کراچی
پولیس نے یوم علی پر جلوس نکالنے سمیت لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کے الزام
میں 38 مقدمات درج کر لیے ہیں اور 150 کے
قریب افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن کی جانب سے
جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق جن افراد پر مقدمہ کیا گیا یا گرفتار ہیں، ان میں
جلوسوں کے منتظمین اور شرکا دونوں ہی شامل ہیں۔
شیعہ تنظیموں نے حکومت سندھ کو
گرفتار افراد کی رہائی کے لیے 24 گھنٹوں کا الٹیمیٹم دیا ہے۔ علامہ ناظر عباس نقوی
نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جو پابندی لگائی اس سے
ہمارے لوگوں میں بے چینی پھیلی۔ ’ساری حکومتیں یہ باور کر لیں کہ عزاداری ہمارا حق
ہے، یہ ہم حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا، حکومت نہیں بتائے گی کہ ہمیں
جلوس نکالنا ہے کہ نہیں؟‘
ان
کا کہنا تھا کہ جب سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان بھی نہیں کیا تھا کہ انہوں نے
اپنی جماعتیں موخر کردی تھیں۔
انھوں نے وزیراعلیٰ اور آئی جی
سندھ کو 24 گھنٹے کا الٹیمیٹم دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔ ’ہم نے جلوس بھی نکال لیا اور بندے بھی رہا کرا کر دکھائیں گے۔‘
علامہ
ناصر نے دعویٰ کیا کہ 250 افراد
کو حراست میں لیا گیا، جن کو مختلف
تھانوں میں رکھا گیا ہے، اور وہ ایک ایک تھانے کا دورہ کریں گے، لڑکوں کے ماں
باپ گھبرائیں نہیں ایف آئی آر واپس لی جائیں گی۔
یاد
رہے کہ حکومت سندھ نے لاک ڈاؤن کے دوران تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی اجتماعات پر
پابندی عائد کردی تھی، تاہم شیعہ تنطیموں نے یوم علی پر نشتر پارک سے روایتی جلوس
نکالا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پر اختتام پذیر
ہوا۔
اس سال جلوس میں گذشتہ سالوں کی نسبت شرکا کی تعداد کم رہی۔ پولیس اور رینجرز کی جانب سے بھی سیکیورٹی کا انتظام نہیں کیا گیا تھا صرف جلوس کی
گزر گاہ کو کنیٹنر کی مدد سے سیل کردیا گیا تھا۔ عام حالات میں جلوس کے آگے اور
پیچھے پولیس اور رینجرز کے دستے تعینات کیے جاتے ہیں۔
سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سمیت جیکب آباد، شکاپور اور
دیگر شہروں میں بھی جلوس نکالے گئے۔ مقامی پولیس نے منتظمین اور نامعلوم افراد کے خلاف
مقدمات درج کیے ہیں۔