غزہ میں کووڈ۔19 کی وجہ سے ایک باکسنگ کلب کے بند ہو جانے کے بعد اس میں باکسنگ سیکھنے والی لڑکیاں اب غزہ کے ساحل پر پریکٹس کر رہی ہیں۔ ان میں چار سال تک کی لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
بحیرہ روم کے اس محصور ساحل پر درجن سے زیادہ لڑکیوں کا ماسک پہنے ہوئے باکسنگ کی پریکٹس کرنا راہگیروں کی توجہ کا مرکز بن گیا، کیونکہ یہ کھیل تو وہاں زیادہ تر مردوں میں ہی مقبول ہے۔
لڑکیوں کے کوچ اسامہ ایوب کہتے ہیں کہ پبلک ٹریننگ سیشنز اس کھیل میں زیادہ لڑکیوں کے شامل ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔
غزہ کی پٹی کی 20 لاکھ کی آبادی میں سے آدھی آبادی خواتین کی ہے۔ 34 سالہ ایوب نے کہا کہ ’ہمارے پاس سے گزرنے والے چند خاندانوں کو یہ خیال پسند آیا اور انھوں نے پوچھا کہ کیا وہ اپنی بچیوں کو تربیت کے لیے بھیج سکتے ہیں۔‘
ایک 15 سالہ باکسر ملح مصلح نے کہا کہ وہ سیشنز چھوڑنے کی بجائے عوامی جگہوں پر ٹریننگ کرنے کو ترجیح دیں گی۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے کلب چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ ایک بند جگہ تھی اور اگر وہاں وائرس ہوتا تو آسانی سے پھیل سکتا تھا۔‘
غزہ میں کووڈ۔19 کے اب تک 55 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں اور سبھی قرنطینہ میں ہیں۔ یہاں ابھی تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔