آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس کے دوران پابندیوں میں رہنے والی ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار کے قریب ہے۔ کراچی کے این آئی بی ڈی میں جمعرات سے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کا آغاز متوقع ہے جبکہ پنجاب میں عید کے بعد کاروبار صرف پیر تا جمعرات کھلیں گے۔

لائیو کوریج

  1. انڈیا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے سینیٹری پیڈز کی قلت, گیتا پانڈے، بی بی سی

    انڈیا میں سکول جانے والی لڑکیوں کے لیے سینیٹری پیڈز کی بڑی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ کیونکہ اکثر سکول لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہیں اور انھی کی مدد سے سینیٹری پیڈز ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جاتے ہیں۔

    سرکاری سکولوں کی طالبہ میں سینیٹری پیڈز تقسیم کیے جاتے ہیں تاکہ حکومتی سکیم کے تحت ماہواری سے متعلق معاملات پر خواتین کو آگاہی دی جا سکے۔

    انڈیا میں یہ ایک بڑی مہم ہے کیونکہ آبادی کی صرف 36 فیصد خواتین سینیٹری پیڈز استعمال کرتی ہیں۔ تقریباً دو کروڑ 30 لاکھ خواتین ماہواری ہونے پر سکول چھوڑ دیتی ہیں۔

    سکولوں کی بندش سے سینیٹری پیڈز کی ترسیل بھی رک گئی ہے۔

    یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب انڈیا نے 25 مارچ کو ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ سینیٹری پیڈز ان ضروری اشیا میں شمار نہیں تھے جن کی خریداری سختیوں کے باوجود ہوسکتی ہے۔

    29 مارچ کو یہ خبریں شائع ہوئیں کہ دوا خانوں پر سینیٹری پیڈز کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ اس کے بعد حکومت نے اسے ضروری اشیا میں شامل کر لیا۔

    پیر کو انڈیا کی بی جے پی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ چھ لاکھ پیک پولیس حکام کو دیں گے جو انھیں آگے دلی کی کچی آبادیوں میں تقسیم کریں گے۔

    لیکن صرف بڑے شہروں میں ہی نہیں بلکہ گاؤں اور دیہی علاقوں میں بھی ان کی قلت اب محسوس کی جا رہی ہے۔

  2. بلغاریہ نے یورپی یونین سے آنے والے مسافروں کے لیے اپنی سرحد کھول دی

    بلغاریہ نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا شروع کر دی ہے۔ ملک میں وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین اور شینگن ویزا والے ممالک سے آنے والے مسافروں پر پابندی ختم کر دی گئی ہے۔

    مارچ کے وسط میں یورپی یونین کے رکن ملک بلغاریہ نے تمام ممالک سے آنے والے مسافروں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی تاکہ کورونا کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔

    وزارت صحت نے کہا ہے کہ سین مرینو، اندورا، موناکو اور ویٹیکن سٹی سے آنے والوں پر پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ بلغاریہ آنے والوں کو 14 دن قرنطینہ میں گزارنا ہوگا۔

  3. اسلام آباد: حکومتی ہدایت کے باوجود لوگ جمعتہ الوداع کی ادائیگی کے لیے مساجد میں

    پاکستان کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے عوام سے اپیل کی تھی کہ آج جمعتہ الوداع، ماہِ رمضان میں جمعے کی آخری نماز، کی ادائیگی گھر پر کریں اور مساجد کا رخ کرنے سے گریز کریں۔

    انھوں نے کہا تھا کہ انتہائی ضرورت پر سماجی فاصلے کی پاسداری کرتے ہوئے مساجد میں صرف 50 سال سے کم عمر کے لوگ آئیں۔

    تاہم ملک بھر میں جمعتہ الوداع کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد موجود رہی۔ بعض لوگوں نے ماسک کے بغیر نماز ادا کی۔

    یاد رہے کہ ظفر مرزا نے لوگوں سے عید کی نماز بھی گھر پر ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

    حکومتی اعلان کے مطابق ملک میں عید 24 مارچ کو منائی جائے گی۔

  4. کورونا لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں پھنسنے والی ہسپانوی سیاح کی آپ بیتی

    ڈاریہ سنتیرا کا تعلق سپین سے ہے۔ مارچ میں جب سپین میں کوورونا وائرس کے سبب سخت لاک ڈاون تھا اور پاکستان میں لاک ڈاون کی شروعات تھیں تو اس وقت یہ پاکستان میں سیاحت کے لیئے موجود تھیں۔

    اس دوران انھوں نے نہ صرف گلگت بلستان اور اسلام آباد کی سیاحت کی بلکہ انھوں نے لاک ڈاون میں وقت بھی گزرا۔

    ان کے سفر کے بارے میں دیکھیے زبیر خان اور نئیر عباس کی یہ ڈیجیٹل ویڈیو۔

  5. بریکنگ, سندھ میں کل متاثرین 20,883 ہوگئے, گذشتہ ایک روز میں 959 نئے متاثرین

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیر مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ صوبے میں کورونا کے متاثرین کی کل تعداد 20,883 ہوگئی ہے جبکہ گذشتہ ایک روز کے دوران 959 نئے متاثرین کا اضافہ ہوا ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار مزید اموات پیش آئی ہیں جس سے کوو 19 سے ہونے والی کل اموات کی تعداد 340 ہوگئی ہے۔

    اب تک صوبے میں 7015 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آج 660 مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو چلے گئے ہیں۔‘

    ان کی پریس کانفرنس کے مطابق سندھ میں:

    • اس وقت 13,528 مریض زیرعلاج ہیں
    • 41 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں
    • 170 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے
    • 836 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں
    • گذشتہ 24 گھنٹوں میں 6023 ٹیسٹ کیے گئے
    • اب تک (صوبے میں) 149,566 ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں
    • صوبے کے 959 نئے متاثرین میں سے 668 کراچی میں رپورٹ ہوئے ہیں
  6. کیا لاطینی امریکہ عالمی وبا کا نیا مرکز بننے جا رہا ہے؟

    عالمی وبا کے دوران برازیل میں اب تک کورونا سے 20 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔ یہ چھٹے نمبر پر اموات کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    اور اس کے ساتھ میکسیکو، چلی اور پیرو میں بھی وائرس کی وجہ سے متاثرین اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ کووڈ 19 کا نیا مرکز لاطینی امریکہ بن سکتا ہے۔

    برازیل میں 26 فروری کو وائرس سے متاثرہ پہلے مریض کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس سے بعد سے یہ پورے خطے میں ہر ملک میں پھیل چکا ہے۔

    یہاں آبادی کے لحاظ سے دو سب سے بڑے ممالک، میکسیکو اور برازیل، میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات پیش آئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحیح اعداد و شمار سرکاری سطح کی اطلاعات سے کئی زیادہ ہوسکتے ہیں۔

    اور برازیل کے صدر نے متعدد بار وائرس سے ہونے والے نقصان کو کم کر کے بتایا ہے اور سماجی فاصلے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔

  7. وزیر اعلی خیبر پختونخوا عید پر احتیاطاً ’کسی سے نہیں ملیں گے‘

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان سمیت پوری صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ عید الفطر بالکل سادگی سے منائیں گے۔

    وزیر اعلی آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیر اعلی نے تمام صوبائی وزرا، مشیروں اور معاونین خصوصی کو عید سادگی سے منانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب عوامی نمائندے بھی عید سادگی سے منائیں اور دوسروں کو بھی یہی تلقین کریں۔

    بیان کے مطابق وزیر اعلی محمود خان نے کہا کہ وہ احتیاطی تدابیر کے طور مدنظر خود بھی کسی سے عید نہیں ملیں گے۔

    بیان کے مطابق وزیر اعلی نے صوبے کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ عید کے دنوں میں حجروں اور دیگر مقامات پر ہجوم لگانے سے گریز کریں اور اس مذہبی تہوار کو سادگی سے اور اپنے گھروں میں ہی منائیں۔

  8. بریکنگ, روس: گذشتہ ایک روز میں کووڈ 19 سے اموات میں سب سے بڑا اضافہ

    روس میں گذشتہ ایک روز کے دوران کورونا سے 150 اموات ہوئی ہیں۔ یہ ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    اس کے علاوہ ملک میں کورونا وائرس کے نو ہزار سے کم نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ اب متاثرین کی مجموعی تعداد 326,448 ہوگئی ہے۔

    ماسکو میں کووڈ 19 کی نگرانی کے لیے قائم کردہ صدر دفتر کے مطابق 84 علاقوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 8894 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

    روس میں اب تک کورونا سے 3249 اموات ہوچکی ہیں جبکہ تقریباً ایک لاکھ افراد اس وبا سے مکمل صحتیاب ہوچکے ہیں۔

  9. برطانیہ آمد پر مسافروں نے قرنطینہ کی خلاف ورزی کی تو جرمانہ ہوسکتا ہے

    برطانوی حکومت کی طرف سے یہ اعلان کچھ دیر میں متوقع ہے کہ اگر برطانیہ آمد پر بین الاقوامی مسافروں نے 14 دن تک لازم قرنطینہ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی تو انھیں ایک ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

    منصوبے کے تحت ملک میں آنے والے تمام مسافروں سے اپنے رابطے کی معلومات فارم پر درج کرنے کا کہنا جائے گا۔

    ہوائی جہاز، بحری جہاز یا ٹرین سے برطانیہ آنے والے مسافر برطانیہ کی بارڈر فورس کے حکام کو اپنے پتہ بتائیں گے جہاں وہ خود ساختہ تنہائی اختیار کر رہے ہیں۔ ورنہ ان کی رہائش کے لیے حکومت کی طرف سے انتظامات کیے جائیں گے۔

    اس منصوبے کے تحت صحت کا عملہ نجی پتوں پر اچانک چیکنگ کر سکتا ہے تاکہ دیکھا جاسکے کہ آیا لوگ ہدایات پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔

    نئے قوانین کے بارے میں توقع ہے کہ انھیں اگلے ماہ سے نافذ کیا جائے گا۔

  10. بلوچستان میں عید پر سیاحتی مقامات بند رہیں گے

    بلوچستان میں محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے عیدالفطر کے موقع پر کورونا کے باعث تمام سیاحتی مقامات پر پکنک منانے یا تفریح کے لیے اکٹھا ہونے پر پابندی عائد کی ہے۔

    محکمہ داخلہ کی اس پابندی کی روشنی میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے احکامات جاری کیے ہیں۔

    عید کے موقع پر پکنک منانے کے لیے بلوچستان کے جو علاقے مشہور ہیں ان میں کوئٹہ کے قریب ہنہ اوڑک، ضلع زیارت اور ضلع کچھی میں درہ بولان مشہور ہے۔

    دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی طرح کوئٹہ، زیارت اور کچھی کے ڈپٹی کمشنر نے لوگوں سے کہا ہے کہ عید کی چھٹیوں کے دوران ان علاقوں میں پکنک منانے کے لیے نہ آئیں۔

  11. کووِڈ-19 کے خلاف نئے علاج کی آزمائش شروعات کے قریب

  12. تہران میں اموات کی شرح ’کم ہو رہی ہے‘

    ایران میں کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے سربراہ علی رضا ذالی نے کہا ہے تہران میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی شرح 15 فیصد تک گِر چکی ہے۔

    انھوں نے گذشتہ روز کہا تھا کہ دارالحکومت میں اموات کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

    حکام کے مطابق ملک کے جنوب مشرقی سیستان بلوچستان صوبے کے شہر چابھار اور ایرانشھر ریڈ زون قرار دے دیے گئے ہیں جس سے مراد ہے کہ وہاں نئی اموات اور متاثرین میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ تہران میں عید کی نماز مساجد میں ادا کی جا سکے گی۔ ملک میں عید 24 مئی کو متوقع ہے۔

    ملک میں کورونا سے کل متاثرین کی تعداد 129,341 جبکہ 7,249 اموات ہوئی ہیں۔

  13. پاکستان: احساس پروگرام کیا ہے، جانیے ثانیہ نشتر سے

    حال ہی میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی وبا کے باعث بے روزگار ہونے والے افراد کے لیے احساس ایمرجنسی کیش فراہمی کا اجرا کیا۔

    کورونا ریلیف فنڈ کے تحت اب تک تین ارب روپے سے زائد فنڈ اکٹھا ہوچکے ہیں۔

    لیکن یہ احساس پروگرام ہے کیا اور اس کے تحت کن لوگوں کی اور کیسے مدد کی جائے گی?

    یہی جاننے کے لیے ہماری نامہ نگار سحر بلوچ نے احساس پروگرام کی سربراہ اور وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر سے بات کی ہے۔

  14. برازیل: دوسرے ملکوں کے مقابلے یہاں نوجوان زیادہ ہلاک ہو رہے ہیں

    دوسرے ممالک کے مقابلے برازیل میں کووڈ 19 سے نوجوان زیادہ ہلاک ہو رہے ہیں۔ شاید اس کی وجہ ملک کی آبادی میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے اور ملک غربت کے ساتھ ساتھ بےروزگاری جیسے مسائل سے بھی گھرا ہوا ہے۔

    جنوبی امریکہ کے اس ملک کی آبادی 21 کروڑ ہے اور یہ کورونا وائرس کے متاثرین کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے۔

    یہاں تین لاکھ 10 ہزار سے زیادہ متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔ امریکہ اور روس کے بعد فہرست میں اس کا نمبر آتا ہے۔

    جمعرات کو برازیل میں کورونا سے اموات 20 ہزار سے تجاوز کر گئی تھیں۔

    وائرس کے بارے میں عام تاثر ہے کہ یہ صرف عمر رسید افراد کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔ تاہم یہ بات اس ملک کے اعداد و شمار سامنے رکھتے ہوئے غلط ثابت ہوجاتی ہے۔

    سرکاری اعداد وشمار کے مطابق برازیل میں 69 فیصد متاثرین کی عمر 60 برس یا اس سے زیادہ ہے جبکہ سپین اور اٹلی میں یہ تعداد 95 فیصد ہے۔

  15. چڑیا گھر کے جانوروں کو بچانے کے لیے ’بعض کو ذبح کرنا پڑ سکتا ہے‘

    انڈونیشیا کے ایک چڑیا گھر نے کہا ہے کہ شاید اسے کچھ جانوروں کو بچانے کے لیے دوسرے جانوروں کو ذبح کرنا پڑ سکتا ہے تاکہ خوراک کا بندوبست ہوسکے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی خبر کے مطابق انڈونیشیا کا مشہور بندونگ چڑیا گھر عام طور پر ہر سال لوگوں کی آمد سے 81,700 ڈالرکماتا ہے لیکن اسے رواں سال 24 مارچ کو بند کر دیا گیا تھا۔

    اب محض عطیات کی مدد سے جانوروں کو زندہ رکھا جا رہا ہے اور بدترین صورتحال سے متعلق عوام کو آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔

    چڑیا گھر کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں 86 جانوروں کی خوراک کے لیے روزانہ 400 کلو سے زیادہ پھل اور ہر دوسرے دن 120 کلو گوشت درکار ہوتا ہے جبکہ پہلے سے ہی جانوروں کی خوراک کے حصے کم کر دیے گئے ہیں۔

    ’ہمارے پاس 30 ہرن ہیں جو عمر رسیدہ ہیں اور تولیدی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ انھیں ذبح کر کے گوشت خور جانوروں، جیسے سماتران شیروں اور جاون چیتوں کو کھلایا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ جانوروں کو اب تک کافی خوراک مل رہی ہے لیکن وہ کمی محسوس کر رہے ہیں۔

    جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ’خوراک ختم ہوگئی ہے لیکن وہ اب بھی کھانا چاہتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق جانور غصے میں آکر چیزیں پھینکنا شروع کر سکتے ہیں۔

  16. کورونا سروے: ’جنوبی کوریا اور جرمنی کی کارکردگی امریکہ سے بہتر‘

    امریکی تنظیم پیو ریسرچ سنٹر نے کووڈ 19 پر دوسرے ممالک کے ردِ عمل پر 11 ہزار امریکی شہریوں کا سروے کیا ہے۔

    سروے کے مطابق اکثر امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ملک کے مقابلے میں جنوبی کوریا اور جرمنی نے کورونا کا مقابلہ بہتر انداز میں کیا ہے۔

    جبکہ لوگوں نے چین اور اٹلی کے اقدامات پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے وائرس کی روک تھام کے لیے بہتر اقدامات نہیں کیے۔ مارچ میں اٹلی کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک تھا۔ جبکہ چین میں اسی دوران نئے متاثرین کم ہوگئے تھے۔

    ممکن ہے کہ سروے کے یہ نتائج صدر ٹرمپ نے اس بیانیے سے اثر انداز ہوئے ہیں جس میں وہ چین پر وائرس پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

    بعض ناقدین کی رائے میں صدر ٹرمپ کی یہ تنقید در حقیقت اپنی حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

    امریکہ میں اب تک کورونا کے 15 لاکھ سے زیادہ متاثرین سامنے آچکے ہیں۔ امریکہ نے اپریل میں چین کو متاثرین کے اعتبار سے پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

  17. کورونا وائرس نے داغستان میں کیسے تباہی مچائی

  18. سنگاپور: ایک دن میں 600 سے زیادہ نئے مریض

    سنگاپور میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور ملک میں زیادہ تر متاثرین گھریلو ملازمین ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے 612 مریضوں میں سے زیادہ تر ایسی تنگ آبادیوں میں رہتے ہیں جہاں سماجی دوری برقرار رکھنا ناممکن ہے۔ اس کے ساتھ سنگاپور میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 30,426 ہوگئی ہے۔

  19. اجمل وزیر: مشرق وسطی سے واپس آنے والوں کے لیے پشاور ایئر پورٹ کھول دیا گیا

    خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے وہ افراد جو متحدہ عرب امارات اور سعدی عرب میں کام کرتے ہیں ان کے لیے پشاور ایئرپورٹ کو کھول دیا گیا ہے اور عید پر وہ پروازوں کے ذریعے اپنے خاندانوں کے ساتھ عید منانے آ سکتے ہیں۔

  20. مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا: یہ عید سادگی سے منائی جائے گی

    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا اجمل وزیر نے کہا ہے صوبے کی وزار اعلی نے یہ عید سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں تمام سرکاری افسروں اور ایم این ایز، ایم پی اییز کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

    اجمل وزیر نے جمعہ کو اپنی پریس بریفنگ میں بتایا کہ وہ اور انھوں نے نہ اپنے لیے اور نہ خاندن کے لیے نئے کپڑے بنوائے اور کہا کہ عید پر کپڑے صاف ہونے چاہییں، نئے کپڑے ہونا ضروری نہیں۔