آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

الیکشن 2024: حکومت سازی سے متعلق ن لیگ، پی ٹی آئی اور دیگر سے کوئی باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ لاہور میں اُن کی حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن سمیت کسی سیاسی جماعت سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ ادھر پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے عددی اکثریت حاصل کر چکی ہے اور اب پی ٹی آئی وفاق، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومتیں بنائے گی۔

لائیو کوریج

  1. سیاسی جماعتوں کے ایجنٹس کی عدم موجودگی، پولنگ کا عمل مجموعی طور پر تاخیر سے شروع ہوا, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی

    شہر کے مختلف علاقوں میں پولنگ کا عمل مجموعی طور پر تاخیر سے شروع ہوا، جس کی وجہ سیاسی جماعتوں کے ایجنٹس کی عدم موجودگی قرار دی گئی۔

    ہر پولنگ بوتھ میں سیاسی جماعت کے دو دو ایجنٹس کو بیٹھنے کی اجازت تھی، خالی بیلٹ باکس ان کے سامنے سیل ہونا تھے لیکن کئی مقامات پر ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔

    گورنمنٹ بوائز اسکول بزٹا لائن میں تین پولنگ اسٹیشن تھے یہاں پر ساڑھے آٹھ بجے تک بھی سیاسی جماعتوں کے ایجنٹس موجود نہ تھے صرف ایک تحریک لبیک کا ایجنٹ آیا جس کے سامنے پولیس اور مقامی حکام کی موجودگی میں بیلٹ باکس سیل کیے گئے جبکہ اس عمل کی ریکارڈنگ بھی کی گئی۔

    حیدری پبلک سکول صدر میں بھی ایجنٹس نو بجے پہنچے، سیاسی جماعتوں کے ایجنٹس میں تربیت اور آگاہی کا فقدان نظر آیا ایک خاتون ایجنٹ نے اعتراض کیا کہ ان کو مہریں اور سیمپ پیڈ فراہم نہیں کیے گئے وہ کیسے کام کا آغاز کریں۔

    ان کو اسٹنٹ پرزائیڈنگ افسر نے آگاہ کیا کہ وہ اپنے پاس موجود ووٹر لسٹ میں صرف نام چیک کریں اور تصدیق کریں۔ حیدری پبلک سکول میں ایم کیو ایم کی دو ایجنٹس کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان کا امیدوار کون ہے انھوں نے فون پر رابطہ کر کے تفصیلات معلوم کیں۔

    یہ پولنگ سٹیشنز این اے 241 اور صوبائی حلقوں پی ایس 105 اور پی ایس 109 پر مشتمل تھی، گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں یہاں ووٹر نہ ہونے کے برابر تھے۔

    سیاسی جماعتوں کی جانب سے عام طور پر گھروں پر انتخابی پرچی دی جاتی تھی جس میں پولنگ سٹیشن بوتھ نمبر کی تفصیلات درج ہوتی تھیں لیکن اس بار ایسے نظر نہیں آیا۔

    جس کی وجہ سے ووٹر اور پولنگ سٹیشن کے سٹاف دونوں کو مشکلات کا سامنا رہا، گزشتہ انتحابات میں سیاسی جماعاتوں کی جانب سے ووٹروں کے لیے ٹرانسپورٹ کا بھی بندوبست کیا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ یہ کم نظر آرہا ہے۔

    پولنگ سٹیشن کے باہر بھی تاخیر سے کیمپ لگائے گئے جو ایم کیو ایم پیپلز پارٹی اور بعض مقامات پر تحریک انصاف کے بھی موجود تھے تاہم پولنگ سٹیشن کے اندر تحریک انصاف کے ایجنٹس نظر نہیں آئے۔

    کئی ووٹروں نے یہ بھی شکایت کی کہ اگر ایک گھر کے پانچ افراد ہیں تو نصف کے ووٹ ایک جگہ تو نصف کے دوسری جگہ پر ووٹ ہیں۔

    ایک ووٹر اور ان کی بیگم کا ووٹ حیدری پبلک سکول میں تھا تو باقی کا ووٹ کچھی جماعت خانہ میں تھا۔ اس طرح کچھ ووٹ صدر میں تو کچھ ووٹ کیماڑی میں تھے۔ کراچی میں گزشتہ انخابات کے مقابلے میں یہ قدرِ پرامن الیکشن رہے ہیں۔

    انتخابی مہم کے دوران چند ناخوشگوار واقعات پیش آئے، صوبائی الیکشن کمیشن نے کراچی رینج کے 5,336 پولنگ سٹیشنز میں سے صرف 149 کو نارمل قرار دیا گیا ہے باقی حساس ہیں، جہاں رینجرز اور فوج مقرر ہے۔

    حساس پولنگ سٹیشن میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جہاں سکاؤٹس رضاکار اپنی مدد آپ کے تحت نگرانی کر رہے ہیں جن کو الیکشن کمیشن نے تربیت فراہم کی ہے۔

  2. ’دن بارہ بجے کے بعد صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے موبائل نیٹ ورک بحال کرنے یا بند رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا‘, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو، اسلام آباد

    وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ملک بھر میں عارضی طور پر موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ جمعرات کی علی الصبح خفیہ ادروں کی طرف سے ملک میں امن امان کی صورت حال سے متعلق دہشت گردی سے نمٹنے والے ادارے نیکٹا کو بھیجی جانے والی رپورٹس کی روشنی میں کیا گیا۔

    اہلکار کے مطابق الیکشن ڈے کے موقع پر خفیہ اداروں کی طرف سے کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کے حملوں سے متعلق پیشگی وارننگ دی گئی تھی لیکن وہ اس نوعیت کی نہیں تھی کہ جس میں ملک بھر میں موبائل نیٹ ورک معطل کرنے کی بات کی جائے۔

    اہلکار کے مطابق موبائل نیٹ ورک کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ بلوچستان میں بدھ کے روز ہونے والے دو بم دھماکوں سے متعلق پیش کی جانے والی عبوری رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

    اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں ملک میں سیاسی شخصیات کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا تھا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ دن بارہ بجے کے بعد صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے موبائل نیٹ ورک بحال کرنے یا بدستور معطل رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

  3. لاہور میں صبح سے ہی پولنگ مراکز پر قطاریں, ترہب اصغر، بی بی سی اردو

    لاہور میں آج صبح آٹھ بجے سے پولنگ اسٹیشنز کے سامنے قطاریں لگ گئی تھیں۔ جن میں مرد اور خواتین دونوں ہی شامل ہیں۔ یہ ٹرینڈ گزشتہ پچھلے انتخابات سے کچھ مختلف ہے۔ عموما لاہور میں دوپہر کے اوقات میں پولنگ سٹیشنز پر زیادہ رش دیکھنے کو ملتا ہے۔ تاہم مختلف حلقوں میں پولنگ اسٹیشنز پر آنے والے کئی ووٹرز کو ووٹنگ لسٹ میں اپنا نام ڈھونڈنے اور ووٹ کاسٹ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    لاہور کے رہائشی سید اختر عرصہ دراز سے ماڈل ٹاون میں مقیم ہیں اور آج وہ اپنے خاندان کے ہمراہ این اے 128 میں ووٹ کاسٹ کرنے پہنچے تو انھیں معلوم ہوا کہ ان سمیت ان کے خاندان کے چند دیگر افراد کا ووٹ لسٹ میں موجود نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’میں نے 8300 پر میسیج کرکے چیک کیا تھا اور پھر یہاں آیا ہوں۔ برسوں سے میرا پولنگ اسٹیشن یہی ہے اور کبھی ایسا مسئلہ درپیش نہیں ہوا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میرے والد صاحب کی وفات کو 17 سال گزر چکے ہیں۔ میں نے خود ان کا ووٹ اور شناختی کارڈ کینسل کروایا تھا لیکن آج کی ووٹر لسٹ میں ان کا نام موجود ہے‘۔

  4. پشاور میں پولنگ سٹیشن پر ووٹرز کا رش

    پشاور میں وزیر باغ کے پولنگ سٹیشن کے چند مناظر

    رپورٹنگ: عزیر اللہ خان اور بلال احمد

    ایڈیٹنگ: کرن فاطمہ

  5. کوئٹہ میں موسم کی شدت اور سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر پولنگ سٹیشن خالی, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں شدید سردی اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے تاحال پولنگ سٹیشنز خالی ہیں۔

    کوئٹہ کے علاقوں جناح روڈ، سائنس کالج اور دیبہ سمیت متعدد علاقوں میں پولنگ سٹیشنز حالی پڑے ہیں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ووٹرز کی کمی کی وجہ موسمی شدت اور سکیورٹی خدشات ہیں۔

  6. اپنا ووٹ کیسے چیک کیا جا سکتا ہے؟

    ووٹ کی تصدیق کرنا بے حد آسان ہے، شاید ووٹنگ کے عمل میں سب سے آسان کام یہی ہے۔

    ای سی پی کی ویب سائٹ کے مطابق ووٹنگ لسٹ میں اپنی رجسٹریشن چیک کرنے کے دو طریقے ہیں۔ مگر ہم آپ کی معلومات کے لیے آپ کو ایک تیسرا طریقہ بھی بتائیں گے۔

    پہلا طریقہ: ایس ایم ایس (SMS) سروس

    الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نادرا کے تعاون سے عوام کو ایس ایم ایس (SMS) سروس فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے شہری اپنی رجسٹریشن چیک کر سکتے ہیں۔

    1۔ عوام شناختی کارڈ نمبر درج کر کے اور 8300 نمبر پر ٹیکسٹ میسج بھیج کر معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

    2۔ ایس ایم ایس کے جواب میں خود کار پیغام موصول ہو گا جس میں تین چیزیں ہوں گی، انتخابی علاقے کا نام، بلاک کوڈ اور سیریل نمبر۔

    دوسرا طریقہ: ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کے دفاتر میں موجود لسٹ

    ہر رجسٹرڈ ووٹر اپنے متعلقہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کے دفتر میں جا کر اپنی تفصیلات دیکھ سکتا ہے، جہاں حتمی ووٹر لسٹ دستیاب ہے۔ چاروں صوبوں میں ڈی ای سی کے دفاتر کے پتے یا رابطے کی معلومات الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

    تیسرا طریقہ: ڈسپلے سینٹرز میں موجود لسٹ

    ووٹرز ڈسپلے سنٹرز جا کر فہرستوں میں اپنے نام بھی چیک کر سکتے ہیں۔ البتہ یہ مراکز سارا سال دستیاب نہیں ہوتے۔ ڈسپلے سینٹرز وہ مراکز ہیں جنھیں ای سی پی ملک کے مختلف علاقوں میں جب بھی ضرورت محسوس کرتا ہے تو تقریباً 21 دنوں کے لیے قائم کرتا ہے۔

    جہاں تک پنجاب اور کے پی کے 2023 کے صوبائی انتخابات کا تعلق ہے تو اب ڈسپلے سینٹرز قائم نہیں کیے جائیں گے۔ ان ڈسپلے سینٹرز اور ڈسپلے پیریڈ کے بارے میں مزید تفصیل نیچے لکھی گئی ہے تاکہ قارئین بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

  7. پشاور میں پولنگ کا عمل جاری، سکیورٹی ہائی الرٹ

    پشاور کے علاقے وزیر باغ میں بی بی سی کے نامہ نگاروں عزیراللہ خان اور بلال احمد کی جانب سے بھیجی جانے والی چند تصاویں۔

  8. پشاور شہر کے وزیر باغ پولنگ سٹیشن میں پولنگ کا عمل ضروری سامان اور پولنگ ایجنٹس کی عدم موجودگی کی وجہ سے تاخیر کا شکار

    پشاور شہر میں وزیر باغ کے علاقے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار عزیر اللہ خان کے مطابق پولنگ کا عمل شروع ہوتے ہیں بڑی تعداد میں لوگ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ سٹیشنز کے باہر موجود ہیں۔

    نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق چند مقامی افراد کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ’پولنگ کے عمل میں سُستی کی جا رہی ہے اور طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے، اُن کا مزید کہنا ہے کہ اگر یہ کام تاخیر سے ہی شروع کیا جانا تھا تو اسے صبح 8 بجے کی بجائے 7 بجے شروع کر دیا جانا چاہیے تھا۔‘

    تاہم مقامی افراد کی اس شکایت پر پریزائڈنگ افسر وزیر باغ کا کہنا ہے کہ ’پولنگ کے عمل میں تاخیر پولنگ کی وجہ ضروری سامنا کا بروقت نا پہنچنا اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے پولنگ ایجنٹ کی عدم موجودگی ہے۔‘

  9. نواز شریف، عمران خان، بلاول بھٹو: پاکستانی سیاست کے اہم رہنماؤں کے بارے میں جانیے

  10. ووٹرز کو ان مٹ سیاہی کیوں لگائی جاتی ہے؟

    جب آپ ووٹ دیتے ہیں تو آپ کے ہاتھ پر ان مِٹ سیاہی لگائی جاتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور یہ سیاہی کیسے بنتی ہے؟ جانیے ہمارے ساتھی ریاض سہیل سے۔۔۔

    ویڈیو: محمد نبیل

  11. جب برصغیر میں امیر اور تعلیم یافتہ لوگ ہی ووٹ ڈال سکتے تھے

  12. مُلک بھر میں ووٹنگ کا عمل شروع، موبائل فون سروس ’عارضی طور پر معطل‘

    مُلک بھر میں ووٹنگ کا عمل شروع ہو چُکا ہے، الیکشن کمشن آف پاکستان کے مطابق آج شام پانچ بجے تک یہ عمل جاری رہے گا جس کے بعد پولنگ سٹیشن کے دروازے بند کر دیے جائیں گے اور پولنگ سٹیشن کے اندر موجود لوگ ہی اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں گے۔

    وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق مُلک میں عام انتخابات کے موقع پر امن و امان کے قائم رکھنے کے لیے موبائل فون سروس معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ترجمان وزارتِ داخلہ کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ امن وامان کی صورتحال کو قائم رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

    ترجمان وزارتِ داخلہ کے مطابق ’ملک بھر میں موبائل سروس کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش سے کمیشن کی تیاریوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ان کے سسٹم کا دارومدار انٹرنیٹ پر نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ موبائل سروس کی بندش الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں نہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ سکیورٹی اداروں کا فیصلہ ہے، اس معاملے میں کمیشن صرف گزارشات دے سکتا ہے لیکن یہ ان کی صوابدید ہے۔ 'اس میں کمیشن کو میں نہیں سمجھتا مداخلت کرنی چاہیے۔'

    ایک سوال کے جواب میں کہ آیا الیکشن کمیشن موبائل سروس کی بحالی کے لیے درخواست دے گا تو ان کا کہنا تھا، 'بالکل نہیں دیں گے، اس پر اگر ہم حکم دیتے ہیں اور کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو کون ذمہ دار ہوگا۔'

  13. ووٹ کون ڈال سکتا ہے؟

    الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان کے بارہ کروڑ انہتر لاکھ اسی ہزار دو سو بہتر افراد بطور ووٹر رجسٹر ہیں۔

    الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 26 کے مطابق ایک شخص انتخابی علاقے میں بطور ووٹر اندراج کا حقدار ہو گا اگر وہ:

    1۔ پاکستان کا شہری ہے

    2۔ عمر 18 سال سے کم نہ ہو

    3۔ انتخابی فہرستوں کی تیاری، نظرثانی یا تصحیح کے لیے دعوؤں، اعتراضات اور درخواستوں کو مدعو کرنے کے لیے مقرر کردہ آخری دن تک کسی بھی وقت نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ رکھتا ہو

    4۔ کسی مجاز عدالت کی طرف سے اسے ناقص دماغ قرار نہ دیا گیا ہو

    5۔ سیکشن 27 کے تحت انتخابی

    وضاحت/نوٹ: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی طرف سے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ کو بطور ووٹر رجسٹریشن کے مقصد کے لیے یا الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لیے درست سمجھا جائے گا، باوجود اس کے کہ اس کی میعاد ختم ہو جائے۔

  14. ووٹ کس کو دیا جائے۔۔۔؟ امیدواروں کے بارے میں معلومات کیسے حاصل کریں؟

    انتخابات میں ووٹروں کو یہ حق حاصل ہے کہ و ہ جس امیدوار کو چاہیں ووٹ دے سکتے ہیں۔ بی بی سی آپ کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ آپ ووٹ کس کو دیں لیکن بی بی سی نے ماہرین سے بات کرکے یہ معلومات جمع کی ہیں کہ ایک ووٹر کسی بھی امیدوار کے بارے میں غور کرنے کے لیے کیسے معلومات حاصل کرسکتا ہے؟

  15. مُلک میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد اور اہل ووٹرز کتنے ہیں؟

    اب سے ایک گھنٹے بعد مُلک بھر میں ووٹنگ کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ ایک نظر ڈالتے ہیں کہ پورے ملک کے تمام صوبوں میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی کتنی نشستیں ہیں اور ان میں اہل ووٹرز کی تعداد کیا ہے۔

    وفاقی دارلحکومت اسلام آباد

    اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستیں ہیں جن پر 10 لاکھ 83 ہزار 29 ووٹرز اپنے نمائندوں کاانتخاب کریں گے۔

    صوبہ پنجاب

    پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 296 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 7 کروڑ 32 لاکھ 7 ہزار 896 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    صوبہ سندھ

    سندھ سے قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 2 کروڑ 69 لاکھ 94 ہزار 769 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    صوبہ خیبرپختونخوا

    خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 44 اور صوبائی اسمبلی کی 113 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 2 کروڑ 12 لاکھ 63 ہزار 408 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    صوبہ بلوچستان

    بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 اور صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر اپنے نمائندوں کے انتخاب کیلئے 53 لاکھ 71 ہزار 947 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

  16. یہ آپ کا ووٹ ہی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کے وزیر آعظم کا انتخاب ہو گا۔۔۔ لیکن آپ کا ایک ووٹ بیلٹ باکس سے پالینمٹ تک کا سفر کیسے کرتا ہے؟

    جانیے ہماری ساتھی سحر بلوچ سے، کرن فاطمہ کی اس ویڈیو میں۔۔۔

  17. کون سی بڑی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں؟

    پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت متعدد سیاسی جماعتیں ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ تاہم یہ تین جماعتیں 2018 کے الیکشن میں بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر تھیں۔

    گذشتہ عام انتخابات میں چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ آزاد امیدواروں نے حاصل کیے تھے۔

    اس بار الیکشن کمیشن کے انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلے کے بعد تحریک انصاف کو بلے کا نشان نہیں مل سکا تو اس جماعت کے تمام امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیں گے یوں پی ٹی آئی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں سے بھی محروم رہے گی جس کے لیے ان کا کسی دوسری جماعت سے الحاق ممکنہ ہے۔

    اگر 2018 کے انتخابات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف نے مجموعی طور پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے جن کی تعداد ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ اٹھاون ہزار نو سو تھی۔

    دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ نواز نے ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ چھیانوے ہزار تین سو چھپن ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ پیپلز پارٹی انہتر لاکھ آٹھ سو پندرہ ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھی۔ آزاد امیدواران نے ساٹھ لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ متحدہ مجلس عمل پچیس لاکھ ووٹ حاصل کر کے پانچویں نمبر پر تھی۔

    تاہم تحریک انصاف کو ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں اس بار مشکلات کا سامنا ہے۔

    پارٹی سربراہ عمران خان کو سائفر، توشہ خانہ اور مبینہ طور پر دورانِ عدت نکاح کرنے سے متعلق مقدمات میں قید کی سزا سُنائی جا چکی ہے۔ وہ نااہلی کے سبب ذاتی طور پر انتخابی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں۔

  18. آج ملک میں کتنی سیٹوں پر انتخابات لڑے جا رہے ہیں؟

    پاکستان الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی 266 نشستیں جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی عام نشستوں کے 593 حلقے ہوں گے۔

    آج قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلیوں کی تین نشستوں پر انتخابات کا انعقاد نہیں ہو گا، یہ التوا ان حلقوں میں امیدواروں کی وفات کے باعث ہوا ہے۔

    سنہ 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی کل نشستیں 272 تھیں جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی کل نشستیں 577 تھیں۔

    خواتین کے لیے مخصوص ساٹھ اور اقلیتوں کی دس مخصوص نشستوں کو ملا کر اب قومی اسمبلی کی مجموعی 342 نشستیں کم ہو کر 336 رہ گئی ہیں۔

    گذشتہ الیکشن کے مقابلے میں اس تبدیلی کی ایک اہم وجہ قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہے۔

    25 ویں آئینی ترمیم کے تحت فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کر دیا گیا اور پھر اس کی 12 نشستیں کم کر کے چھ کر دی گئیں اور وہ خیبر پختونخوا کے کوٹے میں شامل کر دی گئیں۔

    یوں اس صوبے کا قومی اسمبلی کا کوٹہ 39 نشستوں سے بڑھ کر 45 تک پہنچ گیا مگر قومی اسمبلی کی مجموعی نشتیں 342 سے کم ہو کر 336 رہ گئیں۔

  19. پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے کن حلقوں میں آج انتخابات منعقد نہیں ہو رہے؟

    آج ملک بھر میں قومی اسمبلی کی کل 266 میں سے 265 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی 593 میں سے 590 نشستوں پر الیکشن ہو رہے ہیں۔

    جن چار حلقوں میں الیکشن منعقد نہیں ہو رہے ان میں قومی اسمبلی کا ایک اور صوبائی اسمبلی کے تین حلقے شامل ہیں۔ ان حلقوں میں امیدواروں کی اموات کی وجہ سے پولنگ ملتوی کی جا چکی ہے۔

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 8 باجوڑ اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 22 باجوڑ سے آزاد حیثیت میں کھڑے ہونے والے پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن ریحان زیب حملہ آوروں فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ ان کی ہلاکت کے بعد حلقے میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے تھے۔

    اس کے علاوہ پی کے 91 کوہاٹ سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار عصمت اللہ خٹک اچانک وفات پا گئے تھے اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 266 رحیم یار خان میں تحریکِ جوانان پاکستان کے امیدوار اسرار حسینکی وفات کی وجہ سے پولنگ ملتوی کر دی گئی تھی۔

  20. آر ٹی ایس نہ آر ایم ایس: اس بار الیکشن کمیشن نتائج کا اعلان کیسے کرے گا اور یہ نیا نظام کتنا قابل بھروسہ ہے؟

    پاکستان میں آج عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے اور ملک کی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ انتخابی نتائج الیکشن مینجمنٹ سسٹم (ای ایم سی) کے ذریعے مرتب کیے جائیں گے۔

    الیکشن کمیشن کے حکام کا اصرار ہے کہ یہ نظام گذشتہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) سے یکسر مختلف ہے۔ البتہ اسے الیکشن کمیشن کے اپنے رزلٹ مینیجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) کی نئی شکل ضرور کہا جا سکتا ہے۔

    الیکشن حکام کے مطابق یہ سافٹ ویئر ایک نجی کمپنی کی جانب بنایا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن آر ٹی ایس اور آر ایم ایس کو چھوڑ کر ایک تیسرے تجربے کی طرف کیوں گیا ہے اور کیا اس سے نوے ہزار چھ سو ستر پولنگ سٹیشنز سے کروڑوں ووٹوں کا درست شمار ممکن ہو سکے گا؟ جانیے ہمارے نامہ نگار اعظم خان کی اس رپورٹ میں۔