جرمنی میں کورونا وائرس سے نئے متاثرہ افراد اور ہلاکتوں کی تعداد نئے ریکارڈ تک پہنچنے پر کرسمس کے عرصے میں سخت لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔
ملک میں بدھ سے تمام غیر ضروری دکانیں اور سکول بند کر دیے جائیں گے جبکہ جہاں ممکن ہو بچوں کو گھر پر تعلیم فراہم کی جائے گی۔
چانسلر اینگلا مرکل نے کرسمس کے لیے خریداری کو ملاقاتوں میں ’خاصے‘ اضافے کے لیے ذمہ دار قرار دیا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 20 ہزار 200 مزید انفیکشن ہوئے ہیں جبکہ 321 مزید اموات ہوئی ہیں۔
صدر فرینک والٹر سٹائنمائیر نے کہا کہ سخت ترین اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ وائرس قابو سے باہر نکل سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تحفے دینے میں دیر کی جا سکتی ہے اور یہ کہ جانیں بچانے اور ہسپتالوں پر دباؤ کم رکھنے کی کوششیں تبھی کامیاب ہوں گی اگر لوگوں نے اگلے چند ہفتوں میں اپنی ملاقاتیں محدود رکھیں۔
نیا لاک ڈاؤن 16 دسمبر سے 10 جنوری تک جاری رہے گا۔
کسی بھی گھر میں دو گھرانوں کے پانچ سے زیادہ افراد جمع نہیں ہو سکیں گے۔
مگر اس پابندی میں 24 سے 26 دسمبر تک کے لیے نرمی کی جائے گی جب ایک گھرانے کے لوگ اپنے قریبی رشتے داروں اور دیگر گھرانوں سے زیادہ سے زیادہ چار لوگوں کی دعوت کر سکیں گے۔