سیاسی جماعتوں کے ایجنٹس کی عدم موجودگی، پولنگ کا عمل مجموعی طور پر تاخیر سے شروع ہوا, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی
شہر کے مختلف علاقوں میں پولنگ کا عمل مجموعی طور پر تاخیر سے شروع ہوا، جس کی وجہ سیاسی جماعتوں کے ایجنٹس کی عدم موجودگی قرار دی گئی۔
ہر پولنگ بوتھ میں سیاسی جماعت کے دو دو ایجنٹس کو بیٹھنے کی اجازت تھی، خالی بیلٹ باکس ان کے سامنے سیل ہونا تھے لیکن کئی مقامات پر ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔
گورنمنٹ بوائز اسکول بزٹا لائن میں تین پولنگ اسٹیشن تھے یہاں پر ساڑھے آٹھ بجے تک بھی سیاسی جماعتوں کے ایجنٹس موجود نہ تھے صرف ایک تحریک لبیک کا ایجنٹ آیا جس کے سامنے پولیس اور مقامی حکام کی موجودگی میں بیلٹ باکس سیل کیے گئے جبکہ اس عمل کی ریکارڈنگ بھی کی گئی۔
حیدری پبلک سکول صدر میں بھی ایجنٹس نو بجے پہنچے، سیاسی جماعتوں کے ایجنٹس میں تربیت اور آگاہی کا فقدان نظر آیا ایک خاتون ایجنٹ نے اعتراض کیا کہ ان کو مہریں اور سیمپ پیڈ فراہم نہیں کیے گئے وہ کیسے کام کا آغاز کریں۔
ان کو اسٹنٹ پرزائیڈنگ افسر نے آگاہ کیا کہ وہ اپنے پاس موجود ووٹر لسٹ میں صرف نام چیک کریں اور تصدیق کریں۔ حیدری پبلک سکول میں ایم کیو ایم کی دو ایجنٹس کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان کا امیدوار کون ہے انھوں نے فون پر رابطہ کر کے تفصیلات معلوم کیں۔
یہ پولنگ سٹیشنز این اے 241 اور صوبائی حلقوں پی ایس 105 اور پی ایس 109 پر مشتمل تھی، گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں یہاں ووٹر نہ ہونے کے برابر تھے۔
سیاسی جماعتوں کی جانب سے عام طور پر گھروں پر انتخابی پرچی دی جاتی تھی جس میں پولنگ سٹیشن بوتھ نمبر کی تفصیلات درج ہوتی تھیں لیکن اس بار ایسے نظر نہیں آیا۔
جس کی وجہ سے ووٹر اور پولنگ سٹیشن کے سٹاف دونوں کو مشکلات کا سامنا رہا، گزشتہ انتحابات میں سیاسی جماعاتوں کی جانب سے ووٹروں کے لیے ٹرانسپورٹ کا بھی بندوبست کیا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ یہ کم نظر آرہا ہے۔
پولنگ سٹیشن کے باہر بھی تاخیر سے کیمپ لگائے گئے جو ایم کیو ایم پیپلز پارٹی اور بعض مقامات پر تحریک انصاف کے بھی موجود تھے تاہم پولنگ سٹیشن کے اندر تحریک انصاف کے ایجنٹس نظر نہیں آئے۔
کئی ووٹروں نے یہ بھی شکایت کی کہ اگر ایک گھر کے پانچ افراد ہیں تو نصف کے ووٹ ایک جگہ تو نصف کے دوسری جگہ پر ووٹ ہیں۔
ایک ووٹر اور ان کی بیگم کا ووٹ حیدری پبلک سکول میں تھا تو باقی کا ووٹ کچھی جماعت خانہ میں تھا۔ اس طرح کچھ ووٹ صدر میں تو کچھ ووٹ کیماڑی میں تھے۔ کراچی میں گزشتہ انخابات کے مقابلے میں یہ قدرِ پرامن الیکشن رہے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران چند ناخوشگوار واقعات پیش آئے، صوبائی الیکشن کمیشن نے کراچی رینج کے 5,336 پولنگ سٹیشنز میں سے صرف 149 کو نارمل قرار دیا گیا ہے باقی حساس ہیں، جہاں رینجرز اور فوج مقرر ہے۔
حساس پولنگ سٹیشن میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جہاں سکاؤٹس رضاکار اپنی مدد آپ کے تحت نگرانی کر رہے ہیں جن کو الیکشن کمیشن نے تربیت فراہم کی ہے۔