کورونا: برطانیہ کا ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان، بلوچستان میں 148 نئے متاثرین

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 46 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تین لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 41 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں پیر سے 26 صنعتیں کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ادھر برطانیہ نے ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ چین کے شہر بیجنگ میں عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, شیخ رشید احمد: بدھ تک ٹرینیں نہ چلیں تو عوام کے پیسے واپس کر دیں گے

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ عید پر ریلوے ٹکٹوں کی مد میں 23.2 کروڑ کی ایڈوانس بکنگ ہو چکی ہے اور اگر پرسوں تک ٹرینیں چلانے کی اجازت نہ ملی تو پیسے واپس کرنے شروع کر دیے جائیں گے۔

    راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں یقین دہانی تھی کہ آج ٹرینیں چلانے کی اجازت مل جائے گی پر اگر بدھ کے دن تک اجازت نہ ملی تو وہ حکام سے کہیں گے کہ پندرہ دنوں کے اندر عوام کے پیسے واپس کر دیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے وفاقی ادارہ ہے، کسی صوبے کا نہیں، اور یہ وزیرِ اعظم عمران خان اور خود ان کے ماتحت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ خود ٹرین چلانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں مگر وہ عمران خان کے فیصلے کے منتظر ہیں۔

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اگر کراچی کا ٹریک کھلے گا تو ریلوے چلے گی، ریلوے پاکستان کی ہے، کسی ایک صوبے کی نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر سندھ نے ریلوے چلانے کی اجازت نہ دی تو خود سندھ حکومت کے خلاف ردِ عمل آئے گا۔

    وزیرِ ریلوے نے کہا کہ ہر ماہ سوا پانچ ارب روپے کا خسارہ ہے، مگر وہ ریلوے کو اس لیے بھی خسارے میں چلانا چاہ رہے ہیں کہ بہت دنوں سے لوگ اپنے رشتے داروں کے گھروں پر رہ رہے ہیں، ان کے اندر اتنی سکت نہیں کہ وہ اپنے گھروں میں لوگوں کو رکھیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ کل بھی یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ٹرینیں چلیں گی یا نہیں لیکن وہ عمران خان سے رابطے کے منتظر ہیں۔‘

    شیخ رشید نے کہا کہ ان کے مراد علی شاہ سے تعلقات برے نہیں ہیں لیکن وہ ان سے اس لیے بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ وفاقی مسئلہ ہے صوبائی مسئلہ نہیں ہے۔

    شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے سے کسی ملازم کو نہیں نکالا جا رہا۔ 'اس عید سے پہلے ملازمین کو تنخواہ دیں گے، ریٹائر ملازمین کو تنخواہیں دیں گے، اگلے ماہ بھی تنخواہیں ٹائم پر دیں گے اور اس کے بعد 'معافی مانگ لیں گے۔'

  2. بریکنگ, کورونا وائرس: سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 787 نئے مریض

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 787 نئے مریضوں کی شناخت ہوئی ہے جبکہ مزید نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5034 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 787 نئے مریض سامنے آئے۔ اس طرح اب تک کل 122894 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں 16377 مریض ظاہر ہوئے۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق مزید نو ہلاکتوں کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 277 ہوگئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے میں11891 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 114 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور 31 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق 10485 مریض گھروں میں، 838 آئسولیشن سینٹرز اور 568 ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

  3. بلوچستان: مختلف ضلعوں میں کتنے افراد میں مرض مقامی طور پر منتقل ہوا؟

    کورونا، بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے دو مزید اضلاع سے کورونا متاثرین سامنے آنے کے بعد صوبے کے 33 اضلاع میں سے متاثرہ اضلاع کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق جن دو نئے اضلاع سے کورونا متاثرین سامنے آئے ہیں ان میں موسیٰ خیل اور ڈیرہ بگٹی شامل ہیں جن سے بالترتیب دو اور تین مریض سامنے آئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان دونوں اضلاع سے سامنے آنے والے متاثرین میں مرض مقامی طور پر منتقل ہوا۔ بلوچستان میں جہاں دو نئے اضلاع سے متاثرین سامنے آئے وہاں پہلے سے متاثرہ بعض اضلاع میں مقامی منتقلی کے کیسز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    ان 20 اضلاع میں سے مقامی منتقلی کا نشانہ بننے والے متاثرین کی سب سے بڑی تعداد 2076 کوئٹہ میں ہے، اور اس کے بعد دوسرے نمبر پر بڑی تعداد پشین سے رپورٹ ہوئی، جہاں ایسے افراد کی تعداد 92 ہے۔

    تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ 58 مقامی متاثرین پشین سے متصل قلعہ عبد اللہ سے سامنے آئے۔

    باقی متاثرہ اضلاع میں سے چاغی سے 18، لورالائی سے سات، مستونگ سے 26، سبی اور لسبیلہ سے 13، جعفرآباد سے27، خضدار اور ہرنائی سے دو، خاران سے تین، زیارت سے آٹھ، نوشکی اور پنجگور سے چار، قلعہ سیف اللہ سے 28، اور ژوب اور کوہلو سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

  4. جنوبی کوریا میں کورونا کے پانچ نئے متاثرین، سکولوں کی بندش میں توسیع

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جنوبی کوریا سے اتوار کو کورونا وائرس کے پانچ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں اور ان تمام کا تعلق دارالحکومت سیئول میں لوگوں کے اس گروہ سے ہے جن میں شراب خانوں اور نائٹ کلبز سے کورونا پھیلا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کئی ہفتے تک ملک میں کورونا کا کوئی ماقمی مریض سامنے نہ آنے کے بعد جنوبی کوریا نے 6 مئی کو لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی تھی مگر سیئول میں نائٹ کلبز کے علاقے سے وبا کی چھوٹی سی لہر کے دوبارہ سر اٹھانے پر حکام سوچ میں پڑ گئے۔

    حکومت وسیع تر پابندیوں کے اپنے فیصلے پر قائم رہی اور دفاتر، عوامی سہولیات اور کھیلوں کے مراکز کھول دیے گئے، مگر دارالحکومت کے چند نائٹ کلبز اور شراب خانوں کو دوبارہ بند کر دیا گیا اور حکام نے سکولوں کی بندش میں بھی ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔

    جنوبی کوریا میں اب تک 11 ہزار 50 متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ یہاں کورونا کے سبب اموات کی تعداد 262 ہے۔

  5. کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کووڈ 19 کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کیا آپ کو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ بھی کورونا وائرس نشانہ بنا سکتا ہے؟ کچھ مریض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیمار کیوں ہیں؟ کیا یہ مرض ہر سردی میں واپس آئے گا؟ کیا ویکسین کارگر ثابت ہو گی؟ کیا امیونٹی پاسپورٹ کی مدد سے ہم میں سے کچھ لوگ کام پر واپس جا سکتے ہیں؟ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کن طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہے؟

    دنیا میں کووڈ 19 کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد جہاں روز بروز بڑھ رہی ہے وہیں یہ سوالات بھی تواتر سے پوچھے جانے لگے ہیں۔

    ان تمام سوالات میں جو ایک چیز مشترک ہے وہ ہے امیون سسٹم یا مدافعتی نظام اور ہم اس بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔

  6. عوام کی بے چینی سے آگاہ ہیں، برطانوی وزیرِ اعظم جانسن

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہ10 Downing Street

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ انگلینڈ کی جانب سے کورونا وائرس میں کی گئی ‘پیچیدہ نرمیوں’ پر عوام کی بے چینی سے آگاہ ہیں۔

    دی میل آن سنڈے کے لیے اپنے کالم میں وزیرِ اعظم نے لکھا کہ وبا کے خلاف لڑائی کے اگلے مرحلے میں مزید گہرائی کے حامل پیغامات کی ضرورت ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ انھیں برطانوی عوام کے شعور پر یقین ہے کہ وہ نئے قواعد کی پاسداری کریں گے اور انھوں نے ساتھ دینے کے لیے عوام کا شکریہ ادا کیا۔

    حال ہی میں وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے ایک نئی ویکسین ریسرچ لیبارٹری کے قیام کے لیے نو کروڑ 30 لاکھ پاؤنڈ کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ یہ مجوزہ تاریخ سے ایک سال قبل کھل سکے۔

    تاہم بورس جانسن نے خبردار کیا کہ ہو سکتا ہے کہ ویکسین کی تلاش بارآور ثابت نہ ہوسکے بھلے ہی برطانیہ ان عالمی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔

  7. جاپان میں ڈاکٹروں کو خصوصی معاوضوں اور حفاظتی سامان کی کمی کا سامنا: سروے

    کورونا، جاپان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جاپان میں ایک لیبر یونین کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کووِڈ-19 کے خلاف صفِ اول پر برسرپیکار ڈاکٹروں کو کام کرنے کے دشوار حالات کا سامنا ہے، کئی ڈاکٹروں کو استعمال شدہ ماسک بار بار پہننے پڑ رہے ہیں جبکہ کچھ ہی ڈاکٹروں کو خصوصی مشاہرہ دیا جا رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس سروے میں اپریل کے اواخر سے چھ مئی تک 170 ڈاکٹروں کی رائے لی جس میں یہ پایا گیا کہ تین چوتھائی ڈاکٹروں کو فرنٹ لائن پر کام کرنے کے لیے کہا گیا تھا جبکہ 80 فیصد ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انھیں اس کام میں موجود خطرے کے حوالے سے کوئی خصوصی مشاہرہ ادا نہیں کیا گیا۔

    کچھ جاپانی ڈاکٹروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی اور مقامی حکومتوں کو ہسپتالوں اور طبی عملے کو مالی امداد اور حفاظتی سامان پہنچانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    زینکوکو ایشی یونین کی جانب سے کیے گئے سروے میں 70 فیصد ڈاکٹروں نے رائے دی کہ حکومت صورتحال پر مؤثر انداز میں قابو پانے میں ناکام ہو رہی ہے۔

    جاپان کی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار نے کہا کہ سروے پر تبصرہ کرنے کے لیے اتوار کو کوئی موجود نہیں ہے۔

  8. بلوچستان: زیادہ تر متاثرین اور ہلاکتوں کا تعلق کوئٹہ سے

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جہاں کورونا وائرس سے مقامی طور پر متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے وہیں ہلاک ہونے والے افراد کی اکثریت کا تعلق بھی کوئٹہ سے ہے۔

    محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کورونا کے مجموعی 2544 متاثرین میں سے مقامی منتقلی کے متاثرین کی تعداد 2388 ہے۔

    مقامی منتقلی کے متاثرین میں 2076 کوئٹہ سے رپورٹ ہوئے جو کہ مقامی منتقلی کے مجموعی متاثرین کا 86.9 فیصد ہیں۔

    یہ متاثرین شہر اور اس کے مختلف نواحی علاقوں سے رپورٹ ہوئے ہیں لیکن ان میں سے سب سے زیادہ شہر کے مغرب میں واقع خروٹ آباد سے سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 351 ہے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا سے ہلاک ہونے والے 36 افراد میں سے 29 کا تعلق بھی کوئٹہ سے ہے۔

    ہلاک ہونے والے باقی 7 افراد میں سے 4 پشین، دو لسبیلہ اور ایک سبی میں ہلاک ہوئے۔

  9. برازیل: ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں بستر ختم ہوگئے

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برازیل میں اموات کی لحاظ سے سب سے زیادہ تعداد والی ریاست ریو ڈی جنیرو میں کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں بستر ختم ہوگئے ہیں۔

    ریاست کے سیکریٹری صحت کے مطابق جمعرات تک 369 افراد آئی سی یو میں منتقل ہونے کے لیے انتظار میں تھے۔

    خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ساؤ ہوزے کے اس ہسپتال کا افتتاح 4 مئی کو ہوا تھا ، اور اس کے 128 بستروں میں سے زیادہ تر بھر چکے ہیں۔

    برازیل میں اس بیماری سے اب تک 15000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد شاید کافی زیادہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہر 24 گھنٹوں کے دوران اموات کی تعداد میں مزید 800 کا اضافہ ہوا ہے۔

  10. کورونا وائرس کی وبا آخر کب ختم ہوگی؟

    کورونا وائرس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں اربوں لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں۔ معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔ مگر کیا یہ وبا کبھی ختم ہوگی اور اگر ہاں تو اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے، دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  11. آسٹریلیا کی چین سے تجارتی تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کی درخواست

    کورونا، آسٹریلیا، چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی درخواست پر جواب دے۔

    دونوں تجارتی شراکت داروں کے درمیان تناؤ کی وجہ آسٹریلیا کی جانب سے کورونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ ہے۔

    چین نے آسٹریلیا پر ‘چالیں چلنے’ کا الزام عائد کرتے ہوئے آسٹریلیا کی گوشت پیدا کرنے والی چار بڑی کمپنیوں سے گوشت کی درآمد معطل کر دی ہے جبکہ وہ آسٹریلیا سے درآمد کی جانے والی جو پر بھاری ڈیوٹی عائد کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آسٹریلیا کے وزیرِ تجارت سائمن برمنگھم نے کہا ہے کہ اگر چین نے آسٹریلیوی جو پر ڈیوٹی لگائی تو وہ چین کے خلاف عالمی ادارہ تجارت (ڈبلیو ٹی او) میں مقدمہ لے جانے کا حق رکھتا ہے۔

    بیجنگ اور کینبرا کے درمیان تعلقات آسٹریلیا کی جانب سے چین پر اس کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کے الزامات کی وجہ سے خراب ہیں، جبکہ آسٹریلیا کو پیسفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی تشویش ہے۔

    آسٹریلیا نے یہ اصرار کیا ہے کہ اس کی جانب سے کورونا وائرس پر تحقیقات کا مطالبہ چین پر سیاسی نکتہ چینی نہیں ہے۔

  12. چین، جنوبی کوریا کی جاپان سے کاروباری سفر میں آسانی کے لیے مشاورت، جاپانی اخبار

    کورونا وائرس، جاپان،

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک جاپانی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ چین اور جنوبی کوریا نے جاپان سے کاروباری مسافروں کے لیے سرحد پر آسانی پیدا کرنے کے لیے مشاورت کی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کی بحالی میں مدد مل سکے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یومیوری اخبار نے ذرائع کا حوالہ دیے بغیر یہ دعویٰ کیا ہے۔

    یہ انتظام جنوبی کوریا اور چین کے درمیان پہلے سے موجود ہے اور اگر یہ نافذ ہوجاتا ہے تو اس سے کاروباری لوگوں کو ملک سے روانگی اور دوسرے ملک آمد پر کورونا کا ٹیسٹ منفی آنے پر دوسرے ملک میں فوری داخلے کی سہولت دی جا سکے گی۔

    مگر اخبار کے مطابق ٹوکیو فی الوقت سرحدی کنٹرول میں نرمی لانے کے بارے میں محتاط ہے کیونکہ اسے مرض کی نئی لہر کا خدشہ لاحق ہے جبکہ اس کے پاس مبینہ طور پر مسافروں کے لیے ٹیسٹنگ کٹس بھی کم ہیں۔

    جاپان کی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے تبصرے کے لیے کی گئی ای میل پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

    وزیرِ اعظم شنزو ایب نے جمعرات کو جاپان کے 47 میں سے 39 انتظامی یونٹس میں سے ہنگامی صورتحال اٹھا لی تھی جو کہ آبادی کا 65 فیصد ہے۔ ٹوکیو اور دیگر بڑے شہر بدستور پابندیوں میں ہیں۔

    جاپان میں اب تک کورونا وائرس کے 16 ہزار 300 متاثرین سامنے آئے ہیں جن میں بحری جہاز کے وہ متاثرین شامل نہیں جنھیں یوکوہاما کی بندرگاہ پر قرنطینے میں رکھا گیا تھا۔

    سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق اب تک کورونا وائرس سے جاپان میں 748 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

  13. کورونا وائرس: پاکستان میں 11 ہزار سے زائد مریض صحتیاب

    http://covid.gov.pk

    ،تصویر کا ذریعہhttp://covid.gov.pk

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ 461 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔

    کورونا وائرس سے متعلق حکومتی اعدداوشمار کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں اب تک صحتیاب ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 11341 ہو چکی ہے۔

  14. چین میں پانچ افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے بتایا ہے کہ ان کے ملک میں گذشتہ روز کورونا وائرس کے پانچ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جو کہ اس سے پچھلے دن کے مقابلے میں تین کم ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پانچ مصدقہ متاثرین میں سے دو وہ ہیں جو بیرونِ ملک سے آئے ہیں جبکہ تین متاثرین میں مرض مقامی طور پر منتقل ہوا۔

    کمیشن کے مطابق بغیر علامات والے متاثرین کی تعداد 13 سے کم ہو کر 12 ہوگئی ہے۔

    چین میں متاثرین کی کُل تعداد 82 ہزار 947 ہے جبکہ اموات کی تعداد 4634 ہے۔

  15. آسٹریلیا: ریاست وکٹوریا میں لاک ڈاؤن میں یکم جون سے نرمی

    آسٹریلیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کریں گے۔

    یکم جون سے کیفے، ریستوران، اور کلبز اور شراب خانوں میں کھانے کی جگہیں کھول دی جائیں گی جن میں صرف 20 لوگوں کو بیک وقت بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔

    تین ہفتے بعد 22 جون کو یہ تعداد بڑھا کر 50 افراد تک کر دی جائے گی جبکہ جولائی کے وسط میں 100 افراد بیک وقت ان جگہوں پر بیٹھ سکیں گے۔

    ریاست کے وزیرِ اعظم ڈین اینڈریوز کا کہنا ہے کہ ایسا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ شہری سماجی دوری کے قوانین پر عمل کریں۔

    جم اور دیگر عوامی اجتماعات پر پابندی برقرار رہے گی۔ اینڈریوز نے بتایا کہ جولائی کے وسط میں جب میزبانی کی صنعت دوبارہ شروع ہوگی، تو حکومت کا پیغام ‘گھر پر رہیں’ سے بدل کر ‘محفوظ رہیں’ ہوجائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘اگر آپ گھر سے کام کر سکتے ہیں تو کریں’ کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔

  16. تھائی لینڈ: تین نئے متاثرین سامنے آ گئے، نئی ہلاکتوں کی تعداد صفر

    تھائی لینڈ میں اتوار کو کورونا وائرس کے تین نئے متاثرین سامنے آگئے ہیں جبکہ حکام نے کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں دی ہے۔

    تمام نئے متاثرین تھائی طلبا ہیں جو حال ہی میں دوسرے ملکوں سے واپس آئے ہیں۔

    تھائی لینڈ میں اب تک تین ہزار 28 متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ 56 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

  17. انڈیا: پیدل گھر پہنچنے کی کوشش میں اب تک 119 مزدور زندگی کی بازی ہار گئے

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں 24 مارچ کو لگائے گئے ملک گیر لاک ڈاؤن نے اچانک بیٹھے بٹھائے لاکھوں مزدوروں اور گھریلو ملازموں کا ذریعہ آمدن ختم کر دیا۔

    ان مزدوروں کے پاس اپنے گاؤں اور گھروں کو لوٹنے کے علاوہ کوئی رستہ نہیں بچا تھا لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر تھے کیونکہ آمد و رفت بند کر دی گئی تھی۔

    انڈین ایکسپریس اخبار کے مطابق ان میں سے کچھ کو سرکاری پناہ گاہوں میں جگہ مل گئی جبکہ دیگر ہزاروں مزدوروں کو گھر پہنچنے کے لیے سینکڑوں میل تک گرمی میں پیدل چلنا پڑا۔

    سنیچر کے روز شمالی انڈیا میں کم از کم 23 مزدوروں کی اس وقت موت ہوگئی جب وہ ایک ٹرک میں سوار تھے اور یہ دوسرے ٹرک میں جا کر لگا۔

    گذشتہ ہفتے مغربی ریاست مہاراشٹرا میں واپسی پر ایک ٹرین تھکے ہوئے مزدوروں کے ایک گروہ پر چڑھ گئی جو پٹریوں پر سو رہے تھے۔

    اس کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

  18. کیا لوگ لاک ڈاؤن کی بیزاری شراب میں ڈبو رہے ہیں؟

  19. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1352 نئے متاثرین

    کورونا، پاکستان

    پاکستان میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر سے 1352 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ متاثرین صوبہ سندھ میں ہیں جہاں 15 ہزار 590 افراد اس وائرس سے متاثر ہیں، جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اموات کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ ہے جہاں کورونا نے 305 افراد کی جان لی ہے۔

    ملک بھر میں متاثرین کی کُل تعداد 40 ہزار 151 ہے جبکہ اب تک 873 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

    صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 11 ہزار 341 ہے۔

    متاثرین کی گذشتہ روز کی تعداد 15 مئی کے مقابلے میں قدرے کم ہے جب 1581 افراد میں اس مرض کی تصدیق ہوئی تھی۔

  20. کیا امیر ممالک کووڈ 19 کی ویکسین کی ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں؟

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پیر کو کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق ہونے والی فنڈنگ کانفرنس سے امریکہ اور روس غیر حاضر تھے جبکہ چین نے ویکسین کی تیاری اور علاج پر تحقیق کے لیے براہ راست مالی مدد کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز: امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکسین تیاری کی کوشش ایک پریشان کن صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

    یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے۔ یورپی ممالک کے اس خیال کی تائید کرنے والے ممالک کو تشویش ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔