کورونا: برطانیہ کا ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان، بلوچستان میں 148 نئے متاثرین

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 46 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تین لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 41 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں پیر سے 26 صنعتیں کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ادھر برطانیہ نے ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ چین کے شہر بیجنگ میں عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ویتنام نے کورونا وائرس کو کیسے قابو میں کیسے رکھا؟

    Vietnam

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ کیسے ہوا کہ 97 ملین آبادی والے ملک میں صرف تین سو کیسز کورونا کے سامنے آیے اور ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی؟

    یہ ملک ویتنام ہے۔ ویتنام نے 23 جنوری کو انتہائی سخت اقدامات پہلے کیس کے سامنے آتے ہی نافذ کر دیے تھے۔

    انھوں نے سفری پابندیاں، انتہائی سخت نگرانی، اور چین کے ساتھ سرحد کی بندش کر دی تھی۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر گاے تھوائٹس کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جس نے ماضی میں کئی بار وبائی امراض کا مقابلہ کیا ہے۔

    ’یہاں حکومت اور عوام دونوں ہی وبائی امراض سے نمٹنے کے عادی ہیں۔ وہ ان بیماریوں کے بارے میں احتیاط کرتے ہیں، شاید امیر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ۔‘

  2. لاک ڈاؤن میں یوم علی کے جلوس، مقدمات اور گرفتاریاں, نامہ نگار ریاض سہیل

    کراچی پولیس نے یوم علی پر جلوس نکالنے سمیت لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں 38 مقدمات درج کر لیے ہیں اور 150 کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق جن افراد پر مقدمہ کیا گیا یا گرفتار ہیں، ان میں جلوسوں کے منتظمین اور شرکا دونوں ہی شامل ہیں۔

    شیعہ تنظیموں نے حکومت سندھ کو گرفتار افراد کی رہائی کے لیے 24 گھنٹوں کا الٹیمیٹم دیا ہے۔ علامہ ناظر عباس نقوی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جو پابندی لگائی اس سے ہمارے لوگوں میں بے چینی پھیلی۔ ’ساری حکومتیں یہ باور کر لیں کہ عزاداری ہمارا حق ہے، یہ ہم حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا، حکومت نہیں بتائے گی کہ ہمیں جلوس نکالنا ہے کہ نہیں؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ جب سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان بھی نہیں کیا تھا کہ انہوں نے اپنی جماعتیں موخر کردی تھیں۔

    انھوں نے وزیراعلیٰ اور آئی جی سندھ کو 24 گھنٹے کا الٹیمیٹم دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔ ’ہم نے جلوس بھی نکال لیا اور بندے بھی رہا کرا کر دکھائیں گے۔‘

    علامہ ناصر نے دعویٰ کیا کہ 250 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن کو مختلف تھانوں میں رکھا گیا ہے، اور وہ ایک ایک تھانے کا دورہ کریں گے، لڑکوں کے ماں باپ گھبرائیں نہیں ایف آئی آر واپس لی جائیں گی۔

    یاد رہے کہ حکومت سندھ نے لاک ڈاؤن کے دوران تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کردی تھی، تاہم شیعہ تنطیموں نے یوم علی پر نشتر پارک سے روایتی جلوس نکالا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوا۔

    اس سال جلوس میں گذشتہ سالوں کی نسبت شرکا کی تعداد کم رہی۔ پولیس اور رینجرز کی جانب سے بھی سیکیورٹی کا انتظام نہیں کیا گیا تھا صرف جلوس کی گزر گاہ کو کنیٹنر کی مدد سے سیل کردیا گیا تھا۔ عام حالات میں جلوس کے آگے اور پیچھے پولیس اور رینجرز کے دستے تعینات کیے جاتے ہیں۔

    سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سمیت جیکب آباد، شکاپور اور دیگر شہروں میں بھی جلوس نکالے گئے۔ مقامی پولیس نے منتظمین اور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔

  3. ’تمباکو سے بنی ویکسین کے انسانوں پر ٹیسٹ کے لیے تیار ہے‘

    tobacco

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا میں سگریٹ بنانے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک، برٹش امریکین ٹبیکو کا کہنا ہے کہ وہ تمباکو سے بنی کورونا وائرس کی ویکسین کے انسانوں پر ٹیسٹ کرنے کے لیے تیار ہے۔

    کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہے کہ وہ تمباکو کے پتوں کی پروٹین کا استعمال کر رہی تھی جس کے ابتدائی ٹرائل میں مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر امریکی محکمہِ خوراک اور ادیات نے اجازت دی تو وہ جون کے آخر تک انسانوں پر ٹرائلز شروع کر سکتے ہیں۔

    برٹش امریکین ٹبیکو کی مقابل کمپنی قلپ مورس انٹرنیشنل بھی کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کی کوششوں کا اعلان کر چکی ہے۔

  4. امریکہ کی مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی

    امریکہ کی مختلف ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد اپنے گھروں سے باہر موجود افراد کی تصاویر سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناورلینڈو میں بھی تفریح کے کچھ مقامات چند گھنٹوں کے لیے کھول دیے گئے ہیں
    کاروبار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنریاست اوہیو میں بھی چند کاروبار دوبارہ شروع ہو گئے ہیں
    نیویارک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشننیویارک کے کئی حصوں میں تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہو گیا ہے
  5. لاہور پولیس کا ایک اور ہیڈ کانسٹیبل کورونا سے ہلاک

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں پولیس کے ایک اور ہیڈ کانسٹیبل کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ترجمان لاہور پولیس کے مطابق کورونا ٹیسٹ کے لیے ہلاک ہونے والے ہیڈ کانسٹیبل کا سیمپل 11 مئی کو لیا گیا تھا جبکہ وہ جناح ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

    ہلاک ہونے والے ہیڈ کانسٹیبل فتح گڑھ مغلپورہ کے رہائشی تھے اور محکمہ پولیس میں اٹھارہ برس قبل بھرتی ہوئے تھے۔

  6. کورونا: فرانس میں مزید 104 اموات

    فرانس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانسیسی صحت کے حکام کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے مزید 104 اموات ہوئی ہیں جس کہ بعد فرانس میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 27529 ہو گئی ہے۔

    فرانس میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 141356 ہے۔

    واضح رہے کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں فرانس کا چوتھا نمبر ہے۔

  7. ’یورپی ممالک کو کورونا کی خطرناک دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی ادارہ صحت کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق یورپی ممالک کو موسم سرما میں کورونا وائرس کی خطرناک دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت میں یورپین خطے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ہینس کلوج نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ یہ ’جشن‘ کا نہیں بلکہ تیاری کا وقت‘ ہے۔

  8. سال کے آخر تک ویکسین کی دستیابی کے لیے 'آپریشن وارپ سپیڈ‘ کا اعلان

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کی تیاری کے سلسلے میں 'آپریشن وارپ سپیڈ‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مطلب بڑی تعداد میں اور جلد ویکسین کی تیاری کو یقینی بنانا ہے۔

    ان کے مطابق یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے مین ہیٹن منصوبے کے بعد امریکہ کا واسطہ پڑا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس نئے آپریشن کا مقصد ویکسین پرکام، اس کی تیاری اور کورونا وائرس کی مصدقہ ویکسین کے طور پر فروخت کو جلد سے جلد ممکن بنانا ہے۔

    ہماری پوری کوشش ہوگی کہ ہم اس سال کے اختتام سے پہلے اس کام کو منطقی انجام تک پہنچا دیں۔ ہمارے خیال میں ہمیں جلد بہت اہم نتائج حاصل ہونے والے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس وقت کورونا وائرس کا انسانی جسم میں مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ آپریشن کے ویکسین تیاری کے علاوہ بھی مقاصد ہیں۔ ان کے مطابق اس کے علاوہ اس کا مقصد تشخیص اور مکمل علاج کو یقینی بنانا ہے۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق عظیم قومی منصوبہ امریکی ریاست کی بہترین صنعت اور جدیدیت، ہر طرح کے حکومتی وسائل اور فوج کی بہترین صلاحتیوں کو یکجا کر کے یہ سب ممکن بنایا جائے۔

    صدر ٹرمپ کا بیان امریکی محکمہ صحت کے ایک سابق اعلی عہدیدار کے کانگرس کے سامنے اس پیشگوئی کے ایک دن بعد سامنے آیا جس میں انھوں کہا تھا کہ امریکہ کو کورونا وائرس کی وجہ سے اس بار جدید تاریخ کی تاریک سردی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  9. لاک ڈاؤن میں بوریت ختم کرنے کے طریقے نانیوں اور دادیوں کی زبانی

    دنیا کے کئی ممالک کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں ہیں۔ جہاں بہت سے لوگ گھر میں اس وقت سے لطف و اندوز ہو رہے ہیں وہیں کچھ لوگ بوریت بھی محسوس کر رہے ہیں۔

    لاک ڈاؤن میں بوریت دور کرنے اور اپنا وقت اچھا وقت گزارنے کے کچھ طریقے جانیے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود نانیوں اور دادیوں سے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  10. برطانیہ: آج کی بریفنگ میں کیا ہوا؟

    نکیتا کانانی

    ،تصویر کا ذریعہNikita Kanani

    برطانیہ میں حکومت کی طرف سے پریس بریفنگ کے لیے وزیرِ صحت میٹ ہینکوک آئے۔ ان کے ساتھ ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر فار انگیلنڈ ڈاکٹر جینی ہیریز اور این ایچ ایس انگلینڈ کی میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر نکی کانانی تھیں۔

    انھوں نے بتایا:

    • انگلینڈ میں کیئر ہومزکو اس ہفتے مزید چھ کروڑ پاؤنڈ کی مدد دی جا رہی ہے۔ یہ اس کے علاوہ ہے جو گذشتہ چند مہینوں میں کیئر ہومز کو دی گئی تھی۔
    • جون تک کیئر ہومز کے سبھی عملے اور رہائشیوں کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کر لیا جائے گا۔
    • ہر کیئر ہوم کو این ایچ ایس کی طرف سے ایک کلینیکل لیڈ مہیا کیا جائے گا۔ ان کو ایسی ٹیکنالوجی بھی دی جائے گی جس کی مدد سے رہائشی جی پیز اور صحت کے کارکنان سے آسانی سے بات کر سکیں گے۔
    • کیئر ہومز کو ان کے رہائشیوں کے خاندانوں کے ساتھ ہومز کی حالت کے متعلق شفاف ہونا چاہیے۔
    • کیئر ہومز میں نوجوان معذور افراد کو بھی ٹیسٹنگ تک رسائی ہونی چاہیے لیکن ابھی بھی ترجیح عمر رسیدہ افراد کو ہی دی جائے گی۔
    • آر نمبر اعشاریہ سات اور ایک کے درمیان میں ہے۔
  11. کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

    محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔

    سو سوال یہ ہے آپ اسے کیسے شناخت کر سکتے ہیں۔

    کورونا وائرس
  12. ’آر نمبر اہم ہے لیکن واحد طریقہ نہیں ہے‘

    جینی ہیریز

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ میں حکومت کی کورونا وائرس کے متعلق لائیو بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہ کیا نام نہاد آر نمبر بیماری کی شرح معلوم کرنے کا بہترین طریقہ ہے، ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر فار انگلینڈ ڈاکٹر جینی ہیریز نے کہا کہ آر نمبر (ریٹ آف انفیکشن) یہ معلوم کرنے کا ایک معیاری طریقہ ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور اس کا موازنہ کس طرح کرنا ہے۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ یہ ’اہم ہے لیکن یہ واحد طریقہ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ مریضوں کی تعداد میں کمی جاننے کے لیے دیکھا جاتا ہے۔ ’ہماری اس پر توجہ ہے، آر پر نہیں۔‘

    یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سیج گروپ کے مشیروں نے کہا ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق آر نمبر اب اعشاریہ سات اور ایک کے درمیان میں ہے، جس کا مطلب ہے کہ انفیکٹ ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

  13. خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں نامناسب سہولتوں پر ڈاکٹروں کے استعفے اور احتجاج, محمد زبیر خان، صحافی

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹر مناسب سہولتوں کی عدم دستیابی پر احتجاج کے علاوہ استعفے بھی دے رہے ہیں۔

    صوبے کے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ پشاور میں آئی سی یو میں فرائض ادا کرنے والے دو ڈاکٹروں نے احتجاجاً استعفی دے دیا ہے۔

    استعفی دینے والوں میں ایک ڈاکٹر عائشہ مفتی لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں واحد کوالیفائی آئی سی یو ماہر تھیں۔ انھوں نے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ آئی سی یو میں کورونا مریضوں اور نہ ہی طبی عملے کے لیے کوئی سہولتیں ہیں۔

    لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے ترجمان محمد عاصم نے استعفے میں عائد کردہ تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایل آر ایچ کے دو ڈاکٹرز نے استعفٰی دیا ہے جس کی وجوہات کے بارے میں مذکورہ ڈاکٹرز نے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے اور غلط بیانی سے کام لیا ہے۔

    دوسری جانب ایوب ٹیچنگ انسٹیٹوٹ ایبٹ آباد میں بھی ایمرجنسی ڈاکٹر فرخ ترین نے دوران فرائض احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جب وہ ڈیوٹی پر آئے تو آرٹیکل روم والوں سے حفاظتی کٹ کی درخواست کی تو معلوم ہوا کہ کوئی حفاظتی کٹ موجود ہی نہیں بلکہ ختم ہو گئی ہیں۔

    ادھر ایوب میڈیکل انسٹیٹوٹ انتظامیہ کے مطابق حفاظتی سامان دستیاب ہے اور ڈاکٹر فرخ ترین کو مہیا کر دیا گیا ہے تاہم اس بات کی تحقیق ہو رہی ہے کہ ان کو حفاظتی سامان کیوں نہیں دیا گیا تھا۔

  14. کورونا وائرس: برطانیہ میں انفیکشن ریٹ میں اضافہ, جیمز گیلیگھر، صحت اور سائنس کے نامہ نگار

    انفیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی حکومت کے مشیر برائے سائنس نے کہا ہے کہ برطانیہ میں انفیکشن کی شرح بڑھ کے اس نقطے کے قریب پہنچ گئی ہے جہاں کورونا وائرس کے مریضوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو سکتا ہے۔

    نام نہاد آر نمبر بتاتا ہے کہ ایک آدمی اوسطاً کتنے دوسرے افراد کو انفیکٹ کر سکتا ہے۔ اس کو ایک سے نیچے ہونا چاہیے۔

    صحت کے اہلکاروں کا خیال تھا کہ آر اعشاریہ پانچ اور اعشاریہ نو کے درمیان تھا لیکن سائنٹیفک مشیروں کے گروہ سیج کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یہ اب اعشاریہ سات اور ایک کے درمیان ہے۔

    یہ شرح اور مریضوں کی تعداد سے حکومت کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے کہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو کب اور کتنا نرم کرنا چاہیے۔

  15. بلوچستان میں کورونا کے 147 نئے کیس، مزید ایک مریض ہلاک

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کورونا کے 147 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 2457 ہو گئی ہے جبکہ مزید ایک مریض ہلاک ہوا ہے۔

    محکمہ صحت بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق 15مئی کو کورونا کے 457 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 147 مثبت آئے۔

    صوبے میں کورونا وائرس کے 348 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں کورونا وائرس سے ایک اور شخص کی ہلاکت کے بعد اموات کی تعداد 31 ہوگئی ہے۔

    چارٹ
  16. برطانیہ: لاک ڈاؤن کے دوران بچوں کے جلنے کے واقعات میں اضافہ, گیون بیویز، بی بی سی نیوز

    برطانیہ کے رائل ڈاربی ہسپتال نے کہا ہے کہ جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے تب سے بچوں کے جلنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    اپریل میں اے اینڈ ای میں کل 66 بچے لائے گئے جنھیں جلنے سے زخم آئے تھے۔ یہ اس سے پچھلے مہینے سے 150 فیصد اضافہ تھا۔

    ہسپتال کے کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشئن ڈاکٹر ایئن لیونز نے بتایا کہ اضافہ اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ بچے اب زیادہ وقت گھروں میں گزار رہے ہیں۔

    ’اگر کوئی بچہ جل جائے تو کچھ بڑے سادہ طریقے ہیں جن پر عمل کرنا چاہیے، جیسا کہ جلے ہوئے حصوں کو سنک یا باتھ میں کھڑے پانی کی نسبت ٹھنڈے بہتے ہوئے پانی کے نیچے تقریباً 20 منٹ تک رکھیں۔‘

    بچے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  17. برطانوی وزیر صحت: ملک میں اموات میں کمی واقع ہوئی ہے

    برطانیہ

    برطانیہ کے وزیر صحت میٹ ہانکاک اپنی بریفنگ کا آغاز اس بات سے کیا کہ ملک میں اب اموات میں کمی واقع ہو رہی ہے اور اب ہم پیک کے عرصے سے باہر نکل آئے ہیں۔

    انھوں نے برطانوی حکومت کے نئے کووڈ-19 الرٹ سسٹم پر بات کی، جو برطانیہ میں خطرے کی پیمائش کرتا ہے اور اتوار کو وزیر اعظم نے اس پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

  18. برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 384 اموات

    ماسک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی حکومت کے تازہ ترین اعداوشمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے مزید 384 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    جس کے بعد ملک میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 33998 ہو گئی ہے۔

    تازہ ترین اعداوشمار کے مطابق جمعرات کو کورونا وائرس کے 133784 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

  19. انڈیا: شراب کی دکانوں پر لگی لمبی قطاروں کا تاریک پہلو

  20. قزاقستان کی بڑی آئل فیلڈ میں کورونا کے 400 متاثرین

    قزاقستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    قزاقستان کے صحت کے اہلکاروں نے جمعے کو بتایا ہے کہ ملک کی سب سے زیادہ پیداوار کی آئل فیلڈ میں 400 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    آتررو علاقے میں، جہاں تنجیز آئل فیلڈ واقع ہے، حکام نے بتایا کہ وہاں کل 401 افراد انفیکٹڈ ہو چکے ہیں۔ جمعرات کو ان کی تعداد 17 بتائی گئی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ورکرز کا علاج ہو رہا ہے اور یہ پتہ لگایا جا رہا ہے کہ انھوں نے کن سے رابطے کیے تھے۔ جمعرات کو وزیرِ صحت یلزان برتاناو نے آئل فیلڈ میں قرنطینہ کے اقدامات پہ ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

    انھوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’ورکرز کی رہنے کی جگہ اور کنٹینز کا مشترکہ راستہ ہے اور کوئی آئسولیشن نہیں ہے۔‘

    مقامی میڈیا کے مطابق گذشتہ ماہ 500 ورکرز نے وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر کام پر جانے سے انکار کر دیا تھا۔

    ابھی تک فیلڈ سے تقریباً 17 ہزار ورکرز کو نکالا گیا ہے۔