کورونا: برطانیہ کا ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان، بلوچستان میں 148 نئے متاثرین

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 46 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تین لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 41 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں پیر سے 26 صنعتیں کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ادھر برطانیہ نے ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ چین کے شہر بیجنگ میں عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. آگاہی پیغام: وبا کے اس دور میں یہ شادی نہیں ہو سکتی!

    سندھ حکومت نے یورپی یونین کے تعاون سے صوبے کے باسیوں کے لیے سندھی زبان میں کورونا سے بچاؤ کا آگاہی پیغام جاری کیا ہے۔

    سندھی زبان میں بنائے گئے اس پیغام میں دکھایا جاتا ہے کہ کیسے ایک لڑکے اور لڑکی کے والدین وبا کے اس دور میں ان کی شادی کی تاریخ مقرر کر رہے ہوتے ہیں مگر اسی دوران لڑکا کورونا کی وجہ سے شادی سے انکار کر دیتا ہے۔

    لڑکا کہتا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے ولیمے کی تقریب اس کے خاندان اور گاؤں والوں میں وبا کے پھیلاؤ کا باعث بنے اور یہ تقریب لوگوں کی ہلاکتوں کا سبب بنے۔

    آخر میں لڑکی اور لڑکے کا خاندان اس بات پر متفق ہوتے ہیں کہ شادی کی تقریب کو وبا کے اس دور میں ملتوی کر دیا جائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. کیا آرٹیمیسیا کا پودا کووِڈ-19 کو شکست دے سکتا ہے؟ جرمنی میں تحقیق شروع

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنآرٹیمیسیا کے پودے کو ایک طویل عرصے تک ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

    جرمنی اور ڈنمارک کے سائنسدانوں کی ٹیم نے امریکی کمپنی آرٹیمی لائف کے ساتھ ملک کر اس حوالے سے تحقیق شروع کی ہے کہ کیا آرٹیمیسیا کا پودا کورونا وائرس کے خلاف کارآمد ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں۔

    تحقیق کے سربراہ پیٹر سی برگر نے جرمن نشریاتی ادارے دوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ ان اولین تحقیقی مطالعوں میں سے ہے جس میں سائنسدان اس پودے کے اجزا کا کورونا وائرس سے تعلق سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

    آرٹیمیسیا کے پودے کو ایک طویل عرصے تک ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

    لیکن یہ ملیریا کی پہلی دوائی نہیں ہے جس پر کورونا کے علاج کے لیے تحقیق کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے ہائیڈروکسی کلوروکوئین نامی ملیریا کی دوائی کو بھی حالیہ چند ماہ میں کووِڈ-19 کے علاج کے لیے آزمایا جاتا رہا ہے۔

    الجیریائی محققین نے اپریل میں کووِڈ-19 پر ملیریا کی دواؤں کی اثر کی آزمائش کی تھی اور انھوں نے ثابت کیا تھا کہ آرٹیمیسیا کے پودے کے اجزا ہائیڈروکسی کلوروکوئین سے زیادہ مؤثر ہیں۔

    افریقہ کے کئی ممالک بشمول مڈغاسکر اور تنزانیہ میں کورونا سے بچاؤ کے لیے آرٹیمیسیا کا مشروب فروخت کیا جا رہا ہے۔

    کورونا، مڈغاسکر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمڈغاسکر میں فوج کے اہلکار شہریوں میں ماسک اور آرٹیمیسیا کے مشروب کے نمونے تقسیم کر رہے ہیں

    تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی حتمی سائنسی نتائج موجود نہیں ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر خبردار کیا ہے کہ اس حوالے سے ‘کوئی ثبوت موجود نہیں کہ آرٹیمیسیا سے تیار کی گئی مصنوعات کووِڈ-19 کو روک سکتی ہیں یا ان کا علاج کر سکتی ہیں۔’

    عالمی ادارہ صحت کے افریقہ آفس کے مائیکل یاؤ نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ روایتی دواؤں سے نئے علاج دریافت ہوجائیں تاہم لوگوں کو کورونا وائرس کے لیے وہ علاج استعمال نہیں کرنے چاہییں جن کی آزمائش نہیں ہوئی ہے۔

  3. پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے قواعد و ضوابط کیا ہوں گے؟ دیکھیے اس ویڈیو پیغام میں

    پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے عوام کی سہولت کے پیش نظر آئندہ سوموار سے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    دونوں صوبائی حکومتوں نے اس حوالے سے ایس او پیز یعنی قواعد و ضوابط بھی جاری کیے ہیں جن پر عمل پیرا ہونا مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے ضروری ہو گا۔

    یہ قواعد و ضوابط کیا ہیں جاننے کے لیے دیکھیے وزیر اعظم ہاؤس سے جاری کردہ یہ آگاہی ویڈیو۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. 'ترکی 114 ممالک سے 70 ہزار شہریوں کو واپس لا چکا ہے'

    ترکی، کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترک وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران ترکی اب تک 114 ممالک سے 70 ہزار کے قریب ترک شہریوں کو اپنے ملک واپس لا چکا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق انھوں نے اپنے ایک لائیو بیان میں کہا کہ 135 ممالک نے ترکی سے طبی سامان کی فراہمی کی درخواست کی ہے اور ان کے ملک نے ان میں سے 80 ممالک کو طبی سامان فراہم کیا ہے۔

    یاد رہے کہ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ترکی میں کورونا وائرس کے ایک لاکھ 46 ہزار 457 متاثرین ہیں جبکہ چار ہزار 55 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

  5. پاکستان: کورونا کے بڑا شکار نوجوان مگر اموات کی شرح بڑی عمر کے افراد میں زیادہ

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں کورونا کے سب سے زیادہ مریض ایسے ہیں جن کی عمریں 20 سے 29 برس کے درمیان ہے تاہم اگر اس مرض کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی بات کی جائے تو یہ شرح سب سے زیادہ ایسے افراد میں ہے جن کی عمریں 60 سے 69 برس کے درمیان ہے۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد 38799 ہے۔ ان متاثرین میں سے 21.46 فیصد متاثرین کی عمریں 20 سے 29 سال کے درمیان ہیں، 21.05 فیصد متاثرین کی عمریں 30 سے 39 برس کے درمیان ہیں، 15.98 فیصد متاثرین کی عمریں 40 سے 49 برس کے درمیان ہیں۔

    اسی طرح 14.85 فیصد متاثرین کی عمریں 50 سے 59 برس کے درمیان ہیں، 9.36 فیصد کی عمریں 60 سے 69 برس کے درمیان جبکہ 6.62 فیصد متاثرین کی عمریں 10 سے 19 برس کے درمیان ہیں۔

    کورونا کے باعث اب تک ملک میں 834 اموات ہو چکی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اگرچہ نوجوان لوگ اس وبا سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں مگر ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد بڑی عمر کے متاثرین کی ہے۔

    ہلاک ہونے والے 32.64 فیصد مریضوں کی عمریں 60 سے 69 برس کے درمیان ہیں، 25.33 فیصد کی عمریں 50 سے 59 برس کے درمیان ہیں، 16.71 فیصد کی عمریں 70 سے 79 برس کے درمیان ہیں، 13.06 فیصد کی عمریں 40 سے 49 برس کے درمیان جبکہ 7.31 فیصد افراد کی عمر 80 برس یا اس سے زیادہ تھی۔

  6. بریکنگ, انڈیا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد چین سے زیادہ، کُل ہلاکتیں 2752

    کورونا، انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 85 ہزار 940 ہوگئی ہے جس کے بعد اس نے متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے چین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جہاں سے اس وبا کا آغاز ہوا تھا۔

    تاہم مارچ کے اواخر سے نافذ کیے گئے سخت لاک ڈاؤن نے مرض پھیلنے کی شرح کو کم سطح پر رکھا ہوا ہے۔

    ریاستی رہنماؤں، کاروباری شخصیات اور ملازمت پیشہ شہریوں نے وزیرِ اعظم مودی سے اپیل کی ہے کہ وہ نقصان کی شکار معیشت کو واپس کھول دیں تاہم متوقع ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن میں توسیع کر دے گی جو اتوار کو ختم ہونا ہے۔

    وزارتِ صحت کے ڈیٹا کے مطابق اب تک انڈیا میں اموات کی شرح کم ہے اور دو ہزار 752 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ چین میں یہ تعداد 4600 ہے۔

    وزیرِ صحت ہرش وردھن کے مطابق یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اب متاثرین کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہونے میں 11 دن لگ رہے ہیں جبکہ پہلے یہ ہر ساڑھے تین دن میں دوگنا ہو رہے تھے۔

    انڈین حکام کا کہنا ہے کہ اموات کی کم شرح اس لیے ہو سکتی ہے کیونکہ وائرس سے متاثر زیادہ تر لوگ یا تو علامات کے حامل نہیں تھے، یا ان میں معتدل علامات تھیں۔ اس کے علاوہ وسیع تر لاک ڈاؤن کی وجہ سے بڑی آفت سے بچا جا سکا۔

    متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ممبئی سے سامنے آئی ہے جس کے بعد تامل ناڈو، گجرات اور دہلی کا نمبر ہے۔

  7. پاکستان میں شرح اموات 2.1 فیصد، صحت یابی کا تناسب 28 فیصد

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا کے باعث شرح اموات 2.1 فیصد ہے جبکہ اس بیماری سے صحت یاب ہونے والے افراد کی شرح 28 فیصد ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 1581 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 31 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ 6055 کورونا ٹیسٹ پنجاب میں ہوئے ہیں جبکہ سندھ میں 5566، خیبرپختونخوا میں 1633، خیبر پختونخوا میں 1637، اسلام آباد میں 958، گلگت بلتستان میں 87، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 161 جبکہ صوبہ بلوچستان میں 354 ٹیسٹ ہوئے ہیں۔

    مجموعی طور پر گذشتہ 24 گھنٹوں میں 725 افراد اس وبا سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

  8. ’نیدرلینڈز کے غیر شادی شدہ افراد لاک ڈاؤن میں جنسی رفیق تلاش کریں‘

  9. جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کا سرحدیں کھولنے پر اتفاق

    کورونا، یورپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پڑوسی یورپی ممالک جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ سرحدوں پر سفری پابندیوں میں نرمی کریں گے جس کے بعد لوگ اپنے پیاروں سے مل سکیں گے۔

    یہ چاروں ممالک شینگن خطے میں ہیں یعنی ان کے شہری بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں، تاہم مارچ میں ان کی سرحدیں کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بند کر دی گئی تھیں جن میں سڑک، ٹرین اور فضائی سفر بھی شامل ہے۔

    ہزاروں لوگوں کو سرحدوں سے واپس بھیج دیا گیا تھا۔ سوئٹزرلینڈ میں صرف سوئس شہریوں، مستقل رہائش رکھنے والوں اور ضروری طبی عملے کو داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔

    تین ماہ قبل یہ پابندیاں ناقابلِ تصور تھیں اور 26 شینگن ممالک کے شہری بغیر کسی پابندی کے برلن سے جنیوا یا پیرس سے زیورخ تک آ جا سکتے تھے۔

    ان پابندیوں سے سب سے زیادہ متاثر سرحدی علاقوں کے رہائشی ہوئے۔ بیسل ٹرائینگل وہ مقام ہے جہاں فرانس، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی سرحدیں ملتی ہیں۔ وہاں مقامی کاروبار آزاد ہیں اور ہزاروں لوگ روزانہ کام کے سلسلے میں، دوستوں سے ملنے کے لیے، یا خریداری کے لیے سرحد پار کرتے ہیں۔

    کچھ لوگ جن کی کام کی جگہیں کھلی تھیں وہ پھر بھی سفر کر سکتے تھے مگر سرحدی علاقوں کے زیادہ تر رہائشی جو اپنا دن دو سے تین ممالک میں گزارنے کے عادی تھے، انھوں نے خود کو ایک ملک میں محدود اور اپنے پیاروں سے کٹا ہوا پایا۔

    کورونا، یورپ
  10. اقتصادی رابطہ کمیٹی: بیروزگار مزدوروں میں امداد کی تقسیم کی منظوری

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN

    اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا کے باعث بیروزگار ہونے والے مزدوروں میں ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت امداد کی تقسیم کی منظوری دے دی ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق اس حوالے سے ہونے والے ایک اجلاس کی سربراہی وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدل الحفیظ شیخ نے کی ہے۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم فنڈ میں موصول ہونے والے عطیات کو اس کام کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    ہر بیروزگار مزدور کو 12 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ ضرورت مند مزدوروں کا تعین موجودہ احساس پروگرام کے طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا۔

    تمام صوبوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں آبادی کے تناسب سے یہ رقوم تقسیم کی جائیں گی۔

  11. پاکستان: گذشتہ تین روز میں 17 ہزار سے زائد کورونا ٹیسٹ

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں گذشتہ تین دنوں کے دوران مجموعی طور پر 41569 افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ ہوئے ہیں۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 13 مئی سے 15 مئی کے دوران سب سے زیادہ 17090 ٹیسٹ صوبہ پنجاب میں ہوئے ہیں۔ اسی دورانیے میں صوبہ سندھ میں مجموعی طور پر 14279، خیبرپختونخوا میں 4965، اسلام آباد میں 3110، بلوچستان میں 1224، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 535 جبکہ گلگت بلتستان میں 366 ٹیسٹ ہوئے۔

    گذشتہ تین روز میں مزید 4463 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ اس دوران کُل 97 اموات ہوئی ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سب سے زیادہ 14818 ٹیسٹ 15 مئی (جمعہ) کو ہوئے ہیں۔

  12. آسٹریلیا: مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی، وکٹوریا میں مزید 11 متاثرین

    کورونا، آسٹریلیا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آسٹریلیا میں ویسے تو دو ماہ طویل لاک ڈاؤن میں اب نرمی کی جا رہی ہے مگر ریاست وکٹوریا نے سنیچر کو 11 نئے متاثرین کی اطلاع دی ہے، جس میں کچھ کا تعلق ایک گوشت کے کارخانے اور ایک میک ڈونلڈز ریستوران سے منسلک متاثرین کے گروہ سے ہے۔

    ویسے تو ابھی تک سنیچر کے ملکی اعداد و شمار اکٹھے نہیں کیے گئے ہیں تاہم جمعے کو ملک بھر سے سامنے آنے والے 31 نئے متاثرین میں سے 20 کا تعلق اس جنوب مشرقی ریاست سے تھا۔

    ریاست نیو ساؤتھ ویلز کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے تاہم وہاں متاثرین کی تعداد میں اب کمی آ گئی ہے اور سنیچر کو صرف تین نئے متثرین سامنے آئے۔

    مارچ کے وسط سے یہ پہلی ہفتہ وار تعطیل تھی جب آسٹریلیا کے زیادہ تر حصوں بشمول نیو ساؤتھ ویلز میں ریستوران، کیفے اور شراب خانے کھلنے لگے مگر ریاست وکٹوریا میں لاک ڈاؤن کے اقدامات اب بھی برقرار ہیں۔

    آسٹریلیا میں اب تک کورونا وائرس سے سات ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 98 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  13. سوڈان میں ڈاکٹروں کو کن مسائل کا سامنا ہے؟

    سارہ علی، سوڈان، کورونا

    ،تصویر کا ذریعہSarah Ali

    سوڈان سے تعلق رکھنے والی جونیئر ڈاکٹر سارہ علی کا کہنا ہے کہ وہاں ڈاکٹر مریضوں کا معائنہ بھی نہیں کر پا رہے کیونکہ ان کے پاس دستانے نہیں ہیں۔

    بی بی سی کے او ایس ریڈیو پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سارہ کا کہنا تھا کہ انھیں ان اندازوں سے حیرت نہیں کہ افریقہ میں وبا کے پہلے سال میں 25 کروڑ لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ ان کے ملک کا نظامِ صحت ‘پہلے ہی تباہ حال ہے۔’

    ان میں خود بھی اب کووِڈ-19 کی علامات ہیں اس لیے وہ خود کو گھر پر قرنطینے میں رکھے ہوئے ہیں۔ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے بارے میں ان کے تاثرات ایک تاریک منظر کشی کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر سارہ نے کہا کہ آج خرطوم کا سب سے بڑا ہسپتال ڈاکٹروں سے اپیل کر رہا ہے کہ وہ آ کر ہاتھ بٹائیں کیونکہ وہاں فی الوقت صرف تین ڈاکٹر ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ لوگ دمے، دل کے دورے اور زخموں کی وجہ سے مر رہے ہیں کیونکہ ہسپتالوں میں ان کی نگہداشت کے لیے ڈاکٹر موجود نہیں۔

    ڈاکٹر سارہ نے مزید بتایا کہ ملک میں وینٹیلیٹرز کی کمی ہے اور کُل آبادی کے لیے صرف 200 وینٹیلیٹر موجود ہیں۔

  14. ’کورونا سے نمٹنے کے لیے اقوام عالم کو مشرکہ کوششوں کی ضرورت ہے‘

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے جاپانی ہم منصب سے ٹیلیفون پر رابطہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی صورت میں دنیا کے تمام ممالک کو ایک بڑا چیلنج درپیش ہے جس سے نمٹنے کے لیے اقوام عالم کو مشرکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق اس موقع پر شاہ محمود نے جاپانی وزیر خارجہ توشیمیٹشو موٹیگی کا پاکستان کی وبا سے نمٹنے میں امداد پر شکریہ بھی ادا کیا۔

    انھوں نے جاپانی وزیر خارجہ کا پاکستان میں ٹڈی دل کے حملے سے نمٹنے میں مدد کرنے پر بھی شکریہ ادا کیا۔

    وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ فیسکل سپیس پیدا کرنے کے لیے فوری، مربوط اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر ترقی پذیر ممالک کو سنگین معاشرتی، سیاسی اور معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  15. برازیل کے وزیرِ صحت کا حکومت سے اختلافات پر استعفیٰ

    کورونا، برازیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنوزیرِ صحت نیلسن ٹیخ (بائیں) صدر جائر بوسونارو (دائیں) کے ساتھ اپنی حلف برداری کی تقریب میں

    برازیل کے وزیرِ صحت نیلسن ٹیخ نے وزارت میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں استعفیٰ دے دیا ہے کیونکہ کورونا وائرس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صورتحال پر ان کے اور حکومت کے درمیان اختلافات تھے۔

    انھوں نے صدر جائر بوسونارو کی جانب سے جم اور بیوٹی پارلر کھولنے کے اقدام پر تنقید کی تھی۔

    تاہم انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کوئی وجہ بیان نہیں کی۔

    ان کے پیش رو کو صدر بوسونارو سے اختلاف کرنے پر برطرف کردیا گیا تھا۔

    برازیلی صدر لاک ڈاؤن اقدامات کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور انھوں نے اسے صرف ‘معمولی سا فلو’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا پھیلنا ناگزیر ہے۔

    واضح رہے کہ برازیل نے حال ہی میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے جرمنی اور فرانس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہاں اب تک کورونا کے دو لاکھ 20 ہزار سے زائد متاثرین ہیں جبکہ 824 مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد اموات کی کُل تعداد 14 ہزار 962 ہوگئی ہے۔

  16. پاکستان میں اندرون ملک پروازوں کا سلسلہ آج سے جزوی طور پر بحال

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہCAA

    پاکستان میں آج (سنیچر) سے اندورنِ ملک پروازوں کا سلسلہ جزوی طور پر بحال ہو رہا ہے۔

    ملک میں شعبہ ہوا بازی کے نگراں ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ابتدائی طور پر 16 مئی سے ملک کے پانچ بڑے ایئرپورٹس بشمول اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سے پروازوں کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہCAA

    وفاقی وزیر غلام سرور خان کے مطابق جن ایئرپورٹس سے پروازیں شروع کی جا رہی ہیں وہاں کڑے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا ہے۔

    چارٹرڈ پروازوں میں داخلے سے قبل ہر طیارے کو مکمل طور پر ڈس انفیکٹ کیا جائے گا، دو مسافروں کے درمیان ایک سیٹ خالی چھوڑی جائے گی اور تمام مسافروں کے لیے چہرے پر ماسک پہننا اور ہاتھوں کو سینیٹائز کرنا لازم ہو گا۔

  17. اٹلی کا آئندہ ماہ سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

    کورونا، اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی نے جون کی تین تاریخ سے بین الاقوامی سفر بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ مذکورہ دن سے ہی اٹلی میں اندرونِ ملک سفر کی بھی اجازت ہوگی۔

    تقریباً دو ماہ طویل لاک ڈاؤن کے بعد یہ اٹلی کی جانب سے اپنی معیشت دوبارہ کھولنے کی جانب بڑا قدم ہے۔

    اٹلی اُن ممالک میں ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، تاہم یہاں مرض پھیلنے کی شرح حالیہ چند دنوں میں تیزی سے گری ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک کورونا وائرس کی وجہ سے اٹلی میں 31 ہزار 610 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ یہاں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 23 ہزار 885 ہے۔

    اٹلی یورپ کا وہ پہلا ملک تھا جس نے فروری میں اپنے شمالی علاقوں میں کورونا وائرس کے متاثرین سامنے آنے کے بعد ملک گیر پابندیاں نافذ کیں۔ مگر چار مئی کو اس نے کارخانوں اور باغوں کو کھلنے کی اجازت دے کر لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز کیا۔

    وزیرِ اعظم جوزیپے کونٹے کے دستخط کردہ حکمنامے کے مطابق 18 مئی سے چند دکانیں اور ریستوران بھی سماجی دوری کی پابندی کرتے ہوئے کھل سکیں گے۔ اس کے علاوہ کیتھولک گرجا گھر بھی اسی دن اپنی اجتماعی عبادات شروع کریں گے لیکن سماجی دوری کی سخت پابندی کرنی ہوگی۔ دیگر مذاہب کی عبادت گاہیں بھی کھولی جا سکیں گی۔

    تین جون سے تمام سفری پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

  18. پاکستان میں مصدقہ متاثرین 38799، اموات 834, 10880 صحت یاب

    پاکستان

    پاکستان میں جمعہ کے روز مزید 1581 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد 38799 ہو گئی ہے۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جمعہ ہی کے روز کورونا کے مزید 31 مریض ہلاک ہوئے ہیں اور اب پاکستان بھر میں اموات کی مجموعی تعداد 834 ہو چکی ہے۔

    14916 مصدقہ متاثرین کے ساتھ صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ پنجاب میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 14201، خیبرپختونخوا میں 5678، بلوچستان میں 2457، اسلام آباد میں 921، گلگت بلتستان میں 518 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرین کی کُل تعداد 108 ہے۔

    اسی طرح سب سے زیادہ 291 اموات صوبہ خیبرپختونخوا میں ہوئی ہیں، سندھ میں 255، پنجاب میں 245، بلوچستان میں 31، اسلام آباد میں سات، گلگت بلتستان میں چار جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اب تک صرف ایک مریض وبا کے ہاتھوں ہلاک ہوا ہے۔

    پاکستان بھر میں اب تک 10880 مریض اس مرض سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

  19. ماضی میں وباؤں پر لکھی جانے والی کتابیں ہمیں کیا بتاتی ہیں؟

  20. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید، دنیا کی تازہ ترین صورتحال

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس کے 45 لاکھ 42 ہزار سے زائد مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ اب تک اس سے دنیا بھر میں کم از کم تین لاکھ 7666 افرد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    امریکہ متاثرین اور اموات کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، جہاں مریضوں کی تعداد 14 لاکھ 42 ہزار 800 سے زائد ہے جبکہ اب تک 87 ہزار 530 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یورپ میں اب بھی برطانیہ اموات اور متاثرین کے اعتبار سے آگے ہے۔ برطانیہ میں کُل 34 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ یہاں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 38 ہزار سے اوپر ہے۔

    دیگر ممالک کی صورتحال کچھ یوں ہے۔

    • سپین: متاثرین دو لاکھ 30 ہزار 183، ہلاکتیں 27 ہزار 459
    • اٹلی: متاثرین دو لاکھ 23 ہزار 885، ہلاکتیں 31 ہزار 610
    • فرانس: متاثرین ایک لاکھ 79 ہزار 630، ہلاکتیں 27 ہزار 532
    • برازیل: متاثرین دو لاکھ 20 ہزار 291، ہلاکتیں 14 ہزار 962
    • ترکی: متاثرین ایک لاکھ 46 ہزار 457، اموات چار ہزار 55