کورونا وائرس: برطانیہ میں جمعرات سے انسانوں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز ہوگا
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ جمعرات سے آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم انسانوں پر کورونا وائرس کی ویکسین کا ٹرائل کرے گی۔
لائیو کوریج
بریکنگ, جی 20: کورونا وائرس نے صحت کے عالمی نظام میں ’کمزوریوں‘ کو بے نقاب کر دیا
،تصویر کا ذریعہEPA
جی 20 ممالک کے گروپ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا نے صحت کے عالمی نظام میں ’کمزوریوں‘ کو بے نقاب کر دیا ہے۔
تاہم سوموار کے روز جاری ہونے والے اس بیان میں امریکہ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی امداد روکے جانے کے فیصلے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔
یہ بیان اتوار کے روز جی 20 معیشتوں کے وزرائے صحت کےورچوئل اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے، جو اس گروپ کے موجودہ صدر سعودی عرب کی میزبانی میں منعقد کیا گیا تھا۔
جی 20 ممالک کے گروپ کو اس وبائی بیماری سے نمٹنے میں سست روی کا مظاہرہ کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
اس اجلاس میں جی 20 ممالک کے وزرائے صحت نے عالمی نظام صحت کو مؤثر بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انڈین ہسپتال کا مسلمانوں کا علاج کرنے سے انکار، سوشل میڈیا پر شدید تنقید
انڈیا میں پولیس نے میرٹھ شہر کے ایک نجی ہسپتال کے خلاف ایک ایسا اخباری اشتہار لگانے پر مقدمہ درج کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اس وقت تک مسلمانوں کا علاج نہیں کریں گے، جب تک وہ کووڈ 19 کے منفی نتائج کا ثبوت پیش نہیں کرتے۔
سوشل میڈیا پر اس اشتہار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ہسپتال نے اپنے ایک اور اشتہار میں معذرت کر لی۔
اپنے پہلے اشتہار میں ویلنٹس کینسر ہسپتال نے شہر میں بڑھتے کورونا وائرس کے مریضوں کا ذمہ دار تبلیغی جماعت کو ٹھرایا۔
ہسھتال انتظامیہ کے مطابق میرٹھ شہر میں کورونا وائرس کے دو کیسز کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کے 30 فیصد کیسز کا تعلق تبلیغی جماعت سے بتایا جا رہا ہے جس کے بعد ملک بھر میں اسلاموفوبیا کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
یو این ایج سی آر: ’مہاجر خواتین کو صنفی تشدد کے شدید خطرے کا سامنا ہے‘
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بحران کے دوران مہاجر خواتین اور لڑکیوں کو صنفی تشدد کے شدید خطرے کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ انھیں اپنی ’بقا کے لیے سیکس‘ یا کم عمری کی شادیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔
یو این ایچ سی آر کی اسسٹنٹ ہائی کمشنر برائے تحفظ جیلین ٹرگز نے کہا ہے ’ہمیں اس وبا کے وقت مہاجر خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘
’انھیں سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ بدسلوکی کرنے والوں کے لیے دروازے کھلے نہیں چھوڑنے چاہیے اور زیادتی اور تشدد سے بچ نکلنے والی خواتین کے لیے کسی بھی مدد کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘
اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین ایسی خواتین میں ہنگامی رقم تقسیم کررہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوویڈ 19 کے خلاف ملیریا سے بچاؤ کی دوا کا تجربہ کرنے پر اتفاق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوئس دوا ساز کمپنی نووارٹیس نے کہا ہے کہ کوویڈ 19 کے زیر علاج 440 مریضوں پر ملیریا کے لیے استعمال ہونے والی دوا ہائیڈروکلوروکوین کا تجربہ کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ معائدہ ہو گیا ہے۔
ہائیڈروکلوروکوین کو برسوں سے ملیریا کے علاج میں استعمال کیا جا رہا ہے تاہم اس بات کے کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں کہ یہ کورونا وائرس کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
کمپنی نے کہا ہے کہ ’ہم اس سائنسی سوال کے جواب کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں کہ کیا واقعی ہائیڈروکلوروکوین کوویڈ 19 کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی یا نہیں۔‘
دنیا بھر میں نئے کورونا وائرس کے خلاف علاج یا ویکسین تیار کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کی جا رہی ہے۔
’کورونا وارڈ میں ڈیوٹی لگی تو تھوڑا گھبرائی، لیکن اب کوئی ڈر نہیں‘
جاسنڈا آرڈرن: ’ہم نے کچھ ایسا کیا جو ناقابل یقین ہے‘
،تصویر کا ذریعہAFP
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں 28 اپریل سے کچھ نرمی کی جائے گی۔
نیوزی لینڈ میںک ورونا وائرس سے اب تک 12 افراد کی موت ہو چکی ہے اور جاسنڈا آرڈرن کے مطابق انھیں ہر شخص کے بارے میں فون کر کے اطلاع دی گئی۔
جاسنڈا آرڈرن نے کہا: ’ہم ان چند ممالک میں سے ہیں جہاں ابھی بھی ایسا ممکن ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نیوزی لینڈ نے جو کیا ہے وہ بہت کم ہی دوسرے ممالک کر سکے ہیں۔
انھوں نے کہا ’باقی دنیا کے مقابلے میں ہم نے کچھ ایسا کیا جو ناقابل یقین ہے۔‘
سنہ 2021 میں بھی اولمپک مقابلوں کے انعقاد پر شکوک و شبہات
،تصویر کا ذریعہReuters
وبائی امراض کے ایک جاپانی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ شاید اولمپک مقابلوں کا انعقاد 2021 میں بھی نہ ہو پائے۔
اس برس ہونے والے اولمپک مقابلوں کو کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر سنہ 2021 تک ملتوی کیا گیا ہے۔
کوب یونیورسٹی میں وبائی امراض کے ماہر پروفیسر کینتارو ایواٹا نے صحافیوں کو بتایا ’اولمپکس مقابلوں کے لیے دو شرائط ہیں: جاپان میں کوویڈ 19 پر قابو پایا جائے اور دنیا بھر میں بھی اسے کنٹرول کیا جائے کیونکہ آپ نے دنیا بھر سے کھلاڑیوں اور شائقین کو مدعو کرنا ہے۔‘
’جاپان آئندہ برس تک اس بیماری پر قابو پا لے گا، میری خواھش ہے کہ ہم ایسا کر لیں لیکن میرا نہیں خیال کہ ایسا دنیا بھر میں ہو گا تو میں اس بارے میں کافی مایوس ہوں کہ آئندہ برس گرمیوں میں اولمپک مقابلے ہو سکے گیں۔‘
کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟
دنیا میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کا عمل مختلف ممالک میں مختلف رفتار سے جاری ہے۔
بہت سے یورپی ممالک اس ہفتے میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے چند اقدامات کریں گے۔
سوموار کے روز جرمنی میں چھوٹی دکانیں کھول دی جائیں گی جبکہ سکول ان کلاسز کے لیے کھولے جائیں گے جن کے گریجویشن کے امتحانات آنے والے ہیں۔
گذشتہ ہفتے برلن نے کہا تھا کہ انفیکشین کی شرح میں کمی آئی ہے اور وبا پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے تاہم لوگوں کو وبا کی دوسری لہر سے بچنے کے لیے چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی۔
سوموار سے پولینڈ میں پارک اور جنگل جبکہ ناروے میں نرسری سکول کھول دیے جائیں گے۔ البانیہ میں کان کنی اور تیل کی صنعتیں دوبارہ اپنا کام شروع کر سکیں گی۔
دوسری جانب سپین اور فرانس نے مزید چند ہفتے لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم سپین میں آئندہ ہفتے سے بچوں کو کچھ وقت کے لیے باہر نکلنے کی اجازت ہو گی۔
کورونا وائرس: نوکر اور ڈرائیور کیسے گزارہ کریں گے
انڈیا میں ماہ رمضان کے لیے گائیڈ لائنز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب اور ایران کے بعد انڈیا میں بھی علما نے مسلمانوں کو رمضان کے مہینے میں مساجد میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔
انڈیا میں رمضان 23 یا 24 اپریل سے قمری حساب سے شروع ہو گا لیکن فی الحال انڈیا میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن جاری ہے اور ملک بھر میں مساجد بند ہیں۔
انڈیا میں علما سے مشاورت کے بعد مسلمانوں کے لیے ماہ رمضان کے کچھ رہنما اصول جاری کیے گئے ہیں:
مساجد کے بجائے مسلمان اپنے گھروں میں نماز پڑھیں اور لاک ڈاؤن کے دوران مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے اذان بھی بند کر دیں۔
رمضان کی مخصوص عبادت نماز تراویح بھی گھروں میں پڑھیں۔
مساجد میں افطار پارٹی کا اہتمام نہ کریں اور رمضان میں خریداری کے لیے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیو دہلی کے علاقے مہارانی باغ میں واقع ایک پرانی مسجد کے دروازے پر تالا لگا ہوا ہے۔ اس کی دیکھ بھال کرنے والے معین الحق کا کہنا تھا کہ مسجد بند ہے لیکن پانچ وقت نماز کے اوقات میں لاؤڈ سپیکر سے اذان ہوتی ہے اور اس کے بعد لوگوں سے گھروں پر ہی نماز ادا کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہی عمل رمضان میں بھی جاری رہے گا۔
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر فرید اقبال کے مطابق یہ مساجد میں ہجوم کا وقت نہیں ہے۔ اس لاک ڈاؤن نے ہمیں پوری توجہ کے ساتھ گھروں میں دعا مانگنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
عام دنوں کے مقابلے رمضان کے مہینے میں نمازیوں کی تعداد میں تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کا کہنا ہے ’جو لوگ عام دنوں میں مساجد نہیں جاتے ہیں وہ بھی رمضان میں مساجد میں ہوتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ اگر وہ اس مقدس مہینے میں مسجد نہیں جاتے ہیں تو یہ گناہ ہو گا۔
انڈیا میں لاک ڈاؤن کے چند قوانین میں نرمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا ملک میں جاری لاک ڈاؤن کے چند قوانین میں نرمی کر رہا ہے تاہم اس کا اطلاق تمام ریاستوں پر نہیں ہو گا۔
کیا تبدیلی ہو گی؟
زراعت سے منسلک کاروبار کھول دیے جائیں گے۔ اس میں ڈیری، آبی زراعت، چائے، کافی اور ربڑ کے باغات کے علاوہ کھاد یا مشینری جیسا زرعی سامان فروخت کرنے والی دکانیں شامل ہیں۔
عوامی کام کے وہ پروگرام، جو روزانہ کی بنیاد پر اجرت حاصل کرنے والوں کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ ہیں، بھی دوبارہ کھول دیے جائیں گے لیکن سماجی فاصلے پر عمل کرنے کی سخت ہدایات قائم رہیں گی۔
سامان لے جانے والے ٹرکوں، ٹرینوں اور طیاروں کو بھی چلنے کی اجازت ہو گی۔
بینک بھی دوبارہ کھول دیے جائیں گے اور پنشن تقسیم کرنے والے سرکاری مراکز کو بھی کھولا جائے گا۔
بیرون اور اندرون ملک سفر پر پابندی کے ساتھ ساتھ سکول، کالج، مال، سینما ہال اور زیادہ تر کاروبار بند رہیں گے۔
انڈیا میں ڈاکٹر ایک وینٹیلیٹر کو چار مریضوں کے لیے کیسے استعمال کر رہے ہیں؟
بریکنگ, بیجنگ نے 73 بڑے سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھول دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین میں تقریباً دو ماہ سے زیادہ جاری رہنے والے لاک ڈاؤن کے بعد زندگی آہستہ آہستہ اب معمول پر واپس آنے لگی ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق اتوار کے روز دارالحکومت بیجنگ میں 73 بڑے سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
ایسا صرف بیجنگ میں ہی نہیں بلکہ شنگھائی میں بھی کیا جا رہا ہے۔ مئی سے جون تک شنگھائی میں رات گئے خریداری کی ایک مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے تحت دکانوں کو آدھی رات تک کھولا جائے گا۔
مودی: ’کوویڈ 19 نسل، مذہب، رنگ، عقیدہ، زبان یا سرحد نہیں دیکھتا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے سب کو مل کر چلنے کی ہدایت کی ہے۔
انھوں نے لنکڈان پر لکھا: کوویڈ 19 حملہ کرنے سے پہلے نسل، مذہب، رنگ، عقیدہ، زبان یا سرحد نہیں دیکھتا۔ ہم سب اس میں ساتھ ہیں۔‘
مودی کا بیان اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انڈیا میں کورونا وائرس کے 30 فیصد کیسز کا تعلق ایک تبلیغی جماعت سے بتایا جا رہا ہے جس کے بعد ملک بھر میں اسلاموفوبیا کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
بہت سے مسلمان دکانداروں نے شکایت کی ہے کہ لوگ ان سے خریداری کرنے سے کتراتے ہیں۔
انڈین حکومت نے تفرقہ انگیز ٹویٹس اور پوسٹ کرنے سے منع کیا ہے جبکہ کچھ افراد کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔
انڈیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 13 ہزار ہے جبکہ 519 اموات ہو چکی ہیں۔
بریکنگ, تیل کی قیمتیں 21 برس کی کم ترین سطح پر آ گئیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تیل کی قیمت سنہ 1999 کے بعد کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ دنیا بھر میں پھیلی کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے تیل کی مارکیٹ شدید دباؤ میں آ گئی ہے۔
فیکٹریاں اور مینوفیکچرنگ پلانٹس بند ہونے کی وجہ سے تیل کی مانگ میں بہت زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔
امریکہ میں خام تیل کی کمپنی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ میں ایک بیرل تیل کی قیمت 14 فیصد کمی کے ساتھ 15.65 ڈالر ہو گئی ہے۔
دنیا بھر میں مصدقہ متاثرین 24 لاکھ سے تجاوز کر گئے, مجموعی اموات ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر کے 185 ممالک اور خطوں میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 24 لاکھ سے بڑھ چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق سات لاکھ 58 ہزار سے زائد مصدقہ متاثرین کے ساتھ امریکہ بدستور سرِفہرست ہے جبکہ یہاں اموات کی مجموعی تعداد 40,666 ہے۔
اب تک دنیا بھر میں چھ لاکھ 16 ہزار سے زائد مصدقہ مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
دیگر ممالک کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سپین میں مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 98 ہزار سے زائد ہے جبکہ 20,453 افراد اب تک وبا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں
اٹلی کو کورونا کے مریضوں کی تعداد لگ بھگ ایک لاکھ 79 ہزار ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 23,660 ہے
فرانس میں مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار سے کچھ زائد ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 19,744 ہے
برطانیہ میں ایک لاکھ 21 ہزار سے زائد افراد اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ یہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 16,095 ہے
جرمنی میں مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 46 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ اموات کی تعداد 4,642 ہے
چین میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 83 ہزار سے زائد ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4,636 ہے
ترکی میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 86 ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 2,017 ہے
ایران میں کورونا کے متاثرین کی تعداد 82 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ایران میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 5,118 ہے
کیا پوتن، اردوغان کورونا کو اقتدار مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟
سپین: ہلاکتوں کی شرح میں بتدریج کمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک سپین میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ہلاکتوں کی شرح بتدریج کم ہو رہی ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سپین میں 410 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہلاکتوں کی یہ تعداد گذشتہ کئی روز کے مقابلے میں کم ہے۔
سپین میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 20453 ہے۔ ہلاکتوں کے اعتبار سے سپین امریکہ اور اٹلی کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔
اس وقت ملک میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 195944 ہے۔
پولینڈ: لاک ڈاؤن میں نرمی سے ایک روز قبل 545 نئے متاثرین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پولینڈ میں کورونا کے 545 نئے مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں نئے کیسز ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یہاں کی حکومت پہلے ہی لاک ڈاؤن سے متعلقہ پابندیوں میں نرمی کا اعلان کر چکی ہے۔
پابندیوں میں نرمی آج (سوموار) سے نافذالعمل ہو گی۔ پولینڈ میں پارکس کو آج سے عام عوام کے لیے کھول دیا جائے گا جبکہ بیک وقت دکانوں میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے بھی نرمی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
تاہم عوامی مقامات اور سٹورز میں داخل ہوتے وقت منھ اور ناک ڈھانپنے کی پابندی جاری رہے گی جبکہ تعلیمی ادارے بدستور بند رہیں گے۔
پولینڈ میں کورونا کے 9287 مصدقہ متاثرین ہیں جبکہ یہاں اب تک 360 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
گذشتہ ایک روز میں پولینڈ میں 11 ہزار سے زائد کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔