ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد سیاحد الحاتم پہلے بھی عید پر اپنے خاندان سے دور رہنے کے عادی ہیں۔ وہ گذشتہ دو سال سے عید کوالالمپور ہسپتال میں گزار رہے ہیں۔
مگر خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں ان کا کہنا ہے کہ اس سال عید ہسپتال کے زیادہ تر مسلم ارکان کے لیے ایک افسردہ موقع ہے کیونکہ ملک میں اب تک اس وبا کے باعث سات ہزار سے زائد لوگ متاثر جبکہ 115 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
’میں اپنے چند دوستوں کی وجہ سے اداس ہوں، سٹاف نرسیں اور چند سینیئر ڈاکٹروں کی وجہ سے۔ وہ کوالالمپور سے تعلق نہیں رکھتے۔ عام طور پر وہ عید کے لیے اپنے گھر لوٹ جاتے ہیں مگر اس مرتبہ انھیں ایسا کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔ چنانچہ اس سے کام کے ماحول پر افسردگی چھا جاتی ہے۔‘
مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مارچ کے وسط سے ہی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
رواں ماہ چند پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی مگر غیر ضروری وجوہات کی خاطر بین الریاستی سفر پر اب بھی پابندی ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ چھٹیوں پر اپنے گھروں کو نہیں جا سکے۔
ایمرجنسی وارڈ میں کام کرنے والے محمد سیاحد اتوار کو ڈیوٹی پر موجود تھے کیونکہ خدشات ہیں کہ چھٹی کی وجہ سے کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا کیونکہ اس موقع پر زیادہ تر لوگ لاک ڈاؤن اقدامات کی خلاف ورزی کریں گے۔
محمد سیاحد کہتے ہیں کہ وبا ہسپتال کے عملے کو ایک دوسرے کے قریب لے آئی ہے اور عملے کے غیر مسلم ارکان افطار کے وقت مسلمان ارکان کی جگہ پر فرائض انجام دیتے ہیں۔