آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

فائزر کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر

تازہ تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ ادویات بنانے والی عالمی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر ہیں۔ ادھر جان ہاپکنز یونیورسٹی اور امریکی میڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پہلی بار ایک دن میں چار ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ’اگلے چند ہفتوں میں کورونا ویکسین تیار ہوجائے گی‘ مودی کا دعویٰ

    وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کورونا وائرس سے متعلق کل جماعتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آئندہ چند ہفتوں میں کورونا ویکسین تیار ہوجائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سائنسدانوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد، ویکسینیشن مہم شروع کردی جائے گی۔

    مودی کا کہنا تھا کہ انڈیا کو پہلے سے ہی ویکسینیشن کی بڑی مہم چلانے کا تجربہ حاصل ہے اور کولڈ سٹور جیسی کمیوں کے بارے میں ریاستی حکومتوں سے بات کی جائے گی۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ ٹیڈا کو ویکسین کے ساتھ منسلک رکھنے کے لیے بھی سافٹ ویئر تیار کیا جائے گا۔

    وزیِر اعظم مودی نے کہا ’حال ہی میں، میں نے کورونا وائرس ویکسین کے حوالے سے سائنس دانوں سے ملاقات کی ہے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ دنیا کم قیمت پر محفوظ ویکسین تیار کرنے کے لیے انڈیا کی طرف دیکھ رہی ہے۔‘

    مودی کا کہنا تھا کہ حکومت ریاستوں سے کورونا وائرس کی خوراکیں دیے جانے کے اخراجات سے متعلق بھی بات کر رہی ہے۔

    نریندر مودی نے یہ بھی کہا ’سب سے پہلے یہ ویکسین کسے دی جائے گی، مرکزی حکومت اس مسئلے پر ریاستوں سے بات کر رہی ہے اور پہلے یہ ویکسین ہیلتھ ورکرز اور کورونا مریضوں کے علاج میں مصروف افراد اور بوڑھوں کو دی جائے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا ’مرکزی حکومت ویکسین کی لاگت سے متعلق ریاستی حکومتوں سے بات کر رہی ہے اور عوامی صحت کو ترجیح دی جائے گی۔‘

  2. برطانوی وزیر کے بیان پر یورپی یونین کا ردعمل: ’یہ کوئی فٹ بال کا مقابلہ نہیں، لوگوں کی زندگیوں کا سوال ہے‘

    برطانیہ کے سکریٹری برائے تعلیم کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں رہنے والوں کو سب سے پہلے ویکسین دستیاب ہو رہی ہے کیونکہ فرانس، بیلجیم اور امریکہ کے مقابلے میں یہ ’بہت بہتر ملک‘ ہے۔

    برطانیہ کے کچھ وزرا کا دعویٰ ہے کہ بریکسٹ نے اس عمل میں تیزی لائی ہے لیکن گیون ولیمسن کا کہنا ہے کہ بہترین طبی ماہرین کے باعث یہ کام ممکن ہوا ہے۔

    بدھ کے روز برطانیہ کے میڈیکل ریگولیٹر نے دنیا میں سب سے پہلے فائزر بائیو ٹیک ٹیکوں کی منظوری دی تھی۔

    جمعرات کو ایل بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے ولیمسن نے کہا ’میں نے صرف اس بات کا اعتراف کیا کہ ہمیں اس ملک میں بہت اچھے ماہرین اور واضح طور پر بہترین میڈیکل ریگولیٹر مل گئے ہیں، جو فرانسیسیوں، بلجیئم والوں اور امریکیوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں۔

    ان کا کہنا تھا ’مجھے حیرت نہیں ہوتی، کیوں کہ ہم ان میں سے ہر ایک سے کہیں بہتر ملک ہیں۔‘

    یورپی کمیشن کے ترجمان ایرک میمر کا کہنا ہے کہ برطانوی ماہرین ’بہت اچھے‘ ہیں لیکن ’ہم یقینی طور پر تمام ملکوں کے ریگولیٹرز کا موازنہ نہیں کر رہے اور نہ ہی ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ کریں گے کہ کون بہتر ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’یہ کوئی فٹ بال کا مقابلہ نہیں ہے، لوگوں کی زندگیوں اور صحت کا سوال ہے۔‘

    کنزویٹو رہنما لارڈ فورسیٹ کا کہنا ہے کہ ’یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی ہے کہ کچھ لوگوں نے ویکسین کی شاندار خبروں پر بھی سیاست کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

  3. کورونا وائرس ویکسین: دنیا کو’پینڈیمک‘ کے ساتھ ساتھ ’انفوڈیمک‘ کا بھی سامنا

    کورونا وائرس کی ویکسین سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ پر اس عالمی وبا اور اس کی ویکسین کے بارے میں کئی غلط خبریں اور افواہیں گردش کرنے لگی ہیں۔ طبی ماہرین ان افواہوں کے خلاف ایک جنگ لڑ رہے ہیں تا کہ دنیا کو اس وبا سے نجات حاصل ہو سکے۔

    اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے یہ ویڈیو دیکھیں۔

  4. فائزر ویکسین کی دو خوراکوں کے بعد وائرس سے مکمل بچاؤ ممکن

    فائزر بائیوٹیک ویکسین کی پہلی خوراک لیے جانے کے 12 ویں دن جسم میں وائرس کے خلاف قوتِ مدفعت پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

    اس کے بعد 21ویں دن دوسری خوراک دی جاتی ہے اور 28ویں دن سے یہ ویکسین کورونا وائرس کے خلاف 95 فیصد تک تحفظ فراہم کرے گی۔

    برطانیہ میں صحت کے سکریٹری میٹ ہینکوک کا کہنا ہے کہ بیلجیئم سے جتنی جلدی فائزر ویکسین بن کر برطانیہ پہنچے گی، اتنی تیز رفتاری سے ان 40 ملین خوراکوں کو تقسیم کر دیا جائے گا۔

    ویکسین کی پہلی کھیپ برطانیہ پہنچ چکی ہے اور باقی کئی لاکھ خوراکیں دسمبر میں پہنچیں گی۔ تاہم تمام برطانیہ کو ویکسین کی فراہمی اگلے سال ممکن ہو سکے گی۔

    این ایچ ایس انگلینڈ کے چیف ایگزیکٹو سر سائمن اسٹیونس کے مطابق زیادہ خطرے کا شکار تمام افراد کو نئی ویکسین لگانے میں اپریل تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

  5. بریکنگ, کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ برطانیہ پہنچ گئی

    فائزر بائیو ٹیک کورونا وائرس ویکسین کی پہلی کھیپ برطانیہ پہنچ چکی ہے اور اسے ایک نامعلوم مقام پر ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔

    اس کھیپ کو بیلجیئم سے منفی 70 ڈگری درجہ حرارت پر منتقل کیا گیا ہے۔

    برطانیہ نے اس ویکسین کی 40 ملین خوراکیں تیار کرنے کا حکم دیا ہے جو 20 ملین افراد کو لگانے کے لیے کافی ہوگی۔

  6. ’برطانیہ نے جلد بازی میں ویکسین منظور کی‘، ڈاکٹر فاؤچی کی اپنے بیان پر معذرت

    امریکہ میں وبائی بیماری کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے اپنے اس بیان پر معافی مانگی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے فائزر کی کورونا وائرس ویکسین کی منظوری دینے میں ’جلد بازی کا مظاہرہ‘ کیا ہے۔

    برطانیہ کورونا وائرس ویکسین کی منظوری دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

    ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے بی بی سی نیوز کو بتایا ’میرا یہ مطلب نہیں تھا کہ انھوں نے کسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’برطانیہ سائنسی اور ریگولیٹر نقطہ نظر سے کیسے کام کرتا ہے، انھیں اس پر بہت حد تک اعتماد ہے۔‘

  7. پاکستان میں کورونا ویکسین ٹرائل: ’رضاکاروں کے لیے مانع حمل کی شرط کا مقصد خواتین کی صحت کا تحفظ ہے‘

    ایسا پاکستان میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے مگر حکام کو کورونا وائرس کی ویکسین کی ٹرائل کے لیے بڑی تعداد میں رضاکار نہیں مل رہے۔ ایک وجہ اہلیت کی یہ شرط بتائی جاتی ہے کہ ویکسین لگوانے کے تین ماہ بعد تک رضاکار جنسی تعلق قائم نہیں کر سکتے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟

    یہ ہی جاننے کے لئے ہمارے ساتھی عمردراز اور فرقان الٰہی چند رضاکاروں اور ماہرین سے ملے۔

  8. بریکنگ, احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک وفات پا گئے

    احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں وفات پا گئے جہاں ان کا تین ہفتوں سے نمونیہ کا علاج ہو رہا تھا۔

    میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق ان کی موت کورونا وائرس سے ہوئی تاہم جب بی بی سی کے شہزاد ملک نے جج ارشد ملک کے بیٹے سے گفتگو کی تو انھوں نے تصدیق کی کہ ان کے والد کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا تھا اور موت کی وجہ دل کا دورہ ہے۔

    واضح رہے کہ ارشد ملک نے دسمبر 2018 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل مل کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    لیکن اس فیصلے کے بعد سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے ان کی ایک مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں انھیں کہتے ہوئے سنا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا دینے کے لیے ان پر دباؤ تھا۔

    بعد میں لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں سزا سنانے اور فلیگ شپ ریفرنس میں بری کرنے والے جج ارشد ملک کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مذکورہ جج کی ویڈیو منظر عام آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اُنھیں واپس لاہور ہائی کورٹ بھیجنے کی بجائے وفاقی وزارت قانون میں بطور او ایس ڈی رکھ لیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

    ویڈیو سامنے آنے کے بعد ارشد ملک نے ایک بیانِ حلفی دیا تھا جس میں انھوں نے نواز شریف کے بیٹے سے ملاقات کا اعتراف کیا تھا۔

    اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ارشد ملک کو ان کے مس کنڈکٹ کی وجہ سے احتساب عدالت کے جج کے طور پر کام کرنے سے روکتے ہوئے اُنھیں لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    ارشد ملک ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد میں تعینات ہوئے اور وہ لاہور ہائی کورٹ کے ہی ماتحت تھے۔

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر فیصلے میں کہا تھا کہ ارشد ملک نے جو بیان حلفی جمع کروایا تھا وہ دراصل ان کا اعترافِ جرم تھا۔

    یاد رہے کہ نومبر میں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کورونا کے باعث وفات پا گئے تھے۔

  9. کورونا وائرس سے بچاؤ کے ایس او پیز کیا ہیں؟

    پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر پوری طرح آ چکی ہے اور گذشتہ چند دنوں سے روزانہ تین ہزار سے زیادہ متاثرین کی تشخیص ہو رہی ہے۔

    اس پر قابو پانے کے لیے مروجہ قواعد پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔ لیکن یہ قواعد آخر ہیں کیا؟ یہی بتا رہے ہیں ہمیں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات۔

  10. عمران خان کا اقوام متحدہ سے خطاب: کووڈ 19 کی وبا سے نمٹنے کے لیے غریب ممالک کے قرضے معاف، معطل کرانے کی تجویز

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس برائے کووڈ 19 سے خطاب کرتے ہوئے وبا سے نمٹنے کے لیے دس نکاتی ایجنڈا پیش کیا اورکہا کہ وبا کے خاتمے تک معاشی طور پر کمزور ممالک اور وبا سے متاثرہ ملکوں کو واجب الادا قرضوں کی ادائیگی معطل کی جائے۔

    اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ وہ ممالک جو انتہائی غیر ترقی یافتہ سمجھے جاتے ہیں ان کے قرضے معاف ہو جانے چاہیے۔

    انھوں نے اقوام متحدہ سے اجلاس میں مزید کہا کہ ترقی پذیر ممالک سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجی جانے والی رقم کو روکا جائے جو کہ امیر ممالک یا آف شور اکاؤنٹس میں جاتی ہیں جہاں ٹیکس سے چھوٹ ملتی ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ کرپٹ سیاستدانوں اور جرائم پیشہ عناصر کے اثاثے ان کے ملکوں کو واپس کیے جائیں۔

  11. سابق امریکی صدور اوبامہ، بش اور کلنٹن کا ٹی وی پر کورونا وائرس کی ویکسین لینے کا وعدہ

    امریکہ کے تین سابق صدور، باراک اوبامہ، جارج ڈبلیو بش اور بل کلنٹن نے رضاکارانہ طور پراپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹی وی پر پورے ملک کے سامنے کورونا وائرس کی ویکسین لیں گے۔

    تینوں صدور نے کہا کہ وہ ادارہ صحت کے حکام کی جانب سے ویکسین کی منظور کے بعد ہی ویکسین استعمال کریں گے۔

    بدھ کو اوبامہ نے ایک ریڈیو سٹیشن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ جب ویکسین ان لوگوں کے لیے تیار ہو جائے گی جنھیں وائرس سے متاثر ہونے کے خطرات نہیں زیادہ ہیں، تو وہ ٹی وی کے سامنے یا اپنی خود ویڈیو بنا کر ویکسین لیں گے۔ ’میں سائنس پر یقین رکھتا ہو۔‘

    اس کے بعد صدر بش اور صدر کلنٹن کے نمائندوں نے سی این این کو بتایا کہ تینوں صدور کا اس بات پر اتفاق تھا کہ ویکسین مہیا کی جانے کے بعد وہ فوراً اسے خریدیں گے اور انھوں نے دیگر امریکیوں سے بھی درخواست کی وہ ایسا کریں۔

  12. نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: عوام سے دور صدارت کے پہلے 100 دنوں میں ماسک پہننے کی درخواست

    نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ امریکی عوام سے درخواست کریں گے کہ ان کے دور صدارت کے پہلے 100 دنوں میں چہرہ ڈھانپنے کے لیے ماسک کا استعمال کریں۔

    نیوز چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھی یقین ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں ماسک پہننے سے ’بڑی حد تک کمی‘ واقع ہو سکتی ہے اگر ہر امریکی اسے پہننا شروع کر دے۔

    اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کی سرکاری عمارتوں میں ماسک پہننے لازمی قرار دیں گے۔

    واضح رہے کہ وبا کے آغاز کے بعد سے امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زیادہ متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ پونے تین لاکھ افراد کی اس وبا سے جان چلی گئی ہے۔

  13. پاکستان میں فعال مریضوں کی تعداد 50 ہزار سے بڑھ گئی، گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 55 ہلاکتیں

    پاکستان میں تین دسمبر کو 3362 نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی جس کے بعد ملک میں اب فعال متاثرین کی کل تعداد 51507 ہو چکی ہے۔ گذشتہ روز ہلاک ہونے والوں کی تعدد 55 تھی اور اب پاکستان میں 8260 اموات ہو چکی ہیں۔

    تاہم 20 اکتوبر کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان میں نئے مریضوں کی تعداد صحتیاب ہونے والے افراد کی کل تعداد سے کم تھی۔

  14. کورونا ویکسین کی پاکستان میں آزمائش: رضاکاروں کا جنسی تعلق سے اجتناب ضروری کیوں؟

    ایسا پاکستان میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے مگر حکام کو کورونا وائرس کی ویکسین کی ٹرائل کے لیے بڑی تعداد میں رضاکار نہیں مل رہے۔ ایک وجہ اہلیت کی یہ شرط بتائی جاتی ہے کہ ویکسین لگوانے کے تین ماہ بعد تک رضاکار جنسی تعلق قائم نہیں کر سکتے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟ یہ ہی جاننے کے لئے ہمارے ساتھی عمردراز اور فرقان الٰہی چند رضاکاروں اور ماہرین سے ملے۔

  15. بریکنگ, صوبہ خیبر پحتونخوا میں 345 نئے مریض، مزید 11 اموات

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں گدشہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 11 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مزید 345 کیسز بھی سامنے آئے۔

    صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 48264 ہو چکی ہے جبکہ اموات کی تعداد 1389 ہے۔

    اب تک صوبے میں 43168 افراد کووڈ 19 سے صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

  16. برطانیہ کورونا وائرس ویکسین کے عام استعمال کی منظوری دینے والا پہلا ملک

    برطانیہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے فائزر اور بائیونٹیک کی جانب سے تیار کردہ کورونا وائرس کی ویکسین کے عام استعمال کی منظوری دے دی ہے۔ ویکسین کا استعمال اگلے ہفتے سے شروع ہو جائے گا۔

  17. بریکنگ, ایران میں کورونا وائرس کیسز 10 لاکھ سے زیادہ

    ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

    وائرس کے باعث اب تک 50 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم اس حوالے سے اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔

    تاہم حالیہ کچھ عرصے کے دوران ملک میں اموات کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ یہ نومبر کے دوران 400 سے زیادہ رہی تھی۔

    ایران مشرقِ وسطیٰ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ہے اور حکام کے مطابق اس وقت یہ کورونا وائرس کی ’تیسری لہر‘ سے نمٹ رہا ہے۔

    اس کے باعث یہاں پابندیوں میں سختی کی گئی اور چند کاروباری صنعتوں کی بندش اور سفری پابندیاں شامل ہیں۔

  18. بریکنگ, کورونا وائرس: برطانیہ میں اموات 60 ہزار سے تجاوز کر گئیں

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    جمعرات کے روز مزید 414 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 60 ہزار 113 ہو گئی ہے۔

    دیگر ذرائع جن سے کووڈ کی کل اموات دیکھی جاتی ہیں ان کے مطابق یہ اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہیں۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں صرف امریکہ، برازیل، انڈیا اور میکسیکو میں برطانیہ سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

  19. فیس بک ’آئندہ چند ہفتوں میں کووڈ ویکسین سے متعلق جھوٹے دعوے ہٹانا شروع کرے گا‘

    فیس بک کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران اس کے پلیٹ فارم پر کووڈ 19 ویکسین سے متعلق پوسٹ کیے جانے والے جھوٹے دعوے ہٹا دیے جائیں گے تاکہ ’فوری جسمانی نقصان‘ سے بچا جا سکے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ جب سے برطانیہ نے پہلی ویکسین کی استعمال کے لیے منظوری دی ہے اس وقت سے وہ اپنے انسٹاگرام اور فیس بک کے پلیٹ فارمز پر گمراہ کن اور جھوٹی معلومات پر پابندی عائد کرنے کے منصوبے تیز کر رہی ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین سے متعلق ایسے جھوٹے دعوے ہٹائے گی ’جو طبی ماہرین کی جانب سے پہلے ہی جھوٹے قرار دیے جا چکے ہیں‘، جیسے ویکسین میں استعمال کیے جانے والے اجزا، ویکسین کے غیر محفوظ ہونے سے متعلق دعوے اور اس کے مضر اثرات وغیرہ۔

    اس حوالے ایسے جھوٹے دعوؤں کو بھی پلیٹ فارم سے ہٹایا جائے گا جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوگوں میں ویکسین کے ذریعے مائیکروچپ نصب کی جائے گی۔

  20. ماسکو کا سنیچر سے ویکسین کے استعمال کا آغاز کرنے کا اعلان, سارہ رینزفورڈ، نامہ نگار بی بی سی ماسکو

    روس کے دارلحکومت ماسکو کے میئر کا کہنا ہےکہ حکومت کی جانب سے جلد ہی کورونا وائرس سے مُمکنہ بچاؤ کے لیے سپوتنک فائیو ویکسین کے استعمال کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

    پہلی ویکسین کے لئے صرف طبی عملے، اساتذہ، اور سماجی کارکنان کا انتخاب کیا گیا ہے جو جمعے کے روز یعنی کل اپنے کوائف جمع کروائیں گے۔

    اس بات سے قطہ نظر کہ سپوتنک فائیو کے ٹرائلز ابھی جاری ہیں ماسکو کے میئر کے مطابق اس ویکسین کی پہلی خوراک سنیچر کے روز دی جائے گی۔ میئر کی جانب سے یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ لوگوں کی اس فہرست کو وسیع کرنے کی کوشش بھی کی جائے گا۔

    ماسکو میں جمعرات کے روز 28145 نئے مریض سامنے آئے تھے اور 554 اموات بھی ہوئی تھیں۔ ایسے وقت میں ویکسین کی فراہمی انتہائی ضروری ہے خاص کر اس لیے کہ کریملن نے قومی سطح پر غیر مقبول لاک ڈاؤن کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

    اس حوالے سے دنیا میں سب پر برتری حاصل کرنے کا عظم بھی واضح ہے۔ روس اگست میں کووڈ ویکسین رجسٹر کروانے والوں میں سب سے آگے تھا حالانکہ اس وقت اس کی سپوتنک فائیو ویکیسین تیسرے مرحلے میں تھی۔

    ویکسین بنانے والوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویکیسن 95 فیصد لوگوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے میں کارگر ثابت ہوتی ہے لیکن یہ بات عبوری اعداد و شمار کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے اطلاعات کے مطابق جن رضاکاروں نے یہ ویکسین استعمال کی ان میں سے کچھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہی علامات بتائیں جو باقی ویکسین استعمال کرنے والے افراد نے بتائے تھے جیسے ہلکا بخار یا کسی بھی علامت کا ظاہر نہ ہونا۔

    حالانکہ روس نے سپوتنک ویکسین استعمال کرنے میں جلد بازی سے کام لیا ہے لیکن اس ویکسین کی بڑے پیمانے پر تیاری اب بھی محدود ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک صرف 20 لاکھ خوراکیں ہی بنا پائے گی اور 2021 میں ہی اس ویکسین کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا۔

    تقریباً 40 ہزار رضاکاروں نے اس ویکسین کے تیسرے مرحلے کی آزمائش میں حصہ لیا اور روس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہزاروں ایسے کارکن جو طبی عملے کا حصہ ہیں اور انھیں اس وائرس سے سب سے زیادہ خطرہ ہے انھیں پہلے ہی اس ویکسین کی خوراک دی جا چکی ہے۔