کورونا وائرس: برطانیہ میں جمعرات سے انسانوں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز ہوگا

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ جمعرات سے آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم انسانوں پر کورونا وائرس کی ویکسین کا ٹرائل کرے گی۔

لائیو کوریج

  1. اب سر ڈیوڈ ایٹنبرا آپ کو پڑھائیں گے۔۔۔

    سر ڈیوڈ ایٹنبرا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عام حالات ہوتے تو بچے برطانیہ میں ایسٹر کی چھٹیوں کے بعد واپس سکول جا رہے ہوتے، لیکن سکول بند ہیں اور زیادہ تر بچے گھروں پر ہیں۔

    لاک ڈاؤن میں بچوں کی تعلیم کے لیے بی بی سی نے بھی 14 ہفتوں کا نصاب ترتیب دیا ہے۔

    سر ڈیوڈ ایٹنبرا کے علاوہ جوڈی وِٹیکر اور پروفیسر برائن کوکس بھی ان افراد میں شامل ہیں جو یہ نصاب پڑھائیں گے۔

    معروف شخصیات کیا پڑھائیں گی:

    سر ڈیوڈ ایٹنبرا جغرافی میں سمندروں اور دنیا پر غور کریں گے۔

    سابق شیڈو وزیر خزانہ ایڈ بالز 11 سے 14 برس کے بچوں کو حساب پڑھائیں گے۔

    پروفیسر برائن کوکس سائنسن کے موضوعات جیسے فورس، نظام شمسی اور کشش ثقل پڑھائیں گے۔

    ماچیسٹر سٹی کے فٹبالر سرجیو ایگویرو بچوں کو ہسپانوی زبان میں گنتی سکھائیں گے۔

  2. کورونا وائرس: مدافعتی نظام کی مضبوطی سے آپ کووِڈ 19 سے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

    طاقت دینے والے نام نہاد مشروبات اور وِٹامن مصنوعات کو بھول جائیں، یہ اس جدید دور میں جادوئی ٹوٹکوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں۔

    سنہ 1918 میں وِکس ویپورب کے ایک اشتہار کی سرخی تھی ‘ہسپانوی انفلوئنزا کیا ہے اور اس کا علاج کیسے کیا جائے؟‘

    اس کے نیچے لکھا تھا ‘خاموش رہیں‘ اور ’جلاب لیجیے‘ اور ہاں، ان کی دوائی کا استعمال کثرت سے کریں۔

  3. ووہان: کووڈ-19 سے صحت مند افراد کی تعداد میں کمی کیسے ہو گئی؟

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق چین کے وسطی شہر ووہان میں سینکڑوں افراد کے نام غلطی سے صحت مند یا ہسپتال سے ڈسچارج ہونے والے افراد کی فہرست میں درج کیے گئے تھے۔

    جمعہ کے روز ٹھیک ہونے والے افراد کی تعداد 47300 بتائی گئی تھی لیکن آج انتہائی خاموشی سے اس تعداد کو 46359 کر دیا گیا ہے۔

    پورے چین میں صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد بھی اسی حساب سے کم ہوئی ہے۔ جمعہ کے روز تک کووڈ-19 سے صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 77944 بتائی گئی تھی۔ لیکن آج یہ تعداد 77084 ہوگئی ہے۔

    جمعہ کو ووہان کی میونسپل حکومت نے اپنے تصدیق شدہ کیسوں اور اموات کی تعداد میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ مزید 1290 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلومات جاری کرنے میں تاخیر اس وجہ سے ہوئی کیونکہ کچھ مریض گھروں میں ہلاک ہوئے، کچھ ہسپتالوں میں زیرعلاج تھے اور انھوں نے اپنی معلومات مرکزی نیٹ ورک تک نہیں پہنچائیں، یا ملنے والی رپورٹس میں غلطیاں تھیں۔

    لیکن نیشنل ہیلتھ کمیشن کے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ تین مہینوں کے دوران ووہان میں کووڈ-19 سے متاثرہ کم از کم 941 مریضوں کو غلطی سے صحتیاب قرار دیا گیا تھا۔

  4. جرمنی: کووڈ-19 سے متاثرہ کیسز میں 1775 کا اضافہ، مزید 110 اموات

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جرمنی میں کورونا وائرس سے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد میں مزید 1775 افراد کا اضافہ ہو اہے اور اس طرح مجموعی تعداد 141672 ہو گئی ہے۔

    رفیرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ (آر کےآئ) کے متعدی بیماریوں کے اعدادوشمارکے مطابق پیر کو مسلسل دوسرے دن نئے کیسز کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی۔

    جرمنی میں مزید 110 ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں جس سے مجموعی تعداد بڑھ کر 4404 ہوگئی ہے۔

  5. برطانیہ: پرنس فلپ کا سائنسدانوں اور ضروری امور انجام دینے والے کارکنان کے لیے حمایت کا پیغام

    فلپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پرنس فلپ، ڈیوک آف ایڈنبرا نے برطانیہ میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کام کرنے والے تمام افراد کو حمایت کا پیغام بھیجا ہے۔

    98 سالہ پرنس فلپ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے لوگوں کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے طبی اور سائنسی کارکنان جو اہم کام سرانجام دے رہے ہیں، وہ اس پر ان سب کے شکرگزار ہیں۔

    انھوں نے جن کارکنان کا شکریہ ادا کیا ان میں پوسٹل سروس کا عملہ، کچرا جمع کرنے اور سپر مارکیٹس چلانے والے افراد شامل ہیں - جو ’ہماری زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔‘

    برطانیہ میں کورونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد پرنس فلپ اپنی سینڈرینگھم والی رہائش گاہ سے برک شائر، ونڈسر منتقل ہو گئے تھے جہاں وہ 93 سالہ ملکہ کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

  6. کورونا وائرس: برطانیہ میں جمعرات سے انسانوں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز ہوگا

  7. , آسٹریلیا: رگبی یونین کے کھلاڑی تنخواہوں میں اوسطاً 60 فیصد کٹوتی پر رضامند

    رگبی کھلاڑی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا کی رگبی یونین کے کھلاڑیوں نے 30 ستمبر تک اپنی تنخواہوں میں اوسطاً 60 فیصد کٹوتی کی رضامندی دی ہے۔

    یہ معاہدہ رگبی یونین پلیئرز ایسوسی ایشن (روپا) کے ساتھ کئی ہفتوں کے مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔ اس کھیل میں سب سے زیادہ رقم کمانے والوں کو سب سے زیادہ کٹوتی کا سامنا ہو گا۔

    تبدیلیاں نافذ ہونے سے قبل تمام 192 کھلاڑیوں کو اپریل کے لیے پورا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

    تاہم 30 ستمبر سے پہلے سیزن شروع ہونے کی صورت میں تنخواہوں سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔

  8. افریقی ملک گھانا میں نقل وحمل پر عائد پابندی ختم

    گھانا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گھانا کے صدر نانا اکوفو اڈو نے ملک میں نقل وحمل پر عائد پابندی ختم کردی ہے جو جزوی لاک ڈاؤن کے تحت تھی۔

    دیگر پابندیاں جیسے اجتماعات اور سکولوں کی بندش پر پابندی عائد رہے گی جبکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بارڈر کراسنگ مزید دو ہفتوں تک بند رہے گی۔

    گھانا کے صدر نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ وائرس کی نوعیت جاننے، اس کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں کامیابی، ٹیسٹ کے بہتر پروگرام اور علاج کے مراکز میں توسیع کے بعد کیا گیا ہے۔

    گھانا میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 1042 ہے جبکہ اس سے نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 60 ہزار لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

  9. کورونا از خود نوٹس: ’کسی نے بھی شفافیت پر مبنی رپورٹ نہیں جمع کروائی‘

  10. دنیا بھر میں کووڈ-19 کے مریض کہاں کہاں ہیں؟

    دنیا بھر میں کووڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    اب تک یہ مرض دنیا کے 200 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس سے 20 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تقریباً ایک لاکھ 65 ہزار ہلاک ہو چکے ہیں۔

    نقشہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  11. بریکنگ, سپین میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر گئی

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپین کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 200210 ہو گئی ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 400 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جس کے بعد ملک میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 20852 ہو گئی ہے۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتوں میں امریکہ کے بعد سپین کا نمبر آتا ہے۔

  12. سنگاپور میں ایک دن میں کورونا وائرس کے 1426 نئے کیس

    سنگاپور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سنگاپور میں کورونا وائرس کے 1426 نئے کیس سامنے آئے ہیں جو ملک میں ایک دن میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    آٹھ ہزار متاثرین کے ساتھ سنگاپور جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    حکام کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے زیادہ تر نئے متاثرین بیرون ملک سے کام کے لیے سنگاپور آنے والے افراد ہیں۔ تاہم 16 نئے کیسز میں مریضوں کا تعلق مستقل طور پر سنگاپور سے ہی ہے۔

    کم اجرت والے تقریباً تین لاکھ مزدور جن میں زیادہ تر کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے، سنگاپور میں تعمیرات اور دیکھ بھال کے کام سے وابستہ ہیں۔

  13. کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچا جائے؟

    محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔

    کورونا وائرس
  14. امریکہ میں معیشیت دوبارہ کھولنے کے لیے احتجاج

    امریکہ احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    امریکی ریاستوں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر بند معیشتوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    اتوار کے روز ایریزونا، مونتانا اور واشنگٹن سٹیٹ میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں تاہم مظاہرین کی تعداد چند سو ہی رہی۔

    انفیکشن میں اضافے کے خطرے کے باوجود ملک میں پابندیوں میں نرمی کی تحریکیں بڑھ گئیں ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہروں کی حمایت کا اشارہ دیا ہے جبکہ آج مزید مظاہروں کے امکانات بھی ہیں۔

  15. پانچ منٹ میں نتائج دینے والی کٹ کا تجربہ

    ٹیسٹنگ کٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کی یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز نے کہا ہے کہ اس نے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے والی ایک ایسی کٹ تیار کر لی ہے جو آدھے گھنٹے میں نتائج دے سکتی ہے۔

    ابھی یہ جانچ ہونا باقی ہے کہ اس ٹیسٹنگ کٹ کے نتائج کس حد تک درست ہوں گے تاہم این ایچ ایس کے پیلتھ بورڈ کے مطابق ابتدائی علامات معلوم کرنے سے متعلق اس کٹ سے امید وابستہ ہے۔

    یہ ملک میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے تیار کردہ کئی کٹس میں سے ایک ہے۔

    یونیورسٹی آف ایکسیٹر نے بھی ایک کٹ تیار کی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پانچ منٹ میں نتائج دے سکتی ہے۔

    ایکسیٹر یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے لندن کے سینٹ تھامس ہسپتال میں اس ٹیسٹ کا تجربہ شروع کردیا ہے تاہم ان نتائج کی جانچ ہونا ابھی باقی ہے۔

  16. آسٹریلیا میں ماہر معاشیات کا حکومت کو خط، پابندیوں میں نرمی پر خبردار کر دیا

    سڈنی، ساحل سمندر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا کے 150 سے زائد ماہر معاشیات نے حکومت کو سماجی فاصلوں سے متعلق قوانین میں نرمی سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    آسٹریلیا میں کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر کیے گئے اقدامات کے باعث ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی شرح میں کمی دیکھنے کو آئی ہے۔ جس کے بعد ان پابندیوں میں کچھ نرمی کی گئی ہے۔

    آسٹریلیا میں اب تک کورونا وائرس کے 6617 کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں جبکہ 71 افراد اس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آسٹریلیا کے ماہر معاشیات کے ایک گروپ نے حکومت کو لکھے گئے خط کے ذریعے پابندیوں میں نرمی کے بارے میں خبردار کیا۔

    ’جب تک ہم صحت عامہ کے بحران کو حل نہ کر لیں، تب تک ہماری معیشیت کارآمد ثابت نہیں ہو سکتی۔‘

  17. پوپ فرانسس کا سیاست دانوں کو اختلافات ختم کرنے پر زور

    مسیحی برادری کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے لیے سیاست دانوں کو اختلافات ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پوپ فرانسس نے سوموار کے روز کہا ہے کہ ’ہم دعا کرتے ہیں کہ وبا کے اس وقت میں مختلف ممالک کی سیاسی پارٹیاں اپنی جماعت کے لیے نہیں بلکہ مل کر اپنے ملک کے لیے کام کریں۔‘

    تاہم پوپ فرانسس نے کسی ملک یا سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا۔

    پوپ فرانسس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  18. کورونا وائرس: روس میں 24 گھنٹوں میں 44 ہلاکتیں، 4268 نئے مریض

    روس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوموار کے روز روس میں کورونا وائرس کے مزید 4268 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں متاثرین کی تعداد 47121 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹے میں کورونا وائرس سے 44 اموات بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔

  19. کیا سائنسدان کورونا وائرس کے علاج کے لیے ویکسین ایجاد کر پائیں گے؟

    دنیا کے کئی ممالک میں حکومتیں، تحقیقی ادارے، دوا ساز کمپنیاں اور مالی امداد فراہم کرنے والی تنظیمیں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے دھڑا دھڑ پیسہ اور دیگر وسائل کا استعمال کر رہی ہیں۔

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  20. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حفاظتی سامان بنانے والے رضاکار

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    کورونا کے خلاف کام کرنے والے ڈاکٹر حفاظتی لباس (پی پی ای) کی کمی کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن اب کشمیر سے تعلق رکھنے والی این جی اوز اور رضا کار ہسپتالوں کے لیے حفاظتی سوٹ تیار کرنے میں مدد دینے کے لیے سامنے آ گئے ہیں۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام