عید کے مواقع ایسے ہوتے ہیں جن میں بلوچستان میں روایتی پہناووں کی فروخت میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔
ان میں پشتون روایتی کپڑوں اور لنگی (پگڑی) کے علاوہ بلوچی چپل (چوٹ) اور واسکٹ وغیرہ شامل ہیں تاہم ان میں سب سے زیادہ فروخت بلوچی چپلوں کی ہوتی ہے۔
روایتی بلوچی چپلوں کی خریداری کے لیے بلوچستان کے دور دراز سے لوگ عید کے مواقع پر کوئٹہ آیا کرتے تھے لیکن اس بار ایسا ممکن نہیں ہوسکا کیونکہ کورونا کی وجہ سے بلوچستان میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی کو ختم نہیں کیا گیا۔
روایتی بلوچی چپلوں کی فروخت کا سب سے بڑا مرکز پرنس روڈ ہے جہاں ماما مری کے نام سے معروف دکاندار اس مرتبہ کاروبار میں مندی پر نالاں ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کا کاروبار قرض پر چلتا ہے۔ وہ چمڑے اور دیگر اشیاء قرض پر لے کر جوتے بناتے ہیں اور عید پر فروخت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اس قرض کو اتارتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس لیے وہ پورا سال عید کے تہواروں کا انتظار کرتے ہیں لیکن ان کے بقول اس مرتبہ اس قرض کو اتارنا مشکل ہوگا کیونکہ اس بار لاک ڈاﺅن اور باہر سے لوگوں کی خریداری کے لیے کم آمد کی وجہ سے روایتی چپلوں کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاﺅن میں نرمی تو کی گئی لیکن شام پانچ بجے تک دکانیں کھولنے کا وقت کم ہے کیونکہ لوگ دو تین بجے اٹھتے ہیں اور اس کے بعد پھر خریداری کے لیے کتنا وقت رہ جاتا ہے۔
ماما مری کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں چھوٹے دکاندار حکومتی مالی امداد کے سب سے زیادہ مستحق ہیں لیکن تاحال ایسا نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے وہ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔