بریکنگ, شیخ رشید احمد: بدھ تک ٹرینیں نہ چلیں تو عوام کے پیسے واپس کر دیں گے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ عید پر ریلوے ٹکٹوں کی مد میں 23.2 کروڑ کی ایڈوانس بکنگ ہو چکی ہے اور اگر پرسوں تک ٹرینیں چلانے کی اجازت نہ ملی تو پیسے واپس کرنے شروع کر دیے جائیں گے۔
راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں یقین دہانی تھی کہ آج ٹرینیں چلانے کی اجازت مل جائے گی پر اگر بدھ کے دن تک اجازت نہ ملی تو وہ حکام سے کہیں گے کہ پندرہ دنوں کے اندر عوام کے پیسے واپس کر دیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے وفاقی ادارہ ہے، کسی صوبے کا نہیں، اور یہ وزیرِ اعظم عمران خان اور خود ان کے ماتحت ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ خود ٹرین چلانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں مگر وہ عمران خان کے فیصلے کے منتظر ہیں۔
شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اگر کراچی کا ٹریک کھلے گا تو ریلوے چلے گی، ریلوے پاکستان کی ہے، کسی ایک صوبے کی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر سندھ نے ریلوے چلانے کی اجازت نہ دی تو خود سندھ حکومت کے خلاف ردِ عمل آئے گا۔
وزیرِ ریلوے نے کہا کہ ہر ماہ سوا پانچ ارب روپے کا خسارہ ہے، مگر وہ ریلوے کو اس لیے بھی خسارے میں چلانا چاہ رہے ہیں کہ بہت دنوں سے لوگ اپنے رشتے داروں کے گھروں پر رہ رہے ہیں، ان کے اندر اتنی سکت نہیں کہ وہ اپنے گھروں میں لوگوں کو رکھیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ کل بھی یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ٹرینیں چلیں گی یا نہیں لیکن وہ عمران خان سے رابطے کے منتظر ہیں۔‘
شیخ رشید نے کہا کہ ان کے مراد علی شاہ سے تعلقات برے نہیں ہیں لیکن وہ ان سے اس لیے بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ وفاقی مسئلہ ہے صوبائی مسئلہ نہیں ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے سے کسی ملازم کو نہیں نکالا جا رہا۔ 'اس عید سے پہلے ملازمین کو تنخواہ دیں گے، ریٹائر ملازمین کو تنخواہیں دیں گے، اگلے ماہ بھی تنخواہیں ٹائم پر دیں گے اور اس کے بعد 'معافی مانگ لیں گے۔'















