کورونا وائرس: برطانیہ میں جمعرات سے انسانوں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز ہوگا

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ جمعرات سے آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم انسانوں پر کورونا وائرس کی ویکسین کا ٹرائل کرے گی۔

لائیو کوریج

  1. عالمی ادارہ صحت: لاک ڈاؤن کو آہستہ آہستہ ختم کرنا ہوگا

    WPA Pool

    ،تصویر کا ذریعہWPA Pool

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کو قابو کرنے کے لیے لاک ڈاؤن میں آہستہ آہستہ کمی لائی جانی چاہیے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے منگل کو کہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو عجلت میں ہٹا دیا گیا تو اس سے وبا کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر تکیشی کاسائی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ لاک ڈاؤن کے اقدامات مثبت ثابت ہوئے ہیں اور امید ظاہر کی کہ لوگ یقیناً ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اپنے معاشروں کو رواں دواں رکھنے کے لیے زندگی کے نئے انداز اپنانے کے لیے تیار ہوں گے۔

    آن لائن پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ جب تک اس وبا کے خلاف ویکسین دریافت نہیں ہوتی تب تک وبا کو اپنانا ہی نیا قاعدہ ہو گا۔

  2. ہانگ کانگ: لاک ڈاؤن میں 14 دن کی توسیع

    Carrie Lam

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ہانگ کانگ کی حکومت ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید 14 دن کے لیے لاک ڈاؤن کرے گی۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ملک کے چیف ایگزیکٹیو کیری لام نے منگل کو یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہر میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی میں کامیابی ملی ہے۔

    چین کے زیر انتظام اس شہر میں پیر کو کوئی بھی نیا کیس سامنے نہیں آیا اور مارچ کے اوائل کے بعد یہ پہلا دن تھا جب ایسا ہوا۔

    شہر میں اب تک چار اموات اور متاثرین کی کل تعداد 1025 ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ہانگ کانگ میں 14 دن کے لیے چار سے زیادہ افراد کے عوامی مقامات پر اجتماع پر پابندی 29 مارچ کو نافذ ہوئی تھی اور بعد میں اسے 23 اپریل تک بڑھایا گیا تھا۔

  3. بریکنگ, صدر ٹرمپ کا امریکہ کی امیگریشن پر عارضی پابندی کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کے باعث امریکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر امریکہ کی امیگریشن پر عارضی پابندی کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’دکھائی نہ دینے والے دشمن کے حملے کے پیش نظر اور عظیم امریکی شہریوں کی نوکریوں کے تحفظ کے خاطر میں صدارتی حکم کے تحت امریکہ میں امیگریشن پرعارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان کروں گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. ’میں نے وینٹی لیٹر بند کر دیا تاکہ وہ سکون سے مر سکے‘

  5. کورونا وائرس: دنیا بھر کی صورتحال

    • دنیا بھر میں کورونا کے متاثرین کی تعداد 25 لاکھ کے قریب ہے جبکہ ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پہلی مرتبہ اٹلی میں متاثرین کی یومیہ تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم متعدد یورپی ممالک لاک ڈاؤن میں نرمی پر غور کر رہے ہیں۔
    • دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت منفی سطح پر آگئی ہے اور اس کی بڑی وجہ کورونا کی وبا کے دوران تیل کی کھپت میں کمی اور پیداوار میں اضافہ ہے۔
    • برطانیہ میں مزید 449 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد ملک میں کورونا کے باعث اموات کی کل تعداد 16509 ہو گئی ہے۔ مگر ڈپٹی چیف سائنٹیفک مشیر کا کہنا ہے کہ ملک میں نئے متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
    • فرانس میں 20 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں تاہم دیگر ممالک کے برعکس ان اموات میں نرسنگ ہومز میں ہونے والی اموات بھی شامل ہیں۔
    • عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیدروس نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ ‘ سے کچھ نہیں چھپایا گیا۔ واضح رہے گذشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ عالمی ادارہ صحت کی امداد بند کر دے گا کیونکہ وہ چین سے پھیلنے والی وبا کا مناسب انداز میں جائزہ نہیں لے سکا۔
  6. فیس بک کا لاک ڈاؤن مخالف پوسٹس ہٹانے کا اعلان

    Facebook

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سماجی رابطوں کی کمپنی فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ ایسے تمام پیجز، پوسٹس اور تقریبات کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دے گا جن میں کورونا کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن ختم کرنے اور ایسے مظاہروں کے بارے میں کہا جائے گا جو امریکہ کے سماجی فاصلے کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوں گے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے ہی امریکی ریاست کیلیفورنیا، نیو جرسی اور نیبراسکا میں حکام سے مشاورت کے بعد چند ایک ایسی تقریبات کے تشہیر اور پیجز کو ہٹا دیا ہے جن میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے متعلق بات کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ اتوار کو امریکہ بھر میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے بارے میں مظاہرے کیے گئے تھے۔

    سینکڑوں مظاہرین نے سماجی فاصلہ اپنانے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ امریکہ میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کا مقصد وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا اور انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔

  7. ڈنمارک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد بال کٹوانے والوں کا رش, ایڈریئن مرے، کوپنہیگن

    ڈنمارک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد بال کٹوانے والوں کا رش

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈنمارک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ایک ماہ میں پہلی مرتبہ بال کٹوانے کا موقع ملنے پر دکانوں پر رش لگ گیا ہے۔

    کوپن ہیگن میں فِل باربر کے مالک فِل اولینڈر کا کہنا ہے کہ ’ہم انتہائی مصروف ہیں، اگلے دو ہفتے کے لیے مکمل بُک ہیں۔‘

    ڈنمارک میں جمعے کو لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

    ڈنمارک ان یورپی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سب سے پہلے لاک ڈاون کا اعلان کیا تھا اور اب ان میں شامل ہے جو اس میں نرمی کر رہے ہیں۔

    گذشتہ بدھ کو پرائمری اور نرسری کے بچوں نے سکول جانا شروع کیا تھا۔

    دیگر پابندیاں 10 مئی تک لاگو رہیں گی۔ سرحدیں بھی بند ہیں اور 10 سے زیادہ لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

  8. بریکنگ, میری لینڈ کے گورنر کو کوریائی کٹس خریدنے کی ضرورت نہیں: صدر ٹرمپ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میری لینڈ کے گورنر کو کوریائی ٹیسٹنگ کٹس خریدنے کی ضرورت نہیں تھی۔

    وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ جب وفاقی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ امریکی ریاستوں میں کورونا کا ٹیسٹ کرنے کے لیے تمام اہلیت موجود ہے تو کیوں امریکی ریاست میری لینڈ کے گورنر کو جنوبی کوریا سے پانچ لاکھ کٹس خریدنا پڑیں تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’میری لینڈ کے گورنر کو چاہیے تھا کہ وہ مائیک پنس سے رابطہ کرتے، وہ بہت سے پیسے بچا سکتے تھے لیکن کوئی بات نہیں۔‘

    انھوں نے کورونا سے متعلق روزانہ کی بریفنگ کے دوران امریکی ریاست میری لینڈ کے نقشے پر ٹیسٹنگ سہولیات کی جانب بھی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ’میرے خیال میں انھیں جنوبی کوریا سے مدد لینے کی ضرورت نہیں تھی، انھیں بس کچھ معلومات جاننے کی ضرورت ہے۔‘

    امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاؤس نہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ریاستوں کے پاس مقامی سطح پر ٹیسٹنگ لیبارٹریاں موجود ہیں جہاں کورونا کے ٹیسٹ کرنے کے حوالے سے تمام سہولیات موجود ہیں۔ تاہم امریکی ریاستوں کا کہنا ہے کہ ان کہ پاس ٹیسٹنگ کٹس کی قلت ہے۔

  9. دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت منفی سطح تک گر گئی

    Oil

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا کی عالمی وبا میں تیل کی کھپت کم ہو جانے اور پیداوار بڑھ جانے کے باعث دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت منفی سطح تک گر گئی ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ تیل ساز کمپنیاں مئی میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور زخائر بھر جانے کے خطرے کے پیش نظر خریداروں کو خود سے پیسے ادا کر رہی ہیں۔

    کورونا وائرس کی وبا کے باعث دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی کھپت اور طلب میں بہت کمی آئی اور تیل کی منڈی کریش کر گئی ہے۔ جس کے نتیجہ میں تیل ساز کمپنیوں کو کرائے پر ٹینکرز لے کر اضافی تیل کو ذخیرہ کرنا پڑ رہا ہے اور اس سبب امریکی تیل کی قیمت منفی سطح تک گر گئی ہے۔

    امریکہ کی تیل کمپنیوں کے مروجہ معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مطابق تیل کی قیمت منفی 37.63 ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

  10. ’امریکہ کے پاس زبردست ٹیسٹنگ صلاحیت موجود ہے‘: صدر ٹرمپ

    Donald Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ٹرمپ بش کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس کورونا ٹیسٹ کرنے کی شاندار صلاحیت موجود ہے۔

    امریکی صدر کا وائٹ ہاوس میں کورونا سے متعلق روزانہ کی بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ’امریکی ریاستوں کے گورنرز کو سمجھ نہیں کہ ٹیسٹنگ کیسے کی جائے۔‘

    انھوں نے یہ بات امریکی ریاستوں کے گورنروں کے اس اعتراض کے جواب میں کہی جس میں انھوں نے یہ شکایت کی تھی کہ وفاق نہ بیرون ممالک سے ٹیسٹنگ کٹس منگوانے کے لیے وفاق نے مدد نہیں کی تھی۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے سیاسی جماعت ریپبلکن سے تعلق رکھنے والے امریکی ریاست میری لینڈ کے گورنر مائیک ہوگن اور ڈیموکریٹس سے وابستہ امریکی ریاست الیناس کے گورنر جے بی پریٹکر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’ انھیں ٹیسٹنگ کیسی کرنی ہے اس بارے میں زیادہ سمجھ نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ نائب صدر مائیک پینس نے آج گورنروں سے فون پر بات کی تاکہ انھیں مقامی لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کرنے کی ’زبردست صلاحیت‘ کے بارے میں بتائیں۔

    تاہم منگل کو افکیشز ڈیزیز کے ماہر اور اعلیٰ حکومتی اہلکار ڈاکٹر فوسی نے اے پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ امریکہ کے پاس تاحال کورونا ٹیسٹنگ اور ٹریسنگ کی کافی سہولیات موجود نہیں ہے کہ وہ دوبارہ اپنی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی کر سکے۔

  11. کووڈ-19: کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ وائرس لیبارٹری سے نکلا؟

  12. کورونا وائرس: صرف 13 دن میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بیس لاکھ کیسے ہو گئی؟

    کوورنا

    جب سائنس دانوں نے پہلی بار کورونا وائرس سے ہونے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجائی تھی تو انھوں نے متنبہ کیا کہ یہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کیسز بہت کم تعداد سے شروع ہوتے ہیں تو وہ تیزی سے ناقابل یقین حد تک تیز شرح سے بڑھتے جاتے ہیں۔ آپ اسے بی بی سی کے اوپر دئیے گئے چارٹ میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

    دس لاکھ تک پہنچنے میں کیسوں کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگا لیکن 20 لاکھ تک پہنچنے میں صرف 13 دن لگے۔

    امریکہ میں قائم جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق آج عالمی سطح پر تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 2420000 سے زیادہ ہے۔

  13. عالمی ادارہ صحت میں ’کچھ بھی خفیہ نہیں رکھا جاتا‘

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایدھینومنے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایدھینومنے ایک جذباتی بریفنگ کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے ادارے نے کسی بھی ملک سے کورونا سے متعلق کوئی معلومات نہیں چھپائی ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے اس وبا سے نمٹنے کے اقدامات پر امریکی صدرٹرمپ نے تنقید کی ہے اور گذشتہ ہفتے ادارے کے لیے مالی امداد روک دی تھی اور کہا تھا کہ ادارہ وبا سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے اور یہ کہ وہ چین پر بہت بھروسہ کرتا ہے۔

    ڈاکٹر ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ امریکہ کے محکمے ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے 15 ترجمانوں نے جنوری سے اب تک ان کے ادارے کے ساتھ کام کیا ہے جنھیں بدلتی ہوئی صورتحال کے بارے میں معلومات سے آگاہ رکھا گیا ہے۔

    ’ڈبلیو ایچ او میں کچھ خفیہ نہیں ہے، اور جیسے ہی ہمیں معلومات ملتی ہیں ہم دوسروں کو آگاہ کر دیتے ہیں کیوں کہ وہ انسانی جانوں سے متعلق ہوتی ہیں‘۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ سیاسی اختلافات زندگیاں بچانے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر ٹیڈروس کا تعلق ایتھیوپیا سے ہے اور اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’آپ جانتے ہیں کہ میرا تعلق کہاں سے ہے، میں جنگ، غربت، بیماریوں سے واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ لوگ ان حالات سے کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ لوگ کس طرح غربت کی وجہ سے قتل کر دیے جاتے ہیں۔

    ’شاید لوگ یہ سب نہیں جانتے۔۔۔شاید انھوں نے آسان زندگیاں گزاری ہیں۔ شاید وہ نہیں جانتے کہ جنگ کا کیا مطلب ہوتا ہے، غربت کیا ہوتی ہے۔ اس لیے میں جذباتی ہوں۔‘

  14. کورونا وائرس: بین الاقوامی بکر پرائز بھی تاخیر کا شکار

    کوورنا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کوورنا وائرس کے باعث قارئین کو کتابیں حاصل کرنے میں دشوار کا سامنا ہے، اسی لیے ناول نگاری کے معروف برطانوی ایوارڈ ’بکر پرائز‘ کے فاتح کا اعلان ملتوی کردیا گیا ہے تاکہ قارئین کو شارٹ لسٹ شدہ چھ کتابوں کی کاپیاں مل سکیں۔

    ناول کے انگریزی میں بہترین ترجمعے کے لیے 50000 برطانوی پاؤنڈر کا یہ ایوارڈ مصنف اور مترجم دونوں میں یکساں تقسیم کیا جانا تھا۔ اور اس کے فاتحین کا اعلان 15 مئی کو متوقع تھا لیکن منتظمین کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث قارئین کے لیے شارٹ لسٹڈ کتابیں خریدنا مشکل ہوگیا ہے۔

    مصنفین اور ناشر اس اعلان کے منتظر ہوتے ہیں کیونکہ اس سے کتابوں کی فروخت میں کافی حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔

    اعلان کے لیے نئی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔

    گذشتہ سال جوکھا الہارتھی 50000 پاؤنڈز کا انعام جیتے والی عربی زبان کی پہلی مصنف بنیں تھیں اور انھوں نے فوری طور پر یہ رقم اپنے مترجم کے ساتھ تقسیم کر لی تھی۔

  15. انڈیا میں مسلمان مخالف سوچ میں اضافہ

    انڈیا میں مارچ کے مہینے میں منعقد ہونے والے ایک تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے افراد میں کورونا کی تصدیق کے بعد ملک میں اسلام مخالف ایک نئی لہر پھیل گئی ہے۔ انڈیا میں تقریباً 20 کروڑ مسلمان آباد ہیں اور ان کے کورونا کے پھیلاؤ کی وجہ بننے کے بارے میں سوشل میڈیا پر جھوٹی ویڈیوز اور نفرت انگیز پیغامات کے پھیلاؤ نے حالات کو مزید بگاڑا ہے۔ اس حوالے سے دیکھیے بی بی سی کی ڈیجیٹل ویڈیو۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  16. لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے کون سا وقت صحیح ہے؟, مشیل رابرٹس، ہیلتھ ایڈیٹر۔ بی بی سی نیوز آن لائن

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روزانہ کی بنیاد پر کوورنا وائرس کے متاثرین اور اموات کی بڑھتی تعداد کے باوجود بہت سے ممالک لاک ڈاؤن کے سلسلے میں لگائی گئی پابندیوں کو کم کرنے کے لیے عارضی اقدامات لے رہے ہیں۔

    اگر آپ کو یہ خطرناک لگتا ہے تو یقیناً ایسا ہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سب کچھ جلدی جلدی نمٹانے کی کوشش کریں گے تو آپ کا واسطہ کورونا وائرس کی دوسری لہر سے پڑ سکتا ہے۔

    لیکن کئی ماہ تک کاروبار اور لوگوں کو گھروں میں بند رکھنا معیشت اور معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔

    کون سی پابندیوں میں کس وقت نرمی کی جائے، یہ ایک مشکل فیصلہ ہے۔

    چین جیسے ممالک جہاں یہ وبا سب سے پہلے پھوٹی اور انھوں نے پابندیاں لگانے کے اقدامات کیے، دوسرے ممالک ان کے تجربات سے سیکھ سکیں گے۔

    لیکن اس کے لیے آپ کو قابلِ اعتماد اعداد و شمار کی ضرورت ہے کہ کتنے لوگ، کہاں اور کیسے متاثر ہو رہے ہیں۔

    یہاں تک کہ قابلِ بھروسہ اعداد و شمار اور بہت ساری ٹیسٹنگ اور ٹریسنگ کے باوجود ، آپ جو کچھ ریکارڈ کرتے ہیں اور جو کچھ زمین پر ہورہا ہے اس میں کہیں نہ نہیں فرق رہ جاتا ہے۔

    علامات ظاہر ہونے اور ہسپتال میں داخل ہونے میں ہفتوں لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے نئے انفیکشن کو شناخت کرنا اور روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں یعنی خاموش کیریئرز۔

    معاشرتی فاصلے کے بغیر کورونا وائرس کے خطرے کا خاتمہ ابھی ممکن نہیں ہے خاص طور پر تب تک جب تک ویکسین دستیاب نہیں ہو جاتی۔

    نارمل زندگی کی طرف لوٹنے کے لیے پابندیوں سے نکلنے کی منصوبہ بندی کرنا ہر حکومت کے لیے ایک نازک مرحلہ ہے۔

    اگرچہ بہت سارے لوگ معمول کی طرف لوٹنے کی امید کر رہے ہیں لیکن لاک ڈاؤن کے بعد زندگی شاید ہی معمول کے مطابق ہوگی۔

  17. بریکنگ, فرانس: اموات 20 ہزار سے تجاوز کر گئیں

    فرانس میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ملک کے ڈائریکٹر آف ہیلتھ نے اسے ’دردناک‘ قرار دیا ہے۔

    فرانس میں پیر کو اموات کی تعداد 20 ہزار 265 ہوگئی ہے جن میں سے 12 ہزار 513 ہسپتالوں میں اور 7 ہزار 752 نرسنگ ہومز میں ہوئی ہیں۔

    اس سے پہلے امریکہ، سپین اور اٹلی میں اموات 20 ہزار تجاوز کی تھیں۔

  18. امریکہ: نیو جرسی میں پاکستانیوں کی زندگی متاثر

    امریکہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ امریکہ کے شہر نیو جرسی میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد رہائش پزیر ہے۔ لاک ڈاؤن سے ان کی زندگی پر کیا اثر پڑا ہے، یہ بتا رہی ہیں صباحت زکریا اس وڈیو میں۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  19. رائل ایئر فورس کا طیارہ حفاظتی سامان لینے کے لیے برطانیہ سے ترکی روانہ

    اے 400 ٹراسپورٹ ائیر کرافٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    رائل ایئر فورس کا ایک طیارہ طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان لینے برطانیہ سے ترکی کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔

    اے 400 ٹراسپورٹ ائیر کرافٹ برطانیہ سے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے روانہ ہوا ہے اور آج شام کسی وقت ترکی پہنچنے پر اسے سامان سے لوڈ کیا جائے گا۔

    ترکی سے یہ سامان اتوار کو برطانیہ پہنچنا تھا۔

    این ایچ ایس کے عہدیدار کرس ہاپسن نے اس سے پہلے کہا تھا کہ بہت کم امید ہے کہ تاخیر کا شکار یہ سامان پیر کو بھی برطانیہ پہنچ سکے گا۔

    گذشتہ کچھ دنوں سے برطانیہ میں حفاظتی سامان کی عدم دستیابی پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

    آج کی ڈاؤننگ سٹریٹ کی بریفنگ میں وزیر خزانہ رشی سونک نے کہا تھا کہ حفاظتی سامان حاصل کرنا ایک ’انٹرنیشنل چیلنج‘ بن گیا ہے۔

    اس سے پہلے ترک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ترکی کی وزارت صحت کے ذریعے برطانیہ بھجوائی جانے والی ذاتی حفاظتی سامان کی کھیپ کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔

  20. بریکنگ, اٹلی: کووڈ-19 متاثرین کی تعداد میں پہلی مرتبہ کمی دیکھی گئی

    اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    سول پروٹیکشن ایجنسی کے سربراہ انجیلو بورریل نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’پہلی بار ہم نے ایک مثبت پیشرفت دیکھی ہے اور مثبت کیسز کی تعداد میں کمی آئی ہے۔‘

    پیر تک اٹلی میں 108237 افراد یا تو ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں یا مثبت ٹیسٹوں کے بعد گھر میں صحت یاب ہورہے ہیں۔ اس تعداد میں گذشتہ دن کے مقابلے میں 20 متاثرین کی کمی ہوئی ہے۔۔ یہ ایک چھوٹی سہی لیکن مثبت علامت ہے۔

    اتوار کے روز مثبت کیسز میں 486 افراد کا اضافہ ہوا تھا۔

    سپین اور امریکہ کے بعد اٹلی میں کورونا وائرس سے متاثرین کی سب سے بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ تاہم گھروں یا کئیر ہومز میں مرنے والوں کو مجموعی اموات کے اعدادو شمار میں شامل نہیں کیا جاتا، اس لیے بہت سے ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ اٹلی میں متاثرین اور مرنے والوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد شمار سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔