ہو سکتا ہے۔
    • پاناما میں پیر کو لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے جس کے بعد بچے شام چار بجے سے شام سات بجے تک اپنے والدین یا سرپرست کی زیرِ نگرانی گھروں سے باہر جا سکیں گے۔
  13. بریکنگ, سندھ کے صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا کے باعث انتقال کر گئے, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    سندھ کے صوبائی وزیر کچی آبادی مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔

    صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ مرتضیٰ بلوچ کورونا کا نتیجہ مثبت آنے کے بعد گھر میں آئسولیشن میں رہے اس کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں حالت تشویش ناک ہونے کی وجہ سے ونٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن منگل کی شام وہ زندگی کی بازی ہارگئے۔

    مرتضیٰ بلوچ پاکستان پیپلز پارٹی ملیر (کراچی) کے صدر تھے اس سے قبل وہ دو بار کراچی کے علاقے گڈاپ ٹاؤن کے ناظم رہے اور 2016 کے ضمنی انتخابات میں رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کے وزیر برائے کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ غلام مرتضیٰ بلوچ ہر دور میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے رہے اور انھوں نے لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مرتضیٰ بلوچ ایک محنتی اور بہادر پارٹی رہنما تھے اور ان کی کمی پورا کرنا بہت مشکل ہے۔

  14. کورونا کے مریضوں میں اچانک اضافے کے بعد ٹوکیو میں الرٹ

    جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں منگل کو کورونا وائرس کے 34 مریضوں کے سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    یہ جمز، ڈیپارٹمنٹل سٹورز اور دوسرے کاروباروں پر لگی پابندیوں میں نرمی کے ایک دن بعد ہوا ہے۔

    ٹوکیو کی گورنر یوریکو کوئکے نے کہا ہے کہ ’اس الرٹ کا مطلب اپنی خطرناک صورتِ حال کے متعلق رہائشیوں کو آگاہ کرنا ہے اور انھیں کہنا ہے کہ محتاط رہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر مریض بڑھتے رہے تو انھیں دوبارہ لاک ڈاؤن لگانے کا سوچنا پڑے گا۔

    مئی کے وسط کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انفیکشنز کی تعداد 30 سے بڑھی ہو۔ حکام کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شنکوجو کے علاقے کی نائٹ لائف بھی شامل ہے۔

    جاپان میں کووڈ۔19 کے 16 ہزار 800 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 900 افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

  15. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 15 روز کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن ختم کرتے ہوئے اگلے 15 روز کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عملدرآمد آج منگل کے روز رات بارہ بجے کے بعد ہوگا۔

    اس خطے کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق تمام کاروباری مراکز اور دکانیں صبح فجر سے مغرب تک کھلی رہیں گی جبکہ دودھ، سبزی، کریانہ، بیکری، تندور اور میڈیکل سٹورز پر اس اوقات کار کا اطلاق نہ ہوگا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق جمعے اور منگل کے روز مکمل لاک ڈاؤن رہے گا جبکہ 12 سال سے کم عمر اور 60 برس سے زائد عمر کے افراد پر بازاروں میں آنے کی پابندی بدستور رہے گی۔

    محکمہ داخلہ نے تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ محکمہ صحت کی جانب سے بتائے گئے احتیاطی تدابیر پر خود بھی عملدرآمد کریں گے اور گاہکوں کی جانب سے بھی عملدرآمد یقینی بنائیں گے، بصورت دیگر ان پر پانچ ہزار سے 15 ہزار تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

    محکمہ داخلہ نے دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے کسی گاہک کو اس وقت تک کوئی چیز فروخت نہ کریں جب تک وہ ماسک کا استعمال نہ کرے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق تمام تعلیمی ادارے، مزارات، عوامی اجتماعات، کھیل کے میدان، سنیما، شادی ہال، بیوٹی پارلر اور حجام کی دکانیں کھولنے پر پابندی رہے گی جبکہ ہوٹل اس شرط کے تحت کھولے جاسکتے ہیں کہ کسی بھی فرد کو وہاں بیٹھ کر کھانے کی اجازت نہیں ہوگی، بلکہ صرف کھانا پارسل کرنے کی اجازت ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ صحت اور محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ہدایت نامے کی خلاف ورزی پر درمیانے درجے کے ہوٹلوں پر 15 ہزار جبکہ فائیو سٹار ہوٹلوں کو ایک لاکھ تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

    اس کے علاوہ ہدایت نامے کے مطابق اس خطے میں سیاحوں اور سیاحتی سرگرمیوں کے علاوہ کسی بھی قسم کے کھیلوں کے انعقاد پر پابندی بدستور جاری رہی گی۔

    نوٹیفکیشن میں پبلک ٹرانسپورٹ کو بحال کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔

    محکمہ داخلہ کے مطابق تمام مساجد اور امام بارگاہیں جاری ضابطہ اخلاق کے تحت عبادات کے لیے کھلی رہیں گی۔

    ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ نجی ادارے، تعمیراتی کمپینیاں اور تمام بینک کم سے کم عملے اور محکمہ صحت کے طے شدہ ضابطہ اخلاق کے ساتھ دفاتر کے امور کو سرانجام دے سکتے ہیں مگر خلاف ورزی کی صورت میں پانچ لاکھ تک جرمانہ کیا جائے گا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق گھر سے نکلنے والے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ قومی شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں اور ماسک پہنیں، اور بلاضرورت گھر سے نکلنے والوں پر پانچ سو روپے تک جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

  16. 530 پاکستانی آج رات سعودی عرب سے پاکستان پہنچیں گے

    پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کی تین پروازیں 530 پاکستانی مسافروں اور 16 پاکستانی افراد کی میتوں کو لے کر آج رات سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے پاکستان پہنچیں گی۔ وزارتِ خارجہ کے ایک اعلامیے کے مطابق اب تک سعودی عرب سے 4000 سے زائد پاکستانی وطن واپس آ چکے ہیں جن میں 480 عمرہ زائرین اور 195 زیرِ حراست افراد ہیں۔ اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب تک سعودی عرب میں پاکستانی مشن نے 40 پاکستانیوں کی وہیں پر تدفین میں سہولت کاری کی ہے جبکہ تاحال 90 پاکستانی افراد کی میتیں پاکستان واپس بھیجی جا چکی ہیں۔

  17. کورونا وائرس: برطانیہ میں اموات سب سے کم سطح پر, نک ٹرگل، صحت کے نامہ نگار

    تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں مارچ کے بعد سے اب تک کورونا وائرس سے ہر ہفتے ہونے والی اموات سب سے کم سطح پر آ گئی ہیں۔

    نیشنل سٹیٹسٹیشیئنز کی طرف سے موت کے سرٹیفیکیٹس کے ازسرِ نو جائزے سے پتہ چلا ہے کہ 22 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں وائرس کے 2 ہزار 872 کیسز ہوئے ہیں۔

    مجموعی طور پر اس ہفتے کل 13 ہزار 800 اموات ہوئیں، جو کہ سال کے اس وقت تک ہونے والی ہلاکتوں سے 2 ہزار 500 زیادہ ہیں۔

    وبا کے عروج پر اس سے دوگنے افراد ہلاک ہو رہے تھے۔

    مجموعی طور پر وبا کے دوران کل ایک لاکھ 90 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جو کہ توقع سے تقریباً 62 ہزار زیادہ ہیں۔

  18. پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور سیاحت کے حوالے سے ایس او پی کیا ہیں؟

    وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں ملک میں سیاحت کے شعبے کو دوبارہ کھولنے کا عندیہ دیا ہے اور اس سلسلے میں 12 رکنی 'ٹورازم ریکوری ایکشن کمیٹی' نے متعلقہ افراد اور شعبوں کے تعاون سے قواعد و ضوابط اور احتیاطی تدابیر پر مبنی ایک جامع مسودہ تیار کر لیا ہے۔

    اس مسودے میں ہوٹلوں، ریسٹ ہاؤسز، ریستورانوں، کھانے پینے کی جگہوں، ٹور آپریٹرز، فضائی کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز اور کرائے کی گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک افراد اور اداروں کے لیے قواعد و ضوابط کا تعین کیا گیا ہے۔

    ان ایس او پیز میں کیا کیا ضوابط ہوں گے، اس تفصیلی رپورٹ میں پڑھیے۔

  19. کورونا وائرس: میکسیکو میں اموات 10,000 سے زیادہ

    میکسیکو کے وزیرِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    یہ اعلان اس دن کیا گیا جب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائی جانے والی بہت سی پابندیوں میں نرمی کا آغاز کیا گیا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیر کو تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد 93 ہزار سے زیادہ ہو گئی تھی۔

    ان اعداد و شمار کا مطلب ہے کہ لاطینی امریکہ میں برازیل، پیرو اور چلی کے بعد میکسیکو چوتھا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ پیر کو ملک میں 2 ہزار 771 نئے مریضوں کی تشخیص ہوئی اور کورونا وائرس کی وجہ سے 237 افراد ہلاک ہوئے۔

    سب سے متاثرہ ریاستوں میں میکسیکو سٹی، اس سے ملحق ریاست اور جنوب میں باہا کیلیفورنیا ہے۔

  20. 'بلوچستان میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران متاثرین کی تعداد میں اضافہ'

    حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن میں بے احتیاطی کے باعث کورونا متاثرین کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں کورونا سے متعلق پریس بریفنگ کے دوران مکمل لاک ڈاؤن اور اس کے بعد سمارٹ لاک ڈاؤن میں سامنے آنے والے متاثرین کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا مارچ اور اپریل میں مکمل لاک ڈاؤن کے دوران 1100 متاثرین سامنے آئے اور اس کے بعد نو مئی کو جب سمارٹ لاک ڈاؤن شروع ہوا تو 17 مئی تک ان متاثرین کی تعداد 1716 ہوگئی تھی، لیکن اس کے بعد صرف دو ہفتوں کے دوران مزید 1702 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    انھوں نے بتایا کہ ‎سمارٹ لاک ڈاؤن میں خلاف ورزی پر 34 لاکھ کا جرمانہ کیا گیا لیکن اس کے باوجود خلاف ورزیاں جاری رہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‎اب تاجر برادری کی جانب سے زیادہ تعاون کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اب متاثرین کی تعداد تو بڑھ رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ صحتیاب ہونے والے لوگوں کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ ‎

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے جو مریض ہیں ان میں سے 97 فیصد مریض گھروں میں آئیسولیشن میں ہیں اور حکومت ان کے لیے پیکیج کا اعلان کرے گی۔

    لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ ‎اس پیکج کے تحت جو لوگ گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، ان کے لیے ادویات کا بندوبست کیا جائے گا تاکہ صحتیابی کی شرح مزید بڑھے۔

    انھوں نے بتایا کہ ‎بلوچستان میں 3 آئیسولیشن سینٹرز دسیتاب ہیں جن مین کُل 121 افراد زیرعلاج ہیں۔