کورونا: دنیا بھر سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ ہونے والے ریکارڈ ایک لاکھ سے زیادہ متاثرین
دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر اور تین لاکھ 24 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 47 ہزار کے قریب ہے جبکہ وائرس کے باعث ملک میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں عالمی ادارۂ صحت کو ریکارڈ ایک لاکھ چھ ہزار نئے مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔
لائیو کوریج
لاہور کے مزید 15 علاقوں میں لاک ڈاؤن
کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کی تجویز پر لاہور کے مزید 15علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سارہ اسلم نے سمارٹ لاک ڈاؤن نوٹیفیکیشن جاری میں بتایا ہے کہ یہ 13 مئی تک نافذالعمل رہے گا اور زیادہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے والوں علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جا رہا ہے۔
لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں مصطفی ٹاؤن اور پی آئی اے سوسائٹی میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔
لاہور کینٹ میں ڈی ایچ اے فیز-1، فیز -5، عارف جان روڈ اورایڈن کاٹیج کو بند کر دیا گیا ہے۔ سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر داتا گنج بخش ٹاؤن کے علاقے میسن روڈ، سنت نگر، راج گڑھ ، اسلام پورہ، ساندہ اور شاہ جمال میں بھی سمارٹ لاک ڈاون لگا دیا گیا ہے۔
حکام نے گلبرگ میں گارڈن ٹاؤن کے علاقے اتا ترک بکر بلاک اور ماڈل ٹاؤن ڈی بلاک کو بند کر دیا ہے۔
لاہور میں شالیمار ٹاؤن کا علاقہ سٹاف کالونی UET میں بھی لاک ڈاون لگا دیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں تمام شاپنگ مالز،ریسٹورانٹ،دفاتر(نجی اور سرکاری) بند رہیں گے۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق علاقہ مکینوں کی نقل و حمل محدود ہو گی، انتہائی ضرورت کے پیش نظر ایک فرد ایک سواری استعمال کر سکے گا۔
اس دوران ہر قسم کے اجتماعات پر مکمل پابندی ہو گی۔
بریکنگ, ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہو گئی
ایران میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ ملک میں ایک روز میں مزید 321 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں بارہ ہزار سے زائد کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد مریضوں کی تعداد 10 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ ایران نے لاک ڈاؤن اور دکانوں کو کھولنے کے لیے مختلف اقدامات کے لیے توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ وہاں معاشی صورتحال پہلے ہی خراب ہے۔

،تصویر کا ذریعہPRESIDENT.IR
کانگو میں آکسیجن کا سٹاک
جمہوریہ کانگو میں طبّی عملے کو بڑھتے کورونا کیسز پر قابو پانے اور کورونا سے متاثر افراد کی مدد کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
طبّی عملے کے بطابق اس کے پاس اب آکسیجن کا سٹاک ختم ہو رہا ہے جبکہ ملک کے متعدد علاقوں میں آکسیجن کی سپلائی بھی مُشکلات کا شکار ہے۔
انتظامیہ کے مطابق ملک کے دارالحکومت میں طویل دورانیے کی بجلی کی بندش کی وجہ سے آکسیجن کی معیاری پیداروار میں مُشکلات درپیش ہیں۔ جمہوریہ کانگو میں حکومتی اعدادو شمار کے مطابق فعال کیسز کی تعداد تیرہ ہزار پانچ سو سے زیادہ ہے۔
کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟
کووڈ-19 سے جڑی اصطلاحات کے معنی کیا ہیں؟
اس صفحے کو اب اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان اور دنیا بھر میں کووڈ 19 کے متاثرین اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان اور دنیا بھر سے تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے کلک کریں
کورونا وائرس کے دوران پابندیوں میں رہنے والی ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے
جنوبی کوریا: پاکستانی طالبہ سعدیہ رند کی کہانی
جنوبی کوریا میں اگرچہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد باقی ممالک سے نسبتاً کم ہے لیکن وہاں بھی اِس وبا سے بچاؤ کے لیے سخت احتیاطتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ دارالحکومت سیول میں کیا حالات ہیں، بتا رہی ہیں وہاں موجود پاکستانی طالبہ سعدیہ رند اپنے اِس وی لاگ میں۔
YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کورونا وائرس کی وبا آخر کب ختم ہوگی؟
کورونا وائرس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں اربوں لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں۔ معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔مگر کیا یہ وبا کبھی ختم ہوگی اور اگر ہاں تو اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے، دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔
خیبر پختونخوا: 22-24 مئی تک تمام ریٹیل سٹورز کھلا رکھنے کا فیصلہ

سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت خیبر پختونخوا حکومت نے صوبہ بھر کے تمام ریٹیل سٹورز کو 22 مئی سے 24 مئی تک عید کے دنوں میں کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی مشیر اطلاعات اجمل وزیر کے مطابق حکومت نے ہوم ڈیلیوری اور بیکریوں کو بھی 5 بجے کے بعد کھلا رکھنے کا نوٹفیکشن جاری کیا ہے۔ لیکن تمام ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔
انھوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ عید کے موقع پر سماجی دوری اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور رشتہ داروں کے گھر آنے جانے سے پرہیز کریں اور اپنے اور اپنے پیاروں کی جان بچانے کی خاطر اس بار عید اپنے گھر پر گزاریں۔
اجمل وزیر کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاون میں نرمی اور سختی دونوں عوام کے تحفظ کے لیے کی ہے۔
سیربین: بدھ، 20 مئی
YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
’لوگوں میں سرمایہ کاری کریں، آخر میں وہی بچتے ہیں‘
لندن کے ایک بے حد مقبول ریستوران ’دارجیلنگ ایکسپریس’ کی مالک عاصمہ خان ہر برس ماہ رمضان میں ’بین المذاہب افطار‘ اور بے گھر افراد کے لیے کھانے کا انتظام کرتی ہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن کے سبب اس بار وہ اکیلے ہی اپنے گھر سے ڈیڑھ سو لوگوں کا کھانا پکا کر طبی کارکنان کو بھیج رہی ہیں۔ عاصمہ خان اپنی مقبولیت کی وجہ سے نیٹفلکس کی سیریز ’شیفس ٹیبل’ میں بھی نظر آ چکی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی نامہ نگار ثمرہ فاطمہ کو بتایا کہ لاک ڈاوٴن کے سبب ان کے کاروبار کو ہونے والے نقصان سے وہ کیسے نمٹ رہی ہیں۔
YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: کووڈ 19 متاثرین کی تعداد 157 ہو گئی، ایک ہی خاندان کے 34 افراد متاثر, ایم اے جرال، صحافی

،تصویر کا ذریعہM. A Jarral
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع مظفرآباد میں مزید ایک خاتون سمیت 9 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 157 ہوگئی ہے۔
ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے سات افراد اپنی ایک عزیزہ سے متاثر ہوئے ہیں جن کا چند روز قبل ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
ڈاکٹر سعید کے مطابق دیگر دو افراد بھی اپنے ایک عزیز سے متاثر ہوئے جو میڈیکل سٹور چلاتا ہے۔
گذشتہ روز تک اس شخص سمیت ان کے خاندان کے 32 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جبکہ آج مزید دو افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد اس خاندن کے اب تک 34 افراد متاثر ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر سعید کے مطابق اس خطے میں اب تک سب سے زیادہ کورونا سے متاثر ہونے والا شہر دارالحکومت مظفرآباد ہے جہاں 70 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
بریکنگ, بلوچستان : کورونا وائرس سے متاثرہ 83 نئے مریض سامنے آ گئے
بلوچستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ 83 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرین کی کل تعداد 2968 ہوگئی ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق 20 مئی 2020 کو کورونا کے 343 کیے گئے جن میں سے 83 کا نتیجہ مثبت آیا۔
بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 19346 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے 16318منفی آئے ہیں۔
اب تک مجموعی طور پر48582 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ بلوچستان میں مشتبہ مریضوں کی تعداد 19394 ہے۔
صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 636 ہے جبکہ کورونا وائرس سے اب تک 38 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
’بی بی سی کو فری ٹی وی لائسنسز پر لچک دکھانی چاہیئے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں کورونا وائرس پر ہونے والی روزانہ کی پریس کانفرنس میں ایک سوال پوچھا گیا کہ کیا حکومت کو 75 برس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے فری ٹی وی لائسنسز میں اگست سے آگے توسیع کرنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔
وزیرِ ثقافت اولیور ڈاؤڈن نے کہا کہ بی بی سی نے انھیں ختم کرنے کی تاریخ میں تاخیر کر کے درست فیصلہ کیا ہے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ جب اگست کے نزدیک نئی ڈیڈ لائن آئے گی تو کارپوریشن دوبارہ اسی طرح کی لچک دکھائے گی۔
تقریباً 3 کروڑ 7 لاکھ افراد کے فری ٹی وی لائسنسز یکم جون کو ختم کیے جانے تھے لیکن اب اس تاریخ کو روک دیا گیا ہے۔
کورونا وائرس: دنیا بھر میں ایک دن میں سب سے زیادہ مریض

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ کورونا وائرس کی عالمی وبا یورپ اور ایشیا میں کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، لیکن یہ ابھی بھی عالمی سطح پر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں عالمی ادارۂ صحت کو ایک لاکھ چھ ہزار نئے مریضوں کے متعلق بتایا گیا ہے۔ جب سے وبا شروع ہوئی ہے یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایدھانوم گھبریئسس نے یہ اعداد ڈبلیو ایچ او کی ایک بریفنگ میں بتائے۔ انھوں نے کہا کہ ان میں سے دو تہائی مریضوں کا تعلق صرف چار ممالک سے ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق مریضوں کی عالمی تعداد اب پچاس لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ تین لاکھ 24 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
اس وقت سب سے زیادہ مریض امریکہ میں ہیں اور اس کے بعد روس، برازیل اور برطانیہ آتے ہیں۔
بریکنگ, گلگت بلتستان: کورونا وائرس کے 23 نئے مریض، متاثرین کی تعداد 402 ہو گئی
گلگت بلتستان میں بدھ کے روز کورونا وائرس کے مزید 23 مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد گلگت بلتستان میں کوورنا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 579 ہوچکی ہے۔
محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق 12 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ جس کے بعد صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 402 ہوگئی ہے۔
گلگت بلتستان میں اس وقت 173 مریض زیر علاج ہیں جبکہ اب تک چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرین گلگت میں ہیں جن کی تعداد 85 ہے جبکہ دوسرا متاثرہ ضلع استور ہے جہاں پر 43 مریض زیر علاج ہیں۔
وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات
پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔
ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔
ملاقات میں داخلی سلامتی سے متعلقہ امور کے علاوہ کورونا وائرس کے حوالے سے امدادی سرگرمیوں اور ملک کی مجموعی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کورونا اور محبت: سماجی دوری کے زمانے میں محبتیں کیسے بڑھ رہی ہیں؟
کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں زندگی کے دوسرے معاملات اب الیکٹرانک روپ اختیار کر رہے ہیں، وہیں آن لائن ڈیٹنگ کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اس ڈیجیٹل ویڈیو میں دیکھیے کہ سماجی دوری کے زمانے میں ڈیٹنگ کے لیے نوجوان کیا طریقے اختیار کر رہے ہیں۔
