کورونا وائرس: برطانیہ میں جمعرات سے انسانوں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز ہوگا

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ جمعرات سے آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم انسانوں پر کورونا وائرس کی ویکسین کا ٹرائل کرے گی۔

لائیو کوریج

  1. صدر ٹرمپ: ’41 لاکھ 80 ہزار شہریوں کا کورونا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے‘

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ملک میں ٹیسٹنک کا دائرہ کار بہت تیزی سے وسیع کیا جا رہا ہے اور اب تک 41 لاکھ 80 ہزار شہریوں کا کورونا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے۔

    انھوں نے دعوی کیا ہے ہے کہ اگر وسیع پیمانے پر اپنے شہریوں کی ٹیسٹنگ کی بات کی جائے تو ’کوئی ملک ہمارے برابر نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ سوائپ بننانا آسان جبکہ وینٹیلیٹرز بنانا بہت مشکل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی اضافی امدادی پیکج کے حوالے سے ڈیموکریٹس کے ساتھ گفت و شنید جاری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ امریکہ کے دیہاتی علاقوں میں قائم ہسپتالوں کو مزید امداد فراہم کرنا چاہتی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ وبا کے اس دور میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔

  2. برطانیہ میں پلازمہ ٹرائل کی تیاریاں شروع, ربیکا موریل، بی بی سی نمائندہ صحت

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے خون کے ذریعے وائرس میں مبتلا افراد کے علاج کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

    اس مقصد کے لیے برطانوی ادارے این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ نے ایسے افراد سے رابطہ کرنا شروع کر دیا ہے جو حال ہی میں اس کورونا سے صحت یاب ہوئے ہیں۔ ان افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے خون کے نمونے فراہم کریں تاکہ اس طریقہ علاج کا جائزہ لینے کے لیے ٹرائلز کی باقاعدہ ابتدا کی جا سکے۔

    یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ صحت یاب افراد کے خون میں بننے والی اینٹی باڈیز وائرس کا شکار افراد کے خون سے وائرس کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

    سائنس دانوں نے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے اور یونیورسٹی آف ویلز نے پہلے ٹرائل کااعلان بھی کر دیا ہے۔ لیکن کچھ محققین نے متنبہ کیا ہے کہ برطانیہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت آہستگی سے کورونا کے موثر علاج کی کھوج میں مصروفِ عمل ہے۔

    امریکہ میں اسی حوالے سے جاری قومی پلازما پراجیکٹ شروع ہو چکا ہے جس میں 15 سو ہسپتالوں کی معاونت شامل ہے۔

    سائنسدانوں کو ابھی بھی یہ اندازہ لگانا ہوگا پلازمہ کے ذریعے طریقہ علاج کتنا موثر ہے۔ لیکن کوویڈ 19 کا کوئی موجودہ علاج نہ ہونے کی وجہ سے امید کی جا رہی ہے موثر ویکسین کی تیاری تک اس طریقہ علاج کے ذریعے مدد مل سکتی ہے۔

  3. بریکنگ, امریکہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 35 ہزار ہو گئی

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 35 ہزار ہو گئی ہے۔

    امریکہ میں مصدقہ متاثرین کی تعداد سات لاکھ 46 ہزار سے کچھ زائد ہے۔ ریاست نیویارک وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے۔

    نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے کہا ہے کہ ان کی ریاست اب ’اینٹی باڈی ٹیسٹنگ‘ پر اپنی توجہ مرکوز کرے گی تاکہ یہ پتا چلانے میں مدد کی جا سکے کہ ہمیں درحقیقت کس چیز (وبا) کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب سنیچر کی طرح اتوار کو بھی امریکہ کی مختلف ریاستوں میں شہریوں نے گھروں سے باہر نکل کر لاک ڈاؤن ختم کرنے کے حق میں مظاہرے کیے ہیں۔

    لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے امریکی ریاستوں واشنگٹن، مونٹانا، ایریزونا اور کولاراڈو میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا ہے کہ اب امریکہ ’کنگ آف وینٹیلیٹرز‘ بن چکا ہے یعنی امریکہ کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ وینٹیلیٹرز موجود ہیں۔

  4. فیس بک گیمنگ ایپ لانچ کرے گا: نیویارک ٹائمز

    فیس بک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں لوگوں کے گھروں تک محدود ہونے کے بعد ہوم انٹرٹینمنٹ کی کھپت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق فیس بک کھپت میں اس اضافے سے فائدہ اٹھانے کے لیے سوموار (آج) سے ایک گیمنگ ایپ لانچ کر رہی ہے۔

    فیس بک ایپ کے سربراہ فیدجی سیمو نے کہا ہے کہ ’ گیمنگ میں سرمایہ کاری کرنا ہماری ترجیح بن گیا ہے کیونکہ ہم گیمنگ کو تفریح کی ایک ایسی شکل کے طور پر دیکھتے ہیں جو واقعتاً لوگوں کو جوڑتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ قرنطینہ کے دوران گیمنگ میں بہت بڑا اضافہ ہوا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس سے قبل فیس بک نے یہ ایپ جون کے ماہ میں لانچ کرنی تھی۔

  5. کرائم باس ونسیٹ اسارو جیل سے رہا

    رہائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس پھیلنے کے پیشِ نظر جیلوں میں قید عمر رسیدہ اور بیمار افراد کو عارضی رہائی دی جا رہی ہے۔

    امریکہ کی ریاست میسوری کی جیل میں قید بانانو خاندان کے کرائم باس 85 سالہ ونسیٹ اسارو کو انہی خدشات کے پیشِ نظر رہا کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ مشہور کرائم فلم ’گُڈ فیلاز‘ کی کہانی ونسیٹ اسارو کے زندگی سے متاثر ہو گی لکھی گئی تھی۔

    ونسیٹ اسارو کو سنہ 2017 میں آٹھ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے اپنے کارندوں کو ایک شہری کی گاڑی جلانے کے احکامات جاری کیے تھے۔

    ونسیٹ کو گذشتہ سال جیل ہی میں دل کا دورہ بھی پڑا تھا اور ان کی موجودہ صحت اور عمر کو دیکھتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    جج نے ان کی رہائی کا آرڈر جاری کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر ان کو کورونا ہو گیا تو اس کے نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔

  6. برطانیہ: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 596 ہلاکتیں, مجموعی اموات 16 ہزار سے بڑھ گئیں

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے افراد کی مجموعی تعداد 16 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ ملک میں مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد ہے۔

    اتوار کے روز برطانیہ میں 596 نئی ہلاکتیں ہوئی ہے۔

    یاد رہے سنیچر کو ملک میں ریکارڈ 888 افراد ہلاک ہوئے تھے جو کہ چھ اپریل کے بعد ایک دن میں ہلاک ہونے والی کی سب سے بڑی مجموعی تعداد تھی۔

  7. افغان صدراتی محل کے درجنوں اہلکار کورونا کا شکار

    ghani

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے صدارتی محل میں موجود عملے کے درجنوں افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ابتدا میں 20 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے تھے تاہم اتوار کو نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی کہ یہ تعداد بڑھ کر 40 ہو گئی ہے۔

    افغان حکومت کی جانب سے ابھی اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    صدر کے حوالے سے بھی ایسی کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔ صدر غنی 1990 کی دہائی میں کینسر کی وجہ سے اپنے معدے کا ایک حصہ کھو چکے ہیں۔

    افغانستان میں اب تک 33 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے اور کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد ایک ہزار بتائی گئی ہے۔

    لیکن یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ملک میں کئی دہائی تک جاری رہنے والی بدامنی کی وجہ سے صحت کا نظام اور وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کیے جانے کی سہولیات بہت محدود ہیں۔

    یہ بھی خدشات ہیں کہ یہ وائرس ان ڈیڑھ لاکھ افغان باشندوں میں بھی پھیل سکتا ہے جو مارچ میں ایران سے آئے تھے جبکہ دسیوں ہزار ایسے بھی ہیں جو پاکستان واپس لوٹے تھے۔

  8. بریکنگ, بی بی سی اردو کے ورلڈ لائیو پیج پر خوش آمدید!, دنیا بھر سے کورونا کی صورتحال پر ایک نظر

    دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس سے متعلق کیا تازہ ترین خبریں ہیں۔ پڑھیے مختصر احوال

    • برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے ہسپتالوں میں ہلاکتوں کی تعداد 16060 ہو گئی ہے۔
    • نیویارک کے گورنر انیڈریو کومو کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں کورونا وائرس کی بلند ترین لہر کا وقت گزر گیا ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں وہاں 507 اموات ہوئیں تاہم انھوں نے عوام کو احتیاط برتنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
    • امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر یہ سامنے آیا کہ چین جانتے بوجھتے وبا کے پھیلانے کا ذمہ دار ہے تو اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    • امریکی صدر کا یہ بیان ملک کے کچھ حصوں میں مزید مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ باوجود اس کے کہ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے وہاں عوام لاک ڈاؤن میں نرمی چاہتے۔
    • ادھر سپین کی وزارت صحت کے مطابق کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور ملک کے وزیراعظم نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کریں گے۔
    • دنیا بھر سے گلوکاروں نے رات بھر آن لائن گانے گائے اور 128 ملین ڈالر کا اکھٹے کیے۔ اس آن لائن کنسرٹ کا مقصد ہیلتھ کیئر ورکرز کی حوصلہ افزائی اور ان کا شکریہ ادا کرنا تھا۔
    • جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد 23 لاکھ ہو چکی ہے۔

    بی بی سی اردو کے ورلڈ لائیو پیج پر خوش آمدید۔ اتوار کے روز کی اپ ڈیٹس پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

    لندن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images