برطانوی حکام نے امریکی کمپنی فائزر کی کورونا وائرس کی ویکسین کی جانچ پڑتال کی ہے اور وہ اس کے نتائج سے مطمئن ہیں۔
یہ ویکسین کورونا وائرس کے خلاف 95 فیصد تک موثر ہے اور حکام کے خیال میں یہ عوام کو دینے کے لیے محفوظ ہے۔
جس کو بھی یہ ویکسین دی جائے گی اسے دو ٹیکے لگوانے ہوں گے جن کے درمیان تین ہفتے کا وقفہ ہوگا۔ جب آپ کو دوسرا ٹیکا لگ چکا ہوگا تو اس کے سات دن کے بعد یہ ویکسین مکمل طور پر کارآمد ہو جائے گی۔
مگر اس ویکسین کو انتہائی کم درجہ حرارت میں رکھا جانا ضروری ہے۔ تقریباً منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ اور یہ انتہائی مشکل ہے۔
مگر کمپنی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ایسا ڈبہ بنایا ہے جو کہ ڈرائی آئس سے بھرا ہوا ہے اور اس میں ویکسین کو دس دن تک بغیر اضافہ رفریجیشن کے رکھا جا سکتا ہے۔
برطانیہ نے اس ویکسین کے چار کروڑ ٹیکے آرڈر کیے ہیں جو کہ 2 کروڑ لوگوں کے لیے کافی ہوں گے مگر یہ سارے ٹیکے ابھی تیار نہیں ہیں۔
پہلے آٹھ لاکھ ٹیکے دیے جائیں گے جو کہ کیئر ہومز میں موجود لوگوں کو ترجیحی بنیاد پر دیے جائیں گے۔
تاہم ٹیکے بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک دنیا بھر میں پانچ کروڑ ٹیکے فراہم کر سکتے ہیں اور 2021 کے آخر تک تقریباً 1.3 ارب ٹیکے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف یہی واحد ویکسین نہیں ہے مگر برطانیہ میں منظور ہونے والی یہ پہلی ہے۔ دیگر ویکسینز میں موڈرنا اور آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا ویکسین بھی ہیں جو کہ منظوری کا انتظار کر رہی ہیں۔
یعنی ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس اور بھی ویکسینز جلد آ جائیں۔