لاک ڈاؤن ختم نہ کرنے کی صورت میں لاکھوں افراد کے بھوک سے مر جانے کا خدشہ تھا، عمران خان

،تصویر کا ذریعہ@PTIOfficial
وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے لگائے گئے لاک ڈاؤن کو ختم نہ کرتی تو لاکھوں افراد کے بھوکے مر جانے کا خدشہ تھا۔
عالمی اقتصادی فورم کے کووڈ ایکشن پلیٹ فارم سے بذریعہ ویڈیو خطاب میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک اور ہمارے درمیان اس وائرس کے چیلنج میں فرق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک کے مقابلے میں ہمارے ملک میں کورونا اس رفتار سے نہیں بڑھا لیکن دوسری جانب ہمیں متاثرین کی بڑھتی تعداد کا سامنا ہے اور ہم نے ابھی تک اپنے ملک میں وبا کا عروج نہیں دیکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے یورپ، امریکہ اور چین کے مقابلے میں ہمیں دو طرح کے چیلینجز کا سامنا ہے۔ ہمیں وائرس کے ساتھ لڑنے کے علاوہ ملک کی غریب آبادی پر لاک ڈاؤن کے اثرات سے بھی نمٹنا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں دو کروڑ 50 لاکھ دیہاڑی دار مزدور ہیں۔ جب ہم نے باقی دنیا کی طرح لاک ڈاؤن کیا تو یہ سب لوگ بے روزگار ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا اس سے پاکستان کی 10 کروڑ سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی۔ اس لیے ہمیں لاک ڈاؤن ختم کرنا پڑا ورنہ لاکھوں افراد کے بھوکا مرنے کا خدشہ تھا۔


















